کفری قول کے قائل و متکلم کے انکار کی صورت میں شرعی حکم
کفری قول کے قائل و متکلم کے انکار کی
صورت میں شرعی حکم
سوال:اگر کوئی قول و عمل متفقہ طور پر کفری ہو لیکن قائل و متکلم اور عامل اس کا اقراری
نہ ہو بلکہ اس سے انکار کرتا ہو اگر چہ اس کے خلاف دو عادل گواہوں کی گواہی
بھی پیش ہو چکی ہو اور قاضی اسلام نے ان گواہوں کی بنیاد پر فیصلہ بھی کردیا ہو تو
اس صورت میں کیا حکم ہوگا ؟ اس شخص کے انکار کا اعتبار کیا جائے گا کہ نہیں ؟ اس
سلسلے میں مستند فقہائے اسلام اورائمۂ عقائد کیا فرماتے ہیں ؟
مستفتی: طالب رضا علیمی منظری،مقصود پور
اورائی،مظفرپور،بہار
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
جواب:اگر کوئی کلام یقینی اور متفقہ طور پر کفری ہواور اس کے قائل و متکلم پر گواہی بھی پیش ہوگئی ہو لیکن قائل و متکلم اس سے انکار کر رہا ہو تو
فقہائے کرام اور متکلمین کے نزدیک اس کا ا نکار ہی رجوع وتو بہ مان لیا جائے گا ۔
اس سلسلے میں حضرت امام محمد
بن احمد شمس الائمہ سرخسی (٤٨٣ھ) رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ’’شرح السیر الکبیر ‘‘ میں فرماتے ہیں :
فَإِذَا شَهِدَ بِذَلِكَ مُسْلِمَانِ قَضَى
الْقَاضِي بِوُقُوعِ الْفُرْقَةِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، وَقَسَّمَ
مَالَهُ بَيْنَ وَرَثَتِهِ ۔۔۔ثُمَّ جَاءَ الرَّجُلُ مُسْلِمًا فَأَنْكَرَ مَا
شَهِدَ بِهِ عَلَيْهِ الشَّاهِدَانِ مِنْ الرِّدَّةِ لَمْ يُبْطِلْ الْقَاضِي
قَضَاءَهُ بِإِنْكَارِهِ ۔۔۔وَلَكِنَّهُ يَجْعَلُ إنْكَارَهُ هَذَا إسْلَامًا
مُسْتَقْبَلًا مِنْهُ.([1])
دو عادل گواہ کسی کے اسلام سے پھر جانے
کی گواہی دیں اور قاضی ان کی گواہی پر اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کر دے اور اس کی جائدادورثا میں تقسیم کرنے کا
فیصلہ سنا دے ۔۔۔ اس کے بعد وہ شخص مسلمان بن کر آئے اور گواہوں نے جس بات کی
گواہی دی تھی ، اس بات سے انکار کر دے ، تو قاضی کا فیصلہ باطل نہیں ہوگا ۔۔۔البتہ اس کے انکار کے وقت
سے اس کو مسلمان مانا جائے گا ۔
امام بر ہان الدین بخاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ ( ۶۱۶ ھ) کی کتاب ’’ المحیط
البرہانی فی الفقہ النعمانی ‘‘کے حوالے سے فتاویٰ عالمگیری میں نقل ہے :
إذَا
شَهِدَ رَجُلٌ
عَلَى امْرَأَتِهِ
مَعَ رَجُلٍ أَنَّهَا ارْتَدَّتْ - وَالْعِيَاذُ بِاَللَّهِ - وَهِيَ تَجْحَدُ
وَتُقِرُّ بِالْإِسْلَامِ ۔۔۔وَأَجْعَلُ جُحُودَهَا الرِّدَّةَ وَإِقْرَارَهَا
بِالْإِسْلَامِ تَوْبَةً.([2])
اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے خلاف کسی
دوسرے مرد کے ساتھ گواہی دے کہ اس نے ارتداد کیا ہے - خدا نہ کرے کہ ایسا ہو - اور وہ خاتون انکار کرے اور اسلام کا اقرار کرے۔۔۔تو اس کے انکار
ارتداد اور اسلام کے اقرار کو توبہ مانا جائے گا ۔
حضرت علامہ امام ابن ہمام کمال
الدین حنفی رحمۃ اللہ
علیہ ( م ۸۶۱ ھ) اپنی کتاب ’’ فتح القدیر ‘ ‘ میں تحریر فرماتے ہیں :
وَإِذَا
شَهِدُوا عَلَى
مُسْلِمٍ بِالرِّدَّةِ
وَهُوَ مُنْكِرٌ لَا يُتَعَرَّضُ لَهُ لَا لِتَكْذِيبِ الشُّهُودِ الْعُدُولِ
بَلْ؛ لِأَنَّ إنْكَارَهُ تَوْبَةٌ وَرُجُوعٌ.([3])
کسی مسلمان کے بارے میں مرتد ہونے کی
گواہیاں گزرچکیں اور وہ اس کا انکار کررہا
ہو تو اس سے تعرض نہیں کیا جائے گا ، اس
لیے نہیں کہ عادل گواہوں کو جھوٹا قراردیا
جارہا ہے ، بلکہ اس لیے کہ اس کا انکار ہی اس کے حق میں تو بہ و رجوع
ہے۔
اسی طرح حضرت علامہ ابن نجیم حنفی(۹۷۰ھ)
نے اپنی کتاب ’’ الْأَشْبَاهُ وَالنَّظَائِرُ عَلَى
مَذْهَبِ أَبِيْ حَنِيْفَةَ النُّعْمَانِ‘‘
میں ۔علامہ زين الدين بن ابراہیم ابن نجیم
حنفی مصری رحمۃ اللہ علیہ (٩٧۰ ھ)نے ’’بحر الرائق
‘‘ میں. ([4])علامہ حصکفی حنفی (۱۰۷۷ھ) نے در
مختار میں ([5])علامہ ابن عابدین شامی(۱۲۵۲ھ)
رحمۃ اللہ علیہ نے رد المحتار میں ([6])صاحب ’’
غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر‘‘ نے . ([7])علامہ
عبد الرحمٰن الجزیری (۱۳۶۰ھ)نے ’’الفقہ على المذاهب الأربعہ‘‘میں .([8])علامہ علی بن
مصطفٰی طنطاوی اپنی کتاب ’’تعريف
عام بدين الإسلام‘‘ میں.([9])
نقل کیا ہے ۔
اس باب میں تمام علما و
متکلمین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کسی کے ارتداد یا کفر کی گواہی صرف عادل گواہوں کی ہی قبول کی جائے گی اور بعض
نے چار گواہوں کا اعتبار کیا ہے اور
بعض نے دو کی گواہی کو ہی کافی مانا ہے احناف
کے نزدیک بھی دو عادل گواہوں کی
گواہی ہی کافی ہے ،ایسا نہیں کہ کسی نے
بھی کچھ کہہ دیا تو اس بنیاد پر شرعی احکام بیان کردیا جائے گا ،یوں ہی قاضی اور
مفتی پر یہ بھی لازم ہے کہ جب کسی مسلمان کے بارے میں اس کے پاس کوئی منفی بات
پہنچے تو قاضی پہلے تحقیق کرے اور اتمام حجت کے بعد ہی کوئی فیصلہ دے ۔
اور اگر قاضی نے دو عادل
گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر کسی مسلمان کے کفر و ارتداد کا فیصلہ کربھی دیا لیکن
مشہود علیہ( جس کے خلاف گواہی دی
جا چکی ہے )نے انکار کردیا اور اس نے یہ
بیان کردیا کہ میں نے فلاں کام نہیں کیا
یا فلاں کلام کا میں قائل و متکلم نہیں
ہوں تو محققین علمائے اہل سنت کے نزدیک اس
کے انکا ر کو ہی توبہ و رجوع مان لیا جائے گا اور اس کے اسلام کو بعینہ قبول کیا
جائے گا ،کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کے ارشاد کا مفہوم یہ بتاتا ہے کہ کافر اصلی
بھی اگر حالت جنگ میں کلمہ و شہادت کا
اظہار کرے گا تو اس کو قبول کر لیا جائے گا اور اس سے جنگ نہیں کی جائے گی
بلکہ اس کی جان و مال کی حفاظت شرعی طور پر لازم و ضروری ہو گی،یوں ہی مرتد کے حق میں بھی انکار ارتداد
کے ساتھ کلمہ شہادت کی عظمت و افادیت کو
بحال رکھا جائے گا اور قبول کیا جائے گا ۔
کوئی ذمی غیر مسلم مر جائےاور ایک
بھی عادل مسلمان مرد یا عورت گواہی دے کہ
وہ مرنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تھا تو
مسلمانوں کو چاہیے کہ اس کوغسل دے کر کفن پہنائیں اور اس کی نماز جنازہ پڑھیں ،فتاویٰ ہندیہ میں ہے :
رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ مَاتَ فَشَهِدَ
مُسْلِمٌ عَدْلٌ، أَوْ مُسْلِمَةٌ أَنَّهُ أَسْلَمَ قَبْلَ مَوْتِهِ وَأَنْكَرَ
أَوْلِيَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ ذَلِكَ فَمِيرَاثُهُ لِأَوْلِيَائِهِ مِنْ
أَهْلِ الذِّمَّةِ بِحَالِهِ وَيَنْبَغِي لِلْمُسْلِمِينَ أَنْ يُغَسِّلُوهُ
وَيُكَفِّنُوهُ وَيُصَلُّوا عَلَيْهِ.([10])
اہل ذمہ میں سے کوئی شخص مر گیا اور
ایک عادل مسلمان مرد یا مسلمان عورت نے گواہی دی کہ اس نے اپنی موت سے پہلے
اسلام قبول کر لیا تھا اور اس کے اولیا و
وارثین انکار کریں اور کہیں کہ اس نے
اسلام قبول نہیں کیا تھا تو اس کی وراثت اہل ذمہ میں سے اس کے اولیا و وارثین کے لیے ہوگی اور مسلمانوں پر لازم
ہوگا کہ وہ اس کو غسل دیں اور کفن پہنائیں اور اس کی جنازے کی نماز ادا کریں ۔
اسلام دین حق ہے اور حق کو باطل پر
فوقیت حاصل ہوتی ہے ،حق کے ثبوت کے لیے ایک گواہ بھی کافی ہے خواہ عورت ہی کی
گواہی کیوں نہ ہو ، جب کہ حق کے ارتفاع کے لیے دلیل بدیہی قطعی اور ثبوت متواترہ
کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے بعد بھی اقوال کفریہ اور افعال ارتدادیہ کا
فاعل و متکلم اپنے افعال و اقوال
سے انکار کر بیٹھے تو تقریبا تمام فقہائے اسلام کے نزدیک اس کا انکار ہی توبہ و
رجوع مان لیا جائے گا اور اس کے اسلام کو بدستور قبول کیا جائے گا ۔
لیکن افسوس کہ ہمارے دور کے اکثر فقہا
نے اپنی ضد ، جرأت و جہالت اور عناد کی وجہ سے اسلام اور
اہل اسلام کی جو درگت بنا رکھی ہے اس پر جتنا ماتم کریں کم ہے ،اپنی تکفیر مزاجی کی وجہ سے مسلمانوں کو اس
قعر عمیق میں پہنچا دیا ہے جہاں سے واپس آنا بہت مشکل معلوم ہوتا ہے،اہل جرأت مصلحین
علما و دعاۃ جب مسلسل صدیوں جد
وجہد کریں گے تب ہی ممکن ہوسکتا ہے کہ یہ امت تکفیریت کے اس کاری زخم سے شفا پاسکے ۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کو کافر
بنانا اس کو قتل کرنے کی طرح ہے :
وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَتْلِهِ. ([11])
جس
نے کسی مومن کو کافر کہا تو گویا اس نے اس کو قتل کردیا ۔
اور مسلمان کو ناحق قتل کرنے کے سلسلے میں ایک
مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
یوں فرمایاہے:
لَزَوَالُ الدُّنيَا وَمَا
فِيهَا أَهوَنُ عِندَ اللّهِ مِن قَتلِ مُؤمِنٍ، وَلَو أَنَّ أَهلَ سَمَاوَاتِه وَأَهلَ
أَرضِه اشتَرَكُوا فِي دَمِ مُؤمِنٍ لَأَدخَلَهُمُ اللّهُ النَّارَ.([12])
اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کا ختم ہو
جانا کسی مسلمان کے ناحق قتل سے زیادہ ہلکا ہے، اگر سارے آسمان وزمین والے مل کر
کسی مومن کا خون بہائیں تو اللہ تعالیٰ ضرور ان سب کو جہنم میں داخل کردے گا۔
امت مسلمہ اس وقت تفرقہ کا شکار ہے ،
کلمہ طیبہ کی عظمت کو پامال کر نے والے
تکفیری علما نے امت کے ایک ایک فرد کے اندر نفرت اور فرقہ بندی کا زہر گھول دیا ہے
جس کے نتیجے میں ایک فرد دوسرے فرد کا ،ایک گاؤں دوسرے گاؤں کا ،ایک ملک دوسرے ملک
کا جانی دشمن بنا ہوا ہے، ایسے میں کیسے
ممکن ہے کہ کلمہ گو ایک دوسرے کے درد کو اپنا درد سمجھیں اور ایک دوسرے کی جان و
مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی فکر کریں ۔
ہمارے دور میں ایک شخص اپنے اسلام و سنیت کا اعلان و اقرار
کررہا ہوتا ہے اور اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو خارج قرار دیتا ہے اس کے باوجود بعض
شدت پسند علما ان کے اسلام و سنیت کو قبول کرنے کو تیار نہیں اور نہ ان کے انکار و برأت کی وجہ سے ان کے
توبہ و رجوع کےاسلامی اصول پر عمل کے لیے آمادہ ہے۔بس عناد و
جہالت اور فرقہ بندی کا ایسا نشا چھایا
ہوا ہے کہ شرع مطہر پر جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود بھی اہل اسلام کی تکفیر کرتے ہیں اور جو
تکفیر سے سکوت کرتا ہے اس کو بھی کافر بنا کر ہی دم لیتے ہیں ، الامان والحفیظ۔
مذکورہ تمام
مستند علما و فقہا کے فرمودات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہمارے دور کے علما و مفتیان کرام کے لیے کسی
صورت یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی مسلمان کے
اسلام سے ارتداد کا فیصلہ کریں جب تک کہ وہ خود یہ اعلان نہ کر دے کہ اس نے اسلام
کو چھوڑ دیا ہے، یہ ایک بڑے خطرے اور بڑے نقصان کا باب ہے، اس لیے ہمارے لیے جائز
نہیں کہ ہم کسی ایسے مسلمان کے کفر کا
فیصلہ کریں جس نے کوئی بیان جاری کیا ہو
اور وہ بیان کفر اور عدم کفر کا
احتمال رکھتا ہو ،یا اس کا قائل کفری معنی کا اقرار نہ کرتا ہو، یا قائل اس قول کا
ہی منکر ہو تو ہمارے لیے کسی صورت میں قائل پر کفر کا حکم جاری کرنا اسلامی اصول
کے مطابق ہرگز درست نہیں ہوگا۔
علمائے کرام نے
فرمایا ہے کہ اگر کوئی بات کسی مسلمان
کی طرف سے آئی ہو اور اس بات میں ننانوے
پہلوکفر کے ہوں،صرف ایک پہلو اسلام کا ہو تو اسلام
ہی مانا جائے گا کیوں کہ اسلام دین
حق ہے اور کفر باطل، اور حق باطل پر غالب ہوتا ہے، لیکن افسوس کہ آج ہم اپنی شدت
کی وجہ سے خواہ مخواہ حق کو مغلوب کرنے میں مصروف ہیں۔
اس مفہوم کو
علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ(۱۰۱۴ھ) اپنی معروف کتاب ’’
شرح الشفاء‘‘ میں یوں تحریر فرماتے ہیں:
وقد قال علماؤنا إذا وجد تسعة وتسعون وجها تشير إلى تكفير
مسلم ووجه واحد إلى ابقائه على إسلامه فينبغي للمفتي والقاضي أن يعملا بذلك الوجه
وهو مستفاد من قوله عليه السلام : ادْرَءُوا الْحُدُودَ مَا اسْتَطَعْتُمْ عَنِ
الْمُسْلِمِينَ ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ لِلْمُسْلِمِ مَخْرَجًا فَخَلُّوا سَبِيلَهُ ،
فَإِنَّ الْإِمَامَ لَأَنْ يُخْطِئَ فِي الْعَفْوِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعُقُوبَةِ،رواه
الترمذي وغيره والحاكم وصححه)([13])
ہمارے علمائے
کرام نے فرمایا ہے کہ اگر مسلمان کو کافر
قرار دینے کے ننانوے پہلو ہوں اور اس کے اسلام پر قائم رہنے کی ایک ہی وجہ ہو تو
مفتی اور قاضی کو اس ایک وجہ پر عمل کرنا
چاہیے، اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے اس فرمان سے مستفاد ہے جس میں آپ
نے فرمایا ہے کہ مسلمانوں سے جہاں تک ہو سکے حدود(شرعی سزاؤں ) کو ٹال دو، اگر تم
مسلمان کے لیے کوئی راہ نکال سکو تو نکالو، کیونکہ امام (حاکم، مفتی و قاضی) کا معاف کرنے میں غلطی
کرنا ، سزا دینے میں غلطی کرنے سے بہتر ہے۔ترمذی ،حاکم اوردیگر محدثین نے اس
حدیث کی روایت کی ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے۔واللہ اعلم بالصواب
کتبہ
محمد مجیب
الرحمٰن علیمی کان اللہ تعالیٰ لہ
([1])السياسة الشرعية
والقضاء، شرح السير الكبير،(2006)/ محمد بن احمد بن ابی سهل شمس
الائمۃالسرخسی۔ ١٩٧١م)
([3]) فتح القدير (6/
98)/ الامام كمال الدين المعروف بابن الهمام الحنفی (٨٦١ ھ) مصطفى البابی الحلبی
بمصر ، ١٣٨٩ ھ = ١٩٧٠ م)
([5])الدر المختار شرح تنوير الابصار وجامع
البحار(ص348)/ محمد بن علی حنفی حصكفی ،دار الكتب العلميہ ، ١٤٢٣ ھ - ٢٠٠٢ م)
([6]) حاشيہ رد المحتار، على الدر المختار:
شرح تنوير الابصار(4/ 246)/ ابن عابدين ،مصطفى البابی الحلبی،١٣٨٦ ھ= ١٩٦٦ م)
([7]) غمز عيون البصائر فی شرح الاشباه والنظائر(2/
198)/ احمد مكی حموی حنفی ،دار الكتب العلميۃ، ١٤٠٥ھ- ١٩٨٥م)
([8])الفقهہ على
المذاهب الاربعۃ(5/ 384)/ عبد الرحمن جزيری ،دار الكتب العلميۃ ، بيروت ، ١٤٢٤ ھ- ٢٠٠٣ م)

Comments
Post a Comment