دین یا فرقہ؟ — نوجوانوں کے نام ایک درد بھرا پیغام

دین یا فرقہ؟ — نوجوانوں کے نام ایک درد بھرا پیغام

آج ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں سیاست میں اکثر پارٹی کو ملک پر ترجیح دی جاتی ہے۔ پارٹی کا مفاد ہی گویا قومی مفاد بن جاتا ہے، اور جو اس پر سوال اٹھائے، اسے دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔

افسوس! یہی منظر ہمارے مذہبی ماحول میں بھی کسی نہ کسی درجے میں دکھائی دیتا ہے۔

دینِ اسلام، جو انسانیت، عدل، علم، اخوت اور تقویٰ کا پیغام لے کر آیا تھا، اسے ہم نے مسلک، جماعت اور فرقے کی دیواروں میں قید کر دیا ہے۔ آج بہت سی دینی درسگاہیں دین کی آفاقی روح سے زیادہ اپنے اپنے مسلک کی نمائندہ بن گئی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک امت کئی خانوں میں تقسیم ہو گئی، مسجدیں تقسیم ہو گئیں، دل تقسیم ہو گئے، اور بھائی بھائی سے دور ہو گیا۔

سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرقوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے یا دین کی حفاظت کا؟

کیا ہماری ذمہ داری صرف اپنے گروہ کو مضبوط کرنا ہے، یا قرآن و سنت کی تعلیمات کو زندہ کرنا؟

نوجوانوں! جس طرح ہر دور میں باشعور نوجوانوں نے معاشرے میں بیداری پیدا کی، آج امت کو بھی ایسے ہی مخلص، باکردار اور صاحبِ علم نوجوانوں کی ضرورت ہے، جو نفرت نہیں بلکہ محبت پھیلائیں، تعصب نہیں بلکہ انصاف کی دعوت دیں، شخصیت پرستی نہیں بلکہ حق پرستی کو فروغ دیں، اور فرقہ واریت کے بجائے دین کی اصل روح کو زندہ کریں۔

وقت آ گیا ہے کہ دینی تعلیم گاہوں کا وقار بحال کیا جائے، علم کو تعصب سے آزاد کیا جائے، اور قرآن و سنت کی روشنی میں ایسی نسل تیار کی جائے جو امت کو جوڑے، نہ کہ مزید تقسیم کرے۔

آئیے! ہم سب اپنے اپنے دلوں کا محاسبہ کریں۔ ہماری وفاداری کسی شخصیت، جماعت یا فرقے سے پہلے اللہ، اس کے رسول ﷺ اور دینِ حق کے ساتھ ہونی چاہیے۔

فرقہ نہیں، دین چاہیے۔
نفرت نہیں، اخوت چاہیے۔
شخصیت پرستی نہیں، حق پرستی چاہیے۔
یہی امت کی بقا اور آنے والی نسلوں کی سلامتی کا راستہ ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

کلمہ گو کی تکفیر میں احتیاط کے سلسلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا رویہ

تقویٰ کی حقیقت اور اس کا سماجی پہلو

علم کا مقصود اور اس کے درجات