عید میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم منانا بدعت ہے؟

استفتاء
سوال:
ایک شخص کہتا ہے:
«"عید میلاد النبی ﷺ کا ذکر نہ قرآن میں ہے اور نہ کسی صحیح حدیث میں۔ یہ صرف اور صرف بہت بعد کے جاہل  لوگوں کی ایجاد ہے، اور دین میں ہر نئی ایجاد بدعت اور گمراہی ہے۔ لہٰذا عید میلاد النبی ﷺ منانا ناجائز اور بدعتِ ضلالت ہے۔"»
کیا اس کا یہ کہنا درست ہے؟ قرآن و حدیث، آثارِ صحابہ اور ائمۂ امت کی تصریحات کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
مولانا عامر حسین مظاہری، سہارن پور 
---

بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبالله التوفيق
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيدنا محمد وآله وصحبه أجمعين.
مذکورہ شخص کا یہ کہنا کہ "عید میلاد النبی ﷺ صرف جاہلوں کی ایجاد ہے اور دین میں ہر نئی چیز گمراہی ہے"، یہ اطلاق کے اعتبار سے درست نہیں۔ اس مسئلے میں تفصیل ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
«﴿قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا﴾
"آپ فرما دیجئے کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے۔"
(سورۂ یونس: 58)»
اور فرمایا:
«﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾
"اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔"
(سورۂ الأنبیاء: 107)»
جب رسول اللہ ﷺ تمام جہانوں کے لیے رحمت ہیں تو آپ کی ولادت پر اللہ کی اس عظیم نعمت کا شکر ادا کرنا اور خوشی کا اظہار کرنا قرآن کے عمومی حکم کے تحت مشروع ہے۔
مزید برآں، صحیح مسلم میں حضرت ابو قتادہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پیر کے روزے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:
««ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ»
"یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی۔"
(صحیح مسلم، حدیث: 1162)»
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے اپنی ولادت کے دن کو عبادت کے ذریعے یاد فرمایا۔
اسی طرح نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
««مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا»
"جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا، اس کے لیے اس کا اجر بھی ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی۔"
(صحیح مسلم، حدیث: 1017)»
اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تراویح کی جماعت کو دوبارہ قائم کرکے فرمایا:
««نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ»
"یہ کتنی اچھی بدعت ہے۔"
(صحیح بخاری، حدیث: 2010)»
اس سے معلوم ہوا کہ ہر نئی صورتِ عمل بدعتِ ضلالت نہیں، بلکہ جو کام شریعت کے اصولوں کے موافق ہو، وہ بدعتِ حسنہ کہلاتا ہے۔
امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ، امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ، امام قسطلانی رحمہ اللہ، امام سخاوی رحمہ اللہ، ملا علی قاری رحمہ اللہ اور دیگر اکابر محدثین و فقہاء نے میلاد النبی ﷺ کی ان محافل کو، جن میں تلاوتِ قرآن، ذکرِ سیرت، درود و سلام، صدقہ و خیرات اور شکرِ الٰہی ہو، بدعتِ حسنہ قرار دیا ہے۔
لہٰذا اگر میلاد النبی ﷺ کی محفل میں کوئی خلافِ شرع عمل، خرافات، اسراف یا ناجائز رسم شامل نہ ہو، بلکہ صرف ذکرِ رسول ﷺ، تلاوتِ قرآن، درود و سلام، وعظ و نصیحت، صدقہ و خیرات اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہو، تو ایسی محفل کا انعقاد جائز بلکہ باعثِ ثواب ہے۔
البتہ اگر کوئی شخص میلاد کے نام پر شریعت کے خلاف امور اختیار کرے تو ان ناجائز امور کی اصلاح کی جائے گی، نہ کہ اصلِ ذکرِ میلاد کو ناجائز قرار دیا جائے گا۔واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن علیمی کان اللہ لہ
27 اگست 2026ء

Comments

Popular posts from this blog

کلمہ گو کی تکفیر میں احتیاط کے سلسلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا رویہ

تقویٰ کی حقیقت اور اس کا سماجی پہلو

علم کا مقصود اور اس کے درجات