مرشد اور قائد کے نما یا ں صفات

 


مرشد اور قائد کے نما یا ں صفات

ڈاکٹر مفتی محمد مجیب الرحمن علیمی

قرآن مجید، مسلمانوں  بلکہ تمام انسانوں کے لیے  دائمی ہدایت اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے اور اس میں زندگی کے ہر پہلو کے لیے اصول و ضوابط فراہم کیے گئے ہیں۔ سورۃ آل عمران کی آیت (159 ) میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

فَبِمَا رَحۡمَةࣲ مِّنَ ٱللَّهِ لِنتَ لَهُمۡۖ وَلَوۡ كُنتَ فَظًّا غَلِیظَ ٱلۡقَلۡبِ لَٱنفَضُّوا۟ مِنۡ حَوۡلِكَۖ فَٱعۡفُ عَنۡهُمۡ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِی ٱلۡأَمۡرِۖ فَإِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ یُحِبُّ ٱلۡمُتَوَكِّلِینَ۔

ترجمہ:(اے پیغمبریہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ جاتے اِن کے قصور معاف کر دو، اِن کے حق میں دعا ئے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو، پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اُسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔)

ایک ایسی آیت ہے جو نبی کریم ﷺ کی رحمت، نرم دلی ، عفو و در گزراور مشاورت کے اصول کو بیان کرتی ہے۔ اس آیت کی روشنی میں قیادت اور حکمت کے کئی نکات سامنے آتے ہیں جو فرد اور معاشرے دونوں کے لیے اہم ہیں۔

نرمی اور رحمت کا رویہ

آیت کا آغاز اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریم ﷺ کی تعریف کے ساتھ ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت کی بنا پر آپ ﷺ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرتے ہیں۔ "فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ"۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ قیادت کے لیے سب سے اہم صفت نرم دلی اور رحم دلی ہے۔ اگر قیادت میں سختی اور غصہ شامل ہو تو لوگ قریب آنے کے بجائے دور ہوجاتے ہیں۔ نرم مزاجی لوگوں کے دلوں کو جوڑتی ہے اور انہیں ایک مقصد کے لیے متحد کرتی ہے۔

 سختی اور بدسلوکی سے پرہیز

آیت کے اگلے حصے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ "وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ"، یعنی اگر آپ ﷺ سخت اور بد مزاج ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے دور ہوجاتے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سختی اور بد اخلاقی قیادت میں نہایت نقصان دہ ہے۔ قیادت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کے دل میں محبت اور اعتماد پیدا کرے، اور یہ صرف اچھے اخلاق، نرم گفتاری اور درگزر کرنے سے ممکن ہے۔

 درگزر اور معافی کا رویہ

آیت میں مزید کہا گیا: "فَاعْفُ عَنْهُمْ"، یعنی ان لوگوں کی غلطیوں کو درگزر کیجیے۔ قیادت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی پیروی کرنے والوں کی غلطیوں کو نظر انداز کرے اور ان کے ساتھ محبت و شفقت کا برتاؤ کرے۔ یہ عمل نہ صرف لوگوں کے دلوں میں قائد کے لیے احترام بڑھاتا ہے بلکہ انہیں بہتر ہونے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔

 استغفار اور اللہ سے مدد

"وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ" کا حکم قیادت کے لیے یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ اپنی پیروی کرنے والوں کے لیے دعاگو رہے اور ان کی بہتری کی دعا کرے۔ یہ بات قائد کو اپنے پیروکاروں کے لیے مزید ذمہ دار اور ہمدرد بناتی ہے۔ ساتھ ہی، قیادت کو اپنی ذمہ داریوں کے بوجھ میں اللہ تعالیٰ کی مدد کا طلب گار ہونا چاہیے۔

 مشاورت کی اہمیت

اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو حکم دیتا ہے : "وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ" یعنی اہم معاملات میں اپنے ساتھیوں سے مشورہ کریں۔ یہ اصول اسلامی قیادت کے نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ مشاورت سے نہ صرف قائدین کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے بلکہ پیروکاروں میں ایک احساس پیدا ہوتا ہے کہ ان کی رائے کی قدر کی جا رہی ہے۔ اس سے قیادت میں شمولیت، اعتماد اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔

 پختہ عزم  اور اللہ پر  بھروسہ

آیت کے آخری حصے میں کہا گیا ہے: "فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ" یعنی جب آپ فیصلہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ کریں۔ یہ قیادت کا ایک نہایت اہم اصول ہے کہ مشاورت اور غور و فکر کے بعد جب کسی معاملے کا فیصلہ ہو جائے تو اس میں ثابت قدمی اختیار کی جائے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھا جائے۔ اللہ پر بھروسہ نہ صرف قائد کو اندرونی سکون عطا کرتا ہے بلکہ اسے چیلنجز کا سامنا کرنے میں بھی حوصلہ فراہم کرتا ہے۔

خلاصہ  کلام

اس آیت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ کامیاب قیادت کے لیے نرمی   دلی اور رحمت ، عفو ودرگزر، مشاورت اور اللہ پر بھروسہ انتہائی ضروری ہیں۔ ان اصولوں کو اپنانے سے قائدین نہ صرف اپنے پیروکاروں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں بلکہ وہ اجتماعی فلاح و بہبود کے مقصد کی طرف بہترین انداز میں رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ یہ اصول اسلامی قیادت کے بہترین ماڈل ہیں جو کہ آج بھی ہر سطح کی قیادت کے لیے قابلِ تقلید ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

کلمہ گو کی تکفیر میں احتیاط کے سلسلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا رویہ

تقویٰ کی حقیقت اور اس کا سماجی پہلو

علم کا مقصود اور اس کے درجات