نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد

 


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد

عارف باللہ مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا نے ایک مجلس میں طلباکو سمجھاتے ہوئے فرمایا:

 بچو! ہم جس دین کے ماننے والے ہیں، وہ الٰہی نظام ہے اور وہ تین اجزا کے مجموعے کا نام ہے :

۱۔ ایمان

۲۔ اسلام

۳ ۔احسان

دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں:

۱۔ عقیدہ

۲۔ شریعت

۳۔اخلاق

عقیدہ :ان افکار و احکام کا دل سے تصدیق کرنا جو اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کی طرف سے لائے ۔

شریعت:ان اعمال کو انجام دینا جن کا اللہ نے اپنے بندوں سے مطالبہ کیا ہے،اور ان سب اعمال کو ترک کردینا جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایاہے۔

اخلاق:وہ صفات اور فضائل ہیں جن سے اہل ایمان واسلام کا مزین ہوناضروری ہے۔ مثلا: حسن اخلاق، تزکیہ نفس، تصفیہ قلب اور تجلیہ روح وغیرہ ،کیوں کہ یہ صفات و فضائل ایمان اور اسلام کے ثمرات اور نتائج ہیں اور ان سے امتی کا آراستہ ہونا رسول اللہ صلی الله عليہ وسلم کی بعثت کے مقاصد سے ہے ـ

 اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّمَابُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ۔ یعنی بے شک میں مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں ـمعلوم ہوا کہ دین کا کمال حسن اخلاق سے متصف ہونے کے بعد حاصل ہوتا ہے ـ۔

 ﺆﺆﺆ

Comments

Popular posts from this blog

کلمہ گو کی تکفیر میں احتیاط کے سلسلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا رویہ

تقویٰ کی حقیقت اور اس کا سماجی پہلو

علم کا مقصود اور اس کے درجات