ہمارے عہد میں علمی جبر کا بڑھتا رجحان
یہ ہمارے زمانے کا ایک نہایت تشویشناک پہلو ہے کہ علمی اختلاف اب برداشت کے دائرے سے نکلتا جا رہا ہے۔ بعض اہلِ علم جب کوئی بات دلیل، تحقیق اور علمی دیانت کے ساتھ پیش کرتے ہیں، اور وہ بات کسی مخصوص حلقے یا پہلے سے قائم شدہ نظریے کے خلاف محسوس ہوتی ہے، تو فوراً ان پر دباؤ ڈالنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
رجوع اور توبہ کا مطالبہ اس شدت سے کیا جاتا ہے کہ بعض سنجیدہ، باوقار اور شریف النفس اہلِ علم خوف، حراس اور مصلحت کے تحت ایسے توبہ نامے اور رجوع نامے جاری کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو حقیقت میں نہ ان کے علمی موقف کی ترجمانی کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے ضمیر کی آواز ہوتے ہیں۔
آج کے اس ماحول میں حق گوئی ایک جرم بن کر رہ گئی ہے،
اور مختلف ائمہ و علماء کے مختلف موقف بیان کرنا گویا ناقابلِ معافی خطا سمجھا جانے لگا ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ علمی تنوع کے دروازے آہستہ آہستہ بند کیے جا رہے ہیں، اور صرف ایک مخصوص نظریے، ایک خاص فکری سانچے اور ایک محدود حلقے کے افکار کی تبلیغ و اشاعت ہی کو دین کی خدمت سمجھ لیا گیا ہے۔
یہ طرزِ فکر نہ صرف علم و تحقیق کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ امت کے وسیع تر مفاد کے بھی خلاف ہے۔ اس رویے سے متقدمین اکابر علماء کی آراء، ان کے علمی اختلافات، اور ان کی وسعتِ نظر بھی مجروح ہوتی نظر آتی ہے، حالانکہ انہی اختلافات سے اسلامی علمی روایت پروان چڑھی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم:
اختلاف کو جبر میں نہ بدلیں
تحقیق کو بغاوت نہ سمجھیں
اور علمی تنوع کو فتنہ کہنے کے بجائے رحمت سمجھیں
ورنہ اندیشہ ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو جائیں گے جہاں علم باقی رہے گا، مگر علمی آزادی اور حق گوئی دم توڑ دے گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں انصاف، حکمت اور سچ کہنے کا حوصلہ عطا فرمائے۔ آمین۔
Comments
Post a Comment