ایمان کی اہمیت اور مومن کی صفات

 


 ایمان کی اہمیت اور مومن کی صفات

 

ڈاکٹر مجیب الرحمٰن علیمی

اسلام میں مومن کی حقیقی تعریف اور اس کی زندگی میں ایمان کی مضبوطی ایک بنیادی موضوع ہے جسے قرآن مجید میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ سورہ الانفال کی آیت نمبر: 2؍ میں مومن کی بعض اہم صفات کا ذکر کیا گیا ہے جو اس کی زندگی میں ایمان کی گہرائی اور مضبوطی کو ظاہر کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلَّذِینَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتۡ قُلُوبُهُمۡ وَإِذَا تُلِیَتۡ عَلَیۡهِمۡ ءَایَـٰتُهُۥ زَادَتۡهُمۡ إِیمَـٰنࣰا وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ یَتَوَكَّلُونَ ۔

ترجمہ:"مومن تو بس وہ ہیں جن کے دل اللہ کے ذکر سے کانپ اٹھتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔"

اس آیت کی روشنی میں مومن کی خصوصیات کو درج ذیل نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے:

 اللہ کے ذکر سے دلوں کا لرزنا

اللہ تعالیٰ کے ذکر سے مومن کا دل لرز اٹھتا ہے، جو خدا کی عظمت اور کبریائی کا شعور اور خشیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مومن کے دل میں اللہ کا خوف اس کی ایمانی کیفیت کا سب سے اہم پہلو ہوتا ہے۔ جب وہ اللہ کا ذکر سنتا ہے تو اس کے اندر عاجزی اور بندگی کا احساس پیدا ہوتا ہے،  جو اس کے اعمال پر اثر انداز ہوتا ہے۔

 آیات کی تلاوت سے ایمان میں اضافہ

مومن کی زندگی میں قرآن مجید کی تلاوت اور آیات کا سننا ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب وہ اللہ کی آیات سنتا ہے تو اس کا ایمان مزید پختہ ہو جاتا ہے۔ یہ اضافہ ایمان کی روحانی غذاء ہے جو اسے دنیا کی مشکلات اور فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کرتا ہے۔ مومن کی سمعی اور قلبی صلاحیتیں قرآن کی ہدایت کے ذریعے پروان چڑھتی ہیں اور اس کا دل نور ایمان سے منور ہوجاتا ہے۔

 اللہ پر توکل

مومن کی ایک نمایاں صفت یہ ہے کہ وہ ہر معاملے میں اپنے رب پر مکمل بھروسہ کرتا ہے۔ دنیاوی اسباب پر توجہ دیتے ہوئے اور اس کو بروئے کار لاتے ہوئے  بھی وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ حقیقی کارساز اللہ ہی ہے۔ توکل، مومن کی زندگی کا محور ہوتا ہے اور اسے مشکلات میں ثابت قدمی اور سکون عطا کرتا ہے۔

 ایمان کی پختگی

آیت کی روشنی میں یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مومن کا ایمان ایک مستقل اور متحرک کیفیت میں رہتا ہے۔ وہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا اور مضبوط ہوتا ہے۔ مومن اپنی عملی زندگی میں اللہ کے احکام پر عمل پیرا رہتا ہے اور ان کے ذریعے اپنے ایمان کو مزید تقویت بخشتا ہے۔

 خشوع و خضوع

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مومن کے اندر خشوع و خضوع کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، جو اس کے دل کی نرمی اور اللہ کی قربت کا اظہار ہے۔ یہ خشوع مومن کی زندگی کے ہر پہلو پر غالب آتا ہے اور اسے اللہ کی رضا کی تلاش میں مصروف و مسروررکھتا ہے۔

 اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق

مومن کا اللہ کے ساتھ ایک گہرا اور مضبوط تعلق ہوتا ہے جو اس کی دنیاوی اور اخروی زندگی میں اسے کامیاب بناتا ہے۔ وہ اپنی ہر ضرورت اور ہر پریشانی کے لئے اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس سے مدد طلب کرتا ہے۔

 اخلاقی صفات کا فروغ

مومن کی یہ صفات اس کی اخلاقیات پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔ وہ اپنے معاملات میں امانت، دیانت، اور عدل کا مظاہرہ کرتا ہے کیونکہ اس کا دل اللہ کے خوف اور ایمان کی روشنی سے منورہوتا ہے۔

خلاصہ کلام

اس آیت مبارکہ میں مومن کی صفات کو مختصر مگر جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ کے ذکر سے دل کا کانپنا، آیات کی تلاوت سے ایمان میں اضافہ ہونا، اور اللہ پر مکمل بھروسہ کرنا مومن کی وہ صفات ہیں جو اسے دنیا اور آخرت میں کامیابی دلاتی ہیں اور مومن کا ایمان  مختلف کیفیات سے متکیف ہوتا رہتا ہے  جسے  تلاوت قرآن اور ذکر الٰہی کے ذریعے تقویت ملتی ہے۔

 

مومن کی زندگی کا اصل مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہوتا ہے، اور اس کے لئے وہ ایمان کی ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرتا ہے جو قرآن مجید میں واضح کی گئی ہیں۔

 

Comments

Popular posts from this blog

کلمہ گو کی تکفیر میں احتیاط کے سلسلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا رویہ

تقویٰ کی حقیقت اور اس کا سماجی پہلو

علم کا مقصود اور اس کے درجات