کلمہ گو کی تکفیر میں احتیاط کے سلسلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا رویہ
کلمہ
گو کی تکفیر میں احتیاط کے سلسلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا رویہ
امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ
اللہ(۱۵۰ھ) حتی الامکان کلمہ گو کی تکفیر سے احتراز کرتے
تھے، آپ کا مسلک اور رویہ یہ تھا کہ اگر کسی مسلمان کے کسی قول میں کفر کی متعدد
پہلو ہوتے اور صرف ایک پہلو ایمان کا ہوتا تو دیگر تمام پہلوؤں پر ایمان کے پہلو کو ترجیح د یتے اور ہر ممکن حد تک اہل اسلام اور اہل توحید کے قول و فعل کی تاویل فرماتے:
معروف عالم و محقق اور
سیرت نگار ،صاحب ’’ عقود الجمان فی مناقب الامام الاعظم
ابی حنیفۃ النعمان‘‘محمد بن یوسف بن علی بن یوسف دمشقی
شافعی (۹۴۲ھ) رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مذکورہ کتاب میں امام اعظم قدس سرہ کا
ایک واقعہ یوں نقل کیا ہے :
روى القاضي أبو عبدالله الصيمري
عن زائدة ، وأبو الموئد الخوارزمي عن محمد بن قاتل: قالا :
إن رجلا قصد أبا حنيفة فقال : ماتقول في رجل لا يرجو الجنة ، ولايخاف من النار، ولا يخاف الله تعالى ، ويأكل الميتة ، ويصلى بلا ركوع ولا سجود ، ويشهد بما لا يرى ، ويبغض الحق ، ويحب الفتنة ، ويفر من الرحمة ، ویصدق اليهود ، والنصاریٰ ؟ فقال له أبو حنيفة ـ وكان يعرفه شديد البغض له : يافلان ، سألتني عن هذه المسائل ولك بها علم ؟ فقال الرجل : لا ولكن لم أجد شيئا هو أشنع من هذا فسألتك عنه ، فقال أبو حنيفة لأصحابه : ماتقولون في ھذا الرجل ؟ قالوا شر رجل هذه صفة كافر ، فتبسم أبو حنيفة وقال : لأصحابہ : هو من أولياء الله تعالى حقا ، ثم قال للرجل : إن أنا أخبرتك أنه من أولياء الله تعالى، تكف عن شر لسانك ولاتملی علٰی الحفظة مايضرك ؟ قال : نعم، قال : أما قولك : لا يرجوالجنۃ ولا يخاف من النار ، فانه يرجو رب الجنة ، ويخاف رب النار ، . قولك : لا يخاف الله ، فإنه لا يخاف الله تعالٰى أن يجور عليہ فی عدله ، ولسلطانه ، قال الله تعالٰى: [ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّـٰم لِّلعَبِیدِ ]، وقولك : يأكل الميتة ، فهو أكل السمك ، قولك : يصلى بلا ركوع ولا سجود أراد صلاة الجنازة ، وفى رواية: أراد الصلاة على النبي على عليه وسلم ، وقولك : يشهد بما لم يره ، فهو شهادة أن لا اله إلا الله ، وأن محمد عبده ورسوله ، وقولك : یبغض الحق ، فھو یحب البقاء حتى يطیع الله تعالٰى -و یبغض الموت وهو الحق ، قال الله تعالٰى : {وَجَاءَت سَكرَةُ ٱلمَوتِ بِٱلحَقِّ} و قولك : يحب الفتنة ، أراد أنه يحب المال و الولد ، قال الله تعالٰى: إِنَّمَاأَموَ لُكُم وَأَولَـٰدُكُم فِتنَة}و قولك : يفر من الرحمة : أراد أنه يفر من المطر ، وقولك : يصدق اليهود والنصاري ، أراد قول الله تعالي عنهم { وَقَالَتِ ٱلیَهُودُ لَیسَتِ ٱلنَّصَـٰرَىٰ عَلَىٰ شَیء وَقَالَتِ ٱلنَّصَـٰرَىٰ لَیسَتِ ٱلیَهُودُ عَلَىٰ شَیء } فقام الرجل وقبل رأسه ، وقال : أشهد أنك على الحق .[1]
’’
ایک شخص امام اعظم ابو حنیفہ قدس سرہ کی مجلس میں حاضر ہوااور عرض کیا کہ ایک شخص
اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے اس کے باوجود وہ جنت کی خواہش نہیں رکھتا، جہنم سے
نہیں ڈرتا،اللہ کا خوف نہیں رکھتا ، مردہ کھاتا ہے، بلا رکوع وسجود کے نماز پڑھتا
ہے،اس چیز کی شہادت دیتا ہےجسے اس نے دیکھا تک نہیں، حق بات کو ناپسند کرتا ہے،فتنے
کو محبوب رکھتا ہے ، رحمت خداوندی سے دور بھاگتا ہے اور یہود ونصاری کی تصدیق کرتا
ہے ۔ ،اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
جس شخص نے یہ سوال کیا
تھا،اس کے بارے میں امام صاحب جانتے تھے
کہ وہ آپ سے بغض رکھتا ہے، امام صاحب نے اس
سے پوچھا کہ کیا تم ان سوالات کے جوابات جانتے ہو ؟اس نے کہا نہیں؛لیکن اس سے بری
باتیں میرے علم میں اور کوئی نہیں ہوسکتی،اسی
لیے میں نے آپ سے سوال کیا ہے ۔پھر امام صاحب نے اپنے شاگردوں سے پوچھا کہ تم
لوگوں کی اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے؟ ان سب نے کہا: یہ بد ترین شخص ہے اور یہ
اس کے کافرانہ صفات ہیں۔اس پر امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے تبسم فرمایا
اور کہا : میرے نزدیک وہ شخص یقیناً اولیاء
اللہ میں سے ہے،پھر سائل سے مخاطب ہوکر فرمایا :میں نے تم کو بتایا کہ وہ شخص
اللہ کا ولی ہے لہذا تم اپنی زبان کے شر سے اس کو امان میں رکھو اور
اس پر لعن طعن کر کے اپنے نامہ اعمال میں گناہ جمع نہ کرو ۔ سائل کو حیرت ہوئی تو
امام صاحب نے فرمایا: سنو! تمہارا یہ کہنا کہ وہ جنت کی آرزو نہیں رکھتا اور جہنم
سے نہیں ڈرتا ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ شخض جنت کے مالک کی آرزو رکھتا ہے اور جہنم
کے مالک سے ڈرتا ہے۔ تمہارا یہ کہنا کہ وہ اللہ سے خوف نہیں رکھتا تو اس کا مطلب
یہ ہے کہ وہ شخص اللہ کے ظلم کا کوئی خوف نہیں رکھتا کیوں کہ اللہ تعالیٰ عدل
فرمانے والا ہے ذرہ برابر بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ خود ارشاد
فرماتا ہے : وَمَا رَبُّكَ بِظَلّٰم لِّلعَبِیدِ
(تیرا
رب بندوں پر بالکل بھی ظلم کر نے والا نہیں ہے )۔تمہارا یہ کہنا کہ وہ مردار کھاتا
ہے، اس کا مطلب ہے کہ وہ مچھلی کھاتا ہے۔تمہارہ یہ کہنا کہ بلارکوع وسجود کے نماز
پڑھتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جنازہ کی نماز پڑھتا ہے،ایک روایت کے مطابق آپ نے
فرمایا کہ یہاں صلاۃ کے معنی یہ ہیں کہ وہ
بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھتا ہے۔تمہارا یہ کہنا کہ وہ بغیر
دیکھے ہوئے گواہی دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لاالہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی
گواہی دیتا ہے ۔تمہارا یہ کہنا کہ حق کو
ناپسند کرتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ وہ شخص زندگی کو پسند کرتا ہے؛ تاکہ اللہ کی خوب
اطاعت کرسکے اور موت کو ناپسند کرتا ہے؛ جبکہ موت حق ہے،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَجَاءَت سَكرَةُ المَوتِ بِالحَقِّ (اور
موت کی غشی حق کے ساتھ آپہنچی )۔تمہارا یہ کہنا کہ فتنہ کو پسند کرتا ہے، اس
کامطلب یہ ہے کہ مال اور اولاد کو پسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: انَّمَا أمْوَالُکُمْ وَأوْلَادُکُمْ فِتْنَة،(بے
شک تمہارے مال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں)۔تمہارا یہ کہنا کہ رحمت سے بھاگتا ہے اس
کا مطلب ہے کہ وہ بارش سے بھاگتا ہے اور تمہارا یہ کہنا کہ یہود ونصاری کی تصدیق
کرتا ہے تو وہ یہود کے اس قول: لَیسَتِ
ٱلنَّصَـٰرَىٰ عَلَىٰ شَیء اور نصاریٰ کے قول: لَیسَتِ الْیَهُودُ عَلَىٰ شَیء کی
تصدیق کرتا ہےجس کو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایاہے، یہ سن کر وہ آدمی کھڑ ا ہوا
اور امام صاحب کی پیشانی کو بوسہ دیا اور کہا کہ بے شک آپ نے حق فرمایا، میں اس کی
گواہی دیتا ہوں ۔‘‘
اس
مضبوط روایت کی بنیاد پر اب میں کہہ سکتا ہوں کہ تاویل کا فن صرف علم اور علما کا
ہی کا حسن نہیں ہے بلکہ یہ تو حنفیت و سنیت اور اسلام کا بھی حسن ہے ، جن کو حسن
تاویل نہیں معلوم ان کو حسن حنفیت و سنیت کی کیا خبر؟ کہا جاتا ہے کہ جن کو ذوق
سماع نہیں وہ غبی الدماغ ہیں اور میں کہتا ہوں کہ جن کو علم التاویل نہیں معلوم
اور حسن تاویل کا ذوق نہیں وہ غبی القلوب و الاذہان ہیں، ایسے لوگ کسی بھی حال میں
مسند افتا ء و قضا کےاہل نہیں اور نہ ہی شیخ و مربی بننے کے لائق ہیں ۔ کیوں
کہ فقہ و فتاویٰ میں اگر ذکاوت و فطانت کا ملکہ اور حسن تاویل کا ہنر مطلوب ہے تو
تربیت نفوس میں اس سے بھی بڑھ کر صفت ستاریت کا مظہر کامل و اکمل ہونا لازم و
ضروری ہے۔
[1]محمد بن یوسف شافعی/ عقود الجمان فی
مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان۔ الباب السادس عشر (۲۴۶)

Comments
Post a Comment