مسلمان کو کافر کہنے کا وبال
مسلمان کو کافر کہنے کا
وبال
کسی بھی مسلمان پربغیرکسی شرعی دلیل کے کافرہونے کاحکم لگانا، سخت گناہ
اورحرام ہےاور ایسے شخص کے ایمان کے لیے بھی خطرناک ہے،اس سے آدمی کا اپنا دین
وایمان سلامت نہیں رہتا،لہذا دوسرے مسلمانوں پرکفرکاحکم لگانے والے شخص کواپنے دین
وایمان کی فکرکرنی چاہیے اور
فورا تائب ہوناچاہیے۔
کسی مسلمان
کو کافر یا کافر کو مسلمان کہنا دونوں نہایت ہی سخت معاملہ ہے۔ قرآن کریم نے دونوں
صورتوں پر شدید نکیر فرمائی ہے، مسلمان کو کافر کہنے کے متعلق ارشاد ہے:
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوْا
وَلَا تَقُولُواْ لِمَنْ أَلْقَىٰٓ إِلَيْكُمُ ٱلسَّلَٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا [النساء:۹۴]
’’اے ایمان والو!جب تم اللہ کی راہ میں قتال کے
لیے نکلو تو دوست و دشمن میں تمیز کرو اور جو تمہاری طرف سلام میں پہل کرے اسے
فوراً نہ کہہ دو کہ تُو مومن نہیں ہے۔‘‘
”السلام
علیکم“ کا لفظ مسلمانوں کےلیے شعار اور علامت کی حیثیت رکھتا ہے، ایک مسلمان دوسرے
مسلمان کو دیکھ کر یہ لفظ اس معنی میں استعمال کرتا ہےکہ میں تمہارے ہی گروہ کا آدمی
ہوں، دوست اور خیر خواہ ہوں ،میرے پاس تمہارے لیے سلامتی و عافیت کے سوا کچھ نہیں
ہے، لہٰذا نہ تم مجھ سے دُشمنی کرو اور نہ میری طرف سے عداوت اور ضرر کا اندیشہ
رکھو۔
مسلمان جب
کسی دشمن گروہ پر حملہ کرتے اور وہاں کوئی مسلمان اس لپیٹ میں آجاتا تو وہ حملہ
آور مسلمانوں کو یہ بتانے کے لیے کہ وہ بھی ان کا دینی بھائی ہے ” السّلام علیکم“ یا ”لا الٰہ الا اللہ“ پکارتا تھا، مگر بعض اوقات ایسا ہوا کہ مسلمانوں کو اس پر یہ شبہہ
ہوا کہ یہ کوئی حربی کافر ہے جو محض جان بچانے کے لیے حیلہ کر رہا ہے، اس لیے اسے
قتل کر دیااور اس کے مال و اسباب کو غنیمت کے طور پر لےلیا۔ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم نےایسے موقع پر نہایت سختی کے ساتھ سرزنش فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے
قرآن مجید میں بھی اس سلسلے میں مذکورہ بالا ارشاد نازل فرمایا۔
آیت کا منشا یہ ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان
کی حیثیت سے پیش کررہا ہے اس کے متعلق تمہیں فوری طور پر یہ فیصلہ کر دینے کا حق
نہیں ہے کہ وہ محض جان بچانے کے لیے جھوٹ بول رہا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ سچا ہو
اورہو سکتا ہے کہ جھوٹا ہو۔ حقیقت تو تحقیق کرنے ہی سے معلوم ہو سکتی ہے۔ تحقیق کے بغیر چھوڑ دینے میں اگر یہ امکان
ہے کہ ایک حربی کافر جھوٹ بول کر جان بچالے جائے، تو قتل کر دینے میں اس کا امکان
بھی ہےکہ ایک مومن بے گناہ تمہارے ہاتھ سے مارا جائے ۔ اور بہر حال تمہارا ایک حربی
کافر کو چھوڑ دینے میں غلطی کرنا اس سے بدرجہا زیادہ بہتر ہےکہ تم ایک مومن کو
غلطی سے قتل کر ڈالو۔
اس آیت سے
معلوم ہوا کہ جو شخص اپنا اسلام ظاہر کرے تو جب تک اس کے کفر کی پوری تحقیق نہ
ہوجائے اس کو کافر کہنا ناجائز اور وبال عظیم ہے،مسلمان پر بہتان باندھنے یا اس پر
بے بنیاد الزامات لگانے پر مزید بڑی وعیدیں آئی ہیں، اِس لیے اِس عمل سے علماے
کرام چاہے صغیر ہوں یا کبیر ،شیخ الحدیث ہوں یا شیخ القرآن سب کو باز آنا چاہیے
اور جس پر تہمت لگائی ہے اس سے معافی مانگنی چاہیے؛ تاکہ آخرت میں گرفت نہ ہو۔
اگر کوئی
خود کفر کا اعتراف نہ کرے یا اس کے کفر پر کوئی قطعی دلیل نہ ہو یا اس کے قول و
فعل میں شرعاً تاویل کا احتمال ہوتو کسی کے لیےمحض گمان یا اس کے کسی مبہم جملے کی
بنا پر شریعت اسلامیہ میں کافر کہنا جائز نہیں ،تو الزام اور بہتان اور کذب و
افترا پردازی کر کے کسی مسلمان بلکہ کسی داعی و مبلغ اسلام ،صالح و مصلح انسان پر فتویٰ
لگا نا بھلاکیسے درست ہو سکتا ہے!ایسے جری علما و مشائخ اور مفتیان کرام کا معاملہ
اللہ ہی کے سپرد ہے ۔ اللہ ہی ہادی ہے اور وہی منتقم حقیقی بھی۔
اگر کوئی
شخص صحیح العقیدہ ہو، تمام عقائد کا زبان سے بھی اقرار کرتا ہو اور دل سے بھی اِن
کو تسلیم کرتا ہو ، اس کے علاوہ بھی دین کی تمام ضروریات کا اقرار کرتا ہو تو ایسا
شخص مسلمان ہے اور بلا کسی دلیل ایسے آدمی کو غیر مسلم کہنا سخت گناہ اورحرام ہے
بلکہ کفر ہے۔
اگر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو گالی کے طور پر کافر کہے تو اس سے کہنے والا
کافر تو نہیں ہوگا، البتہ یہ کبیرہ گناہ اور حرام ہوگا۔ اور اگر ایسے مسلمان کو
کافر سمجھ کر کافر کہا جس میں کفر کی کوئی بات نہ پائی جاتی ہو تو کہنے والا خود
ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
أَيُّمَا امْرِئٍ قَالَ
لِأَخِيهِ: يَا كَافِرُ. فَقَدْ
بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا. إِنْ كَانَ كَمَا قَالَ. وَإِلَّا
رَجَعَتْ عَلَيْهِ. ([1])
’’جس شخص نے
اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک پر کفر لوٹ گیا۔‘‘
یعنی یا تو
واقعی وہ شخص کافر ہوگا جسے کافر کہا گیا ہے، اور اگر وہ کافر نہیں ہے اور کسی نے
بلاثبوت اسے کافر کہہ دیا ہے تو کہنے والا خود کافر ہوگیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت
کے لوگوں کو باقاعدہ طور پر دوسروں کو کافر، فاسق وغیرہ کہنے سے منع فرمایا ہے،آپ
کا ارشاد ہے:
لَا يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفُسُوقِ، وَلَا
يَرْمِيهِ بِالْكُفْرِ، إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ، إِنْ لَمْ يكن صاحبه كذلك.([2])
’’ کوئی شخص کسی دوسرے پر
فاسق ہونے کی تہمت نہ لگائے اور نہ ہی کافر ہونے کی۔ اس لیے کہ یہ تہمت لگانے والے
پر لوٹ کر آتی ہے اگر جس پر تہمت لگائی
گئی ہےاس کے اندر وہ عیب نہیں ہے۔‘‘
لوگ بلا سوچے سمجھے یا یوں کہنا چاہیے کہ
بلا خوف وخطر اوربے جا جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسروں کے بارے میں فتوے جڑ دیتے
ہیں کہ ہم تو فلاں کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ اس کی فلاں فلاں کمزوری کی وجہ سے ہمیں
اس کے ایمان پر یقین نہیں ہے وغیرہ لیکن وہ یہ بات نہیں سمجھتے کہ جس بات کو
معمولی خیال کرکے وہ اپنے منہ سے نکال رہے ہیں وہ کس قدر خوفناک نتائج کی حامل ہے
اور انہیں کتنے بڑے گناہ کا مرتکب بنا رہی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ
عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ.([3])
’’ جس نے بغیر علم کے فتویٰ دیا تو اس کا گناہ
فتویٰ دینے والے پر ہے‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
عَنْ عَلِیٍّ قَالَ اَلْبُھْتَانُ عَلَی
الْبَرِيءِ اَثْقَلُ مِنَ السَّمٰوٰتِ.([4])
’’حضرت
علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک
بے قصور پر بہتان لگانا آسمان سے زیادہ بھاری ہے۔‘‘
علامہ ابن عابدين شامی فرماتے ہیں:
الْمُخْتَارُ لِلْفَتْوَى أَنَّهُ إنْ أَرَادَ الشَّتْمَ
وَلَا يَعْتَقِدُهُ كُفْرًا لَا يَكْفُرُ وَإِنْ اعْتَقَدَهُ كُفْرًا فَخَاطَبَهُ
بِهَذَا بِنَاءً عَلَى اعْتِقَادِهِ أَنَّهُ كَافِرٌ يَكْفُرُ؛ لِأَنَّهُ لَمَّا
اعْتَقَدَ الْمُسْلِمَ كَافِرًا فَقَدْ اعْتَقَدَ دِينَ الْإِسْلَامِ كُفْرًا.([5])
’’ فتویٰ کے لیے مختار یہ ہے کہ اگر کسی کو کافر کہا اور اس جملے سے اس کا مقصود محض سب و شتم ہے اور وہ حقیقت میں اسے
کافر نہیں سمجھتا تو کہنے والاکافر نہیں ہوگا اور اگر کسی مسلم کو کافر مان کر
کافر کہا تو وہ خود کافر ہوجائے گا کیوں کہ جب کسی مسلمان کو کافر جانا تو اس نے
گویا دین اسلام کو کفر جانا ۔‘‘
یعنی اگر کسی نے کسی کو کافر کہا، تو اگر کہنے والے کی بات واقعتاً سچ ہو
تو دوسرا کافر ہے، اور اگر کہنے والے نے جھوٹ کہا اور بطور گالی کہا تو یہ سخت
حرام ہے ،اور اگر کافر ہی جان کر کہا اور سامنے والا کافر نہیں تھا تو مؤمن کو
کافر کہنے والے کا کفر کہنے والے کی طرف لوٹ جائے گا ،کیوں کہ اس نے صرف ایک مسلم
کو کافر نہیں کہا بلکہ در حقیقت اس نے دین اسلام کو کفر جانا جوخود عظیم کفر ہے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
وَلَوْ قَالَ لِمُسْلِمٍ أَجْنَبِيٍّ: يَا كَافِرُ، أَوْ
لِأَجْنَبِيَّةٍ يَا كَافِرَةُ، وَلَمْ يَقُلْ الْمُخَاطَبُ شَيْئًا، أَوْ قَالَ
لِامْرَأَتِهِ يَا كَافِرَةُ، وَلَمْ تَقُلْ الْمَرْأَةُ شَيْئًا، أَوْ قَالَتْ
الْمَرْأَةُ لِزَوْجِهَا يَا كَافِرُ وَلَمْ يَقُلْ الزَّوْجُ شَيْئًا، كَانَ
الْفَقِيهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَعْمَشُ الْبَلْخِيّ يَقُولُ يَكْفُرُ هَذَا
الْقَائِلُ وَقَالَ غَيْرُهُ مِنْ مَشَايِخِ بَلْخٍ رَحِمَهُمْ اللَّهُ تَعَالَى:
لَا يَكْفُرُ وَالْمُخْتَارُ لِلْفَتْوَى فِي جِنْسِ هَذِهِ الْمَسَائِلِ أَنَّ
الْقَائِلَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْمَقَالَاتِ إنْ كَانَ أَرَادَ الشَّتْمَ وَلَا
يَعْتَقِدُهُ كَافِرًا لَا يَكْفُرُ، وَإِنْ كَانَ يَعْتَقِدُهُ كَافِرًا
فَخَاطَبَهُ بِهَذَا بِنَاءً عَلَى اعْتِقَادِهِ أَنَّهُ كَافِرٌ يَكْفُرُ كَذَا
فِي الذَّخِيرَةِ. ([6])
’’اگرکسی شخص نے کسی اجنبی مسلمان کو کافر کہہ کر پکارا یا کسی اجنبیہ
مسلم خاتون کو کافرہ کہہ کر پکارا اور جواب میں اس نے کچھ نہ کہا ، یا کسی نے اپنی
بیوی کو کافرہ کہا اور اس نے کوئی جواب نہیں دیا، یا بیوی نے شوہر کو کافر کہا اور
اس نے کوئی جواب نہیں دیا تو فقیہ ابو بکر اعمش بلخی کا قول ہے کہ ایسا کہنے والا
کافر ہے اور دوسرے مشائخ بلخ نے فرمایا ہے کہ کافر نہیں ہوگا بلکہ اس طرح کے مسائل
میں فتویٰ کے لیے مختار یہ ہے کہ قائل نے اگر گالی دینے کے لیے ایسا جملہ کہا اور
اسے وہ کافر نہیں سمجھتا تو قائل کافر نہیں ہوگا، اور اگر کافر جان کر اسے کافر
کہا تو کافر کہنے والا خود کافر ہو جائے گا ۔‘‘
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں :
فإن التكفير فيه خطر، والسكوت لا خطر فيه.([7])
’’بے شک تکفیر میں خطرہ ہے ، سکوت میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘‘
کسی مسلمان کو کافر کہنا سخت حرام اور بڑا گناہ ہے بلکہ بعض صورتوں میں خود
کو کافر بنا نا ہے ،اسی وجہ سے علمائے اسلام نے تکفیر میں جلد بازی سے منع کیا ہے کیونکہ
اسلامی قانون کے مطابق جب کسی کی تکفیر ہوجاتی ہے تو اب اس کی جان ،اس کا مال اور
اس کی آبرو غیر محفوظ ہوجاتی ہے ۔
امام غزالی فرماتے ہیں کہ تکفیر کرنے میں خطرہ ہے سکوت میں کوئی خطرہ نہیں
ہے لیکن افسوس کہ ہمارے زمانے کے اکثر علما کی مسلک اور شخصیت پرستی میں شدت اس حد
تک بڑھ چکی ہے کہ اب سکوت میں بھی خطرہ ہے ، بات بات میں کافر بنانا اور پھر من شک
فی کفرہ و عذابہ کا وظیفہ جاری فرماکر اہل سکوت کا بھی چین و سکون غارت کرنا عام
بات ہو چکی ہے، اگر امام غزالی علیہ الرحمہ آج ہمارے دور میں ہوتے تو اس مذکورہ
جملہ کی جگہ مزید کچھ اور تحریر فرماتے ۔
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ ایک مقام پر تحریر فرماتے ہیں :
الخطأ في ترك ألف كافر في الحياة
أهون من الخطأ في سفك محجمة من دم مسلم.([8])
’’ایک ہزار کافر کوغلطی سے زندہ چھوڑدینا
، ایک مسلمان کو غلطی سے قتل کردینے کے بالمقابل
ایک معمولی جرم ہے۔‘‘
ہمارے دور کے علما
و مشائخ شمارکیےجانے والے اکثر حضرات کو کافر بنا نا اتنا مرغوب ہے کہ وہ خود تو آپس
میں کافر کافر کا کھیل کھیلتے ہی ہیں ساتھ میں کسی کے کفر سے سکوت کرنے والے کی
بھی تکفیر کردیتے ہیں اور سکوت کرنے والے کے خلاف ہر طرح کے بے بنیاد الزامات لگا
دیتے ہیں اور ملک میں گھوم گھوم کر غریب عوام سے لاکھوں لاکھ روپے چندہ لے کر جلسے
کا انعقاد صرف عوام اہل سنت کو یہ بتانے کے لیے کرتے ہیں کہ فلاں شخص، فلاں کی
تکفیر نہیں کرتا اس لیے ہم تکفیری لوگ ان کا اور ان کے متعلقین کو کافر کہتے ہیں اور ان کا بائی کاٹ کرتے ہیں
اور جلسہ ختم ہوتے ہی عوام اہل سنت دو اور دو سے زائد حصوں میں بٹ جاتے ہیں اور
نفرت و تشدد کا اور مسجد اور مدرسے کے بٹوارے کا سلسلہ سالہا سال جاری رہتا ہے اور
عوام اہل سنت کی اور ان کی نئی نسل کی تعلیم و تربیت کی فکر کرنے والا دور دور تک
کوئی نظر نہیں آتا ہے اور نہ ان کا کوئی پرسان حال ہوتا ہے۔

Comments
Post a Comment