صاحبان اعتدال سے گزارش
صاحبان اعتدال سے گزارش
ہمارے دور کے اہل انصاف ،ذی فہم،صاحب اعتدال
علما و مشائخ اپنی اپنی عزت و آبرو بچانے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں، کیا مجال کہ
یہ حضرات حق گوئی کی جرأت کا مظاہرہ کریں ،ان کی حکمت و مصلحت کا پہلو اتنا غالب
ہے کہ ان کے سامنے کسی مسلمان کو بلا تحقیق کافر و مشرک بنا دیا جاتا ہے اور یہ
علما و مشائخ خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں ،ان کو جتنی فکر اپنی عزت و آبرو کی ہے،
کا ش ان کو اسلامی اقدار و اصول اور کلمہ
طیبہ کی عظمت کا بھی اتنا ہی خیال ہوتا ؎
اے خاصۂ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے
آج لوگ صرف دنیا کی عزت و احترام کی طلب
میں اس قدر مگن ہیں کہ آخرت کے دائمی عذاب کی بھی پرواہ نہیں کرتے ،نہ اللہ کے
دین کے اقدار کی فکر اور نہ کلمہ طیبہ کی عظمت کا خیال اور نہ مسلمانوں کی آبرو
کی فکر بس کسی طریقے سے اپنے معاملات بہتر ہوجائیں ، اپنی اولاد کا مستقبل محفوظ
رہے ،نہ حق و صداقت کی فکر اور نہ قوم کے حال و مستقبل کا خیال ، دین اور دین کے
اصول مٹ جائیں تو مٹ جائیں لیکن مسلک و مشرب کی انا کسی طریقے سے باقی رکھنے کی
کوشش ہمہ جہت جاری و ساری ہے ۔
اللہ
تعالیٰ کا ارشاد ہے:
مَنْ كَانَ يُرِيْدُ ثَوَابَ الدُّنْيَا
فَعِنْدَ اللّٰهِ ثَوَابُ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَكَانَ اللّٰهُ سَمِيْعًاۢ
بَصِيْرًا . [النساء:۱۳۴]
’’جو کوئی دنیا کا انعام چاہتا ہے تو اللہ
کے پاس دنیا و آخرت (دونوں) کاانعام ہے، اور اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا
ہے۔‘‘
اُن پہلووں کی اصلاح پر زور دینے کے بعد جن
میں انسان اکثر ظلم و زیادتی اور افراط و تفریط کا شکار ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اِس
قسم کے چند پُر اثر جملوں میں ایک مختصر وعظ ضرور فرماتا ہے اور اس سے مقصُود یہ
ہوتا ہے کہ نفوس کو ان احکام کی پابندی پر آمادہ کیا جائے۔ اس آیت سے پہلے والی
آیتوں میں عورتوں اور یتیم بچوں کے ساتھ عدل و انصاف اور حسنِ سلوک کی ہدایت کی
گئی ہے، اس لیے اس کے فورا ًبعد اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو متوجہ کرتے ہوئے
فرمایا :’’جو شخص صرف دُنیاوی جاہ و حشم اور عزت و وقار کا طالب ہو اسے معلوم ہو
نا چاہیے کہ اللہ کےپاس دُنیا کی عزت بھی ہے اور آخرت کی عزت بھی ، اور اللہ سمیع
و بصیر ہے ۔
اس ارشاد میں قابل توجہ بات یہ ہے کہ اللہ
تعالیٰ کے پاس دنیا کے فائدے بھی ہیں اور آخرت کے فائدے بھی ، عارضی اور وقتی
فائدے بھی ہیں، پائیدار اور دائمی فائدے بھی۔ اب یہ تمہارے اپنے ظرف اور حوصلے اور
ہمت کی بات ہے کہ تم اُس سے کس قسم کے فائدے اور عزت و وقار چاہتے ہو۔ اگر تم محض
دنیا کے چند روزہ فائدوں اور عزتوں ہی پر اکتفا کرنا چاہتے ہو اور ان کی خاطر ابدی
زندگی کے فائدوں اور دائمی عزت و تکریم کو قربان کر دینے کے لیے تیار ہو تو اللہ یہ
سب تم کو یہیں دے دے گا، مگر پھر آخرت کے ابدی فائدوں میں تمہارا کوئی حصّہ نہ رہے
گا۔
اللہ کی رحمت تم کو
ابد تک سیراب کرنے کے لیے تیار ہے، مگر یہ تمہارے اپنے ظرف کی تنگی اور حوصلہ کی
پستی ہے کہ صرف ایک فصل کی سیرابی کو ابدی خشک سالی کی قیمت پر خریدتے ہو۔ کچھ ظرف
میں وسعت ہو تو اطاعت و بندگی اور سچائی و جرأت کا ، عدل و انصاف کا ،حق گوئی اور
بے باکی کا بھی راستہ اختیار کر و جس سے دُنیا اور آخرت دونوں کے فائدے تمہارے
حصّہ میں آئیں۔
آخر میں فرمایا اللہ سمیع و بصیر ہے۔ اس کا مطلب
یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پُوری با خبری کے ساتھ اپنی اِس کائنات پر حکم رانی کر رہا
ہے۔ ہر ایک کے ظرف اور حوصلے اور ہر ایک کے اوصاف کو اور نیتوں کو وہ جانتا ہے۔
اُسے خوب معلوم ہے کہ تم میں سے کون کس راہ میں اپنی محنتیں اور کوششیں صرف کر رہاہے۔
کون ہے جو اس کے بندوں کو اس کی رحمت سے دور کر رہا ہے اور کون ہے جو اس کے بندوں کو اس کی رحمت کے قریب
لا رہا ہے ، تم اس کی نافرمانی کا راستہ اختیار کر کے اور اس کے بندوں کو اس کی
رحمت سے محروم کر کے اس کی ان بخششوں کی اُمید نہیں کر سکتے جو اس نے صرف فرماں بردار
اور صالحین و مصلحین کے لیے مختص کر رکھا ہے ۔
اس آیت کریمہ کے فورا بعد اللہ تعالیٰ ارشاد
فرماتا ہے :
يٰـاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا
كُوْنُوْا قَوَّامِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَلَوْ عَلٰٓى
اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ
فَقِيْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰٓى اَنْ
تَعْدِلُوْا وَاِنْ تَلْوٗا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا
تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا. [النساء:۱۳۵]
’’اے ایمان والو! تم انصاف پر مضبوطی کے
ساتھ قائم رہنے والے محض اللہ کے لیے گواہی دینے والے ہو جاؤ ،خواہ گواہی خود
تمہارے اپنے یاتمہارےوالدین یا تمہارےرشتہ داروں کے ہی خلاف ہو، اگرچہ جس کے خلاف
گواہی ہو وہ مال دار ہے یا محتاج، اللہ ان
دونوں کاتم سے زیادہ خیر خواہ ہے۔ سو تم خواہشِ نفس کی پیروی نہ کیا کرو کہ عدل سے
ہٹ جاؤگے، اور اگر تم گواہی میں پیچ دار بات کرو گے یا حق سے پہلو تہی کرو گے تو بیشک
اللہ ان سب کاموں سے جو تم کر رہے ہو خبردار ہے، ‘‘
اسی مفہوم کی ایک آیت سورہ مائدہ میں بھی
ہے، جس میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے :
يٰـاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا
كُوْنُوْا قَوَّامِيْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ
شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓى اَ لَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى
وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْن. [المائدہ:۸]
’’اے ایمان والو! اﷲ کے لیے مضبوطی سے قائم
رہتے ہوئے انصاف پر مبنی گواہی دینے والے ہو جاؤ اور کسی قوم کی سخت دشمنی بھی تمہیں
اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم اس سےعدل نہ کرو۔ عدل کیا کرو کہ وہ پرہیزگاری
سے نزدیک تر ہے، اور اﷲ سے ڈرا کرو، بےشک اﷲ تمہارے کاموں سے خوب آگاہ ہے۔‘‘
اس ارشاد میں اللہ تعالیٰ نے صرف اس بات پر
اکتفا نہیں کیا کہ انصاف کی روش پر چلو، بلکہ یہ فرمایا کہ انصاف کے علمبردار بنو۔
تمہارا کام صرف انصاف کرنا ہی نہیں ہے بلکہ انصاف کا جھنڈا لے کر اُٹھنا ہے۔ تمہیں
اس بات پر کمر بستہ ہونا چاہیے کہ ظلم مٹے اور اس کی جگہ عدل و انصاف قائم ہو اور
حق صداقت کا بول بالا ہو ۔ عدل و انصاف کے قیام کے لیے جس سہارے کی ضرورت ہے ،
مومن ہونے کی حیثیت سے تمہارا مقام یہ ہے کہ وہ سہارا تم بنو۔
آگے ارشاد فرمایا کہ تم اللہ کے واسطے گواہی
دینے کے فرائض انجام دو ،یعنی تمہاری گواہی محض خدا کے لیے ہونی چاہیے ، کسی کی رو
رعایت اس میں نہ ہو، کوئی ذاتی مفاد یا اللہ کے سوا کسی کی خوشنودی یا کسی ذات و
برادری اور مسلک و مشرب کی بےجا حمایت یا جاہ و حشم کی بحالی اور انا کی تسکین
تمہارے مدِّ نظر نہ ہو۔ اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی
ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریقِ معاملہ خواہ
مالدار ہو یا غریب ، استاد ہو یا شاگر ، ہم مسلک ہو یا ہم مشرب حق و انصاف اور سچی
گواہی پر ہی قائم رہو اور اپنی دنیوی جاہ و حشم اور فانی وو قتی خواہش کی تسکین میں
عدل و انصاف اور حق و صداقت سے باز نہ رہو۔ اور اگر تم نے ادھر ادھر کی بات کی اور
حق و انصاف سے کام نہ لیا اور سچائی کے واضح ہونے کے بعد بھی رجو ع اور توبہ اور
معافی کی ہمت نہ کی اور پہلو بچاتے رہے تو جان لو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس
کی خوب خبر ہے۔ اللہ کے نزدیک اس کے عدل کے سامنے سب برابرہے ، نہ تم کو تمہاری شیخ
الحدیثی بچا ئے گی اورنہ پدرم سلطان بودی کی وجہ سے آپ کو اسپیشل رعایت دستیاب
ہوگی ،جناب اس کی بارگاہ میں صغیر و کبیر،شیخ و انصاری سب برار ہیں۔
اے میرے اللہ تو ہمیں
اپنی رضا کی خاطر حق بولنے اور حق سننے اور حق پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما اور
میرے مولیٰ اپنے دین کی بقا ، کلمہ طیبہ کی عظمت و وقار اور اپنے بندوں کی عزت و
آبرو کی بحالی کی خاطر بروقت حق بولنے اور عدل و انصاف پر قائم رہنے کی ہمت و
جرأت عطا فرما،اور ہمارے دور کے جن علما ء نے اپنی لاعلمی یا بغض و حسد یا عناد
میں یا کسی اور سبب کی بنیاد پر تکفیر و تضلیل جیسے عظیم و کبیر گناہ کو ہلکا اور
آسان سمجھ لیا ہے اور بات بات پر آپس میں ہی ایک دوسرے کو اس کا شکار بنا رہے
ہیں ان کو علم نافع ، قلب مطیع اور عقل سلیم عطا فرما۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔

Comments
Post a Comment