حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں حسنِ اخلاق، سیرتِ مصطفیٰ ﷺ اور ہماری ذمہ داریاں
حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں حسنِ اخلاق، سیرتِ مصطفیٰ ﷺ اور ہماری ذمہ داریاں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«"المؤمنُ يَأْلَفُ ويُؤْلَفُ، ولا خيرَ فيمن لا يَأْلَفُ ولا يُؤْلَفُ، وخيرُ الناسِ أنفعُهم للناسِ."
"مومن وہ ہے جو لوگوں سے محبت اور اُلفت رکھتا ہے، اور لوگ بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو نہ لوگوں سے محبت کرے اور نہ لوگ اس سے محبت کریں۔ اور سب سے بہتر انسان وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔"»
یہ حدیثِ مبارکہ سیرتِ طیبہ کا ایک عظیم اصول بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی محبت، شفقت، حسنِ اخلاق، خدمتِ خلق اور انسانیت کی خیر خواہی کا روشن نمونہ ہے۔
آپ ﷺ نے دلوں کو تلوار سے نہیں بلکہ اخلاق سے فتح کیا۔ دشمن بھی آپ کے کردار کے معترف تھے۔ مکہ والوں نے ستایا، پتھر مارے، گالیاں دیں، بائیکاٹ کیا، لیکن آپ ﷺ نے ان کے لیے بھی ہدایت کی دعا فرمائی۔ طائف کے میدان میں جب فرشتۂ پہاڑ حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے بددعا کے بجائے فرمایا کہ مجھے امید ہے ان کی نسلوں سے اللہ ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اسی کی عبادت کریں گے۔
صحابۂ کرامؓ کے ساتھ آپ ﷺ کا حسنِ سلوک، بچوں کے ساتھ محبت، خواتین کے ساتھ حسنِ معاشرت، غلاموں کے ساتھ مساوات، پڑوسیوں کے حقوق کی حفاظت اور غیر مسلموں کے ساتھ عدل و انصاف—یہ سب اس حدیث کی عملی تفسیر ہیں کہ مومن وہ ہے جو محبت بانٹے، نفرت نہیں۔
آج امتِ مسلمہ کو اسی نبوی مزاج کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اختلاف ہو مگر دلوں میں نفرت نہ ہو، تنقید ہو مگر تہذیب کے ساتھ، دعوت ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور تعلقات کی بنیاد اخلاص، خیر خواہی اور حسنِ اخلاق ہو۔
علماءِ کرام کا فرض ہے کہ وہ علم کے ساتھ حلم، شفقت اور اتحاد کا پیغام دیں۔
مشائخِ عظام اپنی خانقاہوں کو تزکیۂ نفس، محبتِ رسول ﷺ اور اصلاحِ معاشرہ کا مرکز بنائیں۔
ائمۂ مساجد اپنے خطبات میں نفرت کے بجائے اخوت، اخلاق اور خدمتِ خلق کا درس دیں۔
طلبۂ علم اپنے کردار سے علم کی عزت بڑھائیں۔
تاجر، اساتذہ، ملازمین، والدین اور نوجوان سب اپنے اپنے میدان میں سچائی، امانت، دیانت اور خیر خواہی کو اپنائیں، کیونکہ یہی سیرتِ نبوی ﷺ کا تقاضا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"میں حسنِ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔"
لہٰذا اگر ہماری عبادات ہمارے اخلاق کو بہتر نہ بنائیں، ہمارے علم سے عاجزی پیدا نہ ہو، ہماری دعوت سے محبت نہ پھیلے، اور ہماری دینداری سے لوگوں کو راحت نہ ملے، تو ہمیں اپنے طرزِ عمل کا محاسبہ کرنا چاہیے۔
آج 12 ربیع الاول ہو یا سال کا کوئی بھی دن، رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم آپ ﷺ کی سنت، آپ کے اخلاق، آپ کی رحمت، آپ کی شفقت اور آپ کی خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یہی محبتِ رسول ﷺ کی حقیقی علامت اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ طیبہ پر چلنے، امت میں محبت و اتحاد پیدا کرنے، اور انسانیت کے لیے نفع بخش بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اللّٰهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ.
Comments
Post a Comment