تکفیر یت کا زہر
تکفیر یت کا زہر
ابتدائے اسلام کے کچھ ہی عرصہ بعد علماء
حضرات کے کچھ گروہوں نے تبلیغ کرنے کی جگہ تکفیر کی فیکٹریاں قائم کرلیں ۔ ان کی
زبانوں کے شعلے مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کر کے خاکستر کرتے رہے اور جابجا
زبانوں کی تلواریں آہنی تلواروں کا روپ دھار کر مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا سر قلم
کرواتی رہیں، جس کا فائدہ غیروں کو ہوتا رہا اور بڑی بڑی بارعب سلطنتیں تکفیر کے
زہر کے اثر سے تاخت و تاراج ہوگئیں۔
اس سلسلے میں مولانا
ابوالکلام آزاد اپنا درد کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:
’’اسلام کے اس تیرہ سو برس کے عرصے میں فقہا کا قلم ہمیشہ تیغ بے نیام رہا ہے، اور ہزاروں حق پرستوں کا خون ان کے فتووں کا دامن گیر ہے۔ اسلام کی تاریخ کو کہیں سے پڑھو سینکڑوں مثالیں کہتی ہیں کہ بادشاہ جب خوں ریزی پر آتا تھا تو دار الافتا ءکا قلم اور سپہ سالار کی تیغ دونوں یکساں طور پر کام دیتے تھے۔ صوفیہ اور ارباب باطن پر منحصر نہیں ،علمائے شریعت میں سے بھی جو نکتہ بیں اسرار حقیقت سے قریب ہوئے ، فقہاکے ہاتھوں انہیں مصیبتیں اٹھانی پڑیں اور بالآخر سر دے کر نجات پائی۔ ‘‘ [1]
سقوطِ بغداد کا المناک سانحہ تاقیامت ہمیں
تکفیر کے زہر کی قتل و غارت گری کی داستان سناتا رہے گا۔ بغداد کی فضائیں معتصم
باللہ کی حکومت میں تکفیر سے آلودہ ہوچکی تھیں۔ سنی و شیعہ ایک دوسرے کو نیچا
دکھانے کی دوڑ میں تمام حدیں پھلانگ رہے تھے۔ اقتدار کے ایوانوں سے دونوں گروہوں
کی یوں حمایت ہورہی تھی کہ وزیرِ اعظم ابن علقمی جو خود بھی شیعہ تھا، شیعوں کی
حمایت کرتا تو دوسری طرف خلیفہ معتصم باللہ کا فرزند ابو بکر سنیوں کی حمایت
اورامداد کرتا۔ اس لڑائی نے تعلیم گاہوں اور تربیت گاہوں کے ساتھ سلطنت کو کھوکھلا
کرکے رکھ دیا اور وہ سلطنت جس کی ہیبت کے چرچے تھے وہ ہلاکوکی افواج کے سامنے ریت
کی دیوار اور راکھ کا ڈھیر ثابت ہوئی۔ بغداد میں انسانی لاشوں کے ڈھیر تھے جو
مسلمانوں کی تھیں اور تین دن تک دجلہ کا پانی خونِ مسلم سے سُرخ رہا۔
بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس قسم کے دسیوں،
بیسیوں واقعات جو تاریخ کے اوراق میں ہمیں ملتے ہیں۔ ان سے کوئی سبق نہ لیا گیا ۔
آج بھی جبّہ و دستار کے حامل علما و خطبا کمائی کی خاطر خونِ مسلم کی ارزانی کی
داستانیں سناتے دکھائی دیتے ہیں، آج بھی اپنی حقیقت سے ناآشنا مسلمان ان کے ہوس
پرستانہ عزائم کا ذریعہ اور شکار بن رہے ہیں،اور آج بھی غریب عوام کے چندے سے
لاکھوں لاکھ کے جلسے مسلمانوں کو تقسیم کرنے اور صالحین کی آبرو کو برسرعام نیلام
کرنے کے لیے منعقد کیے جارہے ہیں ، آج بھی ناحق خونِ مسلم بہہ رہا ہے۔آج بھی جسدِ
اسلام کو چھلنی کیا جارہا ہے ،آج بھی کلمہ طیبہ کی عظمت نیلام ہورہی ہے اور آج
بھی دین کے اقدار کو بے وقار کیا جارہا ہے اور آج بھی اہل تقوی صالحین و مصلحین
بے آبرو ہورہے ہیں اور آج بھی اہل محبت عوام تکفیربازاری کی وجہ سے آپس میں دست
و گریباں نظر آرہے ہیں ۔
گاؤں گاؤں بٹ چکا ،محلے کے لوگ آپس میں بر
سرپیکار ہیں، ایک مسجد میں تین تین افراد کی دو دو جماعتیں قائم کی جارہی ہیں ،
ایک گھر کے افراد آپس میں ایک دوسرے کو سنی تو چھوڑ دیں مسلمان تسلیم کرنے کو
تیار نہیں ہیں، واہ کیا ہی خوب دین و سنیت کی تبلیغ ہورہی ہے !جو دین اللہ کے
بندوں کو اللہ سے جوڑ نے کے لیےآیا تھا اس دین کے ماننے والے آج اللہ کے بندوں
کو اللہ کی رحمت سے دور کر نے اور دھکا دےکر جہنم رسید کرنے میں مصروف ہیں ۔

Comments
Post a Comment