Posts

Showing posts from November, 2024

دست بوسی کرنا کیسا ہے؟

Image
  دست بوسی کرنا کیسا ہے؟   ۲۶ ؍ستمبر ۲۰۱۳ ء مطابق ۲۰ ؍ذی قعدہ ۱۴۳۴ ھ بروز جمعرات مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینابعدنماز عصر جب مسجدسے باہر تشریف لارہے تھے۔جامعہ عارفیہ کے طلبا پروانوں کی طرح آپ کی طرف لپک پڑےاوردست بوسی کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرنے لگے۔   حضور داعی اسلام نے فرمایا:بچو!لائن میں آجاؤ ،ایک دوسرے کو دھکانہ دو،دوسروں کو دھکادینا ایذا رسانی کا سبب ہے اورمومن کو ایذا دینا حرام ہے،جب کہ دست بوسی مباح۔فعل مباح کے لیے فعل حرام کا ارتکاب سخت غلط ہے۔     اوراگر کوئی چاپلوسی میں دست بوسی کرے تو دست بوسی ناجائز اوراگر دست بوسی کرانے والا اس کی وجہ سے غرور کا شکار ہوتودست بوسی کراناحرام اور اس سے بچناواجب۔   آپ یہ فرماتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے اورطلبائے جامعہ ومعتقدین صف بستہ اپنی عقیدت کے نذرانے پیش کررہے تھے۔ ﺆﺆﺆ  

فقیہ، متکلم اور صوفی کے درجات

Image
  فقیہ، متکلم اور صوفی کے درجات   اسلام کا تعلق ظاہری و بدنی اعمال سے ہے، ایمان کا تعلق قلبی تصدیق سے، احسان جس کو ہم آج کی اصطلاح میں تصوف بھی کہتے ہیں، ان دونوں یعنی اسلام و ایمان کے کمال کانام ہے۔اسلام وایمان کی خوب صورتی اور اس کا حسن احسان ہے ۔ حسن اور احسان کا مادہ بھی ایک ہے ۔ اسلامیات یعنی ظاہری اعمال وافعال دوسرے الفاظ میں شرعی قوانین سے تعلق رکھنے والے اور ان کی حفاظت میں سرگرداں رہنے والوں کو فقہاے اسلام کہتے ہیں اور قلبی افعال یعنی ایمانیات سے متعلق مسائل سے بحث کرنے والوں کو متکلمین وائمہ عقائد کہتے ہیں اور ان دونوں کی حفاظت وپیروی کرتے ہوئے بغض و حسد ،کینہ و عداوت ، غیبت و چغل خوری سے بچتے ہوئے حسن خلق کامظاہرہ کرکے اسلام وایمان میں حسن پید ا کرنے والوں کو صوفیہ کہتے ہیں۔ چوں کہ احسان نام ہے اسلام و ایمان کے غایت کمال کا۔اس لیے اگر کوئی مسلم اور مومن نہ ہو تو وہ صوفی ہوہی نہیں سکتا بلکہ مومن کا متقی ہونا احسان تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے ۔ دوسرے الفاظ میں اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ فقیہ نام ہے محافظ قوانین اسلامی کا، وہ ظاہرکا نگراںاور عاقل ناقل ہوتا ہے اور متک...

نیکوں کے پیروکار ہی ان کی آل ہیں

Image
  نیکوں کے پیروکار ہی ان کی آل ہیں شیخ طریقت سے سوال کیا گیا کہ کن لوگوں سے محبت رکھنی چاہیے اور کن لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے، فرمایا کہ صالحین وصادقین کی صحبت اختیار کرنی چاہیے کہ اللہ نے فرمایا: کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ ۔ اور انھیں سے محبت رکھنی چاہیے، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو محبت کے لائق ہیں اور انھیں کی محبت نجات تک لے جانے والی ہے۔اور ان ہی نیک بندوں کی اتباع بھی کرنی چاہیے، جو رات دن اپنے مولیٰ کی طرف لو لگائے ہوئے ہیں اور اسی کی طرف متوجہ ہیں: وَاتَّبِع سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ۔ (سورۂ لقمان، ۱۵) کیوں کہ جو جس جماعت کی پیروی کرے گا وہ اسی جماعت اور گروہ میں شمار کیا جائے گا اور جو جس کی صحبت اختیار کرے گا ویسا ہی ہوگااور کل قیامت میں اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا : مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ ۔(ابوداؤد)    لیکن ہم اپنے کاروبار میں ،دنیا کے حصول میں اور طلب جاہ و منصب میں اس قدر مصروف ہیں کہ نہ حق کی طرف جانے کا شوق ہے اورنہ حق کو جاننے کی خواہش اور نہ صادقین کے پاس اٹھنے بیٹھنے اور ان کی صحبت اختیار کرنے کا جذبہ ،لیکن دنیاداروں کے ...

معرفت بغیر علم کے محال اور علم بغیر معرفت وبال

Image
معرفت بغیر علم کے محال اور علم بغیر معرفت وبال حضور داعی ٔاسلام ادام اللہ ظلہ علینا نے ایک سفر میں فرمایا کہ علم اور عمل دونوں ضروری ہے ،علم بغیر عمل کے بے فائدہ ہے اور عمل بغیر علم کے گمراہی ہے، معرفت بغیر علم کے محال اور علم بغیر معرفت کے وبال ہے، علم یا صاحب علم کی صحبت بے حدضروری ہے، علم کے حصول کے لیے یہ ضروری نہیں کہ نو یا دس برسوں تک کا ایک لمبا عرصہ صرف ہی کیا جائے بلکہ اہل ذکر کی صحبت بھی کافی ہے ۔اللہ نے فرمایا ہے: فَاسْأَلُوا أَہْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ۔ (نحل: ۴۳)( اہل ذکر جواہل علم ہوتے ہیں ان سے سوال کرو اگر تم نہیں جانتے ہو )یہاں حکم ہوا اہل ذکر سے سوال کرنے کا، معلوم ہوا کہ ذاکرین سے سوال کیا جائے نہ کہ غافلین سے، اہل غفلت اوراہل نسیان سے دین حاصل کرنا غیر دانشمندانہ ہوگا،ورنہ اندھے کی لاٹھی اندھے کے ہاتھ۔ نہ آج تک اس کا دل ذاکر ہوا اور نہ اس کی صحبت میں رہنے والوںکا۔ذکر یہ نہیں ہے کہ تسبیح کے دانے لے کر بیٹھ جائے اور ہر نماز کے بعد ایک مخصوص کیفیت میں بلند آواز سے کچھ مخصوص کلمات ادا کیے جائیں ،بلکہ ذکر الٰہی یہ ہے کہ ہر قول و فعل کے صدور سے پہل...

KGN Education Centre (Maktab for Diniyat) Report

Image
KGN Education Centre (Maktab for Diniyat) Report Managed by: KGN Educational and Welfare Trust. --- Overview KGN Education Centre focuses on providing diniyat education, emphasizing Quranic recitation and memorization (Hifz). This report highlights the current progress of students in Quran memorization. --- Student Progress Report Hifz Students: 1. Owais (Son of Abbas) Memorized: 3.5 Para 2. Sana (Daughter of Abbas) Memorized: 3.5 Para 3. Sabba (Daughter of Abdul Wahab) Memorized: 2 Para 4. Gulbahar (Son of Arzoo Saheb) Memorized: 1.5 Para --- Students Who Have Recently Completed 1 Para: 1. Yusuf (Son of Luqman) Memorized: 1.5 Para 2. Khayaban (Son of Md Sohail) Memorized: 1.5 Para --- Students in Early Stages of Memorization: 1. Md Reyaz (Son of Abdul Wahab) Memorized: 1 Para 2. Zakiyur Rahman Memorized: 1 Para 3. Anisa (Daughter of Anisur Rahman) Memorized: Half Para --- Summary The KGN Education Centre is actively nurturing the spiritual growth of its student...

بے یقیں ہے علم بس کار فضول

Image
  بے یقیں   ہے علم بس کار فضول علم ایک ایسا چراغ ہے، جس کی روشنی میں علم والا اچھائی اور برائی میں تمیز کرتا ہے، حلال و حرام اس کے سامنے واضح ہوتا ہے ،کفر وایمان کے درمیان فرق اس کے لیے آسان ہوجا تا ہے۔یہ انسان کی فطرت ہے کہ اسے جس چیز کی خرابی کا علم ہو جاتا ہے وہ اس کی خرابی سے کسی کے بتائے بغیر خود ہی بچنے لگتا ہے اور جب کسی چیز کی خوبی کا علم ہوجا تا ہے تو کسی کی ترغیب کے بغیراس چیز کو پانے کی کوشش کرتا ہے ۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں برابر نہیں ہو سکتے ،’ ’ہَل یَستَوی الَّذینَ یَعلَمُونَ وَالذِّینَ لَا یَعلَمُون ‘‘صاحب علم کا سینہ اس گھر کی طرح ہے جس میں کوئی چراغ روشن ہواور جس گھر میں چراغ روشن ہو تاہے اس گھر کی ہر اچھی بری چیز نظر آتی ہے اور صاحب خانہ اس چراغ کی روشنی کی مدد سے ہر وہ چیز جو اس کے کام کی نہیں ہوتی یا اس کے لیے تکلیف دہ یا مضر ہوتی ہے یا اس کی طبیعت سلیمہ کے خلاف ہوتی ہے، اس کو گھر سے باہر کر دیتا ہے اور جو چیز اس کے کام کی اوراس کے حق میں مفید ہوتی ہے، اسے نہایت سلیقے سے سجا   دیتا ہے ، اور   ہر پل اس گھر کو ...

نماز مومنوں کے لیے معراج ہے

Image
  نماز مومنوں کے لیے معراج ہے   ظہر کے بعد علماء، طلبا ،سالکین و طالبین حلقہ بنائے سرکار کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے ،کہ اسی درمیان الہ آباد شہر سے محترم ندیم صاحب اور ان کے ہمراہ دو تین افراد تشریف لائے ،سرکار نے ان کو اپنے قریب بلایا اور خیریت دریافت کی ، اس کے بعد ان میں سے ایک شخص جس کی عمر تقریباً ۴۰ ؍رہی ہوگی ،نے سوال کیا کہ حضرت مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جب میں نمازکے لیے کھڑا ہوتا ہوں تب صرف دنیا کی بات یاد آتی ہے ،کاروبار،معمولات یہی ساری باتیں یاد رہتی ہیں، حد تو یہ ہے کہ جوبھول گیا ہوتا ہوں وہ سب باتیں نماز میں یاد آجاتی ہیں ۔سرکار نے مسکراتے ہوئے فرمایا :کہاجاتاہے   اَلصَّلَاۃُ مِعْرَاجُ اْلمُؤمِنِیْنْ نماز مومنوں کے لیے آلہ عروج ہے، ترقی درجات کا ذریعہ ہے ، اسی طرح یہ بھی حدیث ہے: ـ اَلْصَّلٰوۃُ نُوْرُ اْلمُؤْمِن  کہ نماز مؤمن کا نور ہے ، یا اَلْصَّلٰوۃُ نُوْرٌ  نماز نور ہے ۔تو ظاہر ہے کہ نمازی جب نماز کی حالت میں ہوگا تو اس کے دل ودماغ میں جو کچھ بھی ہوگا نما ز کے نور سے وہ سب روشن ہو جائے گا ۔ ۲۴ ؍گھنٹے میں نمازی نے جو کچھ کیا ہوگا...

کوئی بھی سماع نہ مطلق حلال ہے اور نہ مطلق حرام

Image
  کوئی بھی سماع نہ مطلق حلال ہے اور نہ مطلق حرام مزارات پر صرف پھول ڈالنا کافی ہے ،پھول کی چادر میں کوئی فضیلت نہیں ،کیونکہ چادر میں پھول کے علاوہ دھاگا ہوتا ہے جس کی کوئی اہمیت وفضیلت نہیں ۔ اورکبھی کبھی اس کوبھی ترک کرنا چاہئے ،ہر وہ کام جو مستحب یا افضل بلکہ جائز ہو اور عوام اس کو واجب کی طرح پابندی سے کرے تو علما کو چاہئے کہ اس کوکبھی ترک بھی کریں۔ ہر وہ کام جس کو علما نے جائز یا مستحب یا افضل بتایا ہو تو علت دیکھی جائے گی ،کوئی ضروری نہیں کہ وہ کام ہر دور میں مستحب ہی رہے، اسی طرح ہر وہ کام جس کو علما نے مکروہ و ممنوع قرار دیاہوتو کوئی ضروری نہیں کہ وہ ہر دور میں مکروہ و ممنوع ہی رہے، علت کے پیش نظر حکم دیا جائے گا، علت اگر مکروہ کی ہوگی تو مکروہ کہا جائے گا ورنہ نہیں ،اسی طرح کسی کام کے جواز یا عدم جواز میں زمان و مکان اور اخوان کا بھی دخل ہوتا ہے ،زمان و مکان اور اخوان کے اختلاف سے احکام بھی مختلف ہوں گے، مثلا اگر کوئی نعت رسول کی سماعت کر رہا ہو تو دیکھا جائے گا کہ کب اور کہاں اور کس کے ساتھ سماعت کر رہا تھا ،ایساتو نہیں کہ نماز کے وقت نماز ترک کر کے نعت سماعت کر رہا ہو ،...

تفقہ فی الدین کا مقصد

Image
  تفقہ فی الدین کا مقصد حضورداعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینانے دوران گفتگوجامعہ عارفیہ کے ایک طالب علم کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے فرمایا: فقہ کسے کہتے ہیں اورتم کون سافقہ پڑھ رہے ہو؟ تھوڑے سے وقفے کے بعدحضرت نے خودہی فرمایا: اگرمسائل شرعیہ،مثلاًحلال وحرام اورجائز وناجائز کا علم حاصل ہوتووہ ’’فقہ اسلامی ‘‘ہے اوراگرمسائل اعتقادیہ مثلاًذات باری تعالیٰ اوراس کی صفات ، فرشتے اور آخرت کاعلم ویقین اوراس کی فہم وسمجھ پیداہوتووہ’’ فقہ ایمانی‘‘ ہے اورجس علم کے ذریعے قلبی امراض کاعلم اوراس کاعلاج معلوم ہو، حمیدہ اوررذیلہ خصلتوں کی تمیز حاصل ہواوراخلاق حسنہ سے اپنے آپ کومزین کرنے کاجذبہ پیداہو،اوامرونواہی کی عملی قبولیت کاحوصلہ ملے ،انذاروتبشیرکی روح  پیدا ہوتواس کو’’فقہ احسانی ‘‘کہتے ہیں،جواِن تینوں فقہ کا جامع ہواُس کو’’عالم ربانی‘‘ اور’’فقیہِ کامل‘‘ کہتے ہیں۔اللہ نے جس فقہ کوحاصل کرنے کا حکم فرمایاہے وہ انھیں تینوں کا مجموعہ ہے:   فَلَوْلَا نَفَرَ مِن کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَائِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوا فِی الدِّینِ وَلِیُنذِرُوا قَوْمَہُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَیْہِمْ لَعَلَّہُمْ ی...

صدقہ نافلہ سب کے لیے جائز ہے

Image
  صدقہ نافلہ سب کے لیے جائز ہے یکم اکتوبر ۲۰۱۳ ءمطابق ۲۵ ؍ذی قعدہ ۱۴۳۴ ھ بروز منگل محب مکرم مولانا جہاں گیر حسن مصباحی کے والد مرحوم کے ایصال ثواب کے موقع پرمرشدی   گرامی ادام اللہ ظلہ علینا کے سامنےجلیبی لائی گئی،جامعہ عارفیہ کی ساتویں جماعت (اولیٰ)کے تقریباً چالیس طلباانجمن بنائے ہوئےسرکارکے سہ جانب بیٹھے تھے،سرکارنے طلباکی جانب مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا :بچو! جلیبی کھائی یا نہیں؟بتاؤ کہ پہلے کھالے اوربعدمیں فاتحہ پڑھے تو کیاکوئی حرج ہے؟ ایک طالب علم نے عرض کیا:حضور!کوئی حرج نہیں ہے۔ سرکارنے فرمایا:شاباش،دونوں دو فعل ہیں، کھلانے کا ثواب الگ اور قرآن کی تلاوت کا ثواب الگ۔شیرینی کو سامنے رکھ کرفاتحہ پڑھنامباح ہے،واجب نہیں۔فاتحہ کا سامان خود کھاؤاور دوسروں کو کھلاؤ،امیرہو یا غریب،سادات ہوں یا غیرسادات سب کے لیے جائز ہے،یہ صدقہ نافلہ میں آتاہے اور صدقہ نافلہ سادات کرام کے لیے بھی بلا کراہت جائز ہے۔

سعد ونحس اوربدشگونی کی ایمانی حیثیت

Image
  سعد ونحس اوربدشگونی کی ایمانی حیثیت   سعدونحس اوربدشگونی کے متعلق آپ سےسوال کیاگیاکہ سرکار!شادی کی تاریخ متعین کرتے وقت جنتری میں مرقوم سعدونحس کااعتبارکرنااورچلتی گاڑی کے آگے سے بلی کے گزرجانے کو بدشگونی سمجھنا کیساہے ؟ سرکارنے فرمایاکہ ایمان کاتقاضاہے کہ ہروقت یہ خیال غالب رہے کہ فاعل حقیقی صرف اللہ تعا لی ہے وہ جو چاہتاہے وہی ہوتاہے:اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَایَشَائُ۔( الجج: ۱۸) اِنَّ اللّٰہَ    یَحْکُمُ مَایُرِیْدُ۔(مائدۃ: ۱) سعدونحس جوجنتری میں لکھارہتاہے اس کے اوپر ’’بعقائدشیعی‘‘بھی لکھا رہتا ہے یعنی شیعہ عقیدہ کے مطابق سعدونحس ہے نہ کہ اہل سنت وجماعت کے عقیدے کے مطابق۔اہل سنت وجماعت کاعقیدہ یہ ہے کہ جوبھی نفع ونقصان ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے اوراس کاوقت متعین ہے،جس کوہم تقدیرکہتے ہیں اورتقدیرپرایمان رکھنافرض عین ہے:وَالْقَدْرِخَیْرِہ وَشَرِّہ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی۔( تقدیر اچھی ہو یا بری اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔) ہم پڑھتے توضرور ہیں مگراس پریقین نہیں رکھتے۔   اس روئے زمین پرجوبھی مصیبت آتی ہے،خواہ انسان کی جان ومال پرہویاکسی اورچیز پر،ان سب ...

فرشتوں کے بارے میں اسلامی عقیدہ

Image
  فرشتوں کے بارے میں اسلامی عقیدہ   حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علیناکی مجلس میں ہم حاضر تھے کہ دوران گفتگوفرشتوں کاذکرآیا، آپ نے فرما یا: انسا ن وجنات اور دیگر مخلوقات کی طرح فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں ، اللہ نے ان کو پیدا کیاہے اورمختلف کاموں ںپر لگایاہے وہ اپنے کاموں ںپراسی طرح   لگے ہوئے ہیں، جیسے ہمارے حواس ( کان، آنکھ، ناک، وغیرہ)اپنے کاموں پر لگے رہتے ہیں۔ پھر فرمایا:فرشتے نوری مخلوق ہیں،اللہ کے حکم سے مختلف صورتوں میں ظاہر ہوسکتے ہیں ۔وہ اپنے کاموں سے تھکتے نہیں۔ان میں نہ کوئی مرد ہے اور نہ عورت ،وہ زمین و آسمان میں پھیلے ہوئے ہیں ،اپنے مالک و خالق کے حکم کے مطابق کاموں کو انجام دے رہے ہیں اور جب تک اللہ کی طرف سے کوئی حکم نہ آجائے اسی طرح لگے رہیں گے ، ان میں بھی مراتب ہوتے ہیں اوربعض بعض پہ فوقیت رکھتے ہیں ۔ اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ فرشتے نہ اللہ کے بیٹے    ہیں اور نہ بیٹیاں، کیونکہ اللہ کی صفت: لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ۔ ہے یعنی اللہ نہ کسی کا باپ ہے نہ بیٹا۔ پھرفرمایا: فرشتوں کو اللہ نے کھانے پینے جیسی حاجتوں سے پاک رکھا ہے ، ان...

جشن غوث الورٰی

Image
جشن غوث الورٰی کی روحانی محفل  کے جی این ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام خصوصی تقریب کا انعقاد آج، 17 نومبر 2024 کو کے جی این ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام کے جی این پبلک اسکول میں جشن غوث الورٰی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس بابرکت موقع پر اسکول کے طلبہ، اساتذہ، اور دیگر شرکاء نے نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد کو منایا۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول ﷺ سے ہوا۔ بعد ازاں، حضرت مولانا محمد مطیع الرحمن رضوی اور  مفتی اختر علی چشتی نے مختصر مگر جامع خطاب کیا، جس میں انہوں نے شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات اور ان کی زندگی کے روحانی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے طلبہ کو اس بات کی ترغیب دی کہ وہ شیخ کی اتباع کرتے ہوئے اپنے کردار و عمل کو سنواریں اور دین کی خدمت کریں۔ فاتحہ خوانی کے بعد لنگر غوثیہ کا اہتمام کیا گیا، جس میں اسکول اور کے جی این ایجوکیشن سینٹر کے طلبہ و طالبات نے عقیدت کے ساتھ شرکت کی۔ بچے، اساتذہ، اور دیگر حاضرین نے لنگر سے اپنا حصہ لے کر نہ صرف روحانی سکون حاصل کیا بلکہ ...