سب سے کمتر جان اپنے آپ کو



سب سے کمتر جان اپنے آپ کو 


۱۹ ؍دسمبر ۲۰۱۷ بروز منگل بعد نماز ظہر مرشد گرامی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا نے اس فقیر سراپا تقصیر کو طلب کیا ، حاضرخدمت ہوا دست بوسی کے شرف سے مشرف ہوا اور اشارہ پاکر سامنے لگی کرسی پر بیٹھ گیا، اس مجلس میں مولانا طارق رضا قادری پہلے سے حاضر تھے، یہ مجلس مخدوم شیخ سعد ہاسٹل جو اس وقت زیرتعمیر ہے، چوتھی چھت کی ایک دو روز ہی میں ڈھلائی ہونے والی ہے اس کے سامنے جانب مغرب دھوپ میں چارپائی پر سرکار جلوہ افروز تھے، چار پائی کے پائتانے چار کرسیاں لگی تھیں، ایک کرسی پر مولانا طارق رضا نبیرہ مفتی عبد الواجد قادری دربھنگوی بیٹھے تھے، دوسری کرسی جس پر فقیرنے بیٹھنے کا ارادہ کیا اس پر چائے کی پیالی موجود تھی جس میں سرکار کا خوردہ جو ہم جیسوں کے لیے آب حیات سے کم نہیں، فقیر نے اس پیالی کو ہاتھ میں لیا اور بچی ہوئی چائے نوش کرتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گیا ـ
سرکار نے فقیر کی طرف نظر کرم فرمایا اور تبسم فرماتے ہوئے خیریت دریافت کی ـ معا مولانا امام الدین مصباحی کی طرف نظر گئی جو مخدوم شاہ مینا ہاسٹل کی طرف جا رہے تھے، فرمایا کہ مولانا کو بھی بلالو! ۔اب سرکار نے اپنے دونوں پاؤں دراز فرمادیے ایک کی طرف مولانا امام الدین اور دوسرے کی طرف اس فقیر نے سبقت کی اورہم دونوں خدمت میں مصروف ہوگئے۔
مختلف علمی اور انتظامی امور پر گفتگو ہوتی رہی ۔اسی درمیان آپ نے بڑے صاحب زادے مخدوم گرامی حضرت مولانا حسن سعید صفوی ادام اللہ ظلہ علینا کو طلب کیا اور ان سے محو گفتگو ہی تھے کہ ماسٹر حسان صاحب حاضر ہوئےجو جامعہ عارفیہ کے استاد ہیں مرشد گرامی نے ان کو اجمیر شریف بھیجا تھا آج ہی وہ خواجہ صاحب قدس سرہ کی بارگاہ میں حاضری دےکر واپس ہوئے ـ سرکار ان سے محو گفتگو ہوئے اور دریافت فرمایا کہ اجمیر شریف میں کن سے کن سے ملاقات ہوئی؟ ماسٹر صاحب نے چند لوگوں کا نام لیا اور حاضری کے وقت کا قصہ سنانے لگے، سرکار نے حاضرین سے مخاطب ہوتے ہوئے ارشاد فرمایا:
صاحب مزار کی بارگاہ میں صاحب نسبت کے ساتھ حاضری فیوض و برکات میں اضافے کا سبب ہوتا ہے ـ لیکن آج کل تو عجیب و غریب حالات ہیں، حاضری دلانے والے اپنا واجبی حق سمجھتے ہیں اور حاضری دینے والوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ اگر کسی خادم کے واسطے سے حاضری نہ ہوگی تو حاضری ہی قبول نہ ہوگی ـ ایک سیدھا سادھا مسلمان جو کبھی کسی بزرگ کے مزار پر نہ گیا ہو اور چلا جائے تو بعض متولیان اور کچھ خدام کی کار کردگی اور ان کے سلوک سے بدظن ہوکر خوش عقیدہ جماعت سے بددل ہوکر بدعقیدوں کے قریب چلاجائے ـ
آج کل تو اہل نسبت حضرات بھی دست بوسی اور قدم بوسی کرانا اپنا واجبی حق سمجھنے لگے ہیں، اگر کسی مرید نے کبھی دست بوسی نہ کی تو کہا جاتا ہے کہ فلاں مرید آج کل مغرور ہوگیا ہے جب کہ اہل نسبت کو مقام حجریت پر ہونا چاہیے، کوئی ہاتھ پاؤں چومے یا نہ چومے کوئی فرق نہ پڑے۔اگر ایسا نہیں تو یہ مقام ہلاکت ہے جب کہ چومنے والا مقام تواضع پر ہوتا ہے اور تواضع و انکساری میں ہی انسان کے لیے نجات ہے۔
مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اللَّهُ ، فَهُوَ فِي نَفْسِهِ صَغِيرٌ ، وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ عَظِيمٌ ، وَمَنْ تَكَبَّرَ وَضَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَهُوَ فِي أَعْيُنِ النَّاسِ صَغِيرٌ ، وَفِي نَفْسِهِ كَبِيرٌ ، وَحَتَّى لَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِمْ مِنْ كَلْبٍ أَوْ خِنْزِيرٍ " (۱)
جب کوئی انسان اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے تو اللہ اس کو بلند فرمادیتا ہے۔ وہ اپنی نظر میں معمولی ہوتا ہے؛ جبکہ لوگوں کی نگاہ میں غیر معمولی ہوجاتا ہے اور جب کوئی انسان تکبر کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کو ذلیل کردیتا ہے وہ اپنی نظر میں عظیم ہوتا ہے جب کہ لوگوں کی نظر میں حقیر ہوتا ہے یہاں تک کہ کتا اور سور سے بھی زیادہ حقیر ہوجاتا ہے۔
اسی لیے صوفیہ فرماتے ہیں کہ مرید اللہ تک پہنچتا ہے؛ کیوں کہ اللہ کے بندوں سے اس نے اللہ کے لیے محبت کی ، اللہ کے لیے اس کی تعظیم کی اور اللہ کے لیے تواضع اختیار کیا ـ ممکن ہے کہ ایک شخص کسی صاحب نسبت کو اپنا شیخ جان کر اور اس کی تعظیم بجا کر اللہ کا مقرب ہوجائے اور وہ صاحب نسبت اپنے نسبت پر غرور اور تکبر کرنے کی وجہ سے جہنم رسید ہوجائے ـ

انکساری ہے صفت انسان کی
کبر و نخوت ہے صفت شیطان کی

سب سے کمتر جان اپنے آپ کو
تاکہ دل سے کبر و نخوت دور ہو

کبر ہی سے پیدا ہوتا ہے حسد
اور حسد کا پوچھ مت انجامِ بد

زاہد صد سالہ جیسا با خدا
بس حسد ہی کے سبب رسوا ہوا

ابھی یہ بات چل ہی رہی تھی کہ شیخ عبد اللہ البنا مصری (جو جامعہ عارفیہ میں تجوید کے استاذ ہیں اور جامعہ ازہر مصر کے بھیجے ہوئے ہیں) ایک ہاتھ میں کرسی اور ایک ہاتھ میں کتاب لیے ہوئے سرکار کے پائتانے آبیٹھے، سرکار نے اپنے مہمان کی خاطر کرتے ہوئے اپنے پاؤں کو سمیٹ لیااور شیخ سے خیریت دریافت کی پھر آپ نے تکبر اور تواضع کی تعریف اور اس کے فوائد و نقصانات پر روشنی ڈالی اور مخدوم گرامی مولانا حسن سعید صفوی ،عربی میں ترجمانی کرتے رہے اور شیخ عبد اللہ البنا اور دیگر حاضرین مستفیض ہوتے رہے ـ

فقیر محمد مجیب الرحمن علیمی
۱۹ / دسمبر ۲۰۱۷ء بروز منگل
............................................................................
(۱)مسند الشہاب : رقم الحديث: 320(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُوسَى ، ثناسَعِيدُ بْنُ سَلامٍ الْعَطَّارُ ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ تَوَاضَعُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اللَّهُ ، فَهُوَ فِي نَفْسِهِ صَغِيرٌ ، وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ عَظِيمٌ ، وَمَنْ تَكَبَّرَ وَضَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَهُوَ فِي أَعْيُنِ النَّاسِ صَغِيرٌ ، وَفِي نَفْسِهِ كَبِيرٌ ، وَحَتَّى لَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِمْ مِنْ كَلْبٍ أَوْ خِنْزِيرٍ " .

Comments

Popular posts from this blog

کلمہ گو کی تکفیر میں احتیاط کے سلسلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا رویہ

تقویٰ کی حقیقت اور اس کا سماجی پہلو

علم کا مقصود اور اس کے درجات