الزام تراشی کی صورت میں فیصلے کا شرعی طریقہ
الزام تراشی کی صورت
میں فیصلے
کا شرعی طریقہ
شریعت میں دعوی اور حق کو ثابت کرنے کےلیے یہ ضابطہ ہے کہ مدعی یعنی دعوی کرنے والے کے ذمہ اپنے دعوی کو
گواہی کے ذریعہ ثابت کرنا بھی ضروری ہے، اگر مدعی کے پاس گواہ نہ ہوں تو مدعیٰ
علیہ یعنی جس پر دعوی کیا جائے اس پر قسم لازم ہے ، اور اگر وہ قسم کھالے تو اس کی
بات معتبر ہوگی، لہذ ا کسی شخص کو محض الزام لگاکر اس کے جرم کے ثابت ہوئے
بغیر سزا دینا شرعاً جائز نہیں ہے،اگر سزا نافذ نہ کی گئی ہو تو سچی توبہ اور
صاحبِ حق سے زبانی معافی کافی ہوگی اور اگر سزا نافذ بھی کردی گئی اور اس سے مالی
نقصان اٹھانا پڑا ہو تو صدقِ دل سے توبہ اور زبانی معافی کے ساتھ مالی تاوان بھی
ادا کرنا ہوگا۔
صاحب’’مرقاۃ المفاتیح ‘‘ علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ تحریر
کرتے ہیں:
عن ابن عباس مرفوعاً: لكن البينة على المدعي واليمين على من أنكر۔ قال النووي: هذا الحديث قاعدة شريفة كلية من قواعد أحكام الشرع، ففيه: أنه لا يقبل قول الإنسان فيما يدعيه بمجرد دعواه، بل يحتاج إلى بينة، أو تصديق المدعى عليه.[1]
’’حضرت ابن
عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت ہے: ’’کہ مدعی پر دلیل اور انکار کرنے والے پر
قسم لازم ہے‘‘ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:یہ حدیث شریف احکام شرع کے
قواعد و اصول میں سے ایک عظیم قاعدہ کلیہ ہے، اس اصول کی بنیاد پر کسی انسان کا
کوئی ایسا دعویٰ جو بلا دلیل ہو قبول نہیں کیا جائے گا جب تک کہ وہ اپنے دعویٰ پر
دلیل پیش نہ کرے یا جس پر دعویٰ کیا گیا ہے وہ بذات خود اس دعوے کی تصدیق نہ کر دے
۔ ‘‘
بنیادی طور
پر کوئی بھی مسلمان جب تک وہ علانیہ طور پر دین پر عمل پیرا ہو تو اسے مسلمان ہی
سمجھا جائے گا، یہاں تک کہ شرعی دلائل کی رو سے قطعیت اور بداہت کے ساتھ اس کا
دائرہ اسلام سے خارج ہونا ثابت ہو جائے۔اسی طرح جب تک کسی سنی سے عقائد اہل سنت یعنی ضروریات اہل سنت کے انکار کا اقرار یا قطعی و بدیہی ثبوت نہ ہو اس وقت تک اس کو بھی سنی ہی کہا جائے گا، گمراہ یا بد عقیدہ کہنا
ہرگز جائز نہیں بلکہ سخت حرام ہے۔

Comments
Post a Comment