علم کا مقصود اور اس کے درجات

 


علم کا مقصود اور اس کے درجات

عزیز طلبہ! علم کی پانچ  قسمیں ہیں(۱) علم الاحکام (۲) علم الافعال (۳) علم الاسماء(۴) علم الصفات (۵) علم الذات ۔

پہلا علم آسان ہے دوسرے علم سے اور دوسرا تیسرے سے ،تیسرا چوتھے سے اور چوتھا آسان ہے پانچویں سے ۔ علم الذات تک رسائی یعنی معرفت الٰہی کا حصول ہی انسان کا مقصد اصلی ہے ۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

 وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ(الذاریات :۵۶)اَیْ لِیَعْرِفُوْنَ۔

 یعنی اللہ رب العزت نے جن و انس کو اپنی معرفت حاصل کرنےہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ہماری تخلیق کا مقصداس وقت حاصل  ہوگا جب اللہ کی معرفت حاصل کرلیں،اللہ کی معرفت کا حصول ہم تدریجا کر سکتے ہیں ۔

پہلے ہم علم الاحکام کو جانیں یعنی شریعت کے علم سے آراستہ ہوں اور پھر علم الافعال کو طلب کریں، اسی طرح اسمائے الٰہی کے اسرار کو جاننے کی کوشش کریں، پھر صفات الٰہی کے رموز وتجلیات کے بھید کو جاننے کی جد وجہد کریں۔

جب ہم ان علوم اور اس کے اسرار تک رسائی کی کوشش کریں گے تو اللہ رب العزت اپنے فضل سے اپنی ذات کی معرفت عطا فرمائے گا جو ہماری تخلیق کا مقصد ہے۔

ﺆﺆﺆ

Comments

Popular posts from this blog

کلمہ گو کی تکفیر میں احتیاط کے سلسلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا رویہ

تقویٰ کی حقیقت اور اس کا سماجی پہلو