اسلام کا منہج عدل و اعتدال ہے، نہ کہ جذباتی تقدیس اور نہ ہی اندھی مخالفت۔
اسلام کا منہج عدل و اعتدال ہے، نہ کہ جذباتی تقدیس اور نہ ہی اندھی مخالفت۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم وہ مقدس جماعت ہیں جنہیں قرآن نے رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ کا اعزاز عطا کیا۔ کسی صحابی کو کفر یا نفاق سے منسوب کرنا نہ صرف دینی جُرأت ہے بلکہ امت کے اجماعی عقیدے سے انحراف بھی ہے۔
اسی طرح یہ بھی انصاف نہیں کہ محض نسبتِ صحابیت کو بنیاد بنا کر ایسے سیاسی اقدامات کو شرعاً درست قرار دے دیا جائے جن کے نتیجے میں خلافتِ راشدہ کے اصول عملاً ختم ہوئے اور ملوکیت کی بنیاد پڑی۔
صحابی ہونا عظیم فضیلت ہے، مگر ہر سیاسی اقدام بذاتِ خود تنقید و تحقیق سے بالا نہیں ہو جاتا۔
اہلِ سنت کا موقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ:
ہم صحابہ کی نیتوں پر حکم نہیں لگاتے
اور تاریخ کے واقعات کو معصومانہ تقدیس کے ساتھ نہیں بلکہ اصولی بصیرت کے ساتھ دیکھتے ہیں
غلطی کو غلطی کہنا گستاخی نہیں،
اور فضیلت کو مانتے ہوئے تنقید کرنا بدعت نہیں
بلکہ یہی علمی دیانت، فقہی توازن اور امت کی فکری امانت ہے۔
جو لوگ صحابہ کو کفر سے جوڑتے ہیں وہ حد سے گزر جاتے ہیں،
اور جو لوگ ہر تاریخی انحراف کو تقدیس کی چادر اوڑھا کر ہر عہد کو خلافت راشدہ اور ہر حاکم وقت کو خلیفہ راشد بنانے کی کوشش کرتے ہیں وہ بھی انصاف سے ہٹ جاتے ہیں۔
حق کا راستہ درمیان کا راستہ ہے—نہ سب کو مطعون کرنا، نہ ہر چیز کو مقدس بنا دینا۔
Comments
Post a Comment