فتوے بازوں کا عمومی رویہ
فتوے بازوں کا عمومی رویہ
ہمارے دور میں تکفیری مزاج علما و مشائخ کی
کثرت ہوگئی ہے اور انہوں نے یہ شغل اپنا رکھا ہے کہ لوگوں کے دلوں کی کیفیت از خود
بیان کرتے ہیں اور اس پر کفرو شرک کا فتویٰ لگادیتے ہیں اور یہ اتنے جری لوگ ہیں
کہ اگر ان کو ان کے فتوے کی حقیقت سے آگاہ بھی کردیا جائے یا صاحب معاملہ اپنی
صفائی بھی پیش کردے تب بھی یہ فتویٰ باز حضرات اپنے فتوے سے توبہ و رجوع کے بارے
میں غور نہیں کرتے ،نہ ہی صاحب معاملہ کی جان بخشی فرماتے ہیں، اس کی مثالیں ذ اتی
طور پر میرے تلخ تجربات میں موجود ہیں،ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اپنے مخالفین کو
دنیا میں بے آبرو کرنے کے لیےہی دین و شریعت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے ۔
ہمارے دور کے فقیہان حرم تکفیریت کے ایسے عادی
ہوگیے ہیں کہ یہ حضرات غیر اصولی اختلاف بھی کرتے ہیں اور غیر اصولی اتحاد بھی کر
لیتے ہیں، جب کسی سے کسی فرعی مسئلے میں بھی اختلاف ہوا تو اس معمولی اختلاف کو
بھی کفر و ایمان کا حصہ بنا کر آپس میں ایک دوسرے کی تکفیر کر بیٹھتے ہیں اور جب
کسی دنیوی معاملات میں محتاج ہوتے ہیں تو اپنے سارے فتاویٰ کو فراموش کر کے صلح
کرلیتے ہیں ۔
ہم تو ایسے مفتیان
کرام اور علمی مراکز سے بھی واقف ہیں جنہوں نے کسی شیخ اور عالم کی کسی علمی رائے
کو منفی رخ دیا اور پھر اس کو کفر و ضلالت کی سرحد تک لے جاکر دم لیا اور تیس
چالیس سال بعد اسی علمی رائے کو اپنی تائید فقہی کے ساتھ اپنے ادارے کے ترجمان
رسالے میں شائع کیا۔
ہمارے ملک میں نفس فقہ و فتاویٰ کو اپنی دسترس
میں رکھنے والے ایسے بھی مفتیان کرام موجود ہیں جنہوں نے اپنے ہمنواؤں کے ساتھ کسی
شیخ کی تکفیر کی اور ان کے متبعین کا سوشل بائی کاٹ کیا اورتیس چالیس سالوں تک ان
سے نکاح اوران کا ذبیحہ حرام رکھا ، ان کی
مساجد، ان کے مدارس الگ کردیے گیے، اورجب ان
تمام اذیتوں کو برداشت کرتے ہوئے وہ شیخ اس دنیا سے رخصت ہوگیے لیکن ان کے محبین و
متبعین کے جوش و خروش میں کوئی کمی نہ آئی تو اب گواہوں کی بنیاد پر اس شیخ کی
اور ان کے محبین کی برأت کا اعلان کیا جارہا ہے ، کاش آپ کے کسی مفتی نے اس شیخ
سے اس کی حیات میں ہی براہ راست اتمام حجت کیا ہوتا یا کم از کم آج ہی کی طرح آج
سے قبل گواہی قبول کر نے کی جرأت کا مظاہرہ کیا گیا ہوتا ۔
فقہی و علمی اختلاف ہو یا مسلکی و مشربی اختلاف
،صدارت و نظامت کا اختلاف ہو یا ذات و برادری کا ہمارے دور کے سارے اختلافات کی
انتہا کفر و ایما ن اور گمرہی و ضلالت پر ہی ہوتی ہے ،کم از کم صلح کلیت پر ہر
اختلاف کا جانا تو لازم و ضروری ہی ہے۔
فروعی اختلافات کو اصولی اختلافات بنا کر
شرعی احکام جاری کرنا عام بات ہوگئی ہے، بغض و حسد میں ، تفوق و برتری حاصل کرنے
میں ، اپنے ادارے اور اپنے حلقے کو اسٹیبلش اور مضبوط کرنے کے دور میں ایک ادارہ
دوسرے ادارے کے خلاف، ایک تحریک دوسری تحریک کے خلاف ،ایک پیر دوسرے پیر کے خلاف،ایک
عالم دوسرے عالم کے خلاف، ایک مفتی دوسرے مفتی کےخلاف کفر و ضلالت کے فتاویٰ لے کر
بر سرپیکار نظر آتے ہیں ۔ حد تو اس وقت ہوجاتی ہے جب ایک دار الافتا میں بیٹھے
ہوئے دو مفتی ،اور ایک ادارے کے دو مدرس آپس میں ایک دوسرے کے خلاف فتویٰ لگا کر
مقاطعہ کیے ہوئے مست نظر آتے ہیں ،اور اسی کو دین و سنیت کی خدمت اور مقصد حیات
سمجھتے ہوئے کلی اطمینان کا اظہار کرتے ہیں ۔
اب تو یہ حالات ہیں کہ شاید ہی کوئی عالم و
مفتی ، پیر و خطیب اور ادارہ و تحریک بچا ہو جس پر کفر و ضلالت کا اور صلح کلیت کا
فتویٰ نہ لگا ہو لیکن طرفہ تماشایہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو یہ دعوی بھی ہے کہ
ہماری جماعت ہی سواد اعظم ہے اور ہماری ہی تعداد سب سے زیادہ ہے اور حقیقت یہ ہے
کہ تکفیریت کی وجہ سے شاید ہی کوئی مسلمان باقی ہو بس اسلام زندہ ہے بغیر مسلمان
کے ۔ الامان و الحفیظ۔
ایسے لوگوں کو جان لینا چاہیے کہ کسی کو
کافر، ملحد، فاسق یا مشرک وغیرہ قرار دے کر اسے دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا ان
جیسوں کا اختیار نہ ہے اور نہ ہوسکتا ہے ۔
صحیح مسلم میں طارق بن اثیم سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے زبان سے لا الٰہ الا اللہ کہا اور اللہ کے علاوہ جن
کی عبادت کی جاتی ہو،درخت ہو یا پتھر یا کچھ اور ، اس سے انکار کیا تو اس کا مال اور اس کا خون حرام ہےاور اس کا حساب اللہ پر ہے۔ پھر
دوسری حدیث میں ہے جو حضرت ابو بکر صدیق اور عمر فاروق اور جابرسے روایت ہے کہ
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ کو لوگوں (باغیوں )سے لڑنے کا حکم
ہوا یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کہیں۔تو جس نے لا الٰہ الا اللہ کہا اس نے اپنا مال اور جان بچالی مگر دین کی حق تلفی کا بدلہ ہےاور
اس کا حساب خدا کے ذمہ ہے۔ یعنی جب آدمی مسلمان ہوا اور کلمہ پڑھ لیا تو اس کی جان
اور مال لینا حرام ہے اور اگر وہ خوف سے ظاہر میں مسلمان ہوااور دل سے کافر رہا تو
اس سے اللہ تعالیٰ حساب لے گا، دلوں کے حال دریافت کرنے کا اختیار حاکم ، قاضی اور
مفتی کو نہیں ہے۔
بخاری شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ ایک
یہودی لڑکا بیمار ہوااور جب وہ مرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی
عیادت کے لیے تشریف لے گیے۔ آپ نے اسے فرمایا کہ اسلام لے آؤ۔ چنانچہ وہ یہودی
لڑکا مسلمان ہوگیا تو آپ یہ فرماتے ہوئے باہر تشریف لائے کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس
نے اس لڑکے کو آگ سے بچایا۔
تھوڑا سا بھی غور کرنے سے اس واقعہ سے پتہ
چلتا ہے کہ اس یہودی لڑکےنے محض زبان سے اقرار اسلام کیا۔عمل کی کوئی توفیق نہ ملی،
نہ موقع ملا لیکن وہ مسلمان شمار ہوا۔ اسے آپ نے جہنم کی آگ سے بچنے کی خوشخبری دی
اور خوشی کا اظہار فرمایا ۔
یہ ہے کلمہ طیبہ کی عظمت اور رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کا طریقۂ تبلیغ اسلام جس کو آج
صاحبان فقہ و فتاویٰ کی بے جا جرأت وجہالت ہر دن پامال کر رہی ہے جس کا نقصان براہ راست پوری
امت مسلمہ کو پہنچ رہا ہے اورہمارے دور کے ذی شعور ،ذی فہم، اہل علم و حکمت،
صاحبان عدل وانصاف اوراعتدال و وسطیت کا نعرہ لگانے والے علما اور صوفیہ صافیہ کی مشیخت و سجادگی پر جلوہ
افروز دعویدارانِ قیادت و امامت مشائخ ِ وقت،
صبر و رضا کا پیکر ، خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور اپنی کم ہمتی کو مصلحت و حکمت
کا نام دے کر احساس ذمہ داری سے دامن جھاڑ
چکے ہیں ۔
حوصلہ پست ہے کیوں عزم جواں پیدا کر
اٹھ زمانے میں قیامت کا سماں پیدا کر
قیصر جعفری
کہتے ہیں:
ہوا خفا تھی مگر اتنی سنگ دل بھی نہ تھی
ہمیں کو شمع جلانے کا حوصلہ نہ ہوا
یگانہ
چنگیزی کہتے ہیں:
مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا
مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا
اخترشیرانی کہتے ہیں:
انہی غم کی گھٹاؤں سے خوشی کا چاند نکلے گا
اندھیری رات کے پردے میں دن کی روشنی بھی
ہے

Comments
Post a Comment