درجات اہل محبت کا نصیبہ ہے

 









درجات اہل محبت کا نصیبہ ہے

۲۱ ؍نومبر ۲۰۱۵ ءبروز سنیچر بعد نماز مغرب ہفتہ واری مجلس میں اساتذہ جامعہ عارفیہ موجود تھے ، درمیان گفتگو مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا نے فرمایاکہ سلوک کی راہ متعدد ہیں الطرق الی اللہ کعدد انفاس الخلائق یوں ہی سالک الی اللہ کے بھی مختلف درجات ہیں۔

اہل طاعت : جو فرائض و واجبات اور سنن و نوافل کے ذریعے اللہ کی راہ میں اور طلب میں لگا ہو۔

اہل مجاہدہ : جو اعمال کے ساتھ مجاہدہ بھی کرتا ہو مثلا صبر و توکل ،زہد اور نفس کشی کے ذریعے اللہ کی رضا و قرب کا طالب ہو۔

اہل محبت : جو اعمال و مجاہدہ کے ساتھ آتش ارادت اور عشق الٰہی میں اپنے وجود اور ارادے کو جلا چکا ہو ـ۔

اللہ کا قرب اہلِ محبت کے لیے آسان ہے جب کہ اہل طاعت اور اہل ِمجاہدہ کے لیے بہت مشکل ہے لیکن نجات کی قوی امید ہے اگر چہ درجات اہل ِمحبت کا نصیبہ ہے ـ۔

سالکین راہ طریقت اور قرب الٰہی کے طالبین کے لیے عرفا نے متعدد شرائط کا ذکر کیا ہے ، ان شرائط میں پہلی شرط توبہ ہے اور اس کی بھی تین قسمیں ہیں پہلی : عوام کی توبہ، دوسری خواص اور تیسری اخص الخواص کی توبہ:

پہلی قسم: معصیت سے طاعت کی طرف ۔

 دوسری قسم: غفلت سے ذکر کی طرف ۔

 تیسری قسم: اپنے قصد و ارادہ اور رضا سے اللہ کی رضا کی طرف رجوع کرنا ہے ۔ اپنی کوئی مرضی نہ ہو ، اللہ ہی کی رضا میں راضی ہو اور اسی سے مطمئن  ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةًۚ اور موتوا قبل ان تموتوا کا مظہر ہو ، یہ بظاہر مشکل ضرور ہے لیکن جب عشق غالب ہو جائے تو پھر سب  آسان ہے اور یہی بڑی کامیابی ہے ۔

محمد مجیب الرحمٰن علیمی کان اللہ لہ

۲۲؍ نومبر ۲۰۱۵ء/ ۸؍صفر ۱۴۳۷ھ

Comments

  1. ماشاءاللہ بہت ہی ایمان افروز گفتگو

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

کلمہ گو کی تکفیر میں احتیاط کے سلسلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا رویہ

تقویٰ کی حقیقت اور اس کا سماجی پہلو

علم کا مقصود اور اس کے درجات