علم التاویل کی ضرورت و اہمیت
علم التاویل کی ضرورت و
اہمیت
کہا
جاتا ہے کہ علم التاویل علم کا حسن ہے، جو تاویل کرنا نہیں جانتا وہ سماج کے لیے
مفید عالم نہیں ہوسکتا ،بلکہ حق یہ ہے کہ علم التاویل سے جو محروم ہے وہ حقیقت میں
عالم دین اور عالم باللہ نہیں ۔
مسئلہ تکفیر کے سلسلے
میں تاویل کا جاننا بھی بہت ضروری ہے،جب تک کلام میں تاویل کا امکان باقی ہوگا،
کسی مسلمان کی تکفیر کی جائے گی نہ تضلیل۔ کسی قول کا صرف کفری ہوجانا تکفیر کے لیے
کافی نہیں ہے، اس کے ساتھ اور بھی چیزیں دیکھنی پڑتی ہیں، یہ تمام چیزیں جب تک
سامنے نہ ہوں تب تک تکفیر نہیں ہوگی۔
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ
کوئی قول بظاہر کفری ہوتا ہے مگر اس میں دیگر معانی کے احتمالات ہوتے ہیں۔
علامہ ابن عابدین شامی(۱۲۵۲ھ)
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
لَا يُفْتَى بِكُفْرِمُسْلِمٍ أَمْكَنَ حَمْلُ كَلَامِهِ
عَلَى مَحْمَلٍ حَسَنٍ أَوْ كَانَ فِي كُفْرِهِ خِلَافٌ، وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ
رِوَايَةً ضَعِيفَةً. ([1])
’’کسی
مسلمان کے کافر ہونے کا فتویٰ اس وقت تک نہیں دیا جائے گا جب تک اس کے قول میں
اچھے معنی کا احتمال باقی ہو یا اس کے قول کے کفری ہونے میں اختلاف ہو اگر چہ یہ
اختلاف کسی کمزور روایت ہی کی بنیاد پر ہو ۔‘‘
حضرت
اورنگ زیب عالم گیر رحمۃ اللہ علیہ نے ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ کی تدوین کروائی۔
مورخین کے مطابق اس زمانے کے چالیس جید علمائے کرام کی ٹیم نے مل کر کام کیا اور
اسے شائع کروایا۔ فتاویٰ عالمگیری کی ’’
کتاب الردۃ‘‘ میں ان چالیس علمائے کرام نے متفقہ طور پر ایسے الفاظ تحریر
کئے ہیں جن کے کہنے سے آدمی دائرہ اسلام سے خار ج ہوجاتا ہے۔ لیکن ان میں سے بہت
سے کلمات ایسے ہیں جن کے سلسلے میں اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ
اللہ علیہ نے فتاویٰ ہندیہ کے متعدد اقوال کفریہ پر حاشیہ تحریر کرتے ہوئے اس
طرح کی بات لکھی ہے :
قولہ:( لو قال: هذا
فقد کفر):اقول: والحق لا.([2])
’’مصنف کاکہنا ہے :کہ اگر کسی نے
ایسا کہاتو اس نے کفر کیا اور میں کہتا ہوں کہ حق یہ ہے کہ اس نے کفر نہیں کیا ‘‘
اور
کہیں یوں تحریر کیا ہے:
قولہ:(فھذا کفر عند
بعضھم و ھو الأصح): قلت: و الحق لا. ([3])
اس طرح
کے متعدد مقامات ہیں جہاں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے حاشیہ
تحریر فرمایا اور جن باتوں کو ان علما نے کفری قرار دیا تھا، ان میں کئی معنی
نکالے اور فرمایا: ہاں! یہ معنی کفری ہے، اگر کسی نے یہی معنی مراد لیے تو کافر
ہوگا اور اگر دوسرا یا تیسرا معنی مراد لیا تو کافر نہ ہوگا۔ پتا چلا کہ کسی کو
کافر کہنے میں جلدی نہ کرنا چاہئے،اور جہاں تک ممکن ہو تاویل کی کوشش کرنی چاہیے،
محققین نے فرمایا ہے کہ اگر کسی مسلمان کا کوئی قول ایسا ہو جس کے ۹۹ معنی کفر پر مشتمل ہوں اور ایک معنی اسلام کا
پتہ دے رہا ہو تو ایک معنی کا اعتبار کیا جائے گا اور حق کو مغلوب نہیں ہونے دیا
جائے گا۔
Comments
Post a Comment