اللہ کی طرف رجوع: استغفار اور نبی ﷺ کی شفاعت
اللہ کی طرف رجوع: استغفار اور نبی ﷺ کی
شفاعت
ڈاکٹر مفتی محمد مجیب الرحمٰن علیمی
قرآن مجید میں سورۃ النساء کی آیت 64 ہمیں ایک انتہائی اہم اور
روحانی حقیقت سے روشناس کراتی ہے جو انسانی فطرت، اللہ تعالیٰ کی رحمت، اور نبی
کریم ﷺ کی عظمت پر مبنی ہے۔ اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ
جب انسان اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے، یعنی گناہ کرتا ہے، تو اس کے لیے اللہ کی رحمت
اور مغفرت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے بشرطیکہ وہ سچے دل سے توبہ کرے اور نبی ﷺ
کی شفاعت طلب کرے۔ اس آیت میں کچھ اہم نکات واضح کیے جا سکتے ہیں جو دعوتی پیغام
کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
وَمَاۤ
أَرۡسَلۡنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِیُطَاعَ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَلَوۡ أَنَّهُمۡ
إِذ ظَّلَمُوۤا۟ أَنفُسَهُمۡ جَاۤءُوكَ فَٱسۡتَغۡفَرُوا۟ ٱللَّهَ وَٱسۡتَغۡفَرَ
لَهُمُ ٱلرَّسُولُ لَوَجَدُوا۟ ٱللَّهَ تَوَّابࣰا رَّحِیمࣰا ۔
ترجمہ:(انہیں بتاوٴ کہ) ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لیے
بھیجا ہے کہ اذنِ خداوندی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے۔ اگر انہوں نے یہ طریقہ
اختیار کیا ہوتا کہ جب یہ اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے تھے تو تمہارے پاس آجاتے اور
اللہ سے معافی مانگتے، اور رسول بھی ان کے لیے معافی کی درخواست کرتے، تو یقیناً
اللہ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے۔)
نبی
ﷺ کی اطاعت اور ان کی شفاعت کی اہمیت
آیت کے آغاز میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "وَمَا أَرۡسَلۡنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا
لِیُطَاعَ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ" یعنی ہر رسول کو ہم نے اس لیے
بھیجا ہے کہ لوگ اس کی اطاعت کریں، اللہ کے حکم سے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ
ﷺ کی اطاعت درحقیقت اللہ کی اطاعت ہے، اور ان کی تعلیمات اور ہدایات پر عمل کرنا
ہی نجات کا راستہ ہے۔ رسولوں کی آمد کا مقصد صرف پیغام پہنچانا نہیں بلکہ ان کی
اطاعت اور اتباع لوگوں کی فلاح و نجات کا ذریعہ ہے۔ آج کے دور میں بھی یہ بات واضح
ہے کہ اگر ہم کامیاب زندگی چاہتے ہیں تو ہمیں نبی ﷺ کی سنت اور تعلیمات پر عمل
کرنا ہوگا۔
گناہ
کا احساس اور رجوع کی ضرورت
آیت کے اگلے حصے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَلَوۡ أَنَّهُمۡ إِذ ظَّلَمُوۤا۟
أَنفُسَهُمۡ" یعنی جب وہ اپنے نفس پر ظلم کریں، تو یہاں
"ظلم" سے مراد گناہ کرنا ہے۔ انسان گناہوں کا ارتکاب کر کے دراصل اپنے
نفس پر ظلم کرتا ہے کیوں کہ گناہ اسے اللہ کی رحمت سے دور کر دیتے ہیں اور روحانی
نقصان پہنچاتے ہیں۔ لیکن اس آیت میں یہ امید بھی دلائی گئی ہے کہ اگر انسان اپنے
گناہ کا احساس کرے اور اپنے ظلم کا ادراک کرے تو اس کے لیے اللہ کی طرف رجوع کرنے
کا راستہ کھلا ہوا ہے۔
توبہ اور استغفار
آگے
اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ
وسلم سے ارشاد فرماتا ہے: "جَاۤءُوكَ فَٱسۡتَغۡفَرُوا۟ ٱللَّهَ"
یعنی جب وہ آپ ﷺ کے پاس آئیں اور اللہ سے مغفرت طلب کریں۔ یہاں پر ہمیں توبہ کی
اہمیت کا پیغام ملتا ہے۔ گناہوں کا احساس کرتے ہوئے اللہ کی طرف رجوع کرنا اور اس
سے مغفرت مانگنا ہی انسان کی حقیقی نجات ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ توبہ
کرنے والوں کو معاف کرتا ہے، کیونکہ وہ "تَوَّابࣰا رَّحِیمࣰا"
یعنی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
نبی
ﷺ کی شفاعت کی قبولیت
آیت کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَٱسۡتَغۡفَرَ لَهُمُ ٱلرَّسُولُ
لَوَجَدُوا۟ ٱللَّهَ تَوَّابࣰا رَّحِیمࣰا"، یعنی
اگر رسول ان کے لیے استغفار کریں تو وہ یقیناً اللہ کو توبہ قبول کرنے والا اور
رحم کرنے والا پائیں گے۔ یہ آیت نبی ﷺ کی شفاعت کی عظمت اور اہمیت کو واضح کرتی
ہے۔ نبی کریم ﷺ کا مقام اللہ کے نزدیک اتنا بلند ہے کہ ان کی شفاعت سے گناہ گاروں
کے لیے مغفرت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔
دعوتی پیغام
یہ آیت مسلمانوں کے لیے ایک نہایت اہم پیغام رکھتی ہے۔ سب سے
پہلے، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ نبی کریم ﷺ کی اطاعت ہمارے لیے ضروری ہے اور وہی
ہماری نجات کا ذریعہ ہیں۔ اگر ہم اپنی زندگیوں میں غلطیاں اور گناہ کرتے ہیں، تو
ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ اللہ کی رحمت ہمیشہ ہمارے لیے دستیاب ہے، بشرطیکہ
ہم سچے دل سے توبہ کریں اور اللہ سے مغفرت طلب کریں۔ نبی کریم ﷺ کی شفاعت ہمارے
لیے ایک عظیم نعمت ہے، اور ان کے ذریعے اللہ سے معافی طلب کرنا ہماری مغفرت کا
بہترین ذریعہ ہے۔
آج کے دور میں، جب معاشرہ مختلف چیلنجز اور گناہوں میں مبتلا
ہے، ہمیں اس آیت کے پیغام کو سمجھتے ہوئے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، نبی کریم ﷺ
کی سنت کو اپنانا چاہیے، اور سچے دل سے توبہ کرتے ہوئے اللہ کی مغفرت طلب کرنی
چاہیے۔ یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے، اور یہی وہ پیغام ہے جو ہمیں اس آیت سے
ملتا ہے۔

Comments
Post a Comment