نیکوں کے پیروکار ہی ان کی آل ہیں
نیکوں کے پیروکار ہی ان کی آل ہیں
شیخ طریقت سے سوال کیا گیا کہ کن لوگوں سے محبت رکھنی چاہیے اور کن لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے، فرمایا کہ صالحین وصادقین کی صحبت اختیار کرنی چاہیے کہ اللہ نے فرمایا: کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ۔ اور انھیں سے محبت رکھنی چاہیے، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو محبت کے لائق ہیں اور انھیں کی محبت نجات تک لے جانے والی ہے۔اور ان ہی نیک بندوں کی اتباع بھی کرنی چاہیے، جو رات دن اپنے مولیٰ کی طرف لو لگائے ہوئے ہیں اور اسی کی طرف متوجہ ہیں:وَاتَّبِع سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ۔(سورۂ لقمان،۱۵)کیوں کہ جو جس جماعت کی پیروی کرے گا وہ اسی جماعت اور گروہ میں شمار کیا جائے گا اور جو جس کی صحبت اختیار کرے گا ویسا ہی ہوگااور کل قیامت میں اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا :مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ۔(ابوداؤد)
لیکن ہم اپنے کاروبار میں ،دنیا کے حصول میں اور طلب جاہ و منصب میں اس قدر مصروف ہیں کہ نہ حق کی طرف جانے کا شوق ہے اورنہ حق کو جاننے کی خواہش اور نہ صادقین کے پاس اٹھنے بیٹھنے اور ان کی صحبت اختیار کرنے کا جذبہ ،لیکن دنیاداروں کے پاس جانے اور ان کی صحبت میں وقت گزار نے کے لیے خوب فرصت ہے ،جبکہ اللہ نے فرمایا :لَاتُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہُ عَنْ ذِکْرِنَاواتَّبَعَ ھَوَاہُ وَکَاْنَ أمْرُہ فُرُطَا۔(سورۂ کہف،۸۲) یعنی ان کی بات نہ مانو ،ان کے پاس مت جاو جن کے دل کو ہم نے اپنے یاد سے پھیر دیا ہے اور جواپنی خواہشات میں پڑے رہتے ہیں، خرافات وفضولیات میں لگے رہتے ہیں ،ان کا انجام کارہلاکت ہے ،جب دیکھو طلب دنیا اورطلب جاہ کی باتیں کرتے ہیں ،کسی نہ کسی کی غیبت میں لگے رہتے ہیں ،خود بھی تباہ ہوتے ہیں دوسروں کو بھی تباہ کرتے ہیں ۔اللہ کا حکم ہے: قُوْ أَنْفُسَکُمْ وَ أَھْلیِکُمْ نَارًا۔(سورۂ تحریم،۶)یعنی بچاؤ اپنے آپ کواور اپنے اہل عیال کو جہنم کی آگ سے ۔
ہم سب کو اس پر عمل کرنا چاہئے ،ہم سب ایک دوسرے کی آل ہیں جو جس سے رشتہ رکھے گا ،جو جس سے محبت کرے گا وہی تو اس کی آل ہوگا ۔جو رشتہ نہ رکھے،جوتقوی اور بھلائی میں مدد نہ کرے اور خیر و ہدایت میں پیروی نہ کرے وہ کیسی آل ؟
حضرت نوح علیہ السلام نے جب اپنے بیٹے کے لیے اللہ سے دعا کی کہ: رَبِّ إِنَّ ابُنِیْ مِنْ أَہْلِیْ وَإِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ مولیٰ میرابیٹامیری آل سے ہے،اورتیراوعدہ حق ہے یعنی میری آل کونجات عطا کر، تو اللہ نے فرمایا ـ : یَا نُوحُ اِنَّہُ لَیْسَ مِنْ أَہْلِکَ اِنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُ صَا لِحٍ۔(سورۂ ہود،۴۶)یعنی اے نوح! تیرابیٹاتیری آل نہیں،کیوں کہ اس کا عمل اچھا نہیں ،بھلا وہ تیری آل سے کیسے ہوگا، وہ اچھائی میں تم سے رشتہ نہیں رکھتا ،نیکی اور ہدایت میں تیری پیروی نہیں کرتا،وہ تیری آل سے نہیں ہے ۔
معلوم ہوا کہ جو جس کی پیروی نہیں کرے گا وہ اس کی آل میں نہیں شمار کیا جائے گا،اگرچہ وہ اولاد نانی (یعنی نسبی و صلبی اولاد) ہو اور جو جس کی پیروی کرے گا وہ اس کی آل میں شمار کیا جائے گا، اگرچہ وہ اس کی اولاد نانی نہ ہو لیکن اولاد جانی (یعنی نسبتی اور روحانی اولاد)تو ہے ۔
اللہ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم خود بھی آخرت کے عذاب سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں اور صادقین کی صحبت اختیار کریں اور ان ہی سے محبت رکھیں۔آمین۔

Ameen!
ReplyDelete