اہلِ علم و دانش کی خدمت میں
اہلِ علم و دانش کی خدمت میں امتِ مسلمہ میں مختلف مسالک اور علمی مکاتبِ فکر موجود ہیں۔ ہر جماعت اپنے دلائل کی بنیاد پر اپنے موقف کو حق سمجھتی ہے اور اسی کی دعوت دیتی ہے۔ لیکن افسوس کہ بعض اوقات اختلاف، شدت، بدگمانی اور تکفیر کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ آج تقریباً ہر گروہ دوسرے پر "تکفیری" یا "متشدد" ہونے کا الزام لگاتا ہے، جبکہ اپنے بارے میں یہی وضاحت کرتا ہے کہ "ہم تکفیری نہیں، بلکہ صرف کفر اور ایمان کے شرعی احکام بیان کرتے ہیں۔" یہ صورتِ حال ہم سب کے لیے سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتی ہے۔ ہر مسلک، ہر جماعت کے اہلِ علم سب سے پہلے اپنا احتساب کریں۔ اختلافات اپنی جگہ، لیکن جب تک کوئی شخص یا جماعت اسلام کے بنیادی عقائد سے صریح طور پر خارج نہ ہو، اس کی تکفیر میں انتہائی احتیاط، صبر اور عدل سے کام لیا جائے۔ اہل علم کے نزدیک یہ تسلیم شدہ ہے کہ: "کسی کی تکفیر نہ کرنے میں اگر غلطی ہو جائے تو اس کا خطرہ کم ہے، لیکن کسی مسلمان کی ناحق تکفیر کر دینا بہت بڑا خطرہ ہے۔" اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے مسلک کے حق ہونے پر یقین رکھیں، مگر دوسروں کے بارے میں فیصلہ کرتے...