علامہ ضیا؍ المصطفیٰ امجدی کی افتراپردازی کا شرعی احتساب

 


استفتا

بخدمت ! مکرمی مفتی محمد مجیب الرحمٰن علیمی زید مجدہ وعلمہ

السلام علیکم  !

 امید مزاج گرامی بخیر ہوگا ! عرض ہے کہ بہاء الدین پور ،پارو ،مظفر پورمیں ۲۷ ؍جون ۲۰۲۳ ء کو منعقد ہ جلسے میں بحیثیت خصوصی خطیب محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ امجدی صاحب تشریف لائے ہوئے تھے ، جس میں انہوں نے خانقاہ عارفیہ ،سید سراواں کے شیخ طریقت حضرت شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی صاحب پر کفر و شرک کا الزام لگاتے ہوئے فرمایا:

’’ہمارے مدرسے میں تو سلام پڑھا جاتا ہے، صبح سویرے،کیا پڑھا جاتا ہے ؟ مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام ،شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام ،یہ پڑھتے ہیں ،مگر وہاں ،کیا پڑھا جاتا ہے ؟ سید سراواں میں وہ کھڑے رہتے ہیں، احسان میاں ، وہ کھڑے ہوئے ہیں اور لڑکے پڑھ رہے ہیں: یہ میرا خدا ہے یہ میرا خدا،بولو کافر ہوئے کہ نہیں؟ پڑھوانے والا بھی کافر ، پڑھنے والا بھی کافر ،توایسی تعلیم جہاں دی جاتی ہے وہاں کے پڑھے ہوئے ایک فرد کو یہاں آنے نہ دینا ۔‘‘

مجھے معلوم ہے کہ آپ اسی خانقاہ سے اپنا روحانی تعلق رکھتے ہیں اس لیے میرے لیے علامہ صاحب کا الزام فقط الزام ہی تھا لیکن اس مسئلے کے تعلق سے  میں ذاتی طور پر آپ سے جاننا چاہتا ہوں کہ ان چیزوں کی کیا حقیقت ہے اور اس طرح کی کوئی بات تھی تو علامہ صاحب نے آپ کی خانقاہ سے رابطہ کیا تھا کہ نہیں ؟ اور اگر انہوں نے بلا اتمام حجت اس طرح کا بیان جاری کیا تو اس کا شرعی طور پر کیا حکم ہے ؟امید کہ آپ جلد ہی اس کا جواب ارسال فرمائیں گے ۔

المستفتی:

فقیرمحمد مطیع الرحمٰن رضوی

امام و خطیب :مسجد پارو مٹھیاں،مظفر پور،بہار

 22/ جولائی 2023ء

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الحمدللہ! میں بخیر و عافیت ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی بخیر و عا فیت رکھے۔ آمین

پہلی بات یہ کہ علامہ ضیاء المصطفیٰ امجدی صاحب نے خانقاہ عارفیہ،سید سراوا ں شریف کے علما و مشائخ کے متعلق جن الزامات کا اعلان کیا ہے وہ سارے الزامات فقط الزامات ہی ہیں اور ان کی کوئی بنیاد نہیں اور بھلا ایسا کیسے ممکن ہے کہ جس خانقاہ میں اہل کفر و شرک اور اہل معصیت اپنے باطل نظریات اور گناہوں سے تائب ہوتے ہیں وہاں کفر و شرک کی تعلیم دی جاتی ہو؟جہاں علوم اسلامیہ شرعیہ کے فروغ کے لیے اہل سنت کے جیدعلما و محققین اور مشائخ کی جماعت شب و روز محنت کر رہی ہو اور جہاں اہل سنت و جماعت کے نظریات اور رسومات کی علمی و عملی طور پر پابندی کی جاتی ہو وہاں بھلا کیسے ممکن ہے کہ کفر و شرک جیسا قبیح عمل انجام پاجائے ؟

 علامہ ضیاء المصطفیٰ امجدی نے خانقاہ عارفیہ کے علما و مشائخ اور طلبہ پر جو الزامات لگائے ہیں وہ الزامات خود اپنے الزام اور بہتان ہونے کی واضح دلیل ہیں کہ بھلا ایسا کیسے ممکن ہے کہ جس خانقاہ سے سیکڑوں علما و طلبہ اور ہزاروں صالحین اپنی علمی و روحانی تشنگی دور کرتے ہوں اور جس کے فارغین پورے ملک میں تعلیم و تربیت کے میدان میں کام کر رہے ہوں اور جس خانقاہ کی سرپرستی میں درجنوں علمائے اہل سنت اسلامی علوم و فنون پر علمی و تحقیقی کام میں مصروف ہوں وہاں ایسا کہا اور پڑھا جائے اور سب کے سب خاموش تماشائی بنے رہیں ، علامہ صاحب کا بیان اتنا بڑا کذب و بہتان ہے کہ ہر ذی فہم اول سماعت میں جان جائے گا کہ ایسا ممکن نہیں ہے اوریہ فقط کذب و بہتان ہی ہے۔

علامہ ضیاءالمصطفیٰ امجدی صاحب نےہمارے مرشد گرامی اور خانقاہ عالیہ عارفیہ کے شیخ طریقت، مرشد العلما ء مخدوم الصلحا ء عارف باللہ داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی ادام اللہ ظلہ علینا جن کے تصرف روحانی ،تبحر علمی ، قوت استدلال، طریقۂ دعوت و تبلیغ ، انداز تزکیہ و تصفیہ اور مربیانہ و مشفقانہ شخصیت اور اعلیٰ اخلاق کردار کا ایک زمانہ قائل ہے اور اہل علم و تحقیق ، صاحبان فکر و نظر اور نوجوان محققین علمائے اہل سنت کی ایک بڑی جماعت جن کی مداح و محب ہے اس ذات پر جو تہمت لگائی ہے وہ بلاشبہہ بہت ہی بڑی تہمت ہے اور عظیم گنا ہ بھی۔

 شریف اور سیدھے سادے مسلمان جو علما و مشائخ سے آنکھ بند کر کے محبت و عقیدت رکھتے ہیں جب ان لوگوں کو علامہ صاحب کے کذب و افترا کا علم ہوگا تو ان کی حیرت کا عالم کیا ہوگا اور ان کی عقیدت کو کتنی ٹھیس پہنچے گی اللہ ہی جانے، لیکن میں ذاتی طور پر علامہ صاحب سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ نے جس شیخ و مربی کی ذات کو مطعون کیا ہے کبھی آپ بذات خود ان کی مجلس تزکیہ میں بیٹھ کر دیکھیں تو ان شاء اللہ تعالیٰ آپ سے آپ کا علامہ ،محدث اور کبیر ہونے کا زعم یقیناً رخصت ہوجائے گا اور مقام آدمیت اور معیار اسلام وسنیت کا علمی و اخلاقی شعور بھی بیدار ہو جائے گا ۔

علامہ ضیاء المصطفیٰ امجدی صاحب کی جانب سے خانقاہ عارفیہ ،سید سراوں شریف کے علما و مشائخ پرلگائے گیے سارے الزامات سراسر بہتان اور افترا پردازی کی قبیل سے ہیں ، جس سے خانقاہ عالیہ عارفیہ کے علما و مشائخ اور اس کے متعلقین بری ہیں ،بری ہیں، بری ہیں اور علامہ ضیاء المصطفیٰ کے حق میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مولانا کو ہدایت دے ، توبہ کی توفیق عطا فرمائے اور انابت کی دولت سے سرفراز کرے آمین ۔

دوسری بات یہ کہ اگر علامہ صاحب  کو اس طرح کی کوئی خبر ملی تھی تو ان پر شرعا لازم تھا کہ  وہ سب سے پہلے اس سلسلے میں صاحب معاملہ سے رابطہ کرتے یا کم از کم جامعہ عارفیہ میں زیر تعلیم طلبہ سے ہی دریافت کر لیتے۔حیرت کی بات ہے کہ بہاء الدین پور کے سات آٹھ طلبہ جامعہ عارفیہ میں کل بھی زیر تعلیم تھے اور آج بھی زیر تعلیم ہیں اور جس دن یہ پروگرام ہوا تھا اس دن تو عید الاضحیٰ کی تعطیل کی وجہ سے یہ سارے طلبہ اپنے گاؤں بہاءالدین پور میں ہی موجود تھے، لیکن علامہ صاحب اور ان کے ہمنواؤں کو اتمام حجت اور تفتیش کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ، کیوں کہ اتمام حجت اور تفتیش تو سچے لوگ کرتے ہیں جن کو حق و حقیقت سے آگاہی مطلوب ہوتی ہے ۔

تیسری بات یہ کہ علامہ ضیاء المصطفیٰ امجدی اور ان کے ہم نوا خانقاہ عارفیہ کے کسی بھی فرد سے اس سلسلے میں کوئی رابطہ  نہیں کیا اور  بغیر تفتیش کے اتنا بڑا  بہتان لگا دیا ، اس طرح کے الزامات  وہ اور ان کے ادارے کے علماء نے پہلے بھی لگایا تھا  اور جب خانقاہ سے تعلق رکھنے والے علما ءنے ان سے اور ان کے ادارے کے علماء سے تحریری مواخذہ کیاتو اس کااب تک کوئی جواب نہیں دیااور علامہ  صاحب گھو سی سے مظفر پور پہنچ گیے اور بہاء الدین پور کے عوامی جلسے میں صالحین و طالبین اور سالکین کے خلاف الزام ،بہتان اور کذب و افترا پر مبنی بیان جاری کردیا جس سے عوام اہل سنت بہاء الدین پور بالخصوص اور بالعموم پورے ملک کے سنی عوام کے درمیان نفرت اور شدت کا ماحول برپا کردیا جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

۲۷ ؍جون کو یہ پروگرام ہوا اور علامہ صاحب نے خانقاہ عارفیہ سے تعلق رکھنے والے علما و طلبہ پر کفر کا الزام لگایا اور بائی کاٹ  کا فرمان جاری کردیا لیکن ۲۸ ؍جون کی فجر سے ہی بہاء الدین پور کے عوام نے علامہ صاحب کے بیان کو خارج کرتے ہوئے خانقاہ عارفیہ سے نسبت رکھنے والے عالم دین مولانا عبد الغفور مصباحی سعیدی کی اقتدا میں نماز ادا کی اور ۲۹ ؍جون ۲۰۲۳ءکو گاؤں کی اکثریت نے مولانا مصباحی سعیدی کی اقتدا میں نماز عید الاضحیٰ بھی ادا کرلی ،اب تک تو صرف علما و طلبہ کی ہی تکفیر ہوئی تھی لیکن عوام اہل سنت سے چندہ لے کر لاکھوں روپئے کا جلسہ کرکے جس امام کو کافر بنا کر امامت سے ہٹانے کی کوشش کی گئی تھی اسی گاؤں کے عوام اہل سنت نے علامہ صاحب اور ان کے حواریوں کی طرف سے لاکھوں روپیے کے جلسے میں رات بھر بیان کردہ سارے تکفیری احکام کو مسترد کرتے ہوئے اس امام کی اقتدا کو خوشی خوشی قبول کر لیا ،تو اب ان حضرات کے اسلام و سنیت کا کیا ہوگا؟ اور کیا اب بہاء الدین پور کے سنی عوام مسلمان بچے یا نہیں؟ اگر نہیں اور علامہ صاحب کے نزدیک تو بالکل ہی نہیں تو کیا اب ان سنی عوام سے رابطہ رکھنا اور ان کی دعوت قبول کرنا اور ان کے جنازے میں جانا اور ان سے رشتے داری کرنا وغیرہ وغیرہ علامہ صاحب اور ان کے حواریوں کے نزدیک جائز ہے ؟ بلکہ کفر ہے کہ نہیں ؟

چوتھی بات یہ کہ دین اسلام میں مسلم کو مسلم جاننا ضروری ہے اگر کوئی کسی مسلمان کو کافر کہتا ہے تو اس کے لیے سخت وعیدیں آئی ہیں اور شریعت اسلامیہ میں ایسے شخص کے لیے تعزیر بھی ہے اور بعض صورتوں میں ایسا کہنا  کفر بھی ہے ۔۔۔

علامہ ضیاء المصطفیٰ امجدی المعروف محدث کبیر کی افتراپردازی کا شرعی احتساب ۔مکمل فتویٰ اس لنک پر موجود ہے ۔

https://online.fliphtml5.com/drziz/mihk/#p=72

https://alehsanmedia.com/book-details/paighaam-e-ahl-e-sunnat

۔۔۔مکرمی استاذ گرامی قدر آپ کےاستفسار و استفتا کا جواب قدرے طویل ہوگیا ، لیکن کچھ مفید اور کار آمد باتیں بھی آگئی ہیں، شاید آپ کو پسند آئے ،امید کہ آپ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں گے اور اس جواب کے مطالعے کے بعد اپنے خیالات سے آگاہ فرمائیں گے ۔واللہ اعلم بالصواب

کتبہ

 محمد مجیب الرحمٰن علیمی کان اللہ تعالیٰ لہ

دارالافتاءعارفیہ ،سید سراواں شریف،کوشامبی

؍۱۰؍صفر المظفر  ۱۴۴۵ھ /۲۷؍اگست ۲۰۲۳


Comments

Popular posts from this blog

کلمہ گو کی تکفیر میں احتیاط کے سلسلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا رویہ

تقویٰ کی حقیقت اور اس کا سماجی پہلو

علم کا مقصود اور اس کے درجات