تو برائے وصل کردن آمدی نی برائے فصل کردن آمدی

 


تو برائے وصل کردن آمدی نی برائے فصل کردن آمدی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے تو آپ نے انسانوں کو اللہ تعالیٰ کے آخری اور سب سے زیادہ پسندیدہ دین میں داخل ہونے کی دعوت دی ،جو کوئی بھی اس دعوت کو قبول کرتا آپ اسے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ پڑھاتے اور یوں وہ اسلام میں داخل ہوجاتا۔

ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کے اقرار اور کلمہ توحید پڑھ لینے سے شروع ہونے والا لوگوں کا ایمانی سفر خود آپ کی زندگی میں ہی تعداد کے اعتبار سے لاکھوں میں پہنچ گیا اور کبھی کسی ایک کے لیے بھی آپ کی طرف سے  یہ نہیں فرمایا گیا کہ میں اسے اس کی فلاں کمزوری یا غفلت یا سستی کی بناء پر کافریادائرہ اسلام سے خارج قراردیتا ہوں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَاِنْ تُطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ لَا یَلِتْکُمْ مِّنْ اَعْمَالِکُمْ شَیْئًا، اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.(حجرات:۱۵)

’’یعنی دیہاتی (بدو) لوگ کہتے ہیں ہم ایمان لائے تو آپ ان سے کہہ دیجیئے کہ تم ابھی ایمان نہیں لائے، لیکن یہ کہا کرو کہ ہم نے اسلام قبول کرلیا ہے (کیوں کہ) ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔‘‘

 اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جو دلوں کے بھید جانتا ہے اور کوئی چیز بھی اس کے علم سے باہر نہیں، وہ ان بدوؤں کی دلی کیفیات کے بارے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کررہا ہے کہ ابھی ایمان ان کے قلوب میں داخل نہیں ہوا، پھر بھی خدائے عزّوجل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دے رہا ہے کہ انہیں اجازت دے دیں کہ وہ یہ کہہ لیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے یا وہ اسلام لے آئے ہیں۔ یعنی باوجود اس کے کہ خود خدائے علیم و خبیر کی گواہی آگئی کہ ایمان ابھی ان کے دلوں میں نہیں اُترا، آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اجازت نہیں ملی کہ آپ انہیں خارج از اسلام قراردیں۔

دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا. (النساء:۹۵)

’’اور جو کوئی بھی تمہیں سلام پیش کرے اسے یہ نہ کہو کہ تُو مومن نہیں ہے۔‘‘

اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ ’’حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوج کو ایک قوم کی طرف  قتال کے لیے بھیجا۔ اس قوم میں ایک شخص ’’مسلمان‘‘ تھا جو اپنا مال و اسباب اور مویشی ان میں سے نکال کر علیحدہ کھڑا ہوگیا تھا۔ اس نے مسلمانوں کو دیکھ کر ’’السلام علیکم‘‘ کہا۔ مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ یہ بھی کافر حربی ہے، اپنی جان اور مال بچانے کی غرض سے اس نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا ۔ اس لیے اس کو مارڈالا۔ اور اس کے مویشی اور اسباب کولے لیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو تنبیہ اور تاکید فرمائی گئی کہ جب تم قتال کرنے کے لیے سفر کرو تو تحقیق سے کام لو۔ بے سوچے سمجھے کام مت کرو۔ جو تمہارے سامنے اسلام ظاہر کرے اس کے مسلمان ہونے کا ہرگز انکار مت کرو۔

Comments

Popular posts from this blog

کلمہ گو کی تکفیر میں احتیاط کے سلسلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا رویہ

تقویٰ کی حقیقت اور اس کا سماجی پہلو

علم کا مقصود اور اس کے درجات