تقویٰ کی حقیقت اور اس کا سماجی پہلو

 



تقویٰ کی حقیقت اور اس کا سماجی پہلو

ڈاکٹر محمد مجیب الرحمٰن علیمی

قرآن  مجید میں اللہ رب العزت نے جگہ جگہ اپنے بندوں کو مخاطب کرتے ہوئے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم فرمایاہے ، تقویٰ کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی ناراضگی سے بچنے کے لیے اپنے اعمال، اقوال اور نیتوں کو درست رکھنا۔ یہ دل کی ایسی کیفیت ہے جو انسان کو برائیوں سے روکتی اور نیک کاموں کی طرف راغب کرتی ہے۔ تقویٰ کی بنیاد اس بات پر ہے کہ انسان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور اس کے حساب و کتاب کو مدنظر رکھے۔

تقویٰ کی تعریف

تقویٰ کی تعریف کرتے ہوئے اہل  علم نے فرمایاہے:

"التقوی هي أن يجعل العبد بينه وبين عذاب الله وقايةً، وذلك بفعل ما أمر الله به واجتناب ما نهى عنه."

ترجمہ:تقویٰ یہ ہے کہ بندہ اپنے اور اللہ کے عذاب کے درمیان ایک حفاظت کی دیوار قائم کرے، اور یہ اللہ کے احکام کی پیروی کرنے اور اس کی منع کردہ چیزوں سے بچنے کے ذریعے ممکن ہے۔"

یہ تعریف اس بات کو واضح کرتی ہے کہ تقویٰ اللہ کے حکم کی اطاعت اور اس کی ناراضگی سے بچنے کا نام ہے۔

تقویٰ کی بنیاد

تقویٰ کی بنیاد اللہ  تعالیٰ کے وجود کا یقین اور اس کی بارگاہ میں جواب دہی کا خوف اور اس کی رضا کی طلب پر ہے۔ تقویٰ  دل کی ایسی کیفیت ہے جس میں انسان ہر کام کرتے وقت یہ سوچتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے، اور اسے اپنے ہر عمل کا جواب دینا ہوگا۔ تقویٰ کا مطلب اپنے اندر وہ احساس پیدا کرنا ہے جو انسان کو برے کاموں سے روکے اور اچھے اعمال کی طرف راغب کرے۔

تقویٰ کی بنیاد کو چند اہم عناصر میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

اللہ کی معرفت

تقویٰ کی اصل بنیاد اللہ کی معرفت ہے، یعنی یہ شعور کہ اللہ  ہی حاکم مطلق ہے اور وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے، سنتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے۔

آخرت کا یقین

 تقویٰ اس یقین پر مبنی ہے کہ آخرت میں انسان کو اللہ رب العزت جو حاکم مطلق ہے اس کی بارگاہ میں  اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ یہ احساس انسان کو برے کاموں سے بچنے اور نیکی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

رضائے الہی کی طلب

تقویٰ کا مطلب ہے کہ انسان ہر عمل اللہ کی خوشنودی کے لیے کرے اور اس کی نافرمانی سے بچے۔

 نفس کا محاسبہ

 تقویٰ نفس کی نگرانی اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے پر بھی مبنی ہے تاکہ انسان غلطیوں سے بچ سکے۔

شریعت کی پیروی

تقویٰ کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ انسان اللہ کے احکامات اور شریعت کے قوانین کی پیروی کرے، کیونکہ یہ اللہ کی رضا کا راستہ ہے۔یہ تمام عناصر مل کر تقویٰ کی بنیاد تشکیل دیتے ہیں، جس کا مقصد انسان کو روحانی اور اخلاقی طور پر بلند کرنا اور اسے اللہ سے قریب تر کرنا ہے۔

تقویٰ کا حدیثی  مفہوم

حدیث شریف میں تقویٰ کی تعریف مختلف الفاظ میں آئی ہے، جس میں تقویٰ کو اللہ کے خوف اور اس کے احکام کی پیروی کرنے کا جذبہ قرار دیا گیا ہے۔ ایک مشہور حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"التقویٰ هاهنا"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا، "تقویٰ یہاں ہے" (صحیح مسلم: 2564)

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح  طور پر فرمادیا کہ  تقویٰ دل کی ایک کیفیت ہے جو انسان کے اندر اللہ کی ناراضگی اور گناہوں سے بچنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ یہ ظاہر میں نہیں بلکہ باطنی طور پر دل کی پاکیزگی اور اخلاص سے وابستہ ہے۔

ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اتقِ الله حيثما كنت"تم جہاں بھی ر ہو، اللہ سے ڈرو (جامع الترمذی: 1987)

اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر جگہ اور ہر وقت اللہ کا خوف دل میں رکھنے کی ہدایت کی ہے، جو تقویٰ کی اصل روح ہے۔لہٰذا، حدیث شریف میں تقویٰ کی تعریف یہ ہے کہ انسان دل میں اللہ کا خوف رکھتے ہوئے ہر حال میں اس کی رضا کے مطابق زندگی بسر کرے، گناہوں سے بچے، اور نیکی کے کاموں میں خود کو مشغول رکھے۔

تقویٰ کا قرآنی مفہوم

قرآن مجید میں ایک مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

{ قُلۡ یَـٰعِبَادِ ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمۡ لِلَّذِینَ أَحۡسَنُوا۟ فِی هَـٰذِهِ ٱلدُّنۡیَا حَسَنَةࣱۗ وَأَرۡضُ ٱللَّهِ وَ ٰسِعَةٌۗ إِنَّمَا یُوَفَّى ٱلصَّـٰبِرُونَ أَجۡرَهُم بِغَیۡرِ حِسَابࣲ }( سورہ زمر :۱۰)

ترجمہ:اے نبی آپ فرمادیجئے کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو ، اپنے ربّ سے ڈرو۔  جن لوگوں نے اِس دنیا میں نیک رویّہ اختیار کیا ہے ان کے لیے بھلائی ہے۔  اور خدا کی زمین وسیع ہے،  صبر کرنے والوں کو تو ان کا اجر بے حسا ب دیا جائے گا۔

تقویٰ کا سماجی پہلو

تقویٰ کا سماجی  پہلو یہ ہے کہ جب فرد میں اللہ کا خوف اور پرہیزگاری کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے تو اس کا اثر اس کے معاشرتی رویوں اور برتاؤ میں نمایاں ہوتا ہے۔ تقویٰ کی بنیاد پر ایک شخص معاشرتی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں نبھاتا ہے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے۔ سماجی لحاظ سے تقویٰ کے درج ذیل ظاہری اثرات ہوتے ہیں:

 عدل و انصاف کا قیام

 متقی شخص ہر حال میں انصاف کو ترجیح دیتا ہے، چاہے وہ اپنے یا اپنے قریبی لوگوں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ تقویٰ کا تقاضا ہے کہ ظلم سے بچا جائے اور دوسروں کے ساتھ انصاف کا برتاؤ کیا جائے۔

 حقوق العباد کی ادائیگی

 تقویٰ رکھنے والا فرد دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے، مثلاً والدین، ہمسایوں، یتیموں، غریبوں، اور معاشرے کے کمزور افراد کے حقوق۔ وہ اپنے مال و وسائل میں سے ضرورت مندوں کا حق ادا کرتا ہے اور سخاوت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

 باہمی احترام اور محبت کا فروغ

 تقویٰ انسان کے دل میں دوسروں کے لیے عزت، محبت اور خیرخواہی پیدا کرتا ہے۔ وہ  اللہ کی رضا اورخوشنودی کی خاطر دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھتا ہے اور لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا ہے۔ یہ معاشرتی تعلقات کو مضبوط اور پائیدار بناتا ہے۔

 رواداری اور صبر کا مظاہرہ

متقی شخص اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہونے اور اس کے انعامات کی طلب میں بلکہ کم از کم اللہ کی بارگاہ میں خود اپنی خطاوں کی معافی کی امید میں  دوسرے افراد کی غلطیوں کو برداشت کرتا ہے، ان کے ساتھ نرمی اور رواداری سے پیش آتا ہے، اور اختلافات کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ وہ سخت ردعمل یا انتقام کے بجائے معافی اور درگزر کو اختیار کرتا ہے۔

 سچائی اور امانت داری کا مظاہرہ

اہل تقویٰ  کا دل اللہ کی بارگاہ میں جواب دہی کے تصور سے لبریز ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ سچائی کا پابند ہوتا ہے اور دھوکہ دہی یا جھوٹ سے پرہیز کرتا ہے۔ وہ امانت دار ہوتا ہے اور لوگوں کے مال و حقوق کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

 امن اور تعاون کا فروغ

 تقویٰ ایک ایسے معاشرے کے قیام میں معاون ہوتا ہے جو امن اور سکون پر مبنی ہو۔ متقی افراد آپس میں لڑائی جھگڑے اور فساد سے بچتے ہیں اور باہمی تعاون اور خیر خواہی کو فروغ دیتے ہیں۔گویا تقویٰ امن عالم کا ضامن اور باہمی تعاون کا محرک ہے۔

تقویٰ کا نتیجہ   معاشرے میں اخلاقی اقدار کے فروغ، دوسروں کی مدد، انصاف کی فراہمی اور ظلم و زیادتی سے اجتناب کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، جو مجموعی طور پر ایک مثالی اور پرسکون معاشرتی نظام کے قیام میں مددگار ہوتا ہے۔

خلاصہ کلام

تقویٰ کی اہمیت اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں تقویٰ کو بار بار ذکر کیا  ہے اورتقریبا ۸۵ مقامات پر تقویٰ اختیار کرنے کا  اللہ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے  ، تقویٰ ایمان کی اعلیٰ ترین حالت سمجھی جاتی ہے ،اسی  لیے اللہ رب العزت  نے اہل تقویٰ کے بارے میں  ارشاد  فرمایا ہے:

"إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ" (سورۃ الحجرات: 13)ترجمہ: بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔

معلوم ہوا کہ تقویٰ  اختیار کرنا جہاں   ایک مذہبی فریضہ ہے وہیں وہ   اخلاقی و روحانی حالت  بھی ہے جو انسان کو ہر قدم پر صحیح اور غلط کا فرق سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ تقویٰ انسان کے اندر نہ صرف اپنے خالق کا خوف پیدا کرتا ہے بلکہ دوسروں کے حقوق کا احترام، عدل و انصاف، اور محبت و شفقت کا بھی درس دیتا ہے۔جب افراد اور اقوام تقویٰ کے اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہیں، تو ان کے درمیان نفرت، ظلم، اور خودغرضی کی جگہ محبت، انصاف، اور باہمی احترام پیدا ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف ذاتی زندگی میں بہتری آتی ہے بلکہ  سماجی و معاشرتی طور پر بھی بہتری پیدا ہوتی ہے اور ملکی و عالمی سطح پر بھی امن و سلامتی کے فروغ میں مدد ملتی ہے۔ اس لیے تقویٰ ہر انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی ضرورت ہے تاکہ دنیا میں انسانیت اور امن کی بنیاد مضبوط ہو سکے۔گویا تقویٰ پوری انسانیت کی بنیادی ضرورت ہے۔

عالمی سطح پر  جوخونریزی اور تنازعات آج جاری ہے اس کے سد باب میں  تقویٰ کا اہم کردار ہو سکتا ہے۔ تقویٰ انسان کے دل میں خدا کا خوف اور جواب دہی کا شعور پیدا کرتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ ظلم و ستم سے باز رہتا ہے اور انصاف و عدل کا دامن تھامتا ہے۔ تقویٰ انسان کو اپنی خواہشات اور جذبات پر قابو پانے کا درس دیتا ہے، جو کہ امن و سلامتی کے قیام کے لئے نہایت ضروری ہے،جہاں تقویٰ موجود ہوتا ہے، وہاں انسان دوسروں کے حقوق کا احترام کرتا ہے، ان کی جان و مال کی حفاظت کرتا ہے، اور معاشرتی انصاف کو فروغ دیتا ہے۔ اگر عالمی رہنماؤں اور عوام میں تقویٰ کا عنصر ہوگا تو ان میں طاقت کے غلط استعمال، خود غرضی، اور نفرت کے بجائے ہمدردی، محبت، اور بھائی چارہ پروان چڑھے گا، جو عالمی امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔

نوٹ: اس موضوع پر ۲۰ ؍اکتوبر ۲۰۲۴ء کو  اولیا کونسل آ ف نارتھ امریکہ  کے یو ٹیوب چینل پر  گفتگو کی گئی  اس ضمن میں یہ  تحریر تیار کی گئی تھی۔

Comments

Popular posts from this blog

کلمہ گو کی تکفیر میں احتیاط کے سلسلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا رویہ

علم کا مقصود اور اس کے درجات