اہل سنت و جماعت کی پہچان
اہل سنت و جماعت کی پہچان
آج ہر شیخ و مفتی بلکہ ہر
مولوی و مقرر اہل سنت ہونے کا دعویٰ دار نظر آتا ہے جب کہ اپنے علاوہ کو مسلمان
تسلیم کرنا بھی اس کی نازک طبیعت پر گراں گزرتا ہے ایسے ماحول میں ہمارا اہل سنت و
جماعت کےدرست تعارف سے آشنا ہونا بے حدضروری ہے ، ہم ذیل
میں اس سلسلے میں مستند علمائے کرام کے فرمودات کی روشنی میں اہل سنت و جماعت کا
تعارف پیش کرتے ہیں ۔
عظیم حنفی فقیہ علامہ ابن نجیم
صاحب بحر الرائق قدس سرہ (م:۹۷۰ھ)اہل سنت و جماعت کی پہچان بیان کرتے ہوئے تحریر کرتے
ہیں:
من أهل السنة والجماعة ؟من فيه عشرة أشياء ،الأول: أن لا يقول شيئا في الله تعالى لا يليق بصفاته ، والثاني: يقر بأن القرآن كلام الله تعالى وليس بمخلوق ، والثالث : يرى الجمعة والعيدين خلف كل بر وفاجر ، والرابع: يرى القدر خيره وشره من الله تعالى ، والخامس: يرى المسح على الخفين جائزا ، والسادس: لا يخرج على الأمير بالسيف ، والسابع :يفضل أبا بكر وعمر وعثمان وعليا على سائر الصحابة ، والثامن: لا يكفر أحدا من أهل القبلة بذنب ، والتاسع :يصلي على من مات من أهل القبلة ،و العاشر: يرى الجماعة رحمة والفرقة عذابا.[1]
’’کون شخص
اہل سنت سے ہے؟وہ شخص اہل سنت اور جماعت میں سے ہے جس کے اندر یہ دس چیزیں موجود
ہوں، پہلی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کوئی ایسی بات نہ کہےجو اس کی صفات کے
لائق نہ ہو، دوسری یہ کہ وہ تسلیم کرے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور مخلوق
نہیں ہے، تیسری یہ کہ وہ جمعہ اور عیدین کو ہر نیک و بد کی اقتدا میں پڑھنے کو
جائز جانتا ہو ، چوتھی یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اچھی اور بری تقدیر پر ایمان رکھتا
ہو، پانچویں یہ کہ وہ شخص جرابوں پر مسح کرنا جائز سمجھتا ہو، چھٹی یہ کہ وہ شخص حاکم
کے خلاف بغاوت نہ کرے ۔ ساتویں یہ کہ وہ شخص حضرت ابو بکر و عمر اور حضرت عثمان
اور علی رضی اللہ عنہم کو تمام صحابہ پر فضیلت دیتا ہو۔ آٹھویں یہ کہ وہ اہل قبلہ
میں سے کسی کی تکفیرکسی گناہ کی وجہ سے نہ کرتا ہو ۔ نویں یہ کہ وہ اہل قبلہ میں سے مرنے والوں
کی نماز جنازہ ادا کرتا ہو ۔ دسویں یہ کہ وہ شخص اتحادکو
رحمت جانتا ہو اور افتراق کو عذاب خیال
کرتا ہو ۔ ‘‘
حضرت امام سہل بن عبد اللہ
تستری قدس سرہ (م:۲۸۳ھ) سے سوال کیا گیا کہ
کیسے پہچانا جائےگا کہ کون شخص اہل سنت و جماعت سے ہے؟ تو آپ نے اس کے جواب میں
فرمایا:
إِذَا عَرَفَ مِنْ نَفْسِهِ عَشْرَ خِصَالٍ : لا يَتْرُكُ الْجَمَاعَةَ , وَلا يَسُبُّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ,وَلا يَخْرُجُ عَلَى هَذِهِ الأُمَّةِ بِالسَّيْفِ ,وَلا يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ, وَلا يَشُكُّ فِي الإِيمَانِ, وَلا يُمَارِي فِي الدِّينِ, وَلا يَتْرُكُ الصلاة على من يَمُوتُ من أهل القبلة بِالذَّنْبِ, وَلا يَتْرُكُ الْمَسْحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ,وَلا يَتْرُكُ الْجَمَاعَةَ خَلْفَ كُلِّ وَالٍ جَارَ أَوْ عَدَلَ۔[2]
’’جب
انسان اپنے اندردس باتیں پائے تووہ اہل سنت وجماعت پرقائم ہے: (۱)نماز پنج گانہ کی جماعت
نہ چھوڑے۔ (۲)رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے صحابہ کو گالی نہ دے ۔(۳) اس امت کے خلاف قتال
کی غرض سےخروج نہ کرے ۔ (۴) تقدیر کی تکذیب نہ کرے ۔(۵)اپنے ایمان میں شک نہ
کرے۔ (۶)دین کے معاملے میں ناحق جھگڑا نہ کرے۔ (۷) اہل قبلہ میں سے اگرکسی
کی موت ہوجائے توگناہ کی بنا پراس کی نماز جنازہ ترک نہ کرے ۔ (۸)مسح علیٰ الخفین کو ترک
نہ کرے ۔ (۹)ہرنیک وبد حاکم و امام کی اقتدا میں نماز ادا کرے ،جماعت ہرگز ترک نہ
کرے۔‘‘
کیوں کہ جماعت چھوڑنا گناہ ہے ،صاحب
’’بہار شریعت ‘‘ علامہ محمد امجد علی اعظمی
رحمۃ اللہ علیہ اس سلسلے میں تحریر کرتے ہیں:
’’عاقل ،بالغ،حر،قادرپر جماعت واجب ہے،بلا عذر ایک بار بھی چھوڑنے والا گنہگار اور مستحق سزا ہے اور کئی بار ترک کرے ،تو فاسق مردود الشہادۃ اور اس کو سخت سزا دی جائے گی ، اگر پڑوسیوں نے سکوت کیا تو وہ بھی گنہگارہوئے۔‘‘ [3]
معلوم ہوا کہ بلا عذر نماز کی
جماعت چھوڑنا گناہ ہے اور جماعت کو توڑنا اس سے بھی بڑا گناہ ہے، اسی لیے
محققین علمائے اہل سنت نے فرمایا ہے :کہ
اگر کسی مسجد کا امام بدعتی بھی ہو تو اس کی اقتدا میں نماز پڑھی جائے گی، جماعت
ترک نہیں کی جائے گی اور نہ جمعہ کی
نمازچھوڑی جائے گی اور نہ بدعتی امام کی وجہ سے اہل اسلام اور اہل قبلہ کی جماعت و
اتحاد کو توڑا جائے گا ۔
صاحب در مختار
نے تو یہاں تک فرمادیا ہے کہ اگر کسی نے فاسق اور بدعتی کی اقتدا میں نماز ادا کر
لی تو وہ جماعت کی فضیلت سے بھی محروم نہیں ہوگا ،اب یہ بات سمجھنے کی ہےکہ جب
فضیلت میں بھی کمی نہ ہوگی تو نماز کیوں کر ادا نہ ہو گی ؟
وفي النهر عن المحيط: صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة.[4]
’’ جس نے کسی فاسق یا بدعتی کی اقتدا میں
نماز ادا کی اس نے جماعت کی فضیلت کو پالیا ۔‘‘
بلکہ محققین نے تو یہاں تک واضح
کردیا ہے کہ بدعتی امام کی امامت میں
جماعت اور جمعہ ادا نہ کرنے اور جماعت مسلمین کو منتشر کرنے والا خودبدعتی اور
گمراہ ہے، اس سلسلے میں علامہ صدر الدين محمدابن ابی العز الحنفی عقیدہ طحاویہ کی شرح کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں:
وَأَمَّا إِذَا كَانَ تَرْكُ الصَّلَاةِ خَلْفَهُ يُفَوِّتُ الْمَأْمُومَ الْجُمْعَةَ وَالْجَمَاعَةَ، فَهُنَا لَا يَتْرُكُ الصَّلَاةَ خَلْفَهُ إِلَّا مُبْتَدِعٌ مُخَالِفٌ لِلصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.[5]
’’بدعتی کی اقتدا قبول نہ کرنے کی وجہ سے اگر جماعت اور جمع فوت
ہوتی ہے ،تو بدعتی کی امامت قبول کی جائے
گی اور جو قبول نہ کرے وہ خود بدعتی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے روش کی
مخالفت کرنے والا قرار دیا جائے گا۔‘‘
ہاں کسی
بدعتی کو امامت پر بحال کرنا فقہا ئے اہل سنت کے نزدیک منع ہے لیکن جو بدعتی
امام پہلے سے ہی امامت پر فائز ہو اور اس کو بدلنے پر قدرت
نہ ہو تو اس کی اقتدا میں جمعہ و جماعت کی نماز ادا کی جائے گی تاکہ مسلمانوں کی جمیعت اور وحدت بحال رہے ۔ اس سلسلے میں
مزید گفتگو کسی اور موقع پر کی جائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
صاحب ’’مجمع السلوک و الفوائد ‘‘ حضرت علامہ
مخدوم شیخ سعد خیر آبادی قدس سرہ (م:۹۲۲ھ)اہل سنت کی علامت بیان کرتے ہوئے تحریر
کرتے ہیں:
متی یعلم الرجل أنه من أهل السنة والجماعة؟ فقال: إذا وجد فی نفسه عشرة أشیاء فهو علی السنة والجماعة:أن یصلی الصلاة الخمس بالجماعة ،ولایذکر واحدا من الصحابة بمنقصة ،ولایخرج علی السلطان بالسیف، ولایشک فی إیمانه ،ویؤمن بالقدر خیره وشره من الله تعالی، ولایجادل فی دین الله عزوجل ، ولایکفرن أحدا من أهل التوحید بذنب ،ولایدع الصلاة علی من مات من أهل القبلة ، و یری المسح علی الخفین جائزا فی السفر والحضر، ویصلی خلف کل امام براً و فاجراً.[6]
’’یہ کیسے معلوم ہوگاکہ کوئی اہل سنت وجماعت سے ہے؟توآپ نے فرمایا کہ جب انسان اپنے اندردس باتیں پائے تووہ اہل سنت وجماعت پرقائم ہے:(۱)نماز پنج گانہ جماعت سے ادا کرے۔ (۲)کسی صحابی کاتذکرہ نقص وعیب کے ساتھ نہ کرے۔ (۳)سلطان کے خلاف علم بغاوت بلند نہ کرے۔ (۴)اپنے ایمان میں شک نہ کرے۔(۵)تقدیر خواہ اچھی ہویابری اس کے اللہ کی طرف سے ہونے پرایمان رکھے۔ (۶) اللہ کے دین میں بحث و تکرار نہ کرے۔ (۷)گناہ کی بناپر اہل توحیدمیں سے کسی کی ہرگز تکفیرنہ کرے۔(۸)اہل قبلہ میں سے اگرکسی کی موت ہوجائے تواس کی نماز جنازہ ترک نہ کرے۔(۹)مسح علیٰ الخفین کوسفروحضرمیں جائز سمجھے۔ (۱۰) ہر نیک اورفاجر کے پیچھے نماز ادا کرے۔‘‘[7]
عظیم محدث اور شافعی فقیہ شیخ الاسلام ابو الفتح
نصر بن ابراہیم مقدسی
(م:۴۹۰ ھ) قدس سرہ
تحریر فرماتے ہیں :
متى يعرف الرجل أنه على السنة والجماعة ؟ قال : إذا عرف من نفسه عشر خصال ، لا يترك الجماعة ،ولا يسب أصحابي ، ولا يخرج على هذه الأمة بالسيف ، لا يشك في الإيمان ، ولايكذب بالقدر ، ولا يماري في دين الله عز وجل ، ولا يكفراحدا من اهل التوحيد بالذنب ،ولا يدع الصلاة على من مات من أهل القبلة ، ولا يترك المسح على الخفين في السفر ولا الحضر ، ولا يترك الجمعة خلف كل بر وفاجر ، فمن ترك من هذه الخصال واحدة فقد ترك السنة. [8]
’’جب
انسان اپنے اندردس باتیں پائے تووہ اہل سنت وجماعت پرقائم ہے:(۱)نماز پنج گانہ کی جماعت
نہ چھوڑے۔ (۲)رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے صحابہ کو گالی نہ دے ۔(۳) اس امت کے خلاف قتال
کی غرض سےخروج نہ کرے ۔ (۴) تقدیر کی تکذیب نہ کرے ۔(۵)اپنے ایمان میں شک نہ
کرے۔ (۶)دین کے معاملے میں ناحق جھگڑا نہ کرے۔ (۷) اہل قبلہ میں سے کسی کی
گناہ کی وجہ سے تکفیر نہ کرے ۔(۸) اگراہل قبلہ میں سے کسی کی موت ہوجائے تواس کی
نماز جنازہ ترک نہ کرے ۔ (۹) سفر و حضر میں مسح علیٰ الخفین کو ترک
نہ کرے ۔ (۱۰)ہرنیک وبد کی اقتدا میں نماز ادا کرے جمعہ( و جماعت )ترک نہ
کرے۔ تو جس نے ان خصلتوں میں سے کسی ایک کو بھی ترک کیا گویا اس نے اہل سنت و
جماعت کے مسلک کو چھوڑدیا۔‘‘
اس سلسلے
میں غوث اعظم حضرت محبوب سبحانی شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ (م: ۵۶۱ھ ) کا
ارشاد بھی بہت اہم ہے ، فتوح الغیب کے ۷۸ ویں مقالے کے اندر اہل مجاہدہ کی دس
خصلتیں بیان کی گئی ہیں، ان میں سے چھٹی خصلت اس طرح ہے :
والسادسة: ألا يقطع الشهادة على أحد من أهل القبلة بشرك ولا كفر ولا نفاق، فإنه اقرب للرحمة وأعلى في الدرجة، وهي تمام السنة وأبعد عن الدخول في علم الله سبحانه وتعالى، وأبعد من مقت الله عز وجل، وأقرب إلى رضا الله تعالى ورحمته، فإنه باب شريف كريم على الله، يورث العبد الرحمة للخلق أجمعين. [9]
’’ سالکین راہ طریقت کی چھٹی خصلت یہ ہے
کہ وہ اہل قبلہ میں سے کسی پر کفر
وشرک یا نفاق کا قطعی حکم نہیں لگاتے ، کیوں کہ یہ عمل رحمت ومہربانی سے قریب تر اور اعلیٰ درجہ کا حامل ہے۔ یہی عین سنت ہے ،اسی میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ
کے علم قطعی میں مداخلت سے دوری اوراس کے غضب سے حفاظت ہے، نیز یہی راہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور
اس کی رحمت سے زیادہ قریب ہے اور یہی اس کے قرب میں پہنچنے کے لیے شرافت و کرامت
کا راستہ ہے جس سے بندے کے اندر تمام مخلوقات کے لیے رحمت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔‘‘
صاحب تفسیرات احمدیہ حضرت احمد
ملا جیون رحمۃ اللہ علیہ(م:۱۱۳۰ھ)نے اہل سنت و جماعت کی تعریف کرتے ہوئے تحریر کیا ہے :
ولما كان ههنا مذكورا الفرق الإسلامية ونجاتهم وهلاكهم أوردنا بذيل الآية بيان أسمائهم وتفاصيل أقوالهم وعقائدهم ، ليكون تذكرة للإخوان وتبصرة لذوي الأذهان ، فنقول : الفرقة التي هي ناجية من الجميع ، وإن كانت مبهمة يصرفها كل مؤول إلى من يشاء، ولكن بالتحقيق والصدق من كان على طريق السنة والجماعة أي تابعا لما كان عليه الصحابة والتابعون ومضى عليه السلف الصالحون ؛ إذ روي أنه استفسر عليه السلام عنها فقال : من كان على السنة والجماعة ، وفي رواية قال : ما أنا عليه وأصحابي، وفي رواية (عن ابن عباس )أنه كان فيه عشر خصال : تفضيل الشيخين ، وتوقير الختنين ، وتعظيم القبلتين ، والصلاة على الجنائز ، والصلاة خلف الإمامين، وترك الخروج على الإمامين، والمسح على الخفين، والقول بالتقديرين ، والإمساك عن الشهادتين ، وأداء الفريضتين – يعني تفضيل أبي بكر وعمر ـ وتوقير عثمان وعلي ، وتعظيم بيت المقدس والكعبة ، والصلاة على جنازة الفاسق والصالح جميعا ، وكذا الصلاة خلف الإمام الفاسق والصالح جميعا ، وترك الخروج على السلطان الجائر والعادل جميعا ، والمسح على الخفين في الحضر والسفر جميعا ، والقول بأن تقدير الخير والشر كلاهما من الله تعالى ، والإمساك عن شهادة الجنة والنار لأحد بعينه سوى العشرة المبشرة ونحوهم ، وأداء فرض الصلاة والزكاة جميعا .‘‘[10]
’’چوں کہ یہاں اسلامی فرقے اور
ان کی ہلاکت کا تذکرہ ہوا تو ہم نے آیت کے ذیل میں ان کے اسما اور ان کے اقوال و
عقائد کی تفصیلات کو بیان کردیا تاکہ یہ احباب کے لیے وجہ تذکیر اور صاحبان عقل
کے لیے باعث تدبر و بصیرت بن جائے،چنانچہ
ہم کہتے ہیں :
وہ فرقہ
جو ان سب میں ناجی ہے اگر چہ مبہم ہے اور جو بھی چاہتا ہے اس کو کسی پر بھی منطبق
کردیتا ہے لیکن تحقیق اور سچائی یہ ہے کہ
اس سےمراد وہ لوگ ہیں جو اہل سنت و جماعت کی راہ پر ہوں یعنی صحابہ ،تابعین اور سلف صالحین کے منہج پر
ہوں۔ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس جماعت کے بارے میں استفسار کیا
گیا تو آپ نے فرمایا جو میری سنت پر قائم ہو اور جماعت کے ساتھ ہو ،ایک روایت میں
ہے کہ آپ نے فرمایا :جس پر میں اور میرے صحابہ قائم ہیں، ایک اور روایت میں (حضرت
ابن عباس )سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:جس میں (مندرجہ ذیل ) دس باتیں ہوں وہ اہل
سنت سے ہے:
جوشیخین یعنی حضرت ابو بکر
اورحضرت عمر رضی اللہ عنہماکی فضیلت کا قائل ہو، حضرات ختنین یعنی حضرت عثمان غنی
اور حضرت علی رضی اللہ عنھما کی توقیرکرتا ہو۔ اور دونوں قبلوں یعنی قبلہ اول بیت
المقدس اور خانہ کعبہ کی تعظیم کرتا ہو، ہر نیک و بد کی جنازے کی نماز پڑھنتا ہو،
ہر نیک و بد کی اقتدا میں نماز کی ادائیگی کا قائل ہو، ہر نیک و بدکسی بھی حاکم کے
خلاف بغاوت نہ کرتا ہو، سفر و حضر میں جرابوں پر مسح کو درست جانتا ہو، ہر اچھی اور بری تقدیر کے اللہ کی طرف سے ہونے پر ایمان رکھتا ہو ، عشرہ مبشرہ اور ان
جیسے کے علاوہ کسی کو متعین طور پر جنتی یا جہنمی کہنے سے پرہیز کرتا ہواور نماز
اور زکوۃ کی فرضیت کی ادائیگی کرتا ہو۔‘‘
اسی طرح کی باتیں مختلف روایتوں
سے حنفی شیخ علامہ محمد عبد الحق ہندی نے اپنی تفسیر’’ الاکلیل علی مدارک
التنزیل و حقائق التاویل ‘‘میں نقل کی ہے اور آخر میں خود اپنی رائے بھی لکھتے
ہیں :
فنقول : الفرقة التي هي ناجية من الجميع ، وإن
كانت مبهمة يصرفها كل مؤول إلى من يشاء ، ولكن بالتحقيق والصدق من كان على طريق
السنة والجماعة ، أي تابعا لما كان عليه الصحابة والتابعون ومضى عليه السلف
الصالحون ، اذ روى أنه استفسر عليه السلام عنها، فقال : من كان على السنة والجماعة
، وفي رواية : ما أنا عليه وأصحابي، وفي رواية عن ابن عباس أنه من كان فيه عشر خصال : تفضيل الشيخين ، وتوقير
الختنين ، وتعظيم القبلتين ، والصلاة على الجنازتين ، والصلاة خلف الإمامين، وترك
الخروج على الإمامين، والمسح على الخفين ، والقول بالتقديرين ، والإمساك عن
الشهادتين ، وأداء الفريضتين ۔
يعني تفضيل أبي بكر وعمر ، وتوقير عثمان وعلي رضي الله تعالى عنهم ، وتعظيم بيت المقدس والكعبة ، والصلاة على جنازة الفاسق والصالح جميعًا ، وكذا الصلاة خلف الإمام الفاسق والصالح جميعًا ، وترك الخروج على السلطان الجائر والعادل جميعًا ، والمسح على الخفين في الحضر والسفر جميعًا ، والقول بأن تقدير الخير والشر كلاهما من اللہ تعالى ، والإمساك عن شهادة الجنة والنار لأحد بعينه سوىٰ العشرة المبشرة ونحوهم ، وأداء فرض الصلاة والزكاة جميعًا ، ولعل هذا معظم مسائل أهل السنة والجماعة ، وإلا فمثل حقية عذاب القبر ورؤية الله تعالى وغير ذلك أيضًا مما هو مختص بالسنة والجماعة ، أو نقول : إن شرائط السنة والجماعة هي العشرة ، والمسائل الأخر ليست مشروطًا لها ، وإن كانت مختصة بها . [11]
’’ہم کہتے ہیں کہ وہ فرقہ جو ان
سب میں ناجی ہے اگر چہ مبہم ہے اور جو بھی چاہتا ہے اس کو کسی پر بھی منطبق کردیتا
ہے لیکن تحقیق اور سچائی یہ ہے کہ اس سےمراد وہ لوگ ہیں جو اہل سنت و جماعت کی راہ
پر ہوں یعنی صحابہ ،تابعین اور سلف صالحین کے منہج پر ہوں ۔مروی ہے کہ نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم سے اس جماعت کے بارے میں استفسار کیا گیا تو آپ نے فرمایا جو
میری سنت پر قائم ہو اور جماعت کے ساتھ ہو ،ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا :جس
پر میں اور میرے صحابہ قائم ہیں ایک اور روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ
آپ نے فرمایا:جس میں مندرجہ ذیل دس باتیں ہوں وہ اہل سنت سے ہے:
شیخین یعنی حضرت ابو بکر اور
حضرت عمر رضی اللہ عنہماکی فضیلت،حضرات ختنین یعنی حضرت عثمان غنی اور حضرت علی
رضی اللہ عنھما کی توقیر ، دونوں قبلوں یعنی قبلہ اول بیت المقدس اور خانہ کعبہ کی
تعظیم ، ہر نیک و بد کی جنازے کی نماز پڑھنا ،ہر نیک و بد کی اقتدا میں نماز کی
ادائیگی ،ہر نیک و بد بادشاہ کے خلاف خروج نہ کرنا،سفر و حضر میں جرابوں پر مسح
کرنا ، ہر اچھی و بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہے اس پر ایمان ، عشرہ مبشرہ اور ان
جیسے کے علاوہ کسی کو متعین طور پر جنتی
یا جہنمی کہنے سے پرہیز اورنماز اور زکوۃ کی فرضیت کی ادائیگی ،شاید یہ اہل سنت و
جماعت کے چند اہم مسائل ہیں ورنہ عذاب قبر اور رویت باری تعالیٰ کا حق ہونا اور اس
طرح کے دوسرے مسائل بھی اہل سنت کے امتیازات سے ہیں، یا ہم کہتے ہیں: سنت و جماعت
کی شرائط دس ہیں، اور دوسرے مسائل اس پر مشروط نہیں ہیں، اگر چہ وہ اس کے ساتھ
مخصوص ہیں۔‘‘
صاحب ’’خزانۃ المفتيین ‘‘ اہل سنت کی پہچان یوں تحریر فرماتے ہیں :
وعن أبي حنيفة -رحمه الله- أنه قال: من السنّة أن تفضِّلَ الشيخين، وتحب الخَتَنين، وترى المسحَ على الخفين، ولم تنسَ الله طرفة عين.[12]
’’حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا
کہ تفضیل شیخین ، محبت ختنین ، مسح علی الخفین
اور اہل سنت و جماعت کی یہ بھی پہچان ہے کہ وہ اپنے رب سے ایک لمحہ کے لیے
بھی غافل نہ ہو ں‘‘
امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا :
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّد بْن جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي يَقُولُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْعُودٍ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ، نا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ قَالَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ رُسْتُمَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عِصْمَةَ يَقُولُ: سَأَلْتُ أَبَا حَنِيفَةَ مَنْ أَهْلُ الْجَمَاعَةِ؟ قَالَ: مَنْ فَضَّلَ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَأَحَبَّ عَلِيًّا، وَعُثْمَانَ وَآمَنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ مِنَ اللَّهِ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَلَمْ يُكَفِّرْ مُؤْمِنًا بِذَنْبٍ وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِي اللَّهِ بِشَيْءٍ.[13]
’’حضرت امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
ہم کو خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے انہوں نے فرمایا کہ میں نے سنا ابو بکر محمد بن
جعفر مزکی سے، وہ کہتے ہیں کہ ہم کو خبر دی ابو عباس احمد بن سعید بن مسعود مروزی
نے، انہوں نے کہا کہ ہم کو خبر دی سعد بن معاذ نے، انہوں نے فرمایا کہ ہم کو خبر
دی ابراہیم بن رستم نے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے سنا ابو عصمہ سے، وہ کہتے ہیں
کہ میں نے سوال کیا حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے کہ اہل سنت کون ہے
:
امام اعظم رحمۃ
اللہ علیہ نے فرمایا کہ جس نے حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنھما کو افضل جانا ،
حضرت عثمان و علی رضی اللہ عنھما سے محبت کی ،اچھی و بری تقدیر کے اللہ کی جانب سے
ہونے پر ایمان لایا ، جرابوں پر مسح کیا ، کسی چھوٹے یا بڑے گناہ کے سبب کسی مومن
کو کافر نہ جانا اور نہ اللہ کی ذات کے بارے میں بحث و مباحثہ کیا وہ اہل سنت و
جماعت ہے۔‘‘
حافظ ابن عبد
البر صاحب ’’الانتقاء في فضائل الثلاثۃ الأئمۃ الفقهاء‘‘ نے اسی مفہوم کو یوں بیان کیا ہے :
قَالَ أَبُو يَعْقُوبَ نَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَافِظُ قَالَ نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامَة قَالَ نَا عَلِيُّ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي عصمَة نوح ابْن أَبِي مَرْيَمَ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا حَنِيفَةَ فَقُلْتُ: من أهل الْجَمَاعَة ؟قَالَ الذى لاينظر فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلا يُكَفِّرُ أَحَدًا بُذَنَبٍ وَيُقَدِّمُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَيَتَوَلَّى عَلِيًّا وَعُثْمَانَ وَلا يُحَرِّمُ نَبِيذَ الْجَرِّ وَيَمْسَحُ عَلى الْخُفَّيْنِ ۔۔۔خَلَفُ بْنُ يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ أَبِي حَنِيفَةَ يَقُولُ سَمِعت ابا حنيفَة يَقُول: الْجَمَاعَة ان فضل أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعَلِيًّا وَعُثْمَانَ وَلا تَنْتَقِصَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَلا تُكَفِّرَ النَّاسَ بِالذُّنُوبِ وَتُصَلِّيَ على من يَقُول لَا إِلَهَ إِلا اللَّهُ.[14]
’’ابو یعقوب نے کہا ہم کو احمد
بن الحسن الحافظ نے خبر دی ،انہوں نے کہا کہ ہم کو خبر دی محمد بن الفضل بن العباس
نے ، انہوں نے کہا کہ ہم کو محمد بن سلامہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہم کو علی ابن
حبیب نے خبر دی، انہوں نے ابو عصمہ نوح ابن ابی مریم کی روایت سے بیان کیا کہ انہوں
نے کہاکہ میں نے ابوحنیفہ سے پوچھا کہ اہل سنت و جماعت کون لوگ ہیں؟ تو آپ نے فرمایا:
وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی ذات میں بحث نہ کرے ،
کسی گناہ گار کی گناہ کی وجہ سے تکفیر نہ کرے ، حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما
کو مقدم جانے، حضرت علی اور عثمان رضی اللہ عنہما کا احترام کرے، گھڑے کے نبیذ کو
حرام نہ جانے اورجو جرابوں پر مسح کرے وہ اہل سنت و جماعت ہے۔۔۔خلف بن یحییٰ نے کہا کہ میں نے حماد بن ابی
حنیفہ کو سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو حنیفہ کو کہتے ہوئے سنا کہ اہل سنت و
جماعت وہ ہے جو ابوبکر، عمر، علی اور عثمان رضی اللہ عنہم کی فضیلت کو تسلیم کرے ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کی تنقیص نہ
کرے ،گناہ کے سبب کسی کی تکفیر نہ کرے اورہر کلمہ گو کی نماز جنازہ اداکرے ۔‘‘
علامہ ابن ابو العز حنفی اپنی
کتاب ’’شرح العقیدۃ الطحاویہ ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
أَهْلُ الْبِدَعِ يُكَفِّرُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَأَهْلُ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ يُخَطِّئُونَ وَلَا يُكَفِّرُونَ.[15]
’’اہل بدعت آپس میں ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں
جب کہ اہل سنت و جماعت (آپس میں کسی مسئلہ میں اختلاف کی صورت میں ایک دوسرے کو)
خطاوار تو ٹھہراتے ہیں تکفیر نہیں کرتے۔‘‘
علامہ
ابن ابو العز حنفی ایک
دوسرے مقام پہ لکھتے ہیں :
فَمِنْ عُيُوبِ أَهْلِ الْبِدَعِ تَكْفِيرُ بَعْضِهِمْ بَعْضًا، وَمِنْ مَمَادِحِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُمْ يُخَطِّئُونَ وَلَا يُكَفِّرُونَ.[16]
’’اہل بدعت کے
عیوب سے یہ ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں اور اہل علم کی خوبیوں
سے یہ ہے کہ وہ (آپس میں کسی مسئلہ میں اختلاف کی صورت میں ایک دوسرے کو) خطاوار
تو ٹھہراتے ہیں تکفیر نہیں کرتے ـ‘‘
ان مستند
علمائے کرام کے ارشادات سےواضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ اہل سنت اور
اہل بدعت میں کیا فرق ہے ، ان تعلیمات کی روشنی میں اہل فہم کے لیے بہت آسان ہو
جاتا ہے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ وہ اپنے اعمال اور اپنی روش کی بنیاد پر اہل سنت
میں سے ہیں یا اہل بدعت میں سے۔
[1] البحر الرائق (8/ 207)
[2] لالكائی/ شرح اصول اعتقاد اهل السنۃ والجماعۃ،
اعتقاد سهل بن عبد الله تستری(متوفى: 418ھ)(۳۲۴)
[3] بہار شریعت ،حصہ سوم،جماعت کے مسائل،(ج:ا،ص:۵۸۲)
[4] الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص77)
[5] شرح العقيدة الطحاويہ - ت الأرناؤوط،الصلاة خلف المبتدع
والفاسق،(۲/۵۳۳)
[6] مخطوطہ مجمع السلوک، رضا لائبریری ،رام پور،ورق نمبر:۲۹۷
[7] مجمع السلوک (۲/۳۵۷)
[8] مختصر الحجۃ علی تارک
المحجۃ،(ص:۴۵۶)
[9] شیخ
عبدالقادر جیلانی/فتوح الغیب ، مقالہ نمبر:۷۸
[10] ملا جیون/ تفسیرات احمدیہ، سورۃ الانعام (ص:۳۸۲)
[11]محمد
عبد الحق ابن شاه ہندی حنفی/ الاکلیل علی مدارک التنزیل، سورة الانعام الآيۃ : 153
(ص:266)
[12] خزانۃ المفتين، قسم العبادات (265) بترقيم الشاملۃ آليا)
[13] الاعتقاد للبيهقی، (162)
[14] ابن عبد البر /الانتقاء في فضائل الثلاثۃ الائمۃ الفقهاء، ذكر طرف من فطنۃ
ابی حنيفہ( 163)
[15]أبو العز الحنفي،/شرح العقيدة الطحاويۃ - (2/ 439)
[16]أبو العز الحنفي،/شرح العقيدة الطحاويۃ - (2/ 439)

ما شاء اللّٰہ
ReplyDeleteبہت خوب