کوئی بھی سماع نہ مطلق حلال ہے اور نہ مطلق حرام
مزارات پر صرف پھول ڈالنا کافی ہے ،پھول کی چادر میں کوئی
فضیلت نہیں ،کیونکہ چادر میں پھول کے علاوہ دھاگا ہوتا ہے جس کی کوئی اہمیت وفضیلت
نہیں ۔ اورکبھی کبھی اس کوبھی ترک کرنا چاہئے ،ہر وہ کام جو مستحب یا افضل بلکہ
جائز ہو اور عوام اس کو واجب کی طرح پابندی سے کرے تو علما کو چاہئے کہ اس کوکبھی
ترک بھی کریں۔ ہر وہ کام جس کو علما نے جائز یا مستحب یا افضل بتایا ہو تو علت
دیکھی جائے گی ،کوئی ضروری نہیں کہ وہ کام ہر دور میں مستحب ہی رہے، اسی طرح ہر وہ
کام جس کو علما نے مکروہ و ممنوع قرار دیاہوتو کوئی ضروری نہیں کہ وہ ہر دور میں
مکروہ و ممنوع ہی رہے، علت کے پیش نظر حکم دیا جائے گا، علت اگر مکروہ کی ہوگی تو
مکروہ کہا جائے گا ورنہ نہیں ،اسی طرح کسی کام کے جواز یا عدم جواز میں زمان و
مکان اور اخوان کا بھی دخل ہوتا ہے ،زمان و مکان اور اخوان کے اختلاف سے احکام بھی
مختلف ہوں گے، مثلا اگر کوئی نعت رسول کی سماعت کر رہا ہو تو دیکھا جائے گا کہ کب
اور کہاں اور کس کے ساتھ سماعت کر رہا تھا ،ایساتو نہیں کہ نماز کے وقت نماز ترک
کر کے نعت سماعت کر رہا ہو ،یہ زمان کی مثال ہے، مکان کی مثال کہ ایسا تو نہیں کہ
طوائف خانہ پر محفل نعت منعقد کیا ہو ۔ اخوان کی مثال ایسا تو نہیں کہ شرابیوں اور
نعت رسول کی تضحیک کرنے والوں کے ساتھ نعت
سماعت کر رہا ہو،ان مذکورہ صورتوں میں محفل نعت منعقد کرنا اور نعت نبی
سماعت کرنا بلا شبہ ناجائز وحرام قرارپائے گا۔معلوم ہو اکہ سماعت نعت نہ مطلق جائز
ہے اور نہ مطلق ناجائزہے ،اسی طرح کوئی بھی سماع نہ مطلق جائز ہے اور نہ مطلق
ناجائز ہے جیسے محفل سمع (قوالی)ہی کو لے لیا جائے تو اس کو بعض نے حرام کہا اور
بعض نے حلال کہا جب کہ انصاف کی بات یہ ہے کہ نہ مطلق حرام ہے اور نہ مطلق حلال
ہے، دکھا جائے گا کہ کب محفل منعقد ہوئی ؟ کہاں منعقد ہوئی؟ کیوں منعقد ہوئی ؟
اورکس کے درمیان ہوئی ؟اگر طوائف کی کوٹھی پر ہوئی ،بلا شبہ حرام ہے، فساق و فجار
کے درمیان ہوئی تو بلا شبہ حرام ہے ،خواہشات نفسانی کی تسکین کے لیے سماع کی محفل
منعقد کی گئی تو بلا شبہ حرام ونا جائز ہے اور اگر طالبین مولیٰ کے درمیان ،شیخ وامیر
کے تحت ،فرائض وواجبات کے وقتوں کے علاوہ عشق رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش
کرنے کے لیے یا محبت الٰہی کو بھڑکانے کی نیت سے
اور اللہ کو راضی کرنے کے لیے محفل سماع منعقد ہوئی تو بلا شبہ حلال ہے،اس
کی حلت میں کوئی شبہ نہیں۔
اب سوال ہوگا کہ آلات لہو ولعب یعنی
مزامیر کا استعمال کیسا ہے ؟
ایسا نہیں کہ آلات لہو لعب اپنی ذات میں
حرام ہے، فتاوی رضویہ میں بھی لکھا ہوا ہے
: مزامیر یعنی آلات لہو ولعب بغرض لہو ولعب بلا شبہ حرام ہے ۔اگر آلات لہو ولعب
بغرض لہو ولعب نہ ہو تو کیوں کر حرام ہوگا؟لہو ولعب ہر اس عمل کو کہتے ہیں جو اللہ
کے راستے سے دور کردے :وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْتَرِی لَہْوَ الْحَدِیثِ
لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیلِ اللّٰہِ۔(لقمان:۶)اور اگر لیھد الی سبیل اللّٰہ ہو تواس کے حلال ہونے میں کیا
شبہ؟کوئی بھی حکم لگا نے سے پہلے تفقہ کرنا ضروری ہے اور اگر تفقہ کیے بغیر مطلقا
حکم لگا دیا گیا تو یہ فقیہ کا کام نہیں بلکہ سفیہ کا کام ہے۔

Comments
Post a Comment