Posts

اہلِ علم و دانش کی خدمت میں

اہلِ علم و دانش کی خدمت میں امتِ مسلمہ میں مختلف مسالک اور علمی مکاتبِ فکر موجود ہیں۔ ہر جماعت اپنے دلائل کی بنیاد پر اپنے موقف کو حق سمجھتی ہے اور اسی کی دعوت دیتی ہے۔ لیکن افسوس کہ بعض اوقات اختلاف، شدت، بدگمانی اور تکفیر کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ آج تقریباً ہر گروہ دوسرے پر "تکفیری" یا "متشدد" ہونے کا الزام لگاتا ہے، جبکہ اپنے بارے میں یہی وضاحت کرتا ہے کہ "ہم تکفیری نہیں، بلکہ صرف کفر اور ایمان کے شرعی احکام بیان کرتے ہیں۔" یہ صورتِ حال ہم سب کے لیے سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتی ہے۔  ہر مسلک، ہر جماعت کے اہلِ علم سب سے پہلے اپنا احتساب کریں۔ اختلافات اپنی جگہ، لیکن جب تک کوئی شخص یا جماعت اسلام کے بنیادی عقائد سے صریح طور پر خارج نہ ہو، اس کی تکفیر میں انتہائی احتیاط، صبر اور عدل سے کام لیا جائے۔ اہل علم کے نزدیک یہ تسلیم شدہ ہے کہ: "کسی کی تکفیر نہ کرنے میں اگر غلطی ہو جائے تو اس کا خطرہ کم ہے، لیکن کسی مسلمان کی ناحق تکفیر کر دینا بہت بڑا خطرہ ہے۔" اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے مسلک کے حق ہونے پر یقین رکھیں، مگر دوسروں کے بارے میں فیصلہ کرتے...

عید میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم منانا بدعت ہے؟

استفتاء سوال: ایک شخص کہتا ہے: «"عید میلاد النبی ﷺ کا ذکر نہ قرآن میں ہے اور نہ کسی صحیح حدیث میں۔ یہ صرف اور صرف بہت بعد کے جاہل  لوگوں کی ایجاد ہے، اور دین میں ہر نئی ایجاد بدعت اور گمراہی ہے۔ لہٰذا عید میلاد النبی ﷺ منانا ناجائز اور بدعتِ ضلالت ہے۔"» کیا اس کا یہ کہنا درست ہے؟ قرآن و حدیث، آثارِ صحابہ اور ائمۂ امت کی تصریحات کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ مولانا عامر حسین مظاہری، سہارن پور  --- بسم الله الرحمن الرحيم الجواب وبالله التوفيق الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيدنا محمد وآله وصحبه أجمعين. مذکورہ شخص کا یہ کہنا کہ "عید میلاد النبی ﷺ صرف جاہلوں کی ایجاد ہے اور دین میں ہر نئی چیز گمراہی ہے"، یہ اطلاق کے اعتبار سے درست نہیں۔ اس مسئلے میں تفصیل ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: «﴿قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا﴾ "آپ فرما دیجئے کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے۔" (سورۂ یونس: 58)» اور فرمایا: «﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾ "اور ہم نے آپ کو تمام جہا...

دین یا فرقہ؟ — نوجوانوں کے نام ایک درد بھرا پیغام

دین یا فرقہ؟ — نوجوانوں کے نام ایک درد بھرا پیغام آج ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں سیاست میں اکثر پارٹی کو ملک پر ترجیح دی جاتی ہے۔ پارٹی کا مفاد ہی گویا قومی مفاد بن جاتا ہے، اور جو اس پر سوال اٹھائے، اسے دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔ افسوس! یہی منظر ہمارے مذہبی ماحول میں بھی کسی نہ کسی درجے میں دکھائی دیتا ہے۔ دینِ اسلام، جو انسانیت، عدل، علم، اخوت اور تقویٰ کا پیغام لے کر آیا تھا، اسے ہم نے مسلک، جماعت اور فرقے کی دیواروں میں قید کر دیا ہے۔ آج بہت سی دینی درسگاہیں دین کی آفاقی روح سے زیادہ اپنے اپنے مسلک کی نمائندہ بن گئی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک امت کئی خانوں میں تقسیم ہو گئی، مسجدیں تقسیم ہو گئیں، دل تقسیم ہو گئے، اور بھائی بھائی سے دور ہو گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرقوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے یا دین کی حفاظت کا؟ کیا ہماری ذمہ داری صرف اپنے گروہ کو مضبوط کرنا ہے، یا قرآن و سنت کی تعلیمات کو زندہ کرنا؟ نوجوانوں! جس طرح ہر دور میں باشعور نوجوانوں نے معاشرے میں بیداری پیدا کی، آج امت کو بھی ایسے ہی مخلص، باکردار اور صاحبِ علم نوجوانوں کی ضرورت ہے، جو نفرت نہیں بلکہ ...

مجاہدہ، مراقبہ اور مشاہدہ — سلوکِ الٰہی کے تین اہم مراحل

مجاہدہ، مراقبہ اور مشاہدہ — سلوکِ الٰہی کے تین اہم مراحل اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے اور اپنے باطن کو سنوارنے کے لیے اہلِ تصوف نے جن منازل کا ذکر کیا ہے، ان میں مجاہدہ، مراقبہ اور مشاہدہ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ تینوں مراحل دراصل بندے کے ظاہر سے باطن اور عمل سے معرفت کی طرف سفر کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پہلا مرحلہ: مجاہدہ مجاہدہ کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کی خواہشات پر قابو پاتے ہوئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ہر حکم کی پابندی کرے۔ فرائض و واجبات کو ادا کرے، حلال و حرام کا خیال رکھے، عبادات میں اخلاص اختیار کرے، اخلاق کو سنوارے، معاملات میں دیانت داری اپنائے اور ہر عمل صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے۔ یہی مجاہدہ بندے کی روحانی ترقی کی مضبوط بنیاد ہے۔ جب انسان مسلسل اطاعت، استقامت اور اخلاص کے ساتھ زندگی گزارتا ہے تو اس کا دل نورِ ایمان سے منور ہونے لگتا ہے۔ دوسرا مرحلہ: مراقبہ جب بندہ مجاہدہ میں پختہ ہو جاتا ہے تو وہ مراقبہ کی منزل میں داخل ہوتا ہے۔ مراقبہ یہ ہے کہ انسان اپنے ہر عمل، ہر قول، ہر خیال بلکہ ہر سانس میں یہ احساس زندہ رکھے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے، میری ہر ...

12 ربیع الاول — عظمتِ رسالت اور احسانِ نبوی ﷺ 🌹

🌹 12 ربیع الاول — عظمتِ رسالت اور احسانِ نبوی ﷺ 🌹 الحمد للّٰہ! 12 ربیع الاول ہمیں اس عظیم ہستی کی یاد دلاتا ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو ہدایت، رحمت اور نجات کا راستہ عطا فرمایا۔ ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾ "اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔" (الأنبیاء: 107) رسولِ اکرم ﷺ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کا ذکر اپنے ذکر کے ساتھ بلند فرمایا، فرشتوں کو آپ ﷺ پر درود بھیجنے کا حکم دیا، اور امت کو آپ ﷺ کی اطاعت میں اپنی اطاعت قرار دیا۔ معرفتِ رسول ﷺ صرف یہ نہیں کہ ہم آپ ﷺ کا نام جانتے ہوں، بلکہ یہ ہے کہ ہم آپ کی سیرت، اخلاق، عبادت، عدل، شفقت، حلم، تواضع، امانت اور سنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ احسانِ نبوی ﷺ کا کون سا پہلو ہے جو انسانیت پر قرض نہ ہو؟ آپ ﷺ نے جاہلیت کو علم میں بدلا، نفرت کو محبت میں، ظلم کو عدل میں، انتشار کو اخوت میں اور گمراہی کو ہدایت میں تبدیل کر دیا۔ یتیموں کے سہارے، بیواؤں کے غم خوار، غلاموں کے محسن، عورتوں کے محافظ اور پوری انسانیت کے سب سے بڑے خیر خواہ بن کر آئے۔ آپ ﷺ کی ر...

حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں حسنِ اخلاق، سیرتِ مصطفیٰ ﷺ اور ہماری ذمہ داریاں

حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں حسنِ اخلاق، سیرتِ مصطفیٰ ﷺ اور ہماری ذمہ داریاں بسم اللہ الرحمن الرحیم حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «"المؤمنُ يَأْلَفُ ويُؤْلَفُ، ولا خيرَ فيمن لا يَأْلَفُ ولا يُؤْلَفُ، وخيرُ الناسِ أنفعُهم للناسِ." "مومن وہ ہے جو لوگوں سے محبت اور اُلفت رکھتا ہے، اور لوگ بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو نہ لوگوں سے محبت کرے اور نہ لوگ اس سے محبت کریں۔ اور سب سے بہتر انسان وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔"» یہ حدیثِ مبارکہ سیرتِ طیبہ کا ایک عظیم اصول بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی محبت، شفقت، حسنِ اخلاق، خدمتِ خلق اور انسانیت کی خیر خواہی کا روشن نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے دلوں کو تلوار سے نہیں بلکہ اخلاق سے فتح کیا۔ دشمن بھی آپ کے کردار کے معترف تھے۔ مکہ والوں نے ستایا، پتھر مارے، گالیاں دیں، بائیکاٹ کیا، لیکن آپ ﷺ نے ان کے لیے بھی ہدایت کی دعا فرمائی۔ طائف کے میدان میں جب فرشتۂ پہاڑ حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے بددعا کے بجائے فرمایا کہ مجھے امید ہے ان کی نسلوں سے اللہ ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اسی کی...

🌹 یومِ ولادتِ مصطفیٰ ﷺ — رحمتِ عالم کا دن 🌹

🌹 یومِ ولادتِ مصطفیٰ ﷺ — رحمتِ عالم کا دن 🌹 12 ربیع الاول وہ مبارک دن ہے جس روز اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد ﷺ کو رحمت للعالمین بنا کر دنیا میں مبعوث فرمایا۔ قرآنِ کریم انبیائے کرام علیہم السلام کے ایامِ رحمت کی یاد تازہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہے: «﴿وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا﴾ (سورۂ مریم: 33) "مجھ پر سلامتی ہے جس دن میں پیدا ہوا، جس دن میری وفات ہوگی اور جس دن دوبارہ زندہ اٹھایا جاؤں گا۔"» اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: «﴿وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ﴾ (سورۂ ابراہیم: 5) "اور انہیں اللہ کے خاص دن یاد دلائیے۔"» مفسرین نے "ایامُ اللہ" میں اللہ کی عظیم نعمتوں، رحمتوں اور انعامات کے دن بھی شامل کیے ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ کی ولادتِ مبارکہ تو پوری انسانیت پر اللہ کی سب سے بڑی رحمت ہے: «﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾ (سورۂ الأنبیاء: 107)» لہٰذا 12 ربیع الاول کا دن محبتِ رسول ﷺ، درود و سلام، سیرتِ طیبہ کے مطال...