کلمہ گو کی تکفیر میں احتیاط کے سلسلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا رویہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ(۱۵۰ھ) حتی الامکان کلمہ گو کی تکفیر سے احتراز کرتے تھے، آپ کا مسلک اور رویہ یہ تھا کہ اگر کسی مسلمان کے کسی قول میں کفر کی متعدد پہلو ہوتے اور صرف ایک پہلو ایمان کا ہوتا تو دیگر تمام پہلوؤں پر ایمان کے پہلو کو ترجیح د یتے اور ہر ممکن حد تک اہل اسلام اور اہل توحید کے قول و فعل کی تاویل فرماتے: معروف عالم و محقق اور سیرت نگار ،صاحب ’’ عقود الجمان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان ‘‘ محمد بن یوسف بن علی بن یوسف دمشقی شافعی (۹۴۲ھ) رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مذکورہ کتاب میں امام اعظم قدس سرہ کا ایک واقعہ یوں نقل کیا ہے : روى القاضي أبو عبدالله الصيمري عن زائدة ، وأبو الموئد الخوارزمي عن محمد بن قاتل: قالا : إن رجلا قصد أبا حنيفة فقال : ماتقول في رجل لا يرجو الجنة ، ولايخاف من النار، ولا يخاف الله تعالى ، ويأكل الميتة ، ويصلى بلا ركوع ولا سجود ، ويشهد بما لا يرى ، ويبغض الحق ، ويحب الفتنة ، ويفر من الرحمة ، ...
تقویٰ کی حقیقت اور اس کا سماجی پہلو ڈاکٹر محمد مجیب الرحمٰن علیمی قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے جگہ جگہ اپنے بندوں کو مخاطب کرتے ہوئے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم فرمایاہے ، تقویٰ کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی ناراضگی سے بچنے کے لیے اپنے اعمال، اقوال اور نیتوں کو درست رکھنا۔ یہ دل کی ایسی کیفیت ہے جو انسان کو برائیوں سے روکتی اور نیک کاموں کی طرف راغب کرتی ہے۔ تقویٰ کی بنیاد اس بات پر ہے کہ انسان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور اس کے حساب و کتاب کو مدنظر رکھے۔ تقویٰ کی تعریف تقویٰ کی تعریف کرتے ہوئے اہل علم نے فرمایاہے: "التقوی هي أن يجعل العبد بينه وبين عذاب الله وقايةً، وذلك بفعل ما أمر الله به واجتناب ما نهى عنه." ترجمہ:تقویٰ یہ ہے کہ بندہ اپنے اور اللہ کے عذاب کے درمیان ایک حفاظت کی دیوار قائم کرے، اور یہ اللہ کے احکام کی پیروی کرنے اور اس کی منع کردہ چیزوں سے بچنے کے ذریعے ممکن ہے۔" یہ تعریف اس بات کو واضح کرتی ہے کہ تقویٰ اللہ کے حکم کی اطاعت اور اس کی ناراضگی سے بچنے کا نام ہے۔ تقویٰ کی بنیاد تقویٰ کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے وجود...
علم کا مقصود اور اس کے درجات عزیز طلبہ! علم کی پانچ قسمیں ہیں( ۱) علم الاحکام ( ۲) علم الافعال ( ۳) علم الاسماء( ۴) علم الصفات ( ۵) علم الذات ۔ پہلا علم آسان ہے دوسرے علم سے اور دوسرا تیسرے سے ،تیسرا چوتھے سے اور چوتھا آسان ہے پانچویں سے ۔ علم الذات تک رسائی یعنی معرفت الٰہی کا حصول ہی انسان کا مقصد اصلی ہے ۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ(الذاریات : ۵۶) اَیْ لِیَعْرِفُوْنَ۔ یعنی اللہ رب العزت نے جن و انس کو اپنی معرفت حاصل کرنےہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ہماری تخلیق کا مقصداس وقت حاصل ہوگا جب اللہ کی معرفت حاصل کرلیں،اللہ کی معرفت کا حصول ہم تدریجا کر سکتے ہیں ۔ پہلے ہم علم الاحکام کو جانیں یعنی شریعت کے علم سے آراستہ ہوں اور پھر علم الافعال کو طلب کریں، اسی طرح اسمائے الٰہی کے اسرار کو جاننے کی کوشش کریں، پھر صفات الٰہی کے رموز وتجلیات کے بھید کو جاننے کی جد وجہد کریں۔ جب ہم ان علوم اور اس کے اسرار تک رسائی کی کوشش کریں گے تو اللہ رب العزت اپنے فضل سے اپنی ذات کی معرفت عطا فرمائے گا جو ...
Comments
Post a Comment