عورتوں کے خاندانی و عائلی حقوقِ

 


عورتوں کے خاندانی و عائلی حقوق قرآن و سنت کی روشنی میں

اسلام نے عورتوں کو جہاں ازدواجی حقوق عطا کیے ہیں وہیں  اسلام نے ان کے انفرادی  ، سماجی و عائلی حقوق بھی متعین کیے ہیں اور ان حقوق  کو بحال کرنے والے کے لیے اجر و ثواب رکھا ہے اور تلف کرنے والے کے لیے عقاب اور عذاب کا  اعلان بھی فرمایا ہے۔سر دست ہم عورتوں کے خاندانی اور عائلی حقوق کی بات کرتے ہیں۔

بحیثیت ماں عورتوں کے حقوق

عورت بحیثیت ماں اسلام میں کیا مقام رکھتی ہے اس سلسلے میں اللہ کے پیار رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ حسن سلوک کی مستحق ماں ہے :

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: (أُمُّكَ). قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: (ثُمَّ أُمُّكَ). قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: (ثُمَّ أُمُّكَ). قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: (ثُمَّ أَبُوكَ) ([1])

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا یا رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری والدہ، عرض کی کہ پھر کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری والدہ، عرض کی کہ پھر کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری والدہ ہے، عرض کی کہ پھر کون ہے؟ فرمایا کہ تمہارا والد ہے۔‘‘.

بحیثیت بیٹی عورتوں کے حقوق

وہ معاشرہ جہاں بیٹی کی پیدائش کو ذلت و رسوائی کا سبب قرار دیا جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹی کو احترام و عزت کا مقام عطا کیا۔ اسلام نے نہ صرف معاشرتی و سماجی سطح پر بیٹی کا مقام بلند کیا بلکہ اسے وراثت کا حق دار بھی ٹھہرایا، ارشادِ ربانی ہے :

‌يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءٗ فَوۡقَ ٱثۡنَتَيۡنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۖ وَإِن كَانَتۡ وَٰحِدَةٗ فَلَهَا ٱلنِّصۡفُۚ [النساء: 11] 

’’اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لیے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زائد تو ان کے لیے اس ترکہ کا دو تہائی حصہ ہے اور اگر وہ اکیلی ہو تو اس کے لیے آدھا ہے۔‘‘

قرآن حکیم نے بیٹی کی پیدائش پر غم و غصے کو جاہلیت کی رسم اور انسانیت کی تذلیل قرار دیتے ہوئے اُس کی مذمت کی :

ﵟوَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِٱلۡأُنثَىٰ ظَلَّ وَجۡهُهُۥ مُسۡوَدّٗا وَهُوَ كَظِيمٞ ٥٨ ‌يَتَوَٰرَىٰ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ مِن سُوٓءِ مَا بُشِّرَ بِهِۦٓۚ أَيُمۡسِكُهُۥ عَلَىٰ هُونٍ أَمۡ يَدُسُّهُۥ فِي ٱلتُّرَابِۗ أَلَا سَآءَ مَا يَحۡكُمُونَ ٥٩ [النحل: 58-59] 

’’اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی (کی پیدائش) کی خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ غصہ سے بھر جاتا ہے اور وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (بزعم خویش) اس بری خبر کی وجہ سے جو اسے سنائی گئی ہے (اب یہ سوچنے لگتا ہے کہ) آیا اسے ذلت و رسوائی کے ساتھ (زندہ) رکھے یا اسے مٹی میں دبا دے (یعنی زندہ درگور کردے) خبردار کتنا برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں‘‘

اور بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کی ممانعت کرکے دورِ جاہلیت کی اس رسم بد کا قلع قمع کیا جو اسلام کی آمد سے قبل اس معاشرے میں جاری تھی :

‌وَلَا ‌تَقۡتُلُوٓاْ ‌أَوۡلَٰدَكُمۡ خَشۡيَةَ إِمۡلَٰقٖۖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُهُمۡ وَإِيَّاكُمۡۚ إِنَّ قَتۡلَهُمۡ كَانَ خِطۡـٔٗا كَبِيرٗا ٣١ [الإسراء: 31] 

’’اور تم اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل مت کرو ہم ہی انہیں (بھی) رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی، بے شک ان کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے‘‘

بحیثیت بہن   عورتوں کے حقوق

قرآن حکیم میں جہاں عورت کے دیگر معاشرتی و سماجی درجات کے حقوق کا تعین کیا گیا ہے، وہاں بطور بہن   بھی اس کے حقوق بیان کیے گئے ہیں۔ بطور بہن عورت کا وراثت کا حق بیان کرتے ہوئے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا گیا :

وَإِن كَانَ رَجُلٞ يُورَثُ كَلَٰلَةً أَوِ ٱمۡرَأَةٞ وَلَهُۥٓ أَخٌ أَوۡ أُخۡتٞ فَلِكُلِّ وَٰحِدٖ مِّنۡهُمَا ٱلسُّدُسُۚ فَإِن كَانُوٓاْ أَكۡثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُمۡ شُرَكَآءُ فِي ٱلثُّلُثِۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصَىٰ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٍ غَيۡرَ مُضَآرّٖۚ [النساء: 12] 

’’اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کی وراثت تقسیم کی جارہی ہو جس کے نہ ماں باپ ہوں نہ کوئی اولاد اور اس کا ماں کی طرف سے ایک بھائی یا ایک بہن ہو (یعنی اخیافی بھائی یا بہن) تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے پھر اگر وہ بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ تقسیم بھی) اس وصیت کے بعد (ہوگی) جو (وارثوں کو) نقصان پہنچائے بغیر کی گئی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد۔‘‘

  اس میں بھائی اور بہنوں سے مراد اَخیافی بھائی اور بہن ہیں یعنی جو میّت کے   ساتھ صرف ماں کی طرف سے رشتہ رکھتے ہوں اور باپ ان کا دُوسرا ہو۔ رہے سگے   بھائی بہن ، اور وہ سوتیلے بھائی بہن جو باپ کی طرف سے میت کے ساتھ رشتہ   رکھتے ہوں، تو ان کا حکم اِسی سُورہ کے آخر میں ارشاد ہوا ہے۔

وصیّت میں ضرر   رسانی یہ ہے کہ ایسے طور پر وصیّت کی جائے جس سے  مستحق رشتہ   داروں کے حقوق تلف ہوتے ہوں۔ اور قرض میں ضرر رسانی یہ ہے کہ محض حقداروں   کو محرُوم کرنے کے لیے آدمی خواہ مخواہ اپنے اُوپر ایسے قرض   کا اقرار کرے جو اس نے فی الواقع نہ لیا ہو، یا اور کوئی ایسی چال چلے جس   سے مقصُود یہ ہو کہ حقدار میراث سے محرُوم ہو جائیں۔ اس قسم کے ضِرار کو   گناہ ِ کبیرہ قرار دیا گیا ہے ۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ وصیّت میں نقصان   رسانی بڑے گناہوں  میں سے ہے۔ اور ایک دُوسری حدیث میں نبی   صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ آدمی تمام اہلِ جنّت کے سے کام کرتا   رہتا ہے مگر  مرتے وقت وصیّت میں ضرر رسانی کر کے اپنی زندگی   کو ایسے عمل پر ختم کر جاتا ہے جو اسے دوزخ کا مستحق بنا دیتا ہے ۔ یہ   ضِرار اور حق تلفی اگرچہ ہر حال میں گناہ ہے، مگر خاص طور پر کَلالہ کے   معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر اس لیے فرمایا کہ جس شخص کے نہ اولاد   ہو نہ ماں باپ ہوں اس میں عموماً  یہ میلان پیدا ہو جاتا ہے   کہ اپنی جائداد کو کسی نہ کسی طرح تلف کر جائے اور  نسبتاً   دُور کے رشتہ داروں کو حصّہ پانے سے محرُوم کر دے۔

معلوم ہوا کہ اگرکوئی    خاتون صرف ماں کی طرف سے بھی بہن کا رشتہ  رکھتی ہو  تو بھی میت کے اصول و فروع وارثین کے نہ ہونے کی صورت میں اس کے  میراث میں اس بہن کا بھی حصہ ہوگا۔

بحیثیت بیوی عورتوں کے حقوق

شوہر کے حقوق سے مراد بیوی کی وہ ذمہ داریاں ہیں، جن کا پورا کرنا اس کے لیے لازم و ضروری ہے اور بیوی کے حقوق سے مراد نان و نفقہ کی فراہمی سمیت وہ امورِ لازم و شرعیہ ہیں، جن کو بجا لانا مرد کے لیے لازم و ضروری ہے۔ اسی لیے قرآن کریم میں انہیں ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے۔ یہ تمام حقوق نص صریح کے مطابق شرعاً فرائض کا درجہ رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:

ﵟٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعۡضَهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ وَبِمَآ أَنفَقُواْ مِنۡ أَمۡوَٰلِهِمۡۚ فَٱلصَّٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٞ لِّلۡغَيۡبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُۚ وَٱلَّٰتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهۡجُرُوهُنَّ فِي ٱلۡمَضَاجِعِ وَٱضۡرِبُوهُنَّۖ فَإِنۡ أَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُواْ عَلَيۡهِنَّ سَبِيلًاۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيّٗا كَبِيرٗا ٣٤ وَإِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَٱبۡعَثُواْ حَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهِۦ وَحَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهَآ إِن يُرِيدَآ إِصۡلَٰحٗا يُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَيۡنَهُمَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرٗا ٣٥ﵞ [النساء: 34-35] 

’’مرد عورتوں پر نگراں ہیں اس فضیلت کی وجہ سے جو اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر بخشی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ وہ اپنے اموال (ان پر) خرچ کرتے ہیں۔ پس نیک عورتیں فرمانبردار اور غیب میں بھی ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں جن کی حفاظت کی اللہ نے تاکید کی ہے۔ اور وہ عورتیں جن سے تمہیں باغیانہ رویے کا خوف ہو تو ان کو (پہلے تو) نصیحت کرو، پھر ان کو بستروں میں الگ چھوڑ دو اور پھر (عند الضرورت) انہیں بدنی سزا بھی دو۔ پس اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو پھر ان کے خلاف کوئی حجت تلاش نہ کرو۔ یقیناً اللہ بہت بلند (اور) بہت بڑا ہے۔‘‘

مرد قوام ہے۔ یعنی بیوی کے معاشرتی، سماجی اور تمدنی حقوق کی پاس داری کے ساتھ گھر کی کفالت بھی مرد کی ذمہ داری ہے۔قوام ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ ایک جابر بادشاہ کی طرح عورت کو اپنی لونڈی یا ملکیت خیال کرے بلکہ قوام ہونے کا یہ مطلب ہے کہ وہ عورت کو نان نفقہ کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اس کا مقام بھی قائم کرے۔ اسے شرعی حدود و قیود کے دائرہ میں معاشرہ میں نکلنے اور ترقی کرنے کی اجازت دے۔

نان و نفقہ کے سلسلے   میں  رسول اللہ  کا ارشاد :

اَلَا وَحَقُّهُنَّ عَلَيْكُمْ اَنْ تُحْسِنُوْا اِلَيْہِنَّ فِيْ كِسْوَتِهِنَّ وَطَعَامِهِنَّ۔([2])

یعنی غور سے سنو! بیویوں کا تم پر حق ہے کہ اوڑھنے پہننے اور کھانے پینے کے معاملات میں اُن کے ساتھ بھلائی سے پیش آؤ۔

رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی  زندگی  ہر لحاظ سے مثالی اور بہترین تھی۔ آپ اپنے اہل خانہ کے نان و نفقہ کا بطور خاص اہتمام فرماتے تھے۔

باہمی الفت و محبت کا حق

میاں بیوی کے درمیان جب تک الفت اور محبت نہ ہو تو حقوق کا قیام عمل میں نہیں آسکتا۔ اس ضمن میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم  کا بنیادی حکم یہ ہے :

إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللّٰهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا، حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ۔([3])

’’یعنی اگر تو اپنے وارثوں کو اپنے پیچھے مالدار چھوڑ جائے تو یہ اس سے بہتر ہو گا کہ محتاجی میں انہیں اس طرح چھوڑ کر جائے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ یہ یاد رکھو کہ جو خرچ بھی تم اللہ کی رضا کی نیت سے کرو گے تو اس پر بھی تمہیں ثواب ملے گا۔ حتیٰ کہ اس لقمہ پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھو۔‘‘

مذکورہ بالا حدیث میں جہاں اپنے پیچھے اپنی اولاد کو محتاج  نہ چھوڑنے کے سلسلے میں یہ حکم ہے وہیں یہ حدیث میاں بیوی کی باہمی الفت و محبت کا بھی پتہ دیتی ہے۔

 آج کل معاشرے میں لوگ پیسہ جمع کرنے میں جوشیلے نظر آتے ہیں لیکن اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم جو کچھ اپنے آپ کو کھلاتے ہو وہ تمہارے لیے صدقہ ہے۔ جو اپنے بچے کو کھلاتے ہووہ بھی صدقہ ہے۔ جو بیوی کو کھلاتے ہو وہ بھی صدقہ ہے اور جو اپنے خادم کو کھلا تے ہووہ بھی صدقہ ہے۔

ازدواجی رشتوں کے قیام میں میاں بیوی کے حقوق

قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کے تسلسل و بقاء کے لیے ازدواجی زندگی اور خاندانی رشتوں کو اپنی نعمت قرار دیا :

وَاللّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَكُم مِّنْ أَزْوَاجِكُم بَنِينَ وَحَفَدَةً وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ اللهِ هُمْ يَكْفُرُونَ. القرآن، النحل، 16 : 72

’’اور اللہ نے تم ہی میں سے تمھارے لیے جوڑے پیدا فرمائے اور تمہارے جوڑوں (بیویوں) سے تمہارے لیے بیٹے، پوتے اور نواسے پیدا فرمائے اور تمہیں پاکیزہ رزق عطا فرمایا تو کیا پھر بھی وہ (حق کو چھوڑ کر) باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمت سے وہ ناشکری کرتے ہیں ‘‘

دوسرے مقام پر بیوی کے رشتے کی اہمیت اور اس سے حسن سلوک کو یوں بیان کیا گیا :

أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَآئِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ عَلِمَ اللّهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُواْ مَا كَتَبَ اللّهُ لَكُمْ وَكُلُواْ وَاشْرَبُواْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّواْ الصِّيَامَ إِلَى الَّيْلِ وَلاَ تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ تِلْكَ حُدُودُ اللهِ فَلاَ تَقْرَبُوهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ. القرآن. البقره 2 : 187

’’تمہارے لیے روزوں کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کردیا گیا ہے وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو، اللہ کو معلوم ہے کہ تم اپنے حق میں خیانت کرتے تھے تواس نے تمہارے حال پر رحم کیا اور تمہیں معاف فرمادیا، پس (اب روزوں کی راتوں میں بیشک) ان سے مباشرت کیا کرو اور جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے اس کو تلاش کرو، اور کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ تم پر صبح کا سفید ڈورا (رات کے) سیاہ ڈورے سے (الگ ہوکر) نمایاں ہوجائے، پھر روزہ رات (کی آمد) تک پورا کرو، اور عورتوں سے اس دوران میں شب باشی نہ کیا کرو جب تم مسجدوں میں معتکف رہو، یہ اللہ کی (قائم کردہ) حدیں ہیں پس ان کے توڑنے کے نزدیک نہ جاؤ، اِسی طرح اللہ لوگوں کے لیے اپنی آیتیں (کھول کر) بیان کرتا ہے تاکہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں ‘‘

وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ وَلاَ يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُواْ إِصْلاَحًا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكُيمٌ. القرآن. البقره. 2 : 228

’’اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں، اور ان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اسے چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا فرما دیا ہو اگر وہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں، اس مدت کے اندر ان کے شوہروں کو انہیں (پھر) اپنی زوجیت میں لوٹانے کا حق زیادہ ہے اگر وہ اصلاح کا ارادہ کرلیں، اور دستور کے مطابق عورتوں کے بھی مردوں پر اسی طرح حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر، البتہ مردوں کو ان پر فضیلت ہے، اور اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے۔‘‘

وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ. القرآن. النساء. 4 : 12

’’اور تمہارے لیے اس (مال) کا آدھا حصہ ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں بشرطیکہ ان کی کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو تمہارے لیے ان کے ترکہ سے چوتھائی ہے (یہ بھی) اس وصیت (کے پورا کرنے) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد، اور تمہاری بیویوں کا تمہارے چھوڑے ہوئے (مال) میں سے چوتھا حصہ ہے بشرطیکہ تمہاری کوئی اولاد نہ ہو پھر اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو ان کے لیے تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے تمہاری اس (مال ) کی نسبت کی ہوئی وصیت (پوری کرنے) یا تمہارے قرض کی ادائیگی کے بعد۔‘‘

یہ قرآنِ حکیم ہی کی تعلیمات کا عملی ابلاغ تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیوی سے حسن سلوک کی تلقین فرمائی :

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا، وَامْرَأَتِي حَاجَّةٌ، قَالَ: ارْجِعْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ.» ([4])

’’ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ایک شخص حاضر ہو کر عرض گزار ہوا : یا رسول اللہ! میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں لکھ لیا گیا ہے اور میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم واپس چلے جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔‘‘.

محبت اور الفت کے یہ معیار خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عملی زندگی میں بھی دکھائے ہیں۔

عن زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَبَلَغَهُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ شِدَّةُ الوجع، فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى كَانَ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّفَقِ نَزَلَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعَتَمَةَ، جَمَعَ بَيْنَهُمَا، ثُمّ قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ وجمع بينهما.([5])

’’زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں مکہ مکرمہ کے سفر میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا انہیں اپنی زوجہ محترمہ حضرت صفیہ بنت ابوعبید کے بارے میں خبر پہنچی کہ وہ سخت بیمار ہیں۔ انہوں نے رفتار تیز کر دی اور مغرب کے بعد جب شفق غائب ہو گئی تو سواری سے اترے اور مغرب کی نماز ادا کر کے نماز عشاء بھی اس کے ساتھ ملا کر پڑھ لی اور فرمایا کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ کو سفر طے کرنے میں جلدی ہوتی تو مغرب میں دیر کر کے مغرب و عشاء کو جمع فرما لیتے۔‘‘

مرض کی حالت میں بیوی کے ساتھ حسن سلوک

اسلام سے پہلے عورت کی ناقدری اور ذلت کا ایک اور پہلو یہ تھا کہ اپنے مخصوص ایام میں اسے سب گھر والوں سے جدا رہنا پڑتاتھا۔ خاوند کے ساتھ بیٹھنا تو در کنار اہل خانہ بھی اس سے میل جول نہ رکھتے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاشرتی برائی کو دور کیا اور آپ کی شر یعت میں یہ حکم اترا کہ حیض ایک تکلیف دہ عارضہ ہے ان ایام میں صرف ازدواجی تعلقات کی ممانعت ہے عام معاشرت ہرگز منع نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  بیویوں کے مخصوص ایام میں ان کا اور زیادہ لحاظ فرماتے۔ ان کے ساتھ مل بیٹھتے۔ بستر میں ان کے ساتھ آرام فرماتے اور ملاطفت میں کوئی کمی نہ آنے دیتے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایام مخصوصہ میں بھی بسا اوقات ایسا ہوتا کہ میرے ساتھ کھانا تناول کرتے ہوئے حضور گوشت کی ہڈی یا بوٹی میرے ہاتھ سے لے لیتے اور بڑی محبت کے ساتھ اس جگہ منہ رکھ کر کھاتے جہاں سے میں نے اسے کھایا ہوتا تھا۔ میں کئی دفعہ پانی پی کر برتن حضور کو پکڑا دیتی تھی۔ حضور وہ جگہ ڈھونڈ کر جہاں سے میں نے پانی پیا ہوتا تھا وہیں منہ رکھ کر پانی پیتے تھے۔ (ابوداؤد کتاب الطہارة)اور یہ آپ کے پیار کا ایک انوکھا اور ادنیٰ سا اظہار ہوتا تھا۔

بیوی کے رشتہ داروں سے حسن سلوک

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی  زندگی میں ایک نمایاں خلق یہ بھی نظر آتا ہے کہ آپ بیویوں کے نیک اوصاف کی بہت قدر فرماتے تھے۔ چنانچہ حضرت خدیجہ کے ایثار وفدائیت اور وفا کی ان کی زندگی میں بھی ہمیشہ پاسداری کی۔ اور وفات کے بعد بھی کئی سال تک آپ نے دوسری بیوی نہیں کی۔ ہمیشہ محبت اور وفا کے جذبات کے ساتھ حضرت خدیجہ کا محبت بھرا سلوک یاد کیا۔ آپ کی اکثراولاد حضرت خدیجہ کے بطن سے تھی اس کی تربیت و پرورش کاآپ نے خوب لحاظ رکھا۔ نہ صرف ان کے حقوق ادا کیے بلکہ حضرت خدیجہ کی امانت سمجھ کر ان سے کمال درجہ محبت فرمائی۔ آپ حضرت خدیجہ کی بہن ہالہ کی آواز کان میں پڑتے ہی کھڑے ہوکر ان کا استقبال کرتے اور خوش ہوکر فرماتے خدیجہ کی بہن ہالہ آئی ہیں۔ گھر میں کوئی جانور ذبح ہوتا تو اس کا گوشت حضرت خدیجہ کی سہیلیوں میں بھجوانے کی تاکید فرماتے۔

بیوی کی تفریح  طبع کا خیال

بعض لوگوں میں عورت کے پردہ کو لے کر اتنی شدت آگئی ہے کہ وہ عورت کے گھر سے باہر قدم نکالنے کو بھی گناہِ کبیرہ قرار دیتے ہیں۔ اس ضمن میں یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام کی ایسی کوئی سخت تعلیم نہیں۔ بلکہ پردہ میں رہ کر عورت خود کو ایک محفوظ حصار میں خیال کرتے ہوئے ہر کام کر سکتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل  اس بارے میں واضح ہے کہ آپ اپنی ازواج  کو جنگوں میں لے کر جاتے، حج و عمرہ میں بھجوایا بلکہ ساتھ بھی لے کر گئے، اور پھر خود حفاظتی حصار مہیا کرکے بیوی کے لیے تفریح کا سامان بھی مہیا کیا۔ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عورت کے باپردہ گھر سے باہر نکلنے پر اعتراض نہ تھا۔

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ الْحَبَشُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ، فَسَتَرَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صلى اللّٰه عليه وسلم وَأَنَا أَنْظُرُ، فَمَا زِلْتُ أَنْظُرُ حَتَّى كُنْتُ أَنَا أَنْصَرِفُ فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ تَسْمَعُ اللَّهْوَ۔ ([6])

’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ فوجی کھیل کا نیزہ بازی سے مظاہرہ کر رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے جسم مبارک سے) میرے لیے پردہ کیا اور میں وہ کھیل دیکھتی رہی۔ میں نے اسے دیر تک دیکھا اور خود ہی اکتا کر لوٹ آئی۔ اب تم خود سمجھ لو کہ ایک کم عمر لڑکی کھیل کو کتنی دیر تک دیکھ سکتی ہے اور اس میں دلچسپی لے سکتی ہے۔‘‘

بیوی کے ساتھ سختی  نہ کرنے کے سلسلے میں رسول اللہ کی تعلیمات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے معمولی اور وقتی ناراضگی کے علاوہ کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جس سے معلوم ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لمبے عرصہ تک اپنی کسی زوجہ سے ناراض رہے ہوں یا آپ کو مارنے کی نوبت آئی ہو۔ بلکہ آپ نے تشدد کو ناپسند فرمایا۔ مرد کی فطرت کے مطابق حدود کا تعین بھی کردیا کہ اگر مارنے کی نوبت آئے تو چہرے پر نہیں مارنا۔خطبہ حجۃ الوداع کی طویل حدیث میں درج ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:

فَاتَّقُوا اللّٰهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللّٰهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللّٰهِ، وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ۔([7])

’’یعنی تم لوگ عورتوں کے معاملے میں اللہ کا تقوی اختیار کرو۔ اس لیے کہ ان کو تم نے اللہ کی امان سے لیا ہے اور تم نے ان کے ستر کو اللہ تعالیٰ کے کلمہ سے حلال کیا ہے اور تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ تمہارے بچھونے پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں (یعنی تمہارے گھر میں ) جس کا آنا تم کو ناگوار ہو۔ پھر اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسے مارو کہ ان کو سخت چوٹ نہ لگے (یعنی ہڈی وغیرہ نہ ٹوٹے، کوئی عضو ضائع نہ ہو۔ حسن صورت میں فرق نہ آئے کہ تمہاری کھیتی اجڑ جائے) اور ان کا حق تمہارے اوپر اتنا ہے کہ روٹی ان کی اور کپڑا ان کا دستور کے موافق تمہارے ذمہ ہے۔‘‘

لَا يَجْلِدُ اَحَدُكُمْ اِمْرَاَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ ثُمَّ يُجَامِعُهَا فِيْ آخِرِ الْيَوْمِ۔([8])

یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں کوئی شخص اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح نہ مارے کہ پھر دن کے آخری حصہ میں اس سے ہمبستر ہو گا۔ یعنی اس وقت کیا عزتِ نفس باقی رہ جائے گی کہ دن میں عورت کو ذلیل کیا ہو اور رات کو اسی کے پاس تسکین کی غرض سے جاؤ۔

ایسا حسن سلوک  جس کی بیوی بھی گواہی دے

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔.یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زندگی اسوۂ حسنہ ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے شادیاں کیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد بھی ہوئیں۔ حضرت خدیجہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تقریباً پندرہ برس کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد پہلی وحی کے موقع پر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حسنِ معاشرت کے بارے میں جو گواہی دی وہ یہ تھی:

«فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، فوالله إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ»([9])

’’اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ اللہ کی قسم! آپ تو صلہ رحمی کرنے والے ہیں، آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں، آپ کمزور و ناتواں کا بوجھ خود اٹھا لیتے ہیں، جنہیں کہیں سے کچھ نہیں ملتا وہ آپ کے یہاں سے پا لیتے ہیں۔ آپ مہمان نواز ہیں اور حق کے راستے میں پیش آنے والی مصیبتوں پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔‘‘

حضرت عائشہ کی شہادت گھریلوزندگی کے بارے میں یہ ہے کہ نبی کریم تمام لوگوں سے زیادہ نرم خو تھے اور سب سے زیادہ کریم عام آدمیوں کی طرح بلا تکلف گھر میں رہنے والے۔ آپ نے کبھی تیوری نہیں چڑھائی ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے۔ نیز آپ فرماتی ہیں کہ اپنی ساری زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کبھی اپنی کسی بیوی پر ہاتھ اٹھایا نہ کبھی کسی خادم کو مارا۔ (شمائل ترمذی باب ماجاء فی خلق رسول اللہ)

ان دونوں گواہیوں سےیہ معلوم ہوجاتاہے کہ آپ کے اخلاق اپنے گھر کے اندر اور گھر سے باہرکیسے تھے۔ ایک عام انسان جس کا برتاؤ اس کے گھر پر اپنے اہل وعیال کے ساتھ اچھا نہ ہو  تو اس کے اخلاق گھر کے باہر بھی اچھے نہیں ہوتے اور  اگر باہر اچھے تعلقات اور اخلاق کا مظاہرہ کر بھی لے تو اس کے گھر سے ایسی گواہی ملنا ناممکن ہے۔اللہ تعالی ہم سب کو اپنے نبی کی سیرت پر عمل کرنے والا بنائے آمین۔

 



([1])بخاري، الصحيح، کتاب الأدب، باب من أحق الناس، 5 : 2227، رقم : 5626

([2] ) ترمذی، کتاب الرضاع، باب ماجاء فی حق المرأة علی زوجھا حدیث: 1166۔

([3] ) (بخاری کتاب الجنائز: ۱۲۹۵)

([4] ) بخاري، الصحيح، کتاب الجهاد، باب کتابة الإمام الناس، 3 : 1114، رقم : 2896

([5] ) بخاري، الصحيح، کتاب الحج، باب السافر إذا جد به، 2 : 639، رقم : 1711

([6] )صحیح بخاری حدیث نمبر: 5190

([7] ) صحیح مسلم کتاب الحج حدیث نمبر: 2950

([8] ) صحیح بخاری حدیث نمبر: 5204

([9] ) «صحيح البخاري» 4/ 1894 ت البغا:رقم: 4670

Comments

Popular posts from this blog

کلمہ گو کی تکفیر میں احتیاط کے سلسلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا رویہ

تقویٰ کی حقیقت اور اس کا سماجی پہلو

علم کا مقصود اور اس کے درجات