کسی مسلمان کو کافر یا فاسق قرار دینے کے شرائط
کسی مسلمان کو کافر یا
فاسق قرار دینے کے شرائط
کسی بھی مسلمان پر کفر یا فسق کا حکم لگانے سے
قبل دو چیزوں کو دیکھنا ضروری ہے:
اول:کتاب و
سنت میں یہ بات واضح ہو کہ یہ قول یا فعل کفر یا فسق کا موجب ہے۔
دوم: کفر
یا فسق کا حکم معین شخص پر لاگو ہوتا ہو، یعنی کسی کو کافر یا فاسق قرار دینے کی
شرائط پوری ہوں اور اسے کافر یا فاسق قرار دینے میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔
اس کی اہم
ترین شرائط درج ذیل ہیں:
شرط اول:مرتکب خطا کو علم ہو کہ اس کی جو غلطی ہے وہ اس کے کافر
یا فاسق ہونے کی موجب ہے؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَنْ
يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ
سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ
مَصِيراً
. [النساء:115
]
’’ اور جو
ہدایت واضح ہونے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں کے راستے کے علاوہ کسی اور
راستے پر چلے تو ہم اسے اسی راستے کے سپرد کر دیتے ہیں، اور ہم اسے جہنم میں داخل
کریں گے،جو بد ترین ٹھکانا ہے۔‘‘
اسی طرح
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَا
كَانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ حَتَّى يُبَيِّنَ لَهُمْ
مَا يَتَّقُونَ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ. [
التوبہ:115]
’’ اللہ تعالیٰ
کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ نہیں کیا کرتا، جب تک کہ اس پر یہ واضح نہ کر
دے کہ اسے کن کن باتوں سے بچنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ یقیناً ہر چیز کو جاننے والا ہے
۔‘‘
محققین
فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص نو مسلم ہے اور وہ کسی فریضے کا انکار کر دیتا ہے تو وہ
اس وقت تک کافر نہیں ہو گا جب تک کہ اسے اس فریضے کے بارے میں آگاہ نہ کردیا جائے
۔
شرط
دوم:کسی پر کفر یا فسق کا حکم لگانے کے موانع
میں سے ایک مانع یہ ہے کہ کفر یا فسق کا موجب بننے والا عمل غیر ارادی طور پر سر
زد ہو جائے، اس کی متعدد صورتیں ہیں، مثلاً:
(۱)اس سے
کفریا فسق والا عمل جبراً کروایا جائے، چنانچہ وہ شخص کسی جبر کی وجہ سے مجبور ہو
کر وہ کام کرے، قلبی طور پر راضی ہو کر نہ کرے، تو ایسی صورت میں اسے کافر قرار
نہیں دیا جائے گا؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
مَنْ
كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ
مُطْمَئِنٌّ بِالْأِيمَانِ وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْراً فَعَلَيْهِمْ
غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ[النحل:106]
’’ جس شخص
نے ایمان لانے کے بعد اللہ سے کفر کیا، اِلا یہ کہ وہ مجبور کر دیا جائے اور اس کا
دل ایمان پر مطمئن ہو تو یہ معاف ہے مگر جس نے رضا مندی سے کفر کیا تو ایسے لوگوں
پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔‘‘
(۲)اس کی
ایک صورت یہ بھی ہے کہ اسے انتہا درجے کی فرحت ، یا غم یا خوف وغیرہ کی وجہ سے
معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ گیا ہے، اس کی دلیل اس حدیث میں ہے :
عن أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ مِنْ أَحَدِکُمْ کَانَ عَلَی رَاحِلَتِهِ بِأَرْضِ فَلَاةٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَأَيِسَ مِنْهَا فَأَتَی شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ فَبَيْنَا هُوَ کَذَلِکَ إِذَا هُوَ بِهَا قَائِمَةً عِنْدَهُ فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ :اللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّکَ، أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ.[1]
’’حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب بندہ اللہ سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس
آدمی سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جو سنسان زمین میں اپنی سواری پر ہو ،اور وہ سواری
اس سے گم ہوجائے اور اس کا کھانا پینا بھی اسی سواری پر ہو، اب وہ آدمی اس سے
ناامید ہو کر ایک درخت کے سایہ میں آکر لیٹ جائے اور جس وقت وہ اپنی سواری سے ناامید
ہو کر لیٹے اچانک اس کی سواری اس کے پاس آکر کھڑی ہوجائے اور وہ انسان اس کی لگام
پکڑ لے اور بے انتہا خوشی کی وجہ سے کہہ اٹھے: ’’اے اللہ تو میرا بندہ ہے اور میں
تیرا رب ہوں‘‘ یعنی فرط مسرت کی وجہ سے الفاظ میں غلطی کر جائے۔ ‘‘
(۳) ایک
مانع یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اس قول و فعل میں تاویل کر رہا ہو، مطلب یہ ہے کہ اس کے
پاس کچھ کچی باتیں ہو، جنہیں وہ حقیقی دلائل سمجھ کر یہ عمل کر رہا ہو، یا اسے
شرعی حجت اور دلیل صحیح انداز سے سمجھ نہ آئی ہو، تو ایسی صورت میں اسی وقت کسی کو
کافر قرار دیا جا سکتا ہے جب شرعی مخالفت عمداً ہو اور جہالت رفع ہو جائے، اس بارے
میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
ولَيْسَ
عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُم بِهِ وَلَكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ
وَكَانَ اللَّهُ غَفُوراً رَّحِيماً. [الاحزاب:5]
’’ جن کاموں
میں تم سے خطا ہو جائے تو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے، لیکن گناہ اس میں ہے جس
میں تم عمداً خطا کرو۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔ ‘‘
فتاویٰ تاتارخانیہ
میں ہے:
الاصل أن لا يكفر احد بلفظ محتمل: لأن الكفر نهاية في العقوبة فيستدعي نهاية في الجناية ومع الاحتمال لا نهاية. [2]
’’ اصول یہ ہے کہ کلام میں احتمال کی صورت میں قائل کی تکفیر نہیں کی جائے
گی ،کیوں کہ کسی کو کافر کہنا انتہا درجے کی سزا ہے ،اس لیے گناہ بھی انتہا درجے
کا ہونا چاہیئے، اور اگر کلام میں احتمال موجود ہے تو یہ انتہائی درجے کا گناہ نہیں۔‘‘
فتاویٰ تاتارخانیہ کے اسی صفحہ پر
امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول اس طرح نقل کیا گیا ہے :
قال ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ: لایکون الکفر کفرا حتی یعقد علیہ القلب.[3]
’’امام اعظم
ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کفر کو کفر اسی وقت کہا جائے گا جب اس
پر قلب کا اعتقاد ہو ۔‘‘

Comments
Post a Comment