کفر کی تعریف و تفہیم

 





کفر کی  تعریف و تفہیم

عصر حاضر میں کفر و اسلام کے حوالے سے افراط و تفریط پایا جاتا ہے ایسے میں اس کی تفہیم ضروری ہے۔

 

علامہ ابن عابدین شامی(۱۲۵۲ھ) رحمۃ اللہ علیہ کفر کی تعریف کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

هُوَ إنْكَارُ مَا عُلِمَ ضَرُورَةً أَنَّهُ مِنْ دِينِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَإِنْكَارِ ’’وُجُودِ الصَّانِعِ وَنُبُوَّتِهِ ‘‘ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ – ’’ وَحُرْمَةِ الزِّنَى وَنَحْوِهِ‘‘.[1]

’’کفر نام ہے ان چیزوں کے انکار کا جن کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے ہونا یقینی اور بدیہی طور پر معلوم ہو، جیسے دنیا کے بنانے والے کے وجود کا انکار یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار یا زنا کے حرام ہونے کا انکار یا اس جیسی چیزوں کا انکار۔‘‘

امام ابن شرف نووی ( ٦٧٦ھ) رحمۃ اللہ علیہ مسلم شریف کی شرح میں فرماتے ہیں:

وَاعْلَمْ أَنَّ مَذْهَبَ أَهْلِ الْحَقِّ أَنَّهُ لَا يُكَفَّرُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ بِذَنْبٍ وَلَا يُكَفَّرُ أَهْلُ الْأَهْوَاءِ وَالْبِدَعِ وَأَنَّ مَنْ جَحَدَ مَا يُعْلَمُ مِنْ دِينِ الْإِسْلَامِ ضَرُورَةً حُكِمَ بِرِدَّتِهِ وَكُفْرِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ قَرِيبَ عَهْدٍ بِالْإِسْلَامِ أَوْ نَشَأَ بِبَادِيَةٍ بَعِيدَةٍ وَنَحْوِهِ مِمَّنْ يَخْفَى عَلَيْهِ فَيُعَرَّفُ ذَلِكَ فَإِنِ اسْتَمَرَّ حُكِمَ بِكُفْرِهِ وَكَذَا حُكْمُ مَنِ استحل الزنى أَوِ الْخَمْرَ أَوِ الْقَتْلَ أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ مِنَ الْمُحَرَّمَاتِ الَّتِي يُعْلَمُ تَحْرِيمُهَا ضَرُورَةً. [2]

’’جان لو کہ اہل حق کا مذہب یہ ہے کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سےاہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتے ہیں،اور نہ کسی گمراہ و بدعتی کی تکفیر کرتے ہیں ،اورجس کسی نے ایسی چیزوں کا  انکار کیا جن کا دین اسلام کی بنیاد اور اساس سے ہونا بداہتاً معلوم ہو تو اس پر ارتداد اور کفر کا حکم لگا یا جائے گا ، اور اگر انکار کرنے والا اسلام میں نیا نیا داخل ہوا ہو یا کسی دور دراز جنگل و بیابان میں پیدا ہوا ہو اور پلا بڑھا ہو یا اس جیسا کوئی ہو جس پر اسلام کی بنیادی چیزوں کا علم واضح نہ ہو تو پہلے اس کو ان بنیادی چیزوں سے متعارف کرایا جائے گا اوراگر  اس کے بعد بھی وہ اس کے انکار پر مصر رہا تو اس کی تکفیر کی جائے گی ، اسی طرح سے ان پر بھی کفر کا حکم لگایا جائے گا جنہوں نے زنا ، شراب، قتل یا اس جیسی حرام کردہ چیزوں  کو حلال جانے جن کی حرمت کا علم بدیہی ہے ۔‘‘

امام محی السنہ ابو محمد حسين بغوی شافعی(٥١٦ھ) رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

وَكَانَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ لَا يُكَفِّرُ أَهْلَ الأَهْوَاءِ الَّذِينَ تَأَوَّلُوا فَأَخْطَئوْا، وَيُجِيزُ شَهَادَتَهُمْ مَا لَمْ يَبْلُغْ مِنَ الْخَوَارِجِ وَالرَّوَافِضِ فِي مَذْهَبِهِ أَنْ يُكَفِّرَ الصَّحَابَةَ . [3]

’’ابو سلیمان خطابی تاویل کرنے میں خطا کرنے والے اہل بدعت و گمرا ہوں کی تکفیر نہیں کرتے تھے  اور خوارج و روافض کی جرأت جب تک صحابہ کرام کی تکفیر تک نہیں پہنچ جاتی ان کی شہادت کو قبول کرتے تھے۔‘‘

یاد رکھیں! جو چیز تواتراً ثابت ہو اور بدیہی ہوجائے اسے ضروریات دین کہتے ہیں۔ نماز کی فرضیت ضروریات دین میں سے ہے لیکن زید و بکر نے واقعی نماز کی فرضیت کا انکار کیا ہے، اس کا کیا ثبوت ہے؟ اس کا ثبوت بھی شرعی شہادت یا  تواتر سے ہونا چاہئے تب جاکر کہیں تکفیر کی جاسکے گی۔

آج اگر کوئی شخص مفتی کے پاس آکر کسی معاملہ پر فتویٰ پوچھے تو حالت یہ  ہوتی ہے کہ بس استفتا آتے ہی قلم اٹھا کر ایک طرف سے کافر کہنا شروع کردیتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ انہیں دارالافتا میں کافر بنانے ہی کے لیے بٹھایا گیا ہے۔

امام ابو حامد محمدغزالی طوسی ( ٥٠٥ھ) رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :

فإن استباحة الدماء والأموال من المصلين إلى القبلة المصرحين بقول لا إله إلا الله محمد رسول الله خطأ، والخطأ في ترك ألف كافر في الحياة أهون من الخطأ في سفك محجمة من دم مسلم. [4]

’’کلمہ شہادت  پڑھ کر جس نے اہل قبلہ ہونے کی صراحت کردی   ایسے اہل قبلہ نمازیوں   کی تکفیر کرکے ان کے مال اور  جان کو مباح  قرار دینا سخت خطا ہے  اور  ہزار کافر کو قتل نہ کرنے کا جرم  ایک مسلمان کو قتل کرنے کےجرم کے بنسبت  بہت معمولی  ہے ۔‘‘



[1] المنثور فی القواعد الفقہیہ(3/ 84)

[2]  شرح النووي على مسلم،باب بيان الايمان والاسلام والاحسان ووجوب الايمان باثبات قدر الله سبحانہ وتعالىٰ، (1/ 150)

[3]شرح السنہ للبغوی،‌‌باب مجانبہ اهل الاهواء، (1/ 228)/ناصر بن علی/عقيدة اہل السنۃ فی الصحابۃ (3/ 1123)

[4] غزالی /الاقتصاد فی الاعتقاد،‌‌بيان من یجب تكفيره من الفرق ،( 1/ 135)

Comments

Popular posts from this blog

کلمہ گو کی تکفیر میں احتیاط کے سلسلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا رویہ

تقویٰ کی حقیقت اور اس کا سماجی پہلو

علم کا مقصود اور اس کے درجات