Posts

Showing posts from July, 2026

قوم زندہ رہتی ہے

تین چیزوں کو اپنا مشن بنانے والی قوم زندہ رہتی ہے۔ 1. تعلیم (Education) تعلیم قوموں کی اصل طاقت ہے۔ تعلیم یافتہ نسل ہی روشن مستقبل کی ضمانت بنتی ہے۔ 2. اتحاد (Unity) اتحاد میں برکت، قوت اور عزت ہے۔ باہمی محبت، بھائی چارہ اور اتفاق ہی قوموں کو مضبوط بناتا ہے۔ 3. تجارت (Business) مضبوط معیشت کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ حلال تجارت اور معاشی خود کفالت قوم کو دوسروں کا محتاج نہیں رہنے دیتی۔ یاد رکھیے! جس قوم کا علم مضبوط ہو، معیشت مستحکم ہو اور صفوں میں اتحاد ہو، وہ قوم ہمیشہ باوقار، بااثر اور زندہ رہتی ہے۔ Education • Unity • Business تعلیم • اتحاد • تجارت

حرمین طیبین: دین کی وسعت، وحدتِ امت اور عملی سماحت کا عظیم نمونہ

حرمین شریفین کی زیارت کا ایک اہم ترین اثر یہ ہے کہ انسان دینِ اسلام کی وسعت، جامعیت اور وحدتِ امت کا ایک عملی منظر اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک، زبانوں، ثقافتوں اور فقہی و اجتہادی پس منظر رکھنے والے مسلمان ایک ہی قبلے کی طرف رخ کیے، ایک ہی رب کی عبادت کرتے اور ایک ہی رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع کا اعلان کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کے بنیادی عقائد، ارکانِ اسلام اور منصوص احکام تمام مسلمانوں کے درمیان مشترک ہیں۔ جہاں نصوصِ شرعیہ نے گنجائش دی ہے، وہاں فقہی اجتہادات اور عملی تنوع بھی امت کی علمی روایت کا حصہ رہے ہیں۔ اسی لیے حرمین شریفین میں مختلف فقہی آراء پر عمل کرنے والے مسلمان عموماً ایک ہی صف میں نماز ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بندگی میں مشغول رہتے ہیں۔ یہ منظر ہمیں اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ امت کی اصل بنیاد توحید، رسالت، قرآن اور قبلۂ واحد ہے۔ حرمین شریفین ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ اختلاف اگر علمی، فقہی اور آدابِ شریعت کے دائرے میں ہو تو وہ امت کی تاریخ کا ایک معروف پہلو ہے، لیکن یہی اختلاف اگر نفرت، تکفیر، تعصب اور باہمی دشمنی میں تبدیل ہو جائے تو امت کی ق...

جامعۃ الازہر: علمی سماحت، فقہی وسعت اور وحدتِ امت کا روشن مینار

اگر حرمین شریفین دینِ اسلام کی عملی وحدت، وسعت اور اجتماعیت کا عظیم مظہر ہیں، تو جامعۃ الازہر، مصر بلا شبہ دینِ اسلام کی علمی سماحت، فقہی وسعت اور اعتدال کا ایک درخشاں مرکز ہے۔ صدیوں سے جامعۃ الازہر نے امتِ مسلمہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ اختلافِ فقہ، اختلافِ دین نہیں ہوتا۔ فقہی مذاہب، شریعت کی تعبیر و تفہیم کے معتبر علمی مناہج ہیں، جن کی بنیاد قرآن، سنت، اجماع اور اصولِ اجتہاد پر قائم ہے۔ اسی لیے ازہر میں مختلف فقہی مذاہب سے تعلق رکھنے والے علماء و طلبہ اپنے اپنے مسلک پر عمل کرتے ہیں، مگر باہمی احترام، اخوت، علمی مکالمے اور دینی رواداری کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ جامعۃ الازہر کی علمی فضا اس حقیقت کی شاہد ہے کہ اختلاف اگر علم، دلیل اور ادب کے دائرے میں ہو تو وہ امت کے لیے رحمت اور وسعت کا سبب بنتا ہے، نہ کہ انتشار اور دشمنی کا۔ وہاں کسی عالم کی قدر و منزلت کا معیار اس کا مسلک نہیں، بلکہ اس کا علم، تقویٰ، تحقیق اور کردار ہوتا ہے۔ اسی علمی مزاج کی ایک نمایاں جھلک یہ ہے کہ ازہر سے وابستہ اداروں میں مختلف معتبر فقہی آراء سے استفادہ کیا جاتا ہے، اور فقہی مسائل میں وسعتِ نظر، دلیل کی رعای...