جامعۃ الازہر: علمی سماحت، فقہی وسعت اور وحدتِ امت کا روشن مینار


اگر حرمین شریفین دینِ اسلام کی عملی وحدت، وسعت اور اجتماعیت کا عظیم مظہر ہیں، تو جامعۃ الازہر، مصر بلا شبہ دینِ اسلام کی علمی سماحت، فقہی وسعت اور اعتدال کا ایک درخشاں مرکز ہے۔

صدیوں سے جامعۃ الازہر نے امتِ مسلمہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ اختلافِ فقہ، اختلافِ دین نہیں ہوتا۔ فقہی مذاہب، شریعت کی تعبیر و تفہیم کے معتبر علمی مناہج ہیں، جن کی بنیاد قرآن، سنت، اجماع اور اصولِ اجتہاد پر قائم ہے۔ اسی لیے ازہر میں مختلف فقہی مذاہب سے تعلق رکھنے والے علماء و طلبہ اپنے اپنے مسلک پر عمل کرتے ہیں، مگر باہمی احترام، اخوت، علمی مکالمے اور دینی رواداری کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔

جامعۃ الازہر کی علمی فضا اس حقیقت کی شاہد ہے کہ اختلاف اگر علم، دلیل اور ادب کے دائرے میں ہو تو وہ امت کے لیے رحمت اور وسعت کا سبب بنتا ہے، نہ کہ انتشار اور دشمنی کا۔ وہاں کسی عالم کی قدر و منزلت کا معیار اس کا مسلک نہیں، بلکہ اس کا علم، تقویٰ، تحقیق اور کردار ہوتا ہے۔

اسی علمی مزاج کی ایک نمایاں جھلک یہ ہے کہ ازہر سے وابستہ اداروں میں مختلف معتبر فقہی آراء سے استفادہ کیا جاتا ہے، اور فقہی مسائل میں وسعتِ نظر، دلیل کی رعایت اور امت کی مصلحت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ طرزِ فکر اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلامی فقہ کی دولت تنوع اور علمی اجتہاد پر قائم ہے، نہ کہ تنگ نظری اور باہمی نفرت پر۔

آج امتِ مسلمہ کو ازہر کے اس علمی و اخلاقی اسلوب سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے اپنے فقہی اور مسلکی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے علم، اخلاص اور دینی خدمات کا احترام کرنا چاہیے۔ اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے، اسے علمی مکالمے، خیر خواہی اور باہمی تعاون کا ذریعہ بنانا چاہیے۔

امت کی عزت اسی میں ہے کہ ہم علم میں وسعت، اخلاق میں نرمی، گفتگو میں اعتدال اور باہمی تعلقات میں احترام کو فروغ دیں۔ یہی ازہر کا پیغام ہے، یہی اکابرِ امت کا منہج ہے، اور یہی قرآن و سنت کی تعلیمات کا تقاضا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ، علمی دیانت، وسعتِ نظر، حسنِ اخلاق اور باہمی احترام کی دولت عطا فرمائے، اور امتِ مسلمہ کو اختلاف کے باوجود اتحاد، محبت اور خیر خواہی کی نعمت سے سرفراز فرمائے۔

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا۔
(اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔)

Comments

Popular posts from this blog

کلمہ گو کی تکفیر میں احتیاط کے سلسلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا رویہ

تقویٰ کی حقیقت اور اس کا سماجی پہلو

علم کا مقصود اور اس کے درجات