Posts

Showing posts from December, 2024

New Year Greetings

 New Year Greetings Alhamdulillah!Allah Almighty has blessed us with another year. This is an opportunity to reflect on the past year, seek forgiveness for our sins, and turn towards Allah with sincerity.We pray that this new year becomes a means of strengthening our faith, remaining steadfast in righteous deeds, and preparing for the Hereafter.Let us resolve to dedicate more time to worship, remembrance of Allah, contemplation, and serving humanity. May Allah grant us the ability to avoid sins, excel in good deeds, and remain firm on the path of His pleasure.Ameen, Ya Rabb al-Alameen, through the intercession of the Noble Prophet ﷺ and his blessed family and companions.

تهنئة بالسنة الجديدة

 تهنئة بالسنة الجديدة الحمد لله! لقد منحنا الله تعالى سنة جديدة، وهذا وقت للتأمل في العام الماضي، والاستغفار عن ذنوبنا، والرجوع إلى الله تعالى بإخلاص. نسأل الله أن يجعل هذا العام الجديد وسيلة لزيادة إيماننا، والثبات على الأعمال الصالحة، والاستعداد للآخرة. فلنعزم على تخصيص المزيد من وقتنا للعبادة، وذكر الله، والتفكر، وخدمة الناس. نسأل الله أن يوفقنا للاجتناب عن الذنوب، والمسارعة إلى الخيرات، والثبات على طريق رضاه.آمين يا رب العالمين بجاه النبي الأمين ﷺ وآله وأصحابه أجمعين.

नए साल की शुभकामनाएँ

 नए साल की शुभकामनाएँ अल्हम्दुलिल्लाह!अल्लाह तआला ने हमें एक नया साल अता फ़रमाया है। यह समय है कि हम पिछले साल का जायज़ा लें, अपने गुनाहों की माफ़ी मांगे और सच्चे दिल से अल्लाह की तरफ़ रुजू करें।हम दुआ करते हैं कि यह नया साल हमारे ईमान को बढ़ाए, हमें नेक अमल पर कायम रखे और आख़िरत की तैयारी का ज़रिया बने।आइए, यह इरादा करें कि हम ज़्यादा समय इबादत, अल्लाह की याद, तफ़क्कुर और इंसानियत की खिदमत में गुज़ारेंगे।अल्लाह तआला हमें गुनाहों से बचने, नेकी में आगे बढ़ने और अपनी रज़ा के रास्ते पर क़ायम रहने की तौफ़ीक़ अता फ़रमाए।आमीन या रब्बुल आलमीन, नबी-ए-अमीन ﷺ और उनके अहल और असहाब के सदके।

حسن العشرة مع المرأة

حسن العشرة مع المرأة  بعد صلاة العصر في اليوم السابع من شهر رمضان المبارك كان سيدي فضيلة الشيخ أبو سعيد - أطال الله بقائه - جالسا مع أصحابه المتبعين له، فدار الكلام حول العناوين الدينية المتعددة، وفي أثنائها أخذ الكلام بنا إلى حسن العشرة مع المرأة، إذ خاطب الشيخ إلى أحد متبعيه قائلا : أ إمرأتك مثل إمرأة فرعون أو إمرأة لوط؟  و أضاف قائلا : إن الله عز وجل جعل الرجال قوامين على النساء، ليس المقصود منه أن تُظلم المرأة وتُضطهد، ويَقهرها الرجل ويعاملها معاملة قاسية، بل عليه أن يتعامل معها بجمال العشرة، ويقيم علاقته بها مع حسن التدبير، ويُثبت نفسه لها بأنه قوام جيد وكفيل حسن، لا يتخذ لنفسه مكان الحاكم الأناني الذي لا يعتبر  إلا رأيه وقوله فقط، وإلا هذه العلاقة الزوجية تحل عقدتها، لأن المرأة خلقت من ضلع، والضلع يكون أعوج، وإن أردت أن تقيمه تكسره،  كما جاء في الحديث الشريف،   قال النبي صلى الله عليه وسلم:  " استوصوابالنساء خيراً فإن المرأة خُلقت من ضِلْعٍ، وإنَّ أعوجَ ما في الضِّلْعِ أعلاه، فإن ذهبتَ تقيمُهُ كسرتَهُ، وإن تركتَهُ لم يزل أعوجَ، فاستوصوا بالنساء خ...

سال نو کی مبارک باد

Image
سال نو کی مبارک باد الحمدللہ!  اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک اور سال عطا فرمایا۔ یہ موقع ہے کہ ہم گزشتہ سال کا احتساب کریں اور اپنے گناہوں سے استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ دعا ہے کہ یہ نیا سال ہمارے ایمان میں اضافہ، اعمال صالحہ پر استقامت، اور آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنے۔ آئندہ کے لیے عزم کریں کہ ہم زیادہ وقت عبادت، ذکر و فکر، اور لوگوں کی خدمت میں گزاریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں گناہوں سے بچنے، نیکیوں میں سبقت لے جانے، اور اپنی رضا کے راستے پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔  آمین یارب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ۔

الدنيا سجن المؤمن

Image
الدنيا سجن المؤمن في بلدة سيد سراواں الشريف بتاريخ اليوم التاسع من شهر محرم الحرام 1435هـ، بعد صلاة المغرب عُقدت الحفلة بمناسبة ذكرى سيدنا الإمام الحسين وأتباعهم الذين استشهدوا في معركة كربلاء خطب أحد طلاب الجامعة العارفية، وفي أثناء الخطبة ذكر  الحديث الشريف المشهور: "الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر". وشرف الداعية الإسلامي أبو سعيد المحمدي الصفوي- حفظه الله ورعاه -  هذه الحفلة بقدومه الميمون أثناء خطبة هذا الطالب وسمع هذا الحديث المذكور أعلاه ثم شرحه شرحا أنيقا بعد خطبته قائلا:  لماذا "الدنيا سجن للمؤمن"، وجنة للكافر!؟  ثم قال كما بدأت لي  هناك سببان:  السبب الأول : في هذه الدنيا، لا ينبغي للمؤمن أن يتبع هواه كما يشاء، ولا يناسب له أن يمضي حياته كيفما يريد،  دون  الكافر الذي يتمتع بحرية مطلقة، يفعل ما يريد، يتبع هواه كيفما يشاء، دون أدنى اكتراث، و المؤمن يعيش وفقًا لأوامر الله ورسوله ﷺ، ثم يقف بين يدي ربه، فإن الله سيكافئ عباده المطيعين بالنعم العظيمة في الآخرة، وعندما يرى المؤمن سعة الجنة ونعيمها، سيدرك ذلك الحين كيف كانت حياته في الدنيا ضيقة...

The World is a Prison for the Believer

Image
The World is a Prison for the Believer On the 9th of Muharram ul Haram 1435 AH, after Maghrib Salah, a gathering was held in the town of Syed Sarawan Sharif by the arrangements of common public to commemorate the martyrs of Karbala. During the event, a student from Jamia Arifia mentioned the saying in his speech: "The world is a prison for the believer and a paradise for the disbeliever" (الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر). In the meantime, the guide and mentor, Huzoor Da'i-e-Islam (may Allah prolong his shadow upon us), graced the gathering with his presence. After the speech concluded, he offered an insightful explanation of this saying. He stated that the world is a prison for the believer, and there seem to be two reasons for this: 1. In this world, a believer cannot follow his desires as he pleases.In contrast, a disbeliever enjoys unrestricted freedom, doing whatever he wishes without concern. 2. When a believer lives according to the commandments of Allah a...

محبت کے اسباب اور ذکر کے درجات

Image
  محبت کے اسباب اور ذکر کے درجات محبت ایک ایسی قوت ہے جو انسانی دلوں کو جوڑتی ہے اور زندگی میں ، مسرت ،سکون، اور ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ یہ ایک فطری جذبہ ہے جو مختلف اسباب کی بنیاد پر پروان چڑھتا ہے۔ اسی طرح ذکر، یعنی اللہ کی یاد، بندے کو اپنے خالق کے قریب کرنے کا ایک ذریعہ ہے، جس کے ذریعے بندے،   معرفت، محبت، فنا فی اللہ اور بقا باللہ تک پہنچتے ہیں۔ محبت کے اسباب محبت کے مختلف اسباب ہیں جو دلوں میں جذبات پیدا کرتے ہیں اور تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں:  کمال ہر انسان فطری طور پر کمال اور حسن کو پسند کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات تمام کمالات کا مجموعہ ہے۔ جب انسان اللہ کی صفات، جیسے علم، قدرت، اور حکمت کو جانتا ہے تو اس کے دل میں اللہ کی محبت جاگزین ہوتی ہے۔ اسی طرح، انسانی تعلقات میں کسی شخص کے اعلیٰ اخلاق اور کردار انسان کو محبت کی طرف راغب کرتے ہیں۔   احسان محبت کا دوسرا بڑا سبب احسان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا احسان و انعام بے شمار ہیں۔ وہ بندے کو بے حساب نعمتیں عطا کرتا ہے، جن کا شمار ممکن نہیں۔ جب بندہ ان احسانات کو یاد کرتا ہے، تو اس کا دل محبت سے لبریز ہو جاتا ہے۔ انسا...

فقہی مذاہب کا اختلاف رحمت ہے

Image
    فقہی مذاہب کا اختلاف رحمت ہے   فقیر نے ایک سفرمیں مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا سے عرض کی کہ بعض لوگوں کاخیال ہے کہ زیادہ تر اولیا مذہبا ًشافعی ہوئے ہیں،اس طرح کی باتیں حضرت خواجہ ابو سعید ابو الخیر میہنی قدس سرہ کے حوالے سے اسرار التوحید فی مقامات ابی سعید معروف بہ مقامات خواجہ  میں بھی ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ مذہب شافعی میں عزیمت زیادہ ہے اور رجال اللہ کوعزیمت پرعمل کرنازیادہ پسند ہے۔ داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا نے فرمایا:ممکن ہے کہ خواجہ ابو سعید ابو الخیر قدس سرہ کے علاقے میں اس وقت ایساہی رہاہو،کہ زیادہ تراولیا شوافع رہے ہوں ورنہ جہاں تک رخصت وعزیمت کی بات ہے تویہ ہرمذہب میں موجود ہے - کیاجمع بین الصلاتین رخصت نہیں ہے جو شوافع کا مذہب ہے؟ جب کہ احناف کا مذہب اس معاملے میں عزیمت پر ہے؟ صحیح بات یہ ہے کہ ہرمذہب میں رخصت اورعزیمت کی مثالیں موجود ہیں ۔ انصاف کی بات تویہ ہے کہ ان مذاہب(حنفی ،شافعی،مالکی،حنبلی)کا آپس میں کوئی اختلاف ہی نہیں ہے،جواختلاف نظر آتا ہے وہ توسع ہے، جوامت کے حق میں رحمت ہے- اسی لیے علما نے فرمایاہے کہ :اگ...

علماو مشائخ کی توہین کا وبال

Image
  علماو مشائخ کی توہین  کا وبال ایک مجلس میں مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا سے یہ عرض کیا گیا کہ بعض علاقوں میں کچھ لوگ سرکارسے سوئے ظن رکھتے ہیں اورعام مسلمانوں کو خانقاہ شریف آنے سے منع کرتے ہیں۔ سرکا رنے فرمایا: جو لوگ ہمیں تسلیم کرتے ہیں ان کی تعلیم و تربیت ہمارے ذمے ہے ،ہمیں ان کی طرف متوجہ رہنا چاہیے اور جو لوگ ہمیں تسلیم نہیں کرتے ،ان سے الجھنے کی کوئی ضرورت نہیں،بلکہ ان کے حق میں دعا کرنی چاہیے۔ ہمارا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم کتاب وسنت کی پیروی اور مشائخ امت کی روش پر کاربند رہیں ،اور اسی کی روشنی میں دعوت و تبلیغ اور متعلقین و محبین کی تربیت و تزکیہ کافریضہ انجام دیتے رہیں ، اپنے وجود یا اپنی کسی تحقیق کو ساری دنیا سے تسلیم کرانے پر بضد نہ ہوں اور نہ ہی علما و مشائخ میں سے کسی کی توہین و تذلیل کریں۔   علما و صوفیا میں سے کوئی بھی ہو،ان کی موافقت یا کسی مسئلہ میں ان کے خلاف رائے رکھنا انسان کا شرعی حق ہے ، کوئی فقیہ جب کوئی فتویٰ دیتا ہے تو وہ اپنے علم اور اپنی تحقیق کی بنیاد پر دیتاہے اور فتویٰ کے آخر میں وَاللّٰہُ اَعْلَمُ   بِالصَّوَ...

عورتوں کے ساتھ حسن سلوک

Image
  عورتوں کے ساتھ حسن سلوک ۷ ؍رمضان ۱۴۳۵ ھ بعد نماز عصر مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا اپنے جاں نثاروں کے ہجوم میں جلوہ افروز تھے ،مختلف دینی گفتگو ہوتی رہی اسی درمیان عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر آیا ،آپ نے مجلس میں بیٹھے ہوئے ایک صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ بتاؤ!کہ تمہاری بیوی فرعون کی بیوی کی طرح ہے یا حضرت لوط کی بیوی کی طرح؟   مزید فرمایا کہ اللہ نے مرد کو عورت پر قوام بنایا ہے ،اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت پر ظلم کیا جائے ،بلکہ اس کے ساتھ حسن سلوک اور تدبیر سے پیش آیا جائے اور اپنے منتظم ہونے کا ثبوت دیا جائے،حاکم مطلق نہ بن جائے ورنہ رشتہ ٹوٹ جائے گا۔کیونکہ عورت پسلی سے ہے اورپسلی ٹیڑھی ہوتی ہے زیادہ سیدھا اگر کیا گیا تو ٹوٹ جائے گی ۔ جو چیز ٹیڑھی ہوتو اس کو اس کی فطرت پر باقی رکھتے ہوئے اس سے کوئی اچھی چیز بنا ئی جائے ،بالکل سیدھا کرنے کے چکرمیں توڑا نہ جائے ،مرد کو چاہیے کہ عورت کو اس کی فطرت پر باقی رکھتے ہوئے اس کو پہلی یادوسری تاریخ کے چاندکی طرح حسین و جمیل بنا دے، اس کی کجی بھی باقی رہے اور حسن خلق ، وفاداری اور دین داری کی زینت سے مزین ...

دنیاآخرت کی کھیتی ہے

Image
  دنیاآخرت کی کھیتی ہے یکم دسمبر ۲۰۱۳ ءبروز اتوار کلکتہ ناخدا جامع مسجد کے امام کی مسجد بیت میں مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا ایک مجلس میں جلوہ افروز تھے ،جس میں ائمۂ کرام اور عمائدین شہر بھی کا فی تعداد میں موجود تھے ـ۔ درمیان گفتگو اِنفاق فی سبیل اللہ کا ذکر آیا، آپ نے فرمایا کہ ڈھائی فیصد تو فرض ہے،جس کی ادائیگی نجات کے لیے ضروری ہےاور ڈھائی فیصد سے زیادہ خرچ کرنا درجات کا سبب ہے، عالم دنیا میں توانسان زیادہ سے زیادہ درجات حاصل کرناچاہتا ہے ،جو فانی ہے اور اُ س عالم کی تیاری میں سستی کرتا ہےجو باقی رہنے والاہے اور جہاں ہم کو ہمیشہ ہمیش رہنا ہے، وہاں کے لیے صرف نجات پر اِکتفا کرنے کے لیےہم تیار ہیں، ـ ڈھائی فیصد دے کر ہم نے فرض ادا کیا لیکن وَمِمَّارَزَقْنَاھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔ ۳( بقرہ)پر بھی ہمارا عمل ہونا چاہیے ـ۔ اللہ نے جوجو نعمتیں ہم کو دی ہیں اُن کے ذریعے اُس کے دین کی مدد کرنا لازم ہے، مال ہے تو مال خرچ کریں، علم ہے تو علم کے ذریعے اس کے دین کی مددکریں اور اپنے وجود سے اُس کے دین کی اشاعت وتبلیغ میں ڈٹ جائیں   وَجٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْف...

علم کا مقصود اور اس کے درجات

Image
  علم کا مقصود اور اس کے درجات عزیز طلبہ! علم کی پانچ   قسمیں ہیں( ۱) علم الاحکام ( ۲) علم الافعال ( ۳) علم الاسماء( ۴) علم الصفات ( ۵) علم الذات ۔ پہلا علم آسان ہے دوسرے علم سے اور دوسرا تیسرے سے ،تیسرا چوتھے سے اور چوتھا آسان ہے پانچویں سے ۔ علم الذات تک رسائی یعنی معرفت الٰہی کا حصول ہی انسان کا مقصد اصلی ہے ۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:   وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ(الذاریات : ۵۶) اَیْ لِیَعْرِفُوْنَ۔   یعنی اللہ رب العزت نے جن و انس کو اپنی معرفت حاصل کرنےہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ہماری تخلیق کا مقصداس وقت حاصل   ہوگا جب اللہ کی معرفت حاصل کرلیں،اللہ کی معرفت کا حصول ہم تدریجا کر سکتے ہیں ۔ پہلے ہم علم الاحکام کو جانیں یعنی شریعت کے علم سے آراستہ ہوں اور پھر علم الافعال کو طلب کریں، اسی طرح اسمائے الٰہی کے اسرار کو جاننے کی کوشش کریں، پھر صفات الٰہی کے رموز وتجلیات کے بھید کو جاننے کی جد وجہد کریں۔ جب ہم ان علوم اور اس کے اسرار تک رسائی کی کوشش کریں گے تو اللہ رب العزت اپنے فضل سے اپنی ذات کی معرفت عطا فرمائے گا جو ...

دنیامومن کے لیےقیدخانہ ہے

Image
  دنیامومن کے لیےقیدخانہ ہے ۹ ؍ محرم الحرام ۱۴۳۵ ھ بعد نماز مغرب قصبہ سید سراواں شریف میں عوام الناس کے اہتمام سے ذکر شہدائے کربلا کا انعقاد تھا جس میں جامعہ عارفیہ کے ایک طالب علم نے اپنی تقریر کے درمیان اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُوْمِنِ وَجَنَّۃُ الْکَافِرِکا ذکر کیا۔ اسی درمیان مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینااس محفل میں تشریف لائے،اورتقریر کے اختتام پر آپ نے مذکورہ قول کے ضمن میں فرمایا کہ یہ دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے ،اس کی دو وجہ سمجھ میں آتی ہے: ۱ ۔ مومن دنیا میں اپنی خواہش کی پیروی نہیں کرسکتا، جب کہ کافر آزاد ہے جو چاہے کرے۔ ۲ ۔ مومن جب دنیامیں اللہ ورسول کے احکام اور اس کی مرضی کے مطابق اپنی زندگی بسر کرے گا، پھراپنے رب کے پاس حاضر ہوگا اوروہ اپنے ان فرماں بردار بندوں کو انعامات سے سرفراز کرے گا ،جنت جیسی عظیم نعمت عطا کرے گا تو مومن بندہ جنت کی کشادگی اور اس کی نعمتوں کے سامنے اس دنیا کو جس میں اس وقت ہم موجود ہیں،یاد کرے گا اور کہے گا کہ اب ہم کو حقیقی آزادی ملی ہے ورنہ اب تک ہم قید خانے میں پڑے ہوئے تھے ۔اسی طرح کافرجب عذاب جہنم چکھےگا...

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد

Image
  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد عارف باللہ مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا نے ایک مجلس میں طلباکو سمجھاتے ہوئے فرمایا :   بچو! ہم جس دین کے ماننے والے ہیں، وہ الٰہی نظام ہے اور وہ تین اجزا کے مجموعے کا نام ہے : ۱ ۔ ایمان ۲ ۔ اسلام ۳ ۔احسان دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں : ۱ ۔ عقیدہ ۲ ۔ شریعت ۳ ۔اخلاق عقیدہ : ان افکار و احکام کا دل سے تصدیق کرنا جو اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کی طرف سے لائے ۔ شریعت : ان اعمال کو انجام دینا جن کا اللہ نے اپنے بندوں سے مطالبہ کیا ہے،اور ان سب اعمال کو ترک کردینا جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایاہے۔ اخلاق: وہ صفات اور فضائل ہیں جن سے اہل ایمان واسلام کا مزین ہوناضروری ہے۔ مثلا: حسن اخلاق، تزکیہ نفس، تصفیہ قلب اور تجلیہ روح وغیرہ ،کیوں کہ یہ صفات و فضائل ایمان اور اسلام کے ثمرات اور نتائج ہیں اور ان سے امتی کا آراستہ ہونا رسول اللہ صلی الله عليہ وسلم کی بعثت کے مقاصد سے ہے ـ   اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّمَابُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْل...

نماز وہی جوبرائی سے روک دے

Image
  نماز وہی جوبرائی سے روک دے حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا سے سوال کیا گیاکہ سرکار ہماری نماز کیسی ہونی چاہیے؟آپ نے فرمایا: نماز ایسی ہو جو برائی اور بے حیائی سے روکے۔ ’’ إِنَّ الصَّلَاۃَ تَنْہیٰ عَنِ الْفَحْشَاء  وَالْمُنکَر ۔‘‘(عنکبوت: ۴۵)    ایک شخص کو جب ہر دن پانچ وقتوں میں اللہ کا خوف اور اس کی خشیت حاصل ہوگی تو پھر اس کا دن اور رات ہر آن تقویٰ کے ساتھ گزرے گا ،مگرخشوع اور تقویٰ والی نماز تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ظاہر وباطن کوپاک اور ستھرا بنالیں ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ مِفْتَاحُ الصَّلاۃِ الطُّہُور ۔‘‘(ترمذی، کتاب الصلاۃ)یعنی پاکی نماز کی کنجی ہے ۔ طہارت کی دو قسمیں ہیں ،( ۱) ظاہری ( ۲) باطنی۔ ظاہری طہارت یہ ہے کہ نمازی صاحب غسل اورصاحب وضو ہونے کے ساتھ اپنے ہاتھ پاؤں اور دیگر اعضاسے دوسروں کو محفوظ رکھتاہو،اورظلم و زیادتی سے باز رہتا ہو ۔ باطنی طہارت یہ ہے کہ اپنے قلب کو بغض وحسد اور ان جیسی رذیل خصلتوں سے پاک رکھے، بلکہ مرد مومن کو چاہیے کہ ماسوا اللہ سے قلب کو خالی رکھے ،یہ ہے باطنی طہارت ۔ جب ہم طہارت ظا...

معرفت الہٰی ہی مقصد حیات ہے

Image
  معرفت الہٰی ہی مقصد حیات ہے علم ایک نور ہے۔ اس کی روشنی میں انسان حلال وحرام، جائز وناجائز اور حق وباطل میں تمیز کرتا ہے۔ علم کا مقصد جس قدر اعلیٰ ہوگا اسی قدر علم بھی اعلیٰ وافضل شمار کیا جائے گا۔ انسان کی زندگی کا اصل مقصد ،معرفت الٰہی کا حصول ہے۔ کائنات کے خالق کی طرف جو علم رہ نمائی کرے ،اس کی ذات وصفات، اسما وافعال کا جو علم پتا بتائے، اس کے احکام سے جو علم آگاہ کرے، وہ علم سب سے اعلیٰ اور افضل قرار پائے گا۔ اللہ رب العزت نے فرمایا: ’’ وماخلقت الجن والانس الا لیعبدون ‘‘ حضرت ابن عباس کی روایت کے مطابق لیعبدون کی تفسیرلیعرفون‘‘سے کی گئی ہے۔ یعنی ہم نے انسان وجنات کو اپنی معرفت حاصل کرنے کے لیے  پیدا کیا۔  معلوم ہوا کہ تخلیق انس وجن کا مقصد معرفت الٰہی کا حصول ہے۔ اب مخلوق اگر اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرتی ہے تو وہ کامیاب اور بامقصد قرار دی جائے گی، ورنہ ناکام اور بے مقصد کہی جائے گی۔  حضرت ابن عباس کی اس روایت کی تائید اللہ کے رسول ﷺ کی اس حدیث سے ہوتی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل کے سوال کے جواب میں فرمایا۔  سوال کیا گیا: ماالاحس...