Posts

قوم زندہ رہتی ہے

تین چیزوں کو اپنا مشن بنانے والی قوم زندہ رہتی ہے۔ 1. تعلیم (Education) تعلیم قوموں کی اصل طاقت ہے۔ تعلیم یافتہ نسل ہی روشن مستقبل کی ضمانت بنتی ہے۔ 2. اتحاد (Unity) اتحاد میں برکت، قوت اور عزت ہے۔ باہمی محبت، بھائی چارہ اور اتفاق ہی قوموں کو مضبوط بناتا ہے۔ 3. تجارت (Business) مضبوط معیشت کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ حلال تجارت اور معاشی خود کفالت قوم کو دوسروں کا محتاج نہیں رہنے دیتی۔ یاد رکھیے! جس قوم کا علم مضبوط ہو، معیشت مستحکم ہو اور صفوں میں اتحاد ہو، وہ قوم ہمیشہ باوقار، بااثر اور زندہ رہتی ہے۔ Education • Unity • Business تعلیم • اتحاد • تجارت

حرمین طیبین: دین کی وسعت، وحدتِ امت اور عملی سماحت کا عظیم نمونہ

حرمین شریفین کی زیارت کا ایک اہم ترین اثر یہ ہے کہ انسان دینِ اسلام کی وسعت، جامعیت اور وحدتِ امت کا ایک عملی منظر اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک، زبانوں، ثقافتوں اور فقہی و اجتہادی پس منظر رکھنے والے مسلمان ایک ہی قبلے کی طرف رخ کیے، ایک ہی رب کی عبادت کرتے اور ایک ہی رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع کا اعلان کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کے بنیادی عقائد، ارکانِ اسلام اور منصوص احکام تمام مسلمانوں کے درمیان مشترک ہیں۔ جہاں نصوصِ شرعیہ نے گنجائش دی ہے، وہاں فقہی اجتہادات اور عملی تنوع بھی امت کی علمی روایت کا حصہ رہے ہیں۔ اسی لیے حرمین شریفین میں مختلف فقہی آراء پر عمل کرنے والے مسلمان عموماً ایک ہی صف میں نماز ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بندگی میں مشغول رہتے ہیں۔ یہ منظر ہمیں اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ امت کی اصل بنیاد توحید، رسالت، قرآن اور قبلۂ واحد ہے۔ حرمین شریفین ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ اختلاف اگر علمی، فقہی اور آدابِ شریعت کے دائرے میں ہو تو وہ امت کی تاریخ کا ایک معروف پہلو ہے، لیکن یہی اختلاف اگر نفرت، تکفیر، تعصب اور باہمی دشمنی میں تبدیل ہو جائے تو امت کی ق...

جامعۃ الازہر: علمی سماحت، فقہی وسعت اور وحدتِ امت کا روشن مینار

اگر حرمین شریفین دینِ اسلام کی عملی وحدت، وسعت اور اجتماعیت کا عظیم مظہر ہیں، تو جامعۃ الازہر، مصر بلا شبہ دینِ اسلام کی علمی سماحت، فقہی وسعت اور اعتدال کا ایک درخشاں مرکز ہے۔ صدیوں سے جامعۃ الازہر نے امتِ مسلمہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ اختلافِ فقہ، اختلافِ دین نہیں ہوتا۔ فقہی مذاہب، شریعت کی تعبیر و تفہیم کے معتبر علمی مناہج ہیں، جن کی بنیاد قرآن، سنت، اجماع اور اصولِ اجتہاد پر قائم ہے۔ اسی لیے ازہر میں مختلف فقہی مذاہب سے تعلق رکھنے والے علماء و طلبہ اپنے اپنے مسلک پر عمل کرتے ہیں، مگر باہمی احترام، اخوت، علمی مکالمے اور دینی رواداری کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ جامعۃ الازہر کی علمی فضا اس حقیقت کی شاہد ہے کہ اختلاف اگر علم، دلیل اور ادب کے دائرے میں ہو تو وہ امت کے لیے رحمت اور وسعت کا سبب بنتا ہے، نہ کہ انتشار اور دشمنی کا۔ وہاں کسی عالم کی قدر و منزلت کا معیار اس کا مسلک نہیں، بلکہ اس کا علم، تقویٰ، تحقیق اور کردار ہوتا ہے۔ اسی علمی مزاج کی ایک نمایاں جھلک یہ ہے کہ ازہر سے وابستہ اداروں میں مختلف معتبر فقہی آراء سے استفادہ کیا جاتا ہے، اور فقہی مسائل میں وسعتِ نظر، دلیل کی رعای...

جشن معراج النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم

Image
کے جی این ایجوکیشن سینٹر میں معراجُ النبی ﷺ کی پُرنور محفل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مظفرپور: کے جی این ایجوکیشن سینٹر فار قرآن اینڈ دینیات، جو کے جی این ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام چل رہا ہے، میں آج بعد نمازِ مغرب معراجُ النبی ﷺ کی مناسبت سے ایک پُرنور اور بامقصد محفل منعقد کی گئی۔ اس محفل میں طلبہ و طالبات کے ساتھ اساتذۂ کرام نے شرکت کی۔ محفل کے دوران اساتذۂ کرام نے واقعۂ معراج النبی ﷺ کی عظمت، اس کے روحانی اسرار اور امتِ مسلمہ کے لیے اس کے عملی پیغامات پر تفصیلی خطاب کیا ۔ اس موقع پر طلبہ و طالبات نے حمد و نعت پیش کیں۔ آخر میں فاتحہ، درود و سلام پڑھے گئے اور شیرینی تقسیم کی گئی، جس کے ساتھ محفل اختتام پذیر ہوئی۔ منتظمین کے مطابق اس طرح کی دینی و اصلاحی محافل سے طلبہ و طالبات کے اخلاق و کردار کی تعمیر میں مدد ملتی ہے۔

اسلام کا منہج عدل و اعتدال ہے، نہ کہ جذباتی تقدیس اور نہ ہی اندھی مخالفت۔

Image
اسلام کا منہج عدل و اعتدال ہے، نہ کہ جذباتی تقدیس اور نہ ہی اندھی مخالفت۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم وہ مقدس جماعت ہیں جنہیں قرآن نے رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ کا اعزاز عطا کیا۔ کسی صحابی کو کفر یا نفاق  سے منسوب کرنا نہ صرف دینی جُرأت ہے بلکہ امت کے اجماعی عقیدے سے انحراف بھی ہے۔ اسی طرح یہ بھی انصاف نہیں کہ محض نسبتِ صحابیت کو بنیاد بنا کر ایسے سیاسی اقدامات کو شرعاً درست قرار دے دیا جائے جن کے نتیجے میں خلافتِ راشدہ کے اصول عملاً ختم ہوئے اور ملوکیت کی بنیاد پڑی۔ صحابی ہونا عظیم فضیلت ہے، مگر ہر سیاسی اقدام بذاتِ خود تنقید و تحقیق سے بالا نہیں ہو جاتا۔ اہلِ سنت کا موقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ: ہم صحابہ کی نیتوں پر حکم نہیں لگاتے اور تاریخ کے واقعات کو معصومانہ تقدیس کے ساتھ نہیں بلکہ اصولی بصیرت کے ساتھ دیکھتے ہیں غلطی کو غلطی کہنا گستاخی نہیں، اور فضیلت کو مانتے ہوئے تنقید کرنا بدعت نہیں بلکہ یہی علمی دیانت، فقہی توازن اور امت کی فکری امانت ہے۔ جو لوگ صحابہ کو کفر سے جوڑتے ہیں وہ حد سے گزر جاتے ہیں، اور جو لوگ ہر تاریخی انحراف کو تقدیس کی چادر اوڑھا کر ہر عہد کو خلافت راشدہ...

ہمارے عہد میں علمی جبر کا بڑھتا رجحان

Image
یہ ہمارے زمانے کا ایک نہایت تشویشناک پہلو ہے کہ علمی اختلاف اب برداشت کے دائرے سے نکلتا جا رہا ہے۔ بعض اہلِ علم جب کوئی بات دلیل، تحقیق اور علمی دیانت کے ساتھ پیش کرتے ہیں، اور وہ بات کسی مخصوص حلقے یا پہلے سے قائم شدہ نظریے کے خلاف محسوس ہوتی ہے، تو فوراً ان پر دباؤ ڈالنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ رجوع اور توبہ کا مطالبہ اس شدت سے کیا جاتا ہے کہ بعض سنجیدہ، باوقار اور شریف النفس اہلِ علم خوف، حراس اور مصلحت کے تحت ایسے توبہ نامے اور رجوع نامے جاری کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو حقیقت میں نہ ان کے علمی موقف کی ترجمانی کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے ضمیر کی آواز ہوتے ہیں۔ آج کے اس ماحول میں حق گوئی ایک جرم بن کر رہ گئی ہے، اور مختلف ائمہ و علماء کے مختلف موقف بیان کرنا گویا ناقابلِ معافی خطا سمجھا جانے لگا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ علمی تنوع کے دروازے آہستہ آہستہ بند کیے جا رہے ہیں، اور صرف ایک مخصوص نظریے، ایک خاص فکری سانچے اور ایک محدود حلقے کے افکار کی تبلیغ و اشاعت ہی کو دین کی خدمت سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ طرزِ فکر نہ صرف علم و تحقیق کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ امت کے وسیع تر مفاد کے ...

introduction

Image
Dr. Mufti Mohammad Mujeebur Rahman Alimi Managing Trustee, KGN Educational & Welfare Trust Director, KGN Public School Director, KGN Education Centre for Diniyat and Qur’an Muzaffarpur, Bihar, India Introduction Dr. Mufti Mohammad Mujeebur Rahman Alimi is a distinguished Islamic scholar, researcher, educationist, and social leader. He was born on 13 April 1980 in Muzaffarpur, Bihar, into a well-known religious and scholarly family. He is the son of the late Maulana Abdul Razzaq Qadri Teghi (Rahmatullah Alaih), from whom he received his early religious, moral, and spiritual training. He completed his Alimiyat (Islamic Scholarly Degree) in 2002 from Jamia Alimiya, Jamtashahi Basti, and subsequently earned his Fazilat degree in 2004 from Jamia Ashrafia, Mubarakpur, one of India’s most prestigious Islamic institutions. During this period, he developed a strong foundation in Fiqh, Usul al-Fiqh, Hadith, Tafsir, Ilm al-Kalam, and Arabic sciences, and gained deep insight into t...