محلے کی مسجد میں دوسری جماعت قائم کرنا کیسا ہے؟
محلے کی مسجد میں دوسری جماعت قائم کرنا کیسا ہے؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک گاؤں ہے جس میں ساٹھ سے ستر گھر مسلمانوں کی آبادی ہے، سارے لوگ ایک ساتھ نماز پڑھتے ہیں، زید جو ایک سنی عالم دین ہے اس گاؤں کے لوگوں نے بحیثیت امام و خطیب زید کو پہلے سے مقرر کر رکھا ہے ،لیکن بکر اس گاؤں کے ہی رہنے والے ہیں وہ بھی ایک سنی عالم ہیں جو نماز باجماعت کے پہلے سے بھی پابند نہیں رہے ہیں لیکن وہ پہلے زید کی اقتدا میں کبھی کبھی نماز ادا کرتے تھے اب بکر کو زید سے کسی بنا پر نااتفاقی ہوگئی ہے اور انہوں نے چند دنوں سے اسی مسجد میں دو چار لوگوں کے ساتھ اپنی الگ جماعت قائم کر نی شروع کردی ہے جس سے گاؤ ں کے سنی مسلمان پریشان ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بکر نے الگ جماعت قائم کرکے غلط کیا ہے اس طرح ہمارا گاؤں دو حصے میں بٹ جائے گا ۔اس بارے میں مقتدر علمائے اہل سنت کا کیا موقف ہے مدلل جواب سے آگاہ فرمائیں ۔
المستفتی:طالب رضا علیمی منظری
مقصود پور اورائ ،مظفرپور ،بہار
۱۵ ؍ستمبر ۲۰۲۳ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جواب: نماز اسلام کے ارکان میں سے ہے، اس کی فرضیت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی کا حکم دیا ہے اور انفرادی نماز کے مقابلے میں باجماعت نماز کو افضل قرار دیا ہے، بلاعذر شرعی جماعت چھوڑنا گناہ ہے اور جماعت توڑنا اس سے بھی بڑا گنا ہ ہے ،احادیثِ مبارکہ میں ترکِ جماعت پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَاةَ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَّ عِشْرِیْنَ دَرَجَۃً .
’’با جماعت نماز تنہا نمازسے ستائیس گنا افضل ہے۔‘‘
صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم باجماعت نماز ادا کرنے کا بہت زیادہ اہتمام کرتے تھے ۔
حضرت ابو دردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ، وَلَا بَدْوٍ، لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ،قَالَ السَّائِبُ: يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِ: الْجَمَاعَةَ فِي الصَّلَاةِ.( )
’’ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسولِ کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نےارشاد فرمایا کہ جس وقت کسی بستی یا جنگل میں تین افراد ہوں اور وہ نماز کی جماعت نہ کریں تو سمجھ لو کہ ان لوگوں پر شیطان نے غلبہ حاصل کر لیا ہے ، اس لیے تم لوگ اپنے اوپر جماعت سے نماز لازم کرلو ، کیوں کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جوبکری اپنے ریوڑ سے علیحدہ ہوجاتی ہے، حضرت سائب نے فرمایا کہ ریوڑ سے مراد جماعت ہے ۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ اتِّبَاعِهِ عُذْرٌ، قَالُوا: وَمَا الْعُذْرُ؟ قَالَ: خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ، لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّى.( )
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مؤذن کی آواز سنے اور کسی عذر کے نہ ہونے کے باوجود مسجد کو نہ جائے گھر میں ہی نماز پڑھ لے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوگی۔صحابہ نے پوچھا: عذر کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: خوف یعنی دشمن کاڈر یا مرض۔
ترک جماعت پر فقہا ئے اہل سنت کے اقوال
فقہائے اہل سنت کے نزدیک نماز باجماعت ادا کرنا سنت مؤکدہ ، واجب کے قریب ہے اس وجہ سے جماعت چھوڑنے کی عادت بنانے والا گناہ گار ہوگا اور اس کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی ، بلکہ جو تارک جماعت کو نصیحت نہ کرے وہ بھی گناہ گار ہو گا۔جماعت چھوڑنے والے کے سلسلے میں صاحب ’’بہار شریعت ‘‘ علامہ محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
’’عاقل ،بالغ،حر،قادرپر جماعت واجب ہے،بلا عذر ایک بار بھی چھوڑنے والا گنہگار اور مستحق سزا ہے اور کئی بار ترک کرے ،تو فاسق مردود الشہادۃ اور اس کو سخت سزا دی جائے گی ، اگر پڑوسیوں نے سکوت کیا تو وہ بھی گنہگارہوئے۔‘‘ ( )
حلبي کبیر ‘‘ : قال في شرح المنیۃ : وکذا الأحکام تدل علی الوجوب من أن تارکہا من غیر عذر یعزر ، وترد شہادتہ، ویأثم الجیران بالسکوت عنہ ، وہذہ کلہا أحکام الواجب. ( )
ہر مسلمان مرد پر ضروری ہے کہ وہ مساجد میں جاکر باجماعت نماز ادا کرنے کا اہتمام کرے، اور اس بارے میں قطعاً سستی اور غفلت سے کام نہ لے اور اگر کسی دوسرے مسلمان کو اس حوالے سے غفلت میں دیکھے تو بہت ہی حکمت اور نرمی کے ساتھ خیرخواہی کے جذبے سے نصیحت کرے۔
جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا حکماً واجب ہے، بلا عذر مرد کا گھر میں نماز پڑھنے کی عادت بنا لینا گناہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت ترک کرنے والوں کے متعلق شدید وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں، بہت سی روایات میں یہ مضمون وارد ہے کہ اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو میں اپنے جوانوں کو لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دیتا اور کسی کو نماز قائم کرنے کا حکم دیتا اور خود ان لوگوں کے گھروں کو جاکر آگ لگادیتا جو جماعت میں نہیں آتے۔ مرد کے لیے بلاعذر گھر میں نماز کا معمول بنانا گناہ ہے، مسجد میں ہی جماعت سے نماز ادا کرنا چاہیے، البتہ اگر کبھی عذر کی وجہ سے جماعت رہ جائے یا جماعت چھوٹنے کا قابلِ قبول عذر (جیسے چلنے سے معذور ہو ، یا بیمار کی تیمار داری وغیرہ) ہو تو گھر میں نماز پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
جماعت کی اہمیت فقہائے اہل سنت کی نظر میں
فقہائے کرام نے یہاں تک فرمایا ہے :
ا گر کوئی نمازی پہلی رکعت میں ہے اور جماعت شروع ہو ئی ، توکھڑے کھڑے ایک سلام کے ساتھ نماز توڑ دے اور جماعت میں شامل ہوجائے،اگر پہلی رکعت کا سجدہ کر لیا اور جماعت شروع ہوئی تو فجر اور مغرب میں سجدوں کے بعدایک سلام کے ساتھ نماز توڑ دے اور جماعت میں شامل ہو جائے ، ظہر، عصر اور عشاء میں دو رکعتیں مکمل کر کےجماعت میں شامل ہو جائے ،اگر دوسری رکعت کا سجدہ کر لیا اور جماعت شروع ہو ئی توفجر اور مغرب میں نماز مکمل کرے اور جماعت میں شامل نہ ہو اور ظہر، عصر اور عشاء میں دو رکعتیں مکمل کر کےجماعت میں شامل ہو ،اگر تیسری رکعت میں ہے اور جماعت کھڑی ہو ئی ، تو ظہر ، عصر اور عشاء میں کھڑے کھڑے ایک سلام کے ساتھ نماز توڑ دے اور جماعت میں شامل ہو اور مغرب میں نماز پوری پڑھے اور جماعت میں شامل نہ ہواوراگر تیسری رکعت کا سجدہ کر لیااور جماعت شروع ہوئی تو ظہراور عشاء میں چار رکعتیں مکمل کر کے نفل کی نیت سے جماعت میں شامل ہو اور عصر میں چار رکعتیں مکمل کرے اور جماعت میں شامل نہ ہو کہ عصر کے بعد نفل جائز نہیں۔
رد المحتار میں ہے:
شَرَعَ فِي فَرْضٍ فَأُقِيمَ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ لِلْأُولَى قَطَعَ وَاقْتَدَى، فَإِنْ سَجَدَ لَهَا، فَإِنْ فِي رُبَاعِيٍّ أَتَمَّ شَفْعًا وَاقْتَدَى مَا لَمْ يَسْجُدْ لِلثَّالِثَةِ، فَإِنْ سَجَدَ أَتَمَّ وَاقْتَدَى مُتَنَفِّلًا إلَّا فِي الْعَصْرِ، وَإِنْ فِي غَيْرِ رُبَاعِيٍّ قَطَعَ وَاقْتَدَى مَا لَمْ يَسْجُدْ لِلثَّانِيَةِ، فَإِنْ سَجَدَ لَهَا أَتَمَّ وَلَمْ يَقْتَدِ.( )
’’اگر تنہا فرض نماز شروع کی اور پہلی رکعت کا سجدہ کرنے سے پہلے جماعت کھڑی ہو گئی تو نماز توڑ دے اور جماعت میں شامل ہو جائے ۔اگر پہلی رکعت کا سجدہ کر لیا اور وہ چار رکعات والی نماز ہےیعنی ظہر ،عصراور عشاءتو دو رکعتیں مکمل کرے اور پھر جماعت میں شامل ہو جب تک تیسری کا سجدہ نہ کر لے۔ اگر تیسری کا سجدہ کر لیا تو چار رکعات مکمل کرے اور سوائے عصر کےنفل کی نیت سے جماعت میں شامل ہو، اور اگر وہ چار رکعات نماز نہ ہو یعنی فجر یا مغرب ہو تو جب تک دوسری رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو ،نماز توڑ دے اور اگر دوسری کا سجدہ کر لیاتو وہی نماز مکمل کرے اور جماعت میں شامل نہ ہو۔ ‘‘
مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے:
إذا شرع في فرض منفردا فأقيمت الجماعة قطع واقتدى إن لم يسجد لما شرع فيه أو سجد في غير رباعية وإن سجد في رباعية ضم ركعة ثانية وسلم لتصير الركعتان له نافلة ثم اقتدى مفترضا، وإن صلى ثلاثا أتمها ثم افتدى متنقلا إلا في العصر، وإن قام لثالثة فأقيمت قبل سجوده قطع قائما بتسليمة.( )
’’اگر کسی شخص نے تنہا فرض شروع کیا اور جماعت کھڑی ہو گئی تو صحیح قول کے مطابق اگرشروع کی ہوئی رکعت کا سجدہ نہیں کیا توکھڑے کھڑےایک سلام کے ساتھ نماز توڑ دےیا چار کے علاوہ رکعتوں والی نمازیعنی فجر یا مغرب میں پہلی رکعت کا سجدہ کر لیا تو سجدوں کے بعد ایک سلام کے ساتھ نماز توڑ دے اور اقتداء کرےاور اگر چار رکعتوں والی نماز میں پہلی رکعت کا سجدہ کر لیا تو دوسری رکعت اور تشہد ساتھ ملائے اور سلام پھیر دے تاکہ وہ دو رکعتیں نفل ہو جائیں پھر فرض نماز کی اقتداء کرے اور اگر چار رکعتوں والی نماز میں سے تین رکعتیں پڑھ چکا تھا کہ جماعت قائم ہوگئی تو اس نماز کو مکمل کرے اور پھر سوائے عصر کے نفل کی نیت سے اقتداء کرے اور اگر چار رکعتوں والی منفردنماز میں تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوا ،اوراس کے سجدے میں جانے سے پہلے جماعت کھڑی ہو گئی تو کھڑے کھڑےایک سلام کے ساتھ نماز توڑ دے ۔
بہار شریعت میں مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
”تنہا فرض نماز شروع ہی کی تھی یعنی ابھی پہلی رکعت کا سجدہ نہ کیا تھا کہ جماعت قائم ہوگئی ، تو توڑکر جماعت میں شامل ہو جائے۔فجر یا مغرب کی نماز ایک رکعت پڑھ چکا تھا کہ جماعت قائم ہوئی تو فوراً نماز توڑ کر جماعت میں شامل ہوجائے اگرچہ دوسری رکعت پڑھ رہا ہو، البتہ دوسری رکعت کا سجدہ کر لیا تو اب ان دو نمازوں میں توڑنے کی اجازت نہیں اور نمازپوری کرنے کے بعد بہ نیت نفل بھی ان میں شریک نہیں ہو سکتا کہ فجر کے بعد نفل جائز نہیں اور مغرب میں اس وجہ سے کہ تین رکعتیں نفل کی نہیں۔“( )
بہار شریعت میں دوسرے مقام پر ہے:
”چار رکعت والی نماز شروع کر کے ایک رکعت پڑھ لی یعنی پہلی رکعت کا سجدہ کر لیا تو واجب ہے کہ ایک اور پڑھ کر توڑ دے کہ یہ دو رکعتیں نفل ہو جائیں اور دو پڑھ لی ہیں تو ابھی توڑ دے یعنی تشہد پڑھ کر سلام پھیر دے اور تین پڑھ لی ہیں تو واجب ہے کہ نہ توڑے، توڑے گا تو گنہگار ہو گا بلکہ حکم یہ ہے کہ پوری کر کے نفل کی نیت سے جماعت میں شامل ہو جماعت کا ثواب پالے گا، مگر عصر میں شامل نہیں ہو سکتا کہ عصر کے بعد نفل جائز نہیں۔“ ( )
صاحب بہار شریعت ایک اور مقام پر یوں تحریر کرتے ہیں :
”نماز توڑنے کے ليے بیٹھنے کی حاجت نہیں کھڑا کھڑا ایک طرف سلام پھیر کر توڑ دے۔“( )
علمائے اہل سنت کے ان تمام ارشادات سے واضح ہوجاتا ہے کہ جماعت کی اسلام میں بڑی اہمیت ہے ورنہ نماز توڑ کر جماعت میں شامل ہونے کا حکم نہیں ہوتا، جب کہ ہم اپنے معاشرے میں بالخصوص گاؤں دیہات کی مساجد میں دیکھتے ہیں کہ جماعت ہوتی رہتی ہے اور امام سے معمولی معمولی باتوں پر نااتفاقی رکھنے والے نمازی جس میں عالم و جاہل اور عوام و خواص شمار ہونے والے بھی مل جاتے ہیں کہ عین جماعت کے وقت ہی اسی مسجد میں الگ اپنی نماز ادا کرنے لگتے ہیں جو ہرگز جائز نہیں اور بلا شبہ یہ روش اہل سنت وجماعت کی روش نہیں ہے بلکہ یہ تو اہل بدعت کا طریقہ ہے اور بھلا ایسا کیوں کر جائز ہوسکتا ہے جب کہ امت مسلمہ کے وحدت کا مظاہرہ جماعت سے ہوتا ہے، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہے ، الگ الگ جماعت کرنے میں افتراق کا خوف اور انتشار کا ڈر لاحق ہے جو مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے کافی ہے ۔
ترک جماعت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ: أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا، أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لشهد العشاء.( )
’’اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ لکڑیاں جمع کیے جانے کا حکم دوں ، پھر اذان کے لیے کہوں ، پھر کسی کو حکم دوں کہ وہ نماز پڑھائے، پھر نماز کے لیے مسجد نہ آنے والوں کے گھروں تک جاؤں اور ان لوگوں کے گھروں میں موجود رہتے ہوئے ان میں آگ لگا دوں ۔‘‘
اگر مسجد میں ایک نماز کی دو جماعت کی اجازت ہوتی تو جماعت اولیٰ سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ اتنا سخت انداز نہ اختیار فرماتے،اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی جماعت میں شریک ہونا ضروری ہے کیونکہ اگردوسری جماعت بلاکراہت جائز ہوتی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھنے پراتنی سختی کا اظہار نہ فرماتے۔
ایک روایت حضرت ابو بکر ہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ مدینہ کے مضافات میں تشریف لے گئے،واپس آئے تو دیکھا کہ لوگ نماز سے فارغ ہوگئے ہیں ، آپ اپنے گھر میں تشریف لے گئے اور وہاں گھر والوں کے ساتھ نماز ادا کی۔
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ نَوَاحِي الْمَدِينَةِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ، فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا، فَمَالَ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَجَمَعَ أَهْلَهَ، فَصَلَّى بِهِمْ.( )
فقہائے کرام نے محلے کی مسجد کے بارے میں یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر مسجد میں ایک نماز کے لیے کئی جماعتوں کو جائز قرار دیا جائے تو اس سے لوگوں میں سستی پیدا ہوجائے گی، وہ پہلی جماعت میں شرکت کے لیے جلدی پہنچنے کی کوشش نہیں کریں گے۔
دوسری جماعت کے ممنوع ہونے پرعقلی دلیل:
اگرگاؤں محلے کی مساجد میں دوسری جماعت کی اجازت دے دی جائے تواس سے پہلی جماعت کی تقلیل لازم آئے گی اورپہلی جماعت کی تقلیل عندالشرع ایک مکروہ امرہے اورضابطہ ہے کہ جوچیزامرمکروہ کا سبب بنتی ہے وہ بھی مکروہ ہوتی ہے، اس لیے دوسری جماعت جوجماعت اولیٰ کی تقلیل کا سبب ہے وہ بھی مکروہ ہوگی،اوراگرجماعت ثانیہ کی اجازت دےدی جائے توجماعت ثالثہ اورجماعت رابعہ کی ممانعت کی بھی کوئی دلیل نہ ہوگی اوریوں سلسلہ غیرمتناہی حدتک چل پڑے گااورجماعت کا صرف نام رہ جائے گااجتماعیت ختم اورانفرادیت پیداہوجائے گی جبکہ شریعت میں اجتماعیت مطلوب ہے،اگرجماعت ثانیہ کی اجازت دیدی جائے توجن نمازوں کے بعد سنن اورنوافل ہیں ان میں مشغول ہونے میں خلل لازم آئے گا کیونکہ جب جہری نمازمیں امام تکبیرات اورقراءت کرے گا تولازمی امر ہے کہ اس سے باقی نمازپڑھنے والے حضرات کی نمازمیں خلل پیداہوگااورکسی کی نمازمیں شرعا وعقلاخلل اندازی اورتشویش پیداکرنا جائز نہیں ہے اس لیے دوسری جماعت کے جواز کی ہرگزگنجائش نہیں۔
حالت جنگ میں نماز باجماعت کا اہتمام
اگر کسی مسجد میں امام معین ہے اور وہ اہل سنت کے طریقے پر نماز پڑھاتا ہے جس کی نماز میں ازروئے شرع کوئی کراہت نہیں اور نہ وہ ایسا ہے کہ جس کی امامت سے نماز میں فساد لازم آتا ہو تو اس کی جماعت اول ہوگی اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا ضروری ہوگا، اب اگر اسی مسجد میں ایک ہی وقت میں ایک فرض کی نماز کی دوسری جماعت بغیر کسی عذر شرعی کےقائم کی گئی تو یہ ناجائز وممنوع ہے کیوں کہ اس میں تفریق لازم آتی ہے جو فعل سخت مزموم ہے۔اسلام میں شدید مجبوری کی حالت میں بھی تفریق جماعت کی اجازت نہیں ہے، کیا جنگ کے موقع پر نماز اداکرنے کے طریقے پر آپ نے غور نہیں کیا؟
امام اپنے لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کرے، پھر لشکر کا ایک حصہ امام کی اقتدا میں ہو اور دوسرا حصہ دشمنوں کے سامنےجب پہلا حصہ امام کی اقتدا میں دو رکعت والی نماز ہونے کی صورت میں پہلی رکعت پڑھ لےیعنی سجدے تک پہنچ جائے اور دو سے زیادہ رکعت والی نماز ہونے کی صورت میں شروع کی دو رکعتیں پڑھےیعنی قعدۂ اولی کے تشہد تک ؛ پھر یہ پہلا حصہ دشمن کے سامنے چلا جائے اور دوسرا حصہ امام کے پیچھے مسبوق بن کر اقتدا کرے۔ دوسرا حصہ امام کی نماز مکمل ہونے پر امام کے ساتھ سلام نہ پھیرے بلکہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد دشمن کے سامنے چلا جائے اور پہلا حصہ نماز کی جگہ لوٹ آئے اور لاحق کی حیثیت سے نماز مکمل کرے یعنی بقیہ نماز میں قراءت نہ کرے۔ پہلے حصے کے نماز مکمل کرنے کے بعد یہ حصہ دشمن کے سامنے جائے اور دوسرا حصہ نماز کی جگہ آکر مسبوق کی حیثیت سے نماز مکمل کرے۔
جب جنگ کے موقع پر تفریق جماعت سے بچنے کے لئے اس طرح کی مشکل صورت اختیار کی جاتی ہے تا کہ جماعت ایک ہی ہو حالانکہ وہ وقت انتہائی مشکل و پریشانی کا ہوتا ہے جب ایسے وقت میں بھی تفریق جماعت سے اجتناب کیا گیا تو پھر بلا عذر شرعی تفریق جماعت کیوں کر جائز ہوگی ؟اسی وجہ سے بلا عذر شرعی تفریق جماعت سخت ممنوع ہے۔
ہدایہ میں تحریر ہے:
ومن صلى ركعة من الظهر ثم أقيمت يصلي أخرى ’’ صيانة للمؤدي عن البطلان ‘‘ ثم يدخل مع القوم ‘‘ إحرازا لفضيلة الجماعة ‘‘وإن لم يقيد الأولى بالسجدة يقطع ويشرع مع الإمام هو الصحيح.( )
’’جس نے ظہر کی ایک رکعت پڑھ لی پھر ظہر کے لئے اقامت شروع ہوگئی تو نمازی ادا کی ہوئی نماز کو بطلان سے بچانے کے لئے دوسری رکعت بھی پڑھ لے پھر جماعت کی فضیلت کو پانے کے لئے جماعت میں شریک ہوجائے اور اگر نمازی پہلی رکعت کو سجدہ سے نہ ملایا ہو تو اسے توڑ کر امام کےساتھ نماز شروع کردے یہی صحیح ہے۔‘‘
جب فضیلت جماعت کو پانے کے لئے نماز توڑنے کا حکم دیا گیا ہے تو پھر دوسری جماعت بلا عذرشرعی محض بغض وعناد اور نااتفاقی کی وجہ سے کیوں کر جائز ہو سکتی ہے؟ کسی بھی آپسی اختلاف کی وجہ سے بغیر عذر شرعی کےایک ہی مسجد میں ایک ہی اذان سے دوامام کا الگ الگ جماعت قائم کرنا ہرگزجائز نہیں،جس مسجد میں پنج وقتہ نماز اپنے مقررہ اوقات پر ادا کی جاتی ہوں اور امام وموٴذن متعین ہوں اس میں دوسری جماعت کرنامکروہ ہے۔
ائمہ کرام میں سے اکثر کے نزدیک واجب ہے اور جن حضرات نے موکدہ کہا ہے تو ان کےنزدیک بھی تاکید میں شدت موجود ہے، اس لیے جماعت کا خاص اہتمام کرنا واجب ہے ، اس سلسلے میں صاحب در مختار نے یوں تحریر فرمایا ہے :
(والجماعة سنة مؤكدة للرجال) قال الزاهدي: أرادوا بالتأكيد الوجوب.( )
گاؤں کے لوگوں کو چاہیے کہ بکر سے بیٹھ کر بات کریں اور اس کو دوسری جماعت کے قیام سے منع کریں کیو ں کہ اسی میں مسلمانوں کا آپسی اتحاد و اتفاق اور یہی اللہ و رسول کو مطلوب اور اسی میں اہل سنت و جماعت کے عوام الناس کا دینی اور دنیوی فائدہ ہے،ہم اللہ تعالیٰ سے امید کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ تعالیٰ بکر گاؤں والوں کی بات مان جائے گا اور اپنی غلط روش سے باز آجائے گا اور دوسری جماعت قائم کرنا ترک کردے گا اور اہل سنت و جماعت کے اتحاد کو بحال رکھے گا، یقینا بکر نے جو روش اختیار کی ہے وہ اہل سنت و جماعت کی روش نہیں ہے ،اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا فرمائے، آمین ۔
فقہا ئے اہل سنت نے ایک ہی مسجد میں دوسری جماعت پر اسی لیے تفصیل کے ساتھ گفتگو فرمائی ہے تاکہ لوگ بلا ضرورت و بلا جواز شرعی اسے انتشار کا ذریعہ نہ بنائیں اور دانستہ فتنہ و تفریق بین المسلمین کا سبب نہ بنیں،گاؤں و محلے کی مسجد میں بیک وقت یا آگے پیچھے ایک سے زائد جماعت کرنا شرعاً مکروہ ہے،اگر چہ ہر ایک کی نماز ادا ہو جائے گی، جو لوگ کسی عذر کی وجہ سے جماعت ختم ہونے کے بعد مسجد پہنچتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ حضرات اس جگہ جہاں عام طور پر جماعت ہوتی ہے اس سے الگ ہٹ کر جماعت کریں ۔
مذکورہ تفصیلات سے واضح طور پر معلوم ہوگیا کہ بلا عذر نماز کی جماعت چھوڑنا گناہ ہے اور جماعت کو توڑنا اس سے بھی بڑا گناہ ہے، اسی لیے محققین علمائے اہل سنت نے فرمایا ہے :کہ اگر کسی مسجد کا امام بدعتی بھی ہو تو اس کی اقتدا میں نماز پڑھی جائے گی، جماعت ترک نہیں کی جائے گی اور نہ جمعہ کی نمازچھوڑی جائے گی اور نہ بدعتی امام کی وجہ سے اہل اسلام اور اہل قبلہ کی جماعت و اتحاد کو توڑا جائے گا ،بلکہ محققین نے تو یہاں تک واضح کردیا ہے کہ بدعتی امام کی امامت میں جماعت اور جمعہ ادا نہ کرنے اور جماعت مسلمین کو منتشر کرنے والا خودبدعتی اور گمراہ ہے، اس سلسلے میں علامہ صدر الدين محمدابن ابی العز الحنفی عقیدہ طحاویہ کی شرح کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں:
وَأَمَّا إِذَا كَانَ تَرْكُ الصَّلَاةِ خَلْفَهُ يُفَوِّتُ الْمَأْمُومَ الْجُمْعَةَ وَالْجَمَاعَةَ، فَهُنَا لَا يَتْرُكُ الصَّلَاةَ خَلْفَهُ إِلَّا مُبْتَدِعٌ مُخَالِفٌ لِلصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.( )
’’بدعتی کی اقتدا قبول نہ کرنے کی وجہ سے اگر جماعت اور جمعہ فوت ہوتاہے ،تو بدعتی کی امامت قبول کی جائے گی اور جو قبول نہ کرے وہ خود بدعتی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی روش کےخلاف جانے والا قرار دیا جائے گا۔
صاحب در مختار نے تو یہاں تک فرمادیا ہے کہ اگر کسی نے فاسق اور بدعتی کی اقتدا میں نماز ادا کر لی تو وہ جماعت کی فضیلت سے بھی محروم نہیں ہوگا ۔جب فضیلت میں بھی کمی نہ ہوگی تو نماز کیوں کر ادا نہ ہو گی ؟
وفي النهر عن المحيط: صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة.( )
ہاں کسی بدعتی کو امامت پر بحال کرنا فقہا ئے اہل سنت کے نزدیک منع ہے لیکن جو بدعتی امام پہلے سے ہی امامت پر فائز ہو اور اس کو بدلنے پر قدرت نہ ہو تو اس کی اقتدا میں جمعہ و جماعت کی نماز ادا کی جائے گی تاکہ مسلمانوں کی جمیعت اور وحدت بحال رہے ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
Comments
Post a Comment