خانقاہ عالیہ عارفیہ میں قادری فیضان
خانقاہ عالیہ عارفیہ میں قادری فیضان
سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا(۷۲۵ھ/۱۳۲۵ء)
روحانیت کے ایسے شجر سایہ دار تھے جس کی شاخیں دنیا بھر میں پھیل گئیں۔ ان میں
سےشاخ طوبیٰ خواجہ نصیر الدین چراغ دہلی(۷۵۷ھ/۱۳۵۶ء)
کی شخصیت سے ہوکر نکلی۔ آخری ایام میں حضرت چراغ دہلی کی بارگاہ میں مخدوم
جہانیاں جہاں گشت حضرت جلال الدین بخاری(۷۸۵ھ / ۱۳۸۴ء
) حاضر ہوئے اور متعدد سلاسل سے فیض یاب ہونے کے بعد چشتی چراغ روحانیت سے بھی
اکتساب نور کیا۔ یہاں سے چشتیت، قادریت اور سہروردیت کےدھارے یکجا ہوکر بہنے لگے۔ان
تینوں معروف سلسلوں کا فیضان حضرت راجو قتال، حضرت قوام الدین عباسی اور شیخ سارنگ
کے واسطے سے حضرت شاہ مینا لکھنوی (۸۸۴ھ/ ۱۴۷۹ء) کو پہنچا
اور پھر حضرت شیخ سعد الدین خیرآبادی(۹۲۲ھ/ ۱۵۱۶ء)
کے واسطےیہ فیضان حضرت شیخ عبد الصمد عرف مخدوم شاہ صفی (۹۴۵ھ / ۱۵۳۸ء)
تک آیا اوریہاں سے چشتی نظامی،قادری ،
سہروردی فیضان کا مینائی صفوی سلسلہ روحانیت کا ایک نیا دورشروع ہوا۔ جودور عشق و
مستی اور لذت و سرشاری میں ایک الگ ہی مذاق کا حامل ہےکیونکہ حضرت جہانیاں جہاں
گشت کی شخصیت چشتیت ،سہروردیت اور قادریت کا سنگم بن گئی تھی۔ یہی امتزاج اس سلسلے
کا سب سے نمایاں وصف ہے جو اسے دیگر طریقوں سے امتیاز بخشتا ہے۔ سلسلۂ چشتیہ میں
عبادت اور خدمت خلق کے ساتھ اتباع شیخ پر
بے حد زور ہے، جب کہ حدود شرع کی مکمل پاس داری اور اس سلسلے میں ہر قسم کے لومۃ لائم
سے بے نیاز ہوجانا قادریت ہے۔ جبکہ امرا و سلاطین زمانہ کے احوال و کوائف کی اصلاح
کی جرات مندانہ کوشش کرنا سہروردیت ہے۔حضرات مشائخ صفویہ مینائیہ کے یہاں یہ سارے صفات بدرجۂ اتم
پائی جاتی ہیں۔
گذشتہ پانچ صدیوں میں اس میکدۂ علم و عرفان میں
جزوی عروج و زوال کےباوجود یہاں تسلسل کےساتھ دور بادہ کشی جاری ہے۔ بہت جلد
میکدۂ صفی پورکی شاخیں سکندر آباد، بلگرام، برہان پور، لکھنؤ، گوپامئو،
سنڈیلہ،بارہ بنکی، الہ آباد، لکھیم پور، رام پور، مارہرہ، بدایوں، بریلی اور دیگر
بلاد وامصار میں قائم ہوگئیں اور پھر وہاں سے دنیا بھر میں اس کا فیضان عام ہوا
اور ہو رہا ہے۔
مینائی صفوی فیضان بندگی شیخ مبارک جاجموی صفی پوری،مخدوم سید
نظام الدین عرف شیخ الہدیہ خیرآبادی، شیخ حسین سکندرآبادی اور شاہ فضل اللہ
گجراتی کے توسط سے بطور خاص عام و تام ہوا۔
حضرت میر عبد الواحد بلگرامی، میر سید محمد رکن الدین بلگرامی،
شیخ محمد بن فضل اللہ برہان پوری، حضرت شاہ قدرت اللہ غوث الدہر اور حضرت افہام
اللہ شاہ جیسے عرفان وروحانیت کے چندے آفتاب و چندےماہتاب اگر اسی سلسلے کے
وابستگان ہیں تو دوسری طرف مولانا صلاح الدین گوپاموی، قاضی مصطفیٰ علی گوپاموی،
مولانا شاہ اکبر علی سنڈیلوی، مولانا شاہ حیدر علی سنڈیلوی اورمولانا سید شاہ غلام
نصیر الدین سعدی بلگرامی، قاضی شیخ احمد مجتبیٰ گوپاموی، شیخ عبد الحق گوپاموی،
قاضی شیخ ابو علی محمد ارتضا علی صفوی گوپاموی جیسے اساطین علم و تحقیق اور صاحبان
شعرو ادب بھی اسی سلسلۂ نور کی روشن کڑیاں ہیں۔
مزید یہ کہ حضرت شاہ محمد کاظم قلندر کاکوروی، مولانا شیخ احمد
انوار الحق فرنگی محلی، مولانا سید شاہ عبد الرحمٰن لکھنوی، مولانا شوکت علی
سنڈیلوی، حضرت شاہ علی حسین اشرفی اور حضرت شاہ نعیم عطا سلونی جیسے مشاہیر بھی
اپنے خانوادے سے فیض یابی کے باوصف سلسلۂ صفویہ مینائیہ سے مستفیض رہے ہیں۔
دور اخیر میں بھی اس سلسلے کی فیض بخشی اور خدمت وعبادت کا
سلسلہ مہتم بالشان رہا ہے۔ مجدد صفویہ حضرت شاہ خادم صفی محمدی صفی پوری (۱۲۸۷ھ/۱۸۷۰ء)
اور ان کے خلفا کو آسمان رشد وہدایت کی کہکشاں کہنا بےجا نہ ہوگا۔ اس سیاق میں
حضرت شاہ خادم صفی محمدی کے بعد حضرت شاہ عین اللہ عرف شیخ خلیل احمد صفی پوری،
شاہ خلیل اللہ طبیب الہ آبادی،حضرت قل ھو اللہ شاہ بارہ بنکوی، حضرت شاہ عزیز
اللہ صفی پوری، حضرت شاہ خادم محمد صفوی، حضرت شاہ عارف صفی محمدی، حضرت شاہ فیض
خادم عرف شاہ دانش علی، حضرت شاہ نور محمد صفوی وغیرہم رحمہم اللہ تعالیٰ کے نام
بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
خانقاہ عارفیہ سید سراواں شریف کے بانی سلطان العارفین مخدوم
شاہ عارف صفی محمدی قدس سرہ اپنے پیر و مرشد حضرت صاحب سر قل ھو اللہ شاہ بارہ
بنکوی قدس سرہ کے واسطے سے صفوی مینائی میکدہ عرفان سے سرشار ہوئے اور پھر رندوں
کے ہجوم کا نہ تھمنے والا سلسلہ چل پڑا جو ہنوز جاری ہے اوران شاء اللہ اسی آب و
تاب کے ساتھ جاری و ساری رہے گا۔
خانقاہ عارفیہ کے موجودہ صاحب سجادہ عارف باللہ داعی اسلام شیخ
ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی ادام اللہ ظلہ علینا کی روحانی و عرفانی قیادت
میں اس وقت عوام و خواص ،علما و طلبہ اور طالبین و سالکین کا کارواں رضائے الہی کی
تلاش اور خدمت خلق میں رواں دواں ہے۔
مرشد گرامی داعی اسلام چشتی نسبت کے حامل اور سہروردی اوراد و
وظائف کے عامل اور قادری منہج کے داعی و مبلغ ہیں ،ان کی دعوت مدعو کے اعتبار سے
مناسب رنگ و منہج میں نمایا اور ظاہر ہوتی
ہے جو مدعو کے لئےحق کی تلاش میں زیادہ آسان اور سہل ہوتی ہے۔
بانی خانقاہ سلطان العارفین سے موجودہ صاحب سجادہ عارف باللہ
داعی اسلام تک تمام سلاسل کےمشائخ صوفیہ کی جو نسبتیں آئی ہیں ان سب کا رنگ اور
منہج اس خانقاہ کے مشائخ کی دعوتی زندگی میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔خواہ چشتی
صلح و خیر خواہی کا جذبہ ہو یا سہروردی بلند ہمتی کا مظاہرہ یا قادری دبدبہ سب
یکجا یہاں نظر آتا ہے۔فقر و فاقہ ،توکل اور زہد بھی ہے تو امرا و سلاطین زمانہ کی
نظروں میں نظر ڈال کر ان کی اصلاح کا جذبہ اور علما و مشائخ کے احوال و حالات کو
شریعت مطہرہ کے سلاسل میں جکڑدینے کا حوصلہ بھی۔
سردست ہم ذیل میں قادری نسبت کی بات کرتے ہیں ،خانقاہ عارفیہ
کے مشائخ کو جہاں مختلف سلاسل کی اجازت ملی ہیں وہیں متعدد طرق سے قادری نسبتیں
بھی حاصل ہوئی ہیں۔بلا شبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ محبوب سبحانی شیخ عبد القادر
جیلانی قدس سرہ کے فیوض و برکات سے عارفی علما و مشائخ اچھی طرح سیراب ہیں۔ذیل میں
ہم متعدد طرق سے قادری نسبتوں کے شجروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
)۱)سلسلہ
قادریہ حدادیہ جلالیہ
حضرت مخدومنا ومرشدناشاہ احسان اللہ صفوی محمدی
معروف بہ شاہ سعید اللہ بطول حیاتہٖ
حضرت مخدوم شاہ خادم محمد احمد صفی محمدی
صفوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ صفی اللہ صفوی محمدی قدس اللہ سرہٗ
حضرت سلطان العارفین مخدوم شاہ عارف صفی محمدی صفوی لاہوتی
گیسودراز قدس اللہ سرہٗ
حضرت قدوۃ السالکین مخدوم شاہ قل ہو اللہ صفوی
محمدی قدس اللہ سرہٗ
حضرت قطب العالم مخدوم شاہ خادم صفی محمدی قدس
اللہ سرہٗ
حضرت شاہ محمد حفیظ اللہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ محمدی عرف شیخ غلام پیر قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ افہام اللہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ عبداللہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ بھولن قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ زاہد قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ عبدالواحد قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ عبدالرحمن قدس اللہ سرہٗ
حضرت بندگی شیخ اکرم قدس اللہ سرہٗ
حضرت بندگی شیخ مبارک قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ عبد الصمد معروف بہ مخدوم شاہ صفی
قدس اﷲسرہٗ
حضرت مخدوم شیخ سعدالدین خیرآبادی قدس اﷲسرہٗ
حضرت مخدوم شیخ محمدبن قطب معروف بہ مخدوم شاہ
میناقدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ سارنگ قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم سیدابوالفضل محمدراجوقتال قدس اللہ
سرہٗ
حضرت مخدوم جہانیاںسید جلال الحق والدین بخاری قدس
اللہ سرہٗ
حضرت شیخ محمدبن عبید غیثی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ شمس الدین عبید بن فاضل غیثی قدس اللہ
سرہٗ
حضرت شیخ ابو المکارم فاضل بن عبیدغیثی قدس اللہ
سرہٗ
قطب الیمن حضرت شیخ ابوالغیث بن جمیل قد س اللہ
سرہٗ
حضرت شیخ شمس الدین علی بن افلح قد س اللہ سرہٗ
حضرت شیخ علی حداد قدس اللہ سرہٗ
حضرت غوث اعظم شیخ محیی الدین
عبدالقادرجیلانی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ابو سعید مخزومی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ابو الحسن علی القرشی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ابو الفرح یوسف الطرطوسی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ابو الفضل عبد الواحد بن عبد العزیز یمنی
قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ عبد العزیز یمنی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ ابو بکر شبلی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ ابو القاسم جنید بغدادی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ سری سقطی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ معروف کرخی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ داود طائی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ حبیب عجمی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجۂ خواجگان خواجہ حسن بصری قدس اللہ سرہٗ
حضرت امیر المؤمنین امام المتقین اسد اللہ الغالب
علی بن ابی طالب کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم
حضرت خواجۂ کائنات خلاصۂ موجودات سید المرسلین
خاتم النبیین رحمۃ للعالمین احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ
مرشد گرامی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا جب سلسلہ
قادریہ میں کسی کی بیعت لیتے ہیں تو زیادہ تر یہی مذکورہ شجرہ عطا فرماتے ہیں اور
آپ کے مشائخ کا معمول بھی ایسا ہی رہا ہے۔
(۲) سلسلہ قادریہ رزاقیہ
حضرت مخدومنا ومرشدناشاہ احسان اللہ صفوی محمدی
معروف بہ شاہ سعید اللہ بطول حیاتہٖ
حضرت مخدوم شاہ خادم محمد احمد صفی محمدی صفوی قدس
اللہ سرہٗ
حضرت
مخدوم شاہ صفی اللہ محمدی صفوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عارف صفی محمدی صفوی لاہوتی قدس
اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ قل ہو اللہ صفوی محمدی قدس اللہ
سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ خادم صفی محمدی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ حفیظ اللہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ غلام زکریا قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ غلام یحییٰ قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ غلام پیر قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ غلام نبی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ قدرت اللہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم سید شاہ یٰسین قلندر قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم سید شاہ امام الدین قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ رکن عالم عرف سید اوتھلی بلگرامی
قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم سید شاہ تاج معین الدین قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم سید شاہ محمد بن سید رکن الدین بلگرامی قدس اللہ
سرہٗ
حضرت سید شاہ عبد اللہ جیلانی بھٹوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید شاہ شہاب الدین حسن قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ بایزید بن شاہ جمال قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ الاسلام شاہ مظفر بن شاہ محمد قادری قدس
اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم میر سید شمس الدین شاہ محمد بن شاہ
ابراہیم قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم سید احمد بن حسن المنان قادری قدس اللہ
سرہٗ
حضرت سید السادات سید حسن قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید السادات میر سید موسیٰ قادری قدس اللہ
سرہٗ
حضرت سید السادات میر سید علی قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید السادات سید محمد قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید السادات سید حسن بغدادی قادری قدس اللہ
سرہٗ
حضرت سید السادات سید محمد احمد قادری قدس اللہ
سرہٗ
حضرت سید السادات ابی حاجب مجد الدین قادری قدس
اللہ سرہٗ
حضرت سید السادات سید عماد الدین قادری قدس اللہ
سرہٗ
حضرت تاج الدین جمال العراق ابو بکر عبد الرزاق
قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت محبوب سبحانی غوث صمدانی ابو محمد محیی الدین
عبد القادر جیلانی قدس اللہ سرہٗ
(۳)سلسلہ
قادریہ برحق شاہیہ
حضرت مخدومناو مرشدناشاہ احسان اللہ صفوی محمدی
معروف بہ شاہ سعید اللہ بطول حیاتہٖ
حضرت مخدوم شاہ خادم محمد احمد صفی محمدی صفوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ صفی اللہ محمدی صفوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عارف صفی محمدی صفوی لاہوتی قدس
اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ قل ہو اللہ صفوی محمدی قدس اللہ
سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ خادم صفی محمدی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم محمد حفیظ اللہ شاہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ غلام زکریا قدس اللہ سرہٗ
حضرت برحق شاہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ قمر الدین قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ عباس قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ عین اللہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ ولایت علی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ قاسم قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ دلاور قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ عبد اللہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ جمال الدین قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ نور الدین قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ عبد القادر قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید محمد قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید شمس الدین قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید شامی قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید مسعود قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید محمد قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید ابو بصر قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید عبد اللہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت غوث الاعظم محیی الدین شیخ عبد القادر جیلانی
قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ابو سعید مخزومی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ابو الحسن علی القرشی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ابو الفرح یوسف الطرطوسی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ابو الفضل عبد الواحد بن عبد العزیز یمنی
قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ عبد العزیز یمنی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ ابو بکر شبلی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ ابو القاسم جنید بغدادی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ سری سقطی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ معروف کرخی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ داود طائی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ حبیب عجمی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجۂ خواجگان خواجہ حسن بصری قدس اللہ سرہٗ
حضرت امیر المؤمنین اسد اللہ الغالب علی بن ابی
طالب کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم
حضرت خواجۂ کائنات سید المرسلین خاتم النبیین
رحمۃ للعالمین احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ
حضرت داعی اسلام کو کاکوری شریف کے واسطے سے ملنے والی قادری
اجازتیں
مرشدگرامی مخدوم العلماء والفقراء راس الصوفیۃ الصافیۃ شیخ ابو
سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی ادام اللہ
ظلہ علینا (سجادہ نشین آستانہ عالیہ عارفیہ ) کو حضرت مولانا حافظ شاہ محمد مجتبی حیدر قلندر
العلوی الکاکوروی نَوَّرَ اللہُ ضَرِیْحَہٗ الأَطْھَر نےسلاسلِ عالیہ قادریہ،
قلندریہ، چشتیہ، سہروردیہ و نقشبندیہ وغیرہا کی اجازت و خلافت عطا فرمائی ،ہم ذیل میں ان اجازات میں سےصرف
سلسلہ قادریہ کی نسبت پر گفتگو کرتے ہیں ،شجرات روحانیہ کے جائزہ سے معلوم ہوتا ہے
کہ کاکوری شریف کے مشائخ کو قادریہ کی نسبتیں متعدد طرق سے پہنچی ہے اور ان تمام نسبتوں
کی اجازت مرشد گرامی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا کو مخدوم گرامی حضرت
مولانا حافظ شاہ محمد مجتبی حیدر قلندر العلوی الکاکوروی نَوَّرَ اللہُ ضَرِیْحَہٗ
الأَطْھَرسے ملی ہے،ذیل میں ہم شجروں کا جائزہ لیتے ہیں:
(۴)سلسلہ
قادریہ رضویہ
حضرت مخدومنامرشدنا شاہ احسان اللہ صفوی محمدی
معروف بہ شاہ سعید اللہ بطول حیاتہٖ
حضرت مولانا حافظ شاہ مجتبیٰ حیدر قلندر قدس
اللہ سرہٗ با تو داشت
حضرت مولانا حافظ شاہ علی حیدر قلندر - و - حضرت
مولانا شاہ تقی حیدر قلندر قدس اللہ سرہما
حضرت مولانا شاہ حبیب حیدر قلندر قدس اللہ سرہٗ
حضرت مولانا حافظ شاہ علی انور قلندر قدس اللہ
سرہٗ
حضرت مولانا شاہ علی اکبر قلندر قدس اللہ سرہٗ
حضرت مولانا شاہ تقی علی قلندر - و - حضرت مولانا
شاہ حیدر علی قلندر قدس اللہ سرہما
حضرت شاہ تراب علی قلندر قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ محمد کاظم قلندر قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ باسط علی قلندر قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ الہدیہ احمد قلندر قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ فتح قلندر قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ مجتبیٰ معروف بہ مجا شاہ قلندر قدس اللہ
سرہٗ
حضرت شاہ عبد القدوس قلندر قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ عبد السلام قلندر جون پوری قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ محمد قطب قلندر جون پوری قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ قطب الدین بینا دل قلندر جون پوری قدس
اللہ سرہٗ
حضرت سید نجم الدین غوث الدہر قلندر قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید نظام الدین غزنوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید نور الدین مبارک غز نوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ الشیوخ شہاب الدین سہر وردی قدس اللہ سرہٗ
حضرت غوث صمدانی شیخ ابو محمد محیی الدین سید
عبدالقادرجیلانی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ابو سعید مخزومی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ابو الحسن علی الہنکاری قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ابو الفرح یوسف الطرطوسی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ابو الفضل عبد الواحد بن عبد العزیز
تمیمی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ عبد العزیز تمیمی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ ابو بکر شبلی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ ابو القاسم جنید بغدادی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ سری سقطی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ معروف کرخی قدس اللہ سرہٗ
حضرت امام علی موسیٰ رضا رضی اللہ عنہٗ
حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہٗ
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہٗ
حضرت امام باقر رضی اللہ عنہٗ
حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہٗ
حضرت سیدنا امام حسین شہید کربلا رضی اللہ عنہٗ
حضرت اسد اللہ الغالب ابو الحسن علی بن ابی طالب
کرم اللہ وجہہٗ
حضرت خلاصۂ موجودات سید المرسلین خاتم النبیین
رحمۃ للعالمین احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ
(۵)سلسلہ قادریہ حبیبیہ
حضرت مخدومنا ومرشدناشاہ احسان اللہ صفوی محمدی
معروف بہ شاہ سعید اللہ بطول حیاتہٖ
حضرت مولانا حافظ شاہ مجتبیٰ حیدر قلندر علوی
کاکوروی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مولانا حافظ شاہ علی حیدر قلندر - و - حضرت
مولانا شاہ تقی حیدر قلندر قدس اللہ سرہما
حضرت مولانا شاہ حبیب حیدر قلندر قدس اللہ سرہٗ
حضرت مولانا حافظ شاہ علی انور قلندر قدس اللہ
سرہٗ
حضرت مولانا شاہ علی اکبر قلندر قدس اللہ سرہٗ
حضرت مولانا شاہ تقی علی قلندر - و - حضرت مولانا
شاہ حیدر علی قلندر قدس اللہ سرہما
حضرت شاہ تراب علی قلندر قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ محمد کاظم قلندر قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ ابو سعید رائے بریلوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ محمد عاشق پھلتی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ عبد الرحیم قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ عظمت اللہ اکبرآبادی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ عبد اللطیف قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ بدر الدین قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ عبد العزیز شکر بار قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ابراہیم ایرچی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ بہاء الدین قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ابو العباس احمد بغدادی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ حسن قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ موسیٰ بغدادی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ علی بغدادی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ احمد بغدادی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ابو صالح قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ تاج الدین ابو بکر عبد الرزاق قدس اللہ
سرہٗ
حضرت سیدنا شیخ محیی الدین عبد القادر جیلانی قدس
اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ ابو سعید مبارک مخزومی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ ابو الحسن علی الہنکاری قدس اللہ
سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ ابو الفرح یوسف الطرطوسی قدس اللہ
سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ ابو الفضل عبد الواحد بن عبد
العزیز تمیمی یمنی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ ابو بکر شبلی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ ابو القاسم جنید بغدادی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ سری سقطی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ معروف کرخی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ داود طائی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ حبیب عجمی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجۂ خواجگان خواجہ حسن بصری قدس اللہ سرہٗ
حضرت امیر المؤمنین امام المتقین علی بن ابی طالب
کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم
حضرت سید المرسلین خاتم النبیین رحمۃ للعالمین
احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ
(۶)سلسلہ قادریہ مجددیہ
حضرت مخدومنا و مرشدناشاہ احسان اللہ صفوی محمدی
معروف بہ شاہ سعید اللہ بطول حیاتہٖ
حضرت مولانا حافظ شاہ مجتبیٰ حیدر قلندر علوی
کاکوروی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مولانا حافظ شاہ علی حیدر قلندر - و - حضرت
مولانا شاہ تقی حیدر قلندر قدس اللہ سرہما
حضرت مولانا شاہ حبیب حیدر قلندر قدس اللہ سرہٗ
حضرت مولانا حافظ شاہ علی انور قلندر قدس اللہ
سرہٗ
حضرت مولانا شاہ علی اکبر قلندر قدس اللہ سرہٗ
حضرت مولانا شاہ تقی علی قلندر - و - حضرت مولانا
شاہ حیدر علی قلندر قدس اللہ سرہما
حضرت شاہ تراب علی قلندر قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ محمد کاظم قلندر قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ ابو سعید رائے بریلوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ محمد عاشق پھلتی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ عبد الرحیم قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید عبد اللہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید آدم بنوری قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ سکندر کیتھلی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ کمال کیتھلی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ فضیل قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید گداے رحمٰن ثانی قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید شمس الدین عارف قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید ابو الحسن قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید گداے رحمٰن قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ شمس الدین صحرائی قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید عقیل قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید بہاء الدین قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید عبد الوہاب قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید شرف الدین قتال قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید عبد الرزاق جیلانی قدس اللہ سرہٗ
حضرت سیدنا شیخ محیی الدین عبد القادر جیلانی قدس
اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ ابو سعید مبارک مخزومی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ ابو الحسن علی الہنکاری قدس اللہ
سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ ابو الفرح یوسف الطرطوسی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ ابو الفضل عبد الواحد بن عبد العزیز تمیمی یمنی
قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ ابو بکر شبلی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ ابو القاسم جنید بغدادی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ سری سقطی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ معروف کرخی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ داود طائی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ حبیب عجمی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجۂ خواجگان خواجہ حسن بصری قدس اللہ سرہٗ
حضرت امیر المؤمنین امام المتقین علی بن ابی طالب
کرم اللہ وجہہٗ الکریم
حضرت سید المرسلین خاتم النبیین رحمۃ للعالمین
احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ
تذکرہ حبیبی کے مولف حضرت مولانا حافظ شاہ علی حیدر قلندر
کاکوروی قدس سرہ قادری نسبت کے طرق کو کچھ اس طرح تحریر فرماتے ہیں:
’’(۱)-حضرت سید نجم الدین غوث الدہرقلندرکواپنے والد حضرت
سید نظام الدین غزنوی سے اجازت ملی ،ان کو اپنے والد حضرت سید نور الدین مبارک غزنوی سے، ان کو حضرت شیخ شہاب الدین
سہروردی سے، ان کو حضرت ابو محمد محی الدین سید عبد القادر حسنی حسینی جیلانی سے،
ان کو حضرت شیخ ابو سعید مبارک مخزومی سے،
ان کو حضرت ابوالحسن علی عطار ی سے ، ان کو حضرت شیخ ابو لفرع یوسف طرطوسی سے ، ان
کو حضرت شیخ ابوالفضل عبد الواحد تمیمی سے، ان کو حضرت شیخ عبد العزیز تیمی سے، ان
کو حضرت شیخ ابو بکر شبلی سے، ان کو حضرت شیخ
ابو القاسم جنید بغدادی سے، ان کو حضرت خواجہ سری سقطی سے، ان کو حضرت
خواجہ معروف کرخی سے، ان کو حضرت امام علی موسیٰ رضا سے، ان کو حضرت امام موسی
کاظم سے، ان کو حضرت امام جعفر صادق سے، ان کو حضرت امام محمد باقر سے، ان کو حضرت
امام زین العابدین سے، ان کو حضرت امام حسین سے، ان کو حضرت امیر المؤمنین ابو تراب
علی مرتضیٰ سے، ان کوحضر ت رسول مقبول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے، رحمۃ
اللہ علیہم اجمعین۔(۲)-حضرت
خواجہ معروف کرخی کو اجازت ملی حضرت داؤد طائی سے، ان کوحضر ت حبیب عجمی سے، ان
کوحضر ت حسن بصری سے، ان کوحضر ت علی کرم اللہ وجہہ سے، ان کوحضر ت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم سے۔(۳)- حضرت
شاہ محمد کاظم قلندر کو اجازت ملی حضرت سید شاہ ابو سعید رائے بریلوی سے، ان کوحضر
ت شاہ محمد عاشق پھلتی سے، ان کوحضر ت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے، ان کواپنے والد
حضرت شاہ عبد الرحیم دہلوی سے، ان کوحضر ت شیخ
عبد اللہ سے، ان کوحضر ت شاہ آدم دینوری سے، ان کوحضر ت شیخ مجدد الف ثانی
سے، ان کوحضر ت شیخ عبد الواحد سے، ان کوحضر ت شاہ کمال سے، ان کوحضر ت شیخ سکندر
سے، ان کوحضر ت شیخ کمال سے، ان کوحضر ت سید فضل سے، ان کوحضر ت شیخ گدائے رحمان
سے، ان کوحضر ت شمس الدین عارف سے، ان کو حضرت
سید گدا رحمان بن سید ابو الحسن سے، ان کوحضر ت شمس الدین صحرائی سے، ان
کوحضر ت سید عقیل سے، ان کوحضر ت سید بہاؤ الدین سے، ان کوحضر ت سید عبد الوہاب
سے، ان کوحضر ت سید شرف الدین قتال سے، ان کوحضر ت سید عبد الرزاق سے، ان کوحضر ت
غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے۔(۴)- حضرت
شاہ عبد الرحیم دہلوی کو اجازت ملی حضرت شاہ عظمت اللہ اکبرآبادی سے ، ان کوحضر ت
شیخ عبد اللطیف سے، ان کوحضر ت شیخ بدر الدین سے، ان کوحضر ت شیخ عبد العزیز
شکربار سے، ان کوحضر ت ابراہیم ایرجی سے، ان کوحضر ت بہاؤ الدین قادری سے، ان کوحضر ت شیخ ابو
العباس احمد بغدادی سے، ان کوحضر ت شیخ موسیٰ بغدادی سے، ان کوحضر ت شیخ ابونصر
بغدادی سے، ان کوحضر ت شیخ صالح بغدادی سے، ان کوحضر ت سید تاج الدین ابو بکر عبد
الرزاق سے، ان کوحضر ت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے۔(۵)-
حضرت شیخ عبد الواحد کو اجازت ملی حضرت شیخ رکن الدین سے،
ان کوحضر ت شیخ عبد القدوس گنگوہی سے، ان کوحضر ت شیخ درویش بن قاسم سے، ان کوحضر
ت سید بڈھن سے، ان کوحضر ت سید اجمل بہرائچی سے، ان کوحضر ت مخدوم جہانیاں جہاں
گشت سے، ان کوحضر ت اپنے جد حضرت سید جلال الدین بخاری المعروف بہ سید جلال اعظم
گل سرخ سے، ان کوحضر ت عبید غیبی سے، ان کوحضر ت شیخ ابوالقاسم فاضل سے، ان کوحضر
ت شیخ ابو المکارم فاضل سے، ان کوحضر ت قطب الدین ابو الغیث سے، ان کوحضر ت شمس
الدین علی الافلح سے، ان کوحضر ت شمس الدین حداد سے، ان کوحضر ت غوث الاعظم رضی
اللہ عنہ سے۔(۶)- حضرت شاہ ولی اللہ محدث
دہلوی کو اجازت ملی حضرت شیخ ابو طاہر کردی سے، ان کوحضر ت ابراہیم کردی سے، ان
کوحضر ت احمد کشاشی سے، ان کوحضر ت احمد شناوی سے، ان کوحضر ت شیخ عبد الرحمن
ہاشمی علوی مکی سے، ان کوحضر ت جار اللہ بن عبد العزیز بن فہد مکی سے، ان کوحضر ت جلال
الدین سیوطی سے، ان کوحضر ت جلال الدین الملقن سے، ان کوحضر ت ابواسحاق تنوخی سے،
ان کوحضر ت ابو العباس حجازی سے، ان کوحضر ت احمد بن یعقوب مارستانی سے، ان کوحضر
ت غوث الاعظم سے۔(۷)-حضرت شاہ تراب علی قلندر کو
اجازت ملی حضرت خواجہ حسن مودودی چشتی سے، ان کوحضر ت شاہ علی اکبر مودودی سے، ان
کوحضرت سید محمد میر معروف بہ شاہ بہلے
سے، ان کوحضر ت سید سراج الحق قمر اللہ
مودودی سے، ان کوحضر ت شیخ خوب اللہ سے، ان کوحضر ت اسد اللہ سے، ان کوحضرت شیخ
بہاؤ الدین شاہ آبادی سے، ان کوحضر ت شیخ نجم الحق محمد سے، ان کوحضر ت ابو المکارم
عبد العزیز شکر بار سے، ان کوحضر ت ابراہیم ایرجی سے تاآخر۔(۸)- حضرت سید شاہ علی اکبر مودودی کو بطریق اویسیہ اجازت
ملی حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن العربی
سے، ان کوحضر ت جمال الدین یونس قصار
ہاشمی سے، ان کوحضر ت غوث الاعظم
رضی اللہ عنہ سے۔(۹)- حضرت سید جلال الدین مخدوم
جہانیاں جہاں گشت کو بسلسلۂ آبائی جس کو جلالیہ بخاریہ کہتے ہیں اجازت ملی اپنے
والد حضرت سید احمد کبیر بخاری سے، ان کو حضرت سید جلال الدین اعظم گل سرخ بخاری
سے، ان کو حضرت سید علی مؤید دین اللہ سے، ان کو حضرت سید جعفر بخاری سے، ان کو
حضرت سید محمد صفی اللہ سے، ان کو حضرت سید محمود مختار اللہ سے، ان کو حضرت سید
احمد مقبول اللہ سے، ان کو حضرت سید عبد اللہ سے، ان کو حضرت سید علی اشقر سے، ان
کو حضرت جعفر ذکی سے، ان کو حضرت امام علی نقی سے، ان کو حضرت امام محمد جواد نقی
سے، ان کو حضرت امام علی موسیٰ رضا سے تا آخر رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔‘‘(تذکرہ
حبیبی۔ص:۹۰ تا ۹۲)
دیگر تمام سلاسل کی اجازات کے ساتھ مذکورہ تمام قادری
نسبتوں کی اجازتیں بھی مرشدی و مولائی عارف باللہ داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا
کو کاکوری شریف کے شیخ طریقتحضرت مولانا
حافظ شاہ مجتبیٰ حیدر قلندر علوی کاکوروی قدس اللہسرہ
سے ملی ہیں ۔
خانقاہ عارفیہ میں امجھر شریف کے واسطے سے قادری فیضان
(۷) قادریہ رشیدیہ
خلفائیہ
حضرت مخدومنا و مولانا شاہ احسان اللہ صفوی محمدی معروف بہ شاہ
سعید اللہ بطول حیاتہٖ
حضرت مخدوم شاہ خادم محمد احمد صفی محمدی صفوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ صفی اللہ محمدی صفوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عارف صفی محمدی صفوی لاہوتی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ قل ہو اللہ صفوی محمدی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ خادم صفی محمدی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ حفیظ اللہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ محمدی عرف غلام پیر قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ افہام اللہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد الرشید قادری امجھری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد الرؤف قادری عرف سید بھوج قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ ابو المعالی قادری عرف شاہ بھیکہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد الرزاق قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ میر مظفر قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ معین الحق والدین قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ محمد قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ میر درویش قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ میر کلال کلاں قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد الرحیم قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد الفتاح قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد الوہاب قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد الرحمن قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد اللطیف قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد الحی قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد الجلیل قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ ابو القاسم عبد الرحیم قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ ابو بکر تاج الدین عبد الرزاق قدس اللہ سرہٗ
غوث اعظم حضرت شیخ محی الدین عبدالقادرجیلانی قدس اللہ
سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ ابو سعید مخزومی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ ابو الحسن علی القرشی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ ابو الفرح یوسف الطرطوسی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ ابو الفضل عبد الواحد بن عبد العزیز یمنی قدس
اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ عبد العزیز یمنی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ ابو بکر شبلی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ ابو القاسم جنید بغدادی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ سری سقطی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ معروف کرخی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ داود طائی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ حبیب عجمی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجۂ خواجگان خواجہ حسن بصری قدس اللہ سرہٗ
حضرت امیر المؤمنین امام المتقین اسد اللہ الغالب علی بن ابی
طالب کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم
حضرت خلاصۂ موجودات سید المرسلین خاتم النبیین رحمۃ للعالمین
احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ
(۸) قادریہ رشیدیہ آبائیہ
حضرت مخدومنا و مولانا شاہ احسان اللہ صفوی محمدی معروف بہ شاہ
سعید اللہ بطول حیاتہٖ
حضرت مخدوم شاہ خادم محمد احمد صفی محمدی صفوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ صفی اللہ محمدی صفوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عارف صفی محمدی صفوی لاہوتی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ قل ہو اللہ صفوی محمدی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ خادم صفی محمدی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ حفیظ اللہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ محمدی عرف غلام پیر قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ افہام اللہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد الرشید قادری امجھری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد الرؤف قادری عرف سید بھوج قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ ابو المعالی قادری عرف شاہ بھیکہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد الرزاق قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ میر مظفر قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ معین الحق والدین قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ محمد قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ میر درویش قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ میر کلال کلاں قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد الرحیم قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد الفتاح قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد الوہاب قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد الرحمن قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد اللطیف قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد الحی قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد الجلیل قادری قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ ابو القاسم عبد الرحیم قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ ابو بکر تاج الدین عبد الرزاق قدس اللہ سرہٗ
حضرت غوث صمدانی قطب ربانی سیدنا محیی الدین شیخ عبد القادر
گیلانی قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید ابو صالح موسیٰ قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید عبد اللہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید یحییٰ زاہد قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید محمد قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید داؤد قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید موسیٰ قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید عبد اللہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید موسیٰ الجون قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید عبد اللہ المحض قدس اللہ سرہٗ
حضرت سیدحسن مثنیٰ المکنیٰ بابی القاسم رضی اللہ عنہٗ
حضرت سیدنا امام حسن بن علی سلام اللہ علیہما
حضرت اسد اللہ الغالب سیدنا علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہٗ
حضرت سلطان الانبیاء سیدنا احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلَّی اللہ
علیہ وآلہٖ وسلَّم
حضرت شاہ قدرت اللہ
غوث الدہرقدس اللہ کے واسطے آنے والی قادری اجازت
(۹)سلسلہ قادریہ سعدیہ
حضرت مخدومنا و مولانا شاہ احسان اللہ صفوی محمدی معروف بہ شاہ
سعید اللہ بطول حیاتہٖ
حضرت مخدوم شاہ خادم محمد احمد صفی محمدی صفوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ صفی اللہ محمدی صفوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عارف صفی محمدی صفوی لاہوتی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ قل ہو اللہ صفوی محمدی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ خادم صفی محمدی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ حفیظ اللہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ غلام زکریا قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ غلام یحییٰ قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ غلام پیر قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ غلام نبی قدس اللہ سرہٗ
حضرت حاجی الحرمین مخدوم شاہ قدرت اللہ غوث الدہرقدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبداللہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ بھولن قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ زاہد قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ عبدالواحد قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ عبدالرحمن قدس اللہ سرہٗ
حضرت بندگی شیخ اکرم قدس اللہ سرہٗ
حضرت بندگی شیخ مبارک قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ صفی قدس اﷲسرہٗ
حضرت مخدوم شیخ سعدالدین خیرآبادی قدس اﷲسرہٗ
حضرت شیخ محمدبن قطب معروف بہ مخدوم شاہ میناقدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ سارنگ قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ صدر الدین ابوالفضل محمد بن احمد بخاری المعروف
سید راجو قتّال قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم جہانیاںسیدجلال الحق والدین حسین بن احمد حسینی
بخاری قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ المشائخ شیخ نور الدین علی بن عبد اللہ الطواشی قدس
اللہ سرہٗ
حضرت شیخ مجذوب صالح بربری قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ کمال الدین کوفی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ سعد الدین ابو الفتوح بغدادی قدس اللہ سرہٗ
حضرت غوث الثقلین شیخ محیی الدین عبد القادر گیلانی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ احمد اسود دینوری قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ممشاد دینوری قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ ابو القاسم جنید بغدادی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ سری سقطی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ معروف کرخی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ داود طائی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ حبیب عجمی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجۂ خواجگان خواجہ حسن بصری قدس اللہ سرہٗ
حضرت امیر المؤمنین امام المتقین اسد اللہ الغالب علی بن ابی
طالب کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم
حضرت خواجۂ کائنات خلاصۂ موجودات سید المرسلین خاتم النبیین
رحمۃ للعالمین احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ
حضرت شیخ محمد بن فضل اللہ گجراتی قدس اللہ کے واسطے سے قادری
اجازت
(۱۰) قادریہ زرّوقیہ صفویہ
حضرت مخدومنا و مولانا شاہ احسان اللہ صفوی محمدی معروف بہ شاہ
سعید اللہ بطول حیاتہٖ
حضرت مخدوم شاہ خادم محمد احمد صفی محمدی صفوی قدس
اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ صفی اللہ محمدی صفوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عارف صفی محمدی صفوی لاہوتی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ قل ہو اللہ صفوی محمدی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ خادم صفی محمدی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ حفیظ اللہ قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ غلام زکریا قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ غلام یحییٰ قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ غلام پیر قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ غلام نبی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شاہ مخدوم عالم قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شاہ عبد الرسول صفوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ جمال الدین صفوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ قطب عالم قدس اللہ سرہٗ
حضرت مخدوم شیخ محمد بن فضل اللہ گجراتی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ابو محمد بن خضر تمیمی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ علی بن حسام الدین المشتہر بالمتقی المحدث قدس اللہ
سرہٗ
حضرت شیخ محمد بن محمد سخاوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ طاہر بن ریان الزواوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت سید شہاب الدین احمد بن موسیٰ البشیشی قدس اللہ سرہٗ
حضرت سیدی شیخ احمد زرّوق قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ علی بن عمر البشیشی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ عمر قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ مجد الدین ابو محمد صالح الزواوی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ محمد بن محمدبن مخلص الطیبی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ شرف الدین بن العادلی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ عبد اللہ بن شجاع قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ جمال الدین یوسف بن محمد نصرالمدنی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ابو عبد اللہ محمد بن ابراہیم بن عبد الواحد المقدسی
قدس اللہ سرہٗ
حضرت قطب الاقطاب شیخ محیی الدین عبد القادر جیلانی قدس اللہ
سرہٗ
حضرت شیخ ابو سعید مخزومی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ابو الحسن علی القرشی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ابو الفرح یوسف الطرطوسی قدس اللہ سرہٗ
حضرت شیخ ابو الفضل عبد الواحد بن عبد العزیز یمنی قدس اللہ
سرہٗ
حضرت شیخ عبد العزیز یمنی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ ابو بکر شبلی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ ابو القاسم جنید بغدادی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ سری سقطی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ معروف کرخی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ داود طائی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ حبیب عجمی قدس اللہ سرہٗ
حضرت خواجہ حسن بصری قدس اللہ سرہٗ
حضرت امیر المؤمنین امام المتقین اسد اللہ الغالب علی بن ابی
طالب کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم
حضرت خواجۂ کائنات خلاصۂ موجودات سید المرسلین خاتم النبیین
رحمۃ للعالمین احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ
فیضان نبوت اور فیضان
ولایت کی جلوہ سامانیاں
نبی کریم صلی
اللہ علیہ وسلم کا تعلق خلق اور خالق دونوں سے ہے کیونکہ آپ خلق کی طرف اللہ کے رسول ہونے کے ساتھ خالق کے
بندے ولی اور حبیب بھی ہیں۔ نبوت ورسالت کا تعلق خلق سے اور ظاہر سے ہوتا
ہے جب کہ ولایت کا تعلق رب سے اور باطن سے ہوتا ہے۔
فیضان نبوت یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک
دین پہنچایا جائے اور ان کےظاہر میں دین قائم کرکے ان کو قوانین شرع کا پابند کیا
جائے، اور خطا ہونے کی صورت میں حدود و تعزیرات جاری کیے جائیں۔ اس کے برعکس فیضان
ولایت یہ ہے کہ بندے کا تعلق اپنے رب سے قائم ہو جائے اور بندگان خدا کے باطن کو
اس طرح آراستہ و پیراستہ کردیا جائے کہ اسے بھی محبت الٰہی اور قرب ربانی حاصل ہو
جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی فیضان ولایت کے غلبےکا مظہر ہے جب کہ
مدنی زندگی فیضان نبوت کے غلبے کا نمونہ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیک وقت نبی بھی
ہیں اور ولی بھی، چنانچہ آپ کے بعد آپ سے دو چشمۂ انوار جاری ہوئے: چشمۂ
نورفیضان نبوت اور چشمۂ نور فیضان ولایت۔
جب غلبہ نور فیضان نبوت کا ہوتا ہے تو دین اسلام
کی نشر و اشاعت ہو تی ہے، اسلامی سرحدیں وسیع ہوتی ہیں، اسلامی حدود و قوانین کا
اجراء ہوتا ہے اور فتنے نہیں ہوتے۔ اس کے برخلاف جب نور فیضان ولایت کا غلبہ ہوتا
ہے تو دینِ اسلام کی عمومی نشرو اشاعت اور اسلامی حدود کی توسیع نہیں ہوتی بلکہ
دینِ احسان کا غلبہ ہوتا ہے اور فتنوں کی کثرت ہوتی ہے ۔
تمام خلفاے راشدین بشمول سیدنا ابوبکر اور سیدنا
عمر رضی اللہ عنہم دونوں چشموں سے مستفیض ہوئے البتہ ان دونوں حضرات پر نور فیضان
نبوت کاغلبہ رہا، اس لیے ان حضرات کے عہد
میں حدود اسلامی کی توسیع ہوئی، دین اسلام کی نشر واشاعت ہوئی اور فتنے کم سے کم
رہے۔
ان کے
برخلاف سیدنا علی کرم اللہ وجہہ اور سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے عہد میں فتنے
زیادہ ہوئے کیوں کہ ان پر نور فیضان ولایت کا غلبہ تھا۔ دونوں طرف دو دوخلفائے
راشدین کے درمیان سیدنا عثمان کی شخصیت برزخ کی ہے کہ ان کے نصف مدت خلافت میں نور
فیضان نبوت غالب رہا جب کہ نصف میں فیضان ولایت کا غلبہ رہا۔ اسی لیے ان کے نصف
مدت خلافت میں اسلامی سرحد کی خوب توسیع ہوئی اور امن وامان رہا جب کہ دوسرے نصف
میں فتنوں کا سیلاب امڈ پڑا جو ان کی شہادت پر ختم ہوا اور اس طرح آپ ایک دوسرے
معنیٰ میں بھی ذوالنورین کہلائے، یعنی نور فیضان نبوت اور نور فیضان ولایت کے
جامع۔
خلافت راشدہ کے بعد فیضان ولایت کے آفتاب و
مہتاب
سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ پر جب خلافت علی
منہاج النبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا اوردوبارہ بحالی کی امید بھی منقطع ہو گئی
اور ارشاد رسول کے مطابق کاٹ کھانے والی بادشاہت آگئی اور کذب پھیل گیا یہاں تک
کہ نواسۂ رسول امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا تو دین کی حفاظت اور اس
کی نشر واشاعت کا ذمہ مختلف اہل اللہ کی جماعتوں نے اٹھا لیا۔ چنانچہ متکلمین نے
عقیدے کی، محدثین نے احادیث رسول کی اور فقہا نے احکام و شرائع کی حفاظت کی اور
روح دین کی صیانت اور بندگان مولیٰ کی ایمانی و احسانی تربیت کی ذمہ داری صوفیہ نے
لے لی اور انہوں نےمنہاج نبوی پرنور فیضان ولایت کی نشر واشاعت سے مشن کا آغاز
کیا، اس لیے کہ مکے میں اسلامی ریاست قائم نہیں تھی لیکن تربیت یافتہ مخلصین
ومقربین تیار ہو رہے تھے۔ صوفیہ کو معلوم تھا کہ خلافت ظاہری قائم ہو یا نہ ہو دین
کا کام چلتا رہے گا، یوں صوفیہ کی جماعت اپنے نام کے ساتھ وجود میں آئی اور پھر
یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ہر زمانے میں کبار صوفیہ نے اس احسانی مشن اور نور فیضان ولایت
کی ترویج کے لیے جدو جہد کی اور قوا أنفسکم وأھلیکم نارا پر عمل کرتے ہوئے اپنی
خانقاہ اور متعلقین کے دائرے میں اقامت دین کا فریضہ بھی انجام دیا یہاں تک کہ قطب
ربانی محبوب سبحانی سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی کے عہد میں آفتاب تصوف نصف
النہار پر پہنچ گیا اور پھر اس عہد سے لے کر سلطان المشائخ محبوب الٰہی خواجہ نظام
الدین اولیا کے عہد تک نصف النہار پر رہا، گویا تصوف کے لیے محبوب سبحانی سے لے کر
محبوب الٰہی تک کا وقت ضحوۂ کبری کا ہے جس میں آفتاب ولایت نصف النہار پر تھا،اور پھر ایک زمانہ زوال
کا بھی رہا لیکن موجودہ عہد میں ہر طرف پھر سے تصوف کا نام لیا جا رہا ہے۔ امید ہے
کہ پھر سے نور فیضان ولایت عام ہو گا اور پھر آفتاب ولایت نصف النہار پر پہنچے گا اور یہ سلسلہ یوں
ہی چلتا رہے ان شاءاللہ تعالی۔
بارگاہ غوث اعظم میں بانی خانقاہ عارفیہ کا خراج
حضرت سلطان العارفین شاہ عارف صفی محمدی قدس سرہ نے منقبت کی
زبان میں حضرت شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ کی بارگاہ میں جو خراج عقیدت پیش کیاہے
وہ ملاحظہ فرمائیں:
غوث
الاعظم دستگیرِ بے کساں
افتخارِ
فقر و فخرِ کاملاں
از
جلال و جذبۂ شوقِ دلت
می
خروشد سینہ ہاے عاشقاں
جلوۂ
نورِ رخت شرمندہ کرد
جلوۂ
شمس و قمر را بے گماں
پاے
اقدس شد بہ دوشِ اولیا
اے
فدایت روح و جانِ عارفاں
سوئے
عارف از رہِ لطف وکرم
یک
نگاہے رحمتے شاہِ شہاں
خانقاہ عالیہ عارفیہ کے بانی سلطان العارفین مخدوم شاہ عارف
صفی محمدی قدس سرہ کو حضرت شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ سے جو قلبی رابطہ تھا اس
کا اندازہ آپ کے اس کلام سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے اور آخرکے دو شعر میں آپ نے
جس طرح غوث اعظم کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے استغاثہ کیا ہے وہ کسی عارف اور عاشق
کا
ہی حصہ ہے۔
بارگاہ غوث اعظم میں داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا کا خراج
مرشد گرامی عارف باللہ داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا کو ہم
نے بارہا سنا ہے اور دیکھا ہے کہ آپ کو حضور غوث اعظم قدس سرہ سے کتنی محبت ہے
اور آپ ان کا کس طرح احترام کرتے ہیں ،متعدد بار ہم نے دیکھا کی ان کی عظمت شان کا ذکر کیا اور یہ فرماتے ہوئے
کہ’’ بلا شبہ ان کا قدم ہمارے سر اور گردن پر ہے ‘‘آپ نے اپنی گردن جھکادی۔ہم ذیل
میں آپ کی دو منقبت پیش کرتے ہیں جس سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہےکہ خانقاہ
عارفیہ کے موجودہ صاحب سجادہ حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا حضرت غوث اعظم
قدس سرہ سے کس قدر قلبی تعلق رکھتےہیں :
(۱)
مرے شیخ غوث الوریٰ غوث اعظم
دل و جاں ہے تم پہ فدا غوث اعظم
یہی اک تمنا ہے یاغوث اعظم
کہ ہوجاؤں میں آپ کا غوث اعظم
دکھا دو وہ جلوہ ذرا غوث اعظم
کہ بن جاؤں میں آئینہ غوث اعظم
ترے پائے اقدس کی عظمت کے آگے
جھکاتے ہیں سر اولیا غوث اعظم
کرم جس پہ ہو آپ کا ایک پل میں
وہ بن جائے غوث الوریٰ غوث اعظم
سعیدؔ اللہ اللہ مرشد کے صدقہ
ہوئے دل میں جلوہ نما غوث اعظم
(۲)
ابوالوقت غوث زماں غوث اعظم
شہنشاہ کون و مکاں غوث اعظم
انیس دل بے کساں غوث اعظم
ترا فیض ہے بے کراں غوث اعظم
ترا در ہے وہ در کہ جس در پہ جاکر
جھکاتے ہیں سر قدسیاں غوث اعظم
ترا وصف جو کر سکے بے محابا
کہاں سے وہ لاؤں زباں غوث اعظم
مرا طرز ہے قادری سہروردی
اور چشتی نظامی زباں غوث اعظم
یہ سب پیر و مرشد کا ہے فیض ورنہ
کہاں بوسعیدؔ اور کہاں غوث اعظم

Comments
Post a Comment