حرمین طیبین: دین کی وسعت، وحدتِ امت اور عملی سماحت کا عظیم نمونہ
حرمین شریفین کی زیارت کا ایک اہم ترین اثر یہ ہے کہ انسان دینِ اسلام کی وسعت، جامعیت اور وحدتِ امت کا ایک عملی منظر اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک، زبانوں، ثقافتوں اور فقہی و اجتہادی پس منظر رکھنے والے مسلمان ایک ہی قبلے کی طرف رخ کیے، ایک ہی رب کی عبادت کرتے اور ایک ہی رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع کا اعلان کرتے نظر آتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ اسلام کے بنیادی عقائد، ارکانِ اسلام اور منصوص احکام تمام مسلمانوں کے درمیان مشترک ہیں۔ جہاں نصوصِ شرعیہ نے گنجائش دی ہے، وہاں فقہی اجتہادات اور عملی تنوع بھی امت کی علمی روایت کا حصہ رہے ہیں۔ اسی لیے حرمین شریفین میں مختلف فقہی آراء پر عمل کرنے والے مسلمان عموماً ایک ہی صف میں نماز ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بندگی میں مشغول رہتے ہیں۔ یہ منظر ہمیں اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ امت کی اصل بنیاد توحید، رسالت، قرآن اور قبلۂ واحد ہے۔
حرمین شریفین ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ اختلاف اگر علمی، فقہی اور آدابِ شریعت کے دائرے میں ہو تو وہ امت کی تاریخ کا ایک معروف پہلو ہے، لیکن یہی اختلاف اگر نفرت، تکفیر، تعصب اور باہمی دشمنی میں تبدیل ہو جائے تو امت کی قوت کو کمزور کر دیتا ہے۔
آج امتِ مسلمہ کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ دین کی سماحت، وسعتِ نظر، خیر خواہی اور حسنِ اخلاق کو فروغ دے۔ ایک دوسرے کے ساتھ احترام، برداشت اور اخوت کا رویہ اختیار کرے، اور مسلکی اختلافات کو باہمی عداوت کا ذریعہ بنانے کے بجائے علمی مکالمے اور خیر خواہی کا ذریعہ بنائے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی مسلمان کے ایمان یا اسلام کے بارے میں فیصلہ کرنا نہایت سنگین معاملہ ہے، جس میں شریعت نے انتہائی احتیاط کی تعلیم دی ہے۔ اس لیے تکفیر، تحقیر اور نفرت کے بجائے دعوت، اصلاح، حکمت اور حسنِ اخلاق کو اپنا شعار بنانا چاہیے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حرمین طیبین کی برکتوں سے پوری امتِ مسلمہ کو مستفید فرمائے، ہمارے دلوں میں باہمی محبت، اخوت، اعتدال اور وسعتِ نظر پیدا فرمائے، ہمیں فرقہ وارانہ تعصب، نفرت اور خانہ جنگی سے محفوظ رکھے، اور پوری امت کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق باہمی احترام، رواداری اور خیر خواہی کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللهم ألِّف بين قلوب المسلمين، وأصلح ذات بينهم، واهدهم سبل السلام، واجعلهم إخوةً متحابين فيك. آمين۔
Comments
Post a Comment