اقوال کفریہ کی قسمیں
اقوال
کفریہ کی قسمیں
کفری اقوال دو طرح کےہوتے ہیں :
اول: متفق علیہ ،وہ اقوال جن کے کفر ہونے پرتمام علما ء و مجتہدین اور فقہا و متکلمین کا اتفاق
ہے اس کےقائل کا عمل باطل ہوجاتا ہے اس کا
نکا ح ٹوٹ جاتا ہے، وہ اسلام سے باہر ہوجاتا ہے اور اس سےاسلام کے
تمام بنیادی احکام ساقط ہوجاتے ہیں ۔اس لیے فقہائے
کرام اس کو تو بہ واستغفار ,تجدید نکاح اور تجدید
اسلام کا حکم دیتے
ہیں۔
دوم : مختلف فیہ جن اقوال کے کفری ہونے میں اختلاف ہے اگر چہ
اختلاف ضعیف ہی کیوں نہ ہو لیکن اس اختلاف کی وجہ سے حکم میں تخفیف ہوجائے گی ،اس
کے قائل و متکلم پر فقہائے کرام تو بہ واستغفار اوراحتیاطاً تجدید نکاح کا حکم دیتے ہیں ۔
اس سلسلے میں صاحب در
مختار علامہ محمد بن علی بن عبد الرحمن حنفی حصكفی رحمۃ اللہ علیہ
(١٠٨٨ ھ)تحریر
فرماتے ہیں :
وفي شرح الوهبانية للشرنبلالي: ما يكون كفرا اتفاقا
يبطل العمل والنكاح وأولاده أولاد زنا، وما فيه خلاف يؤمر
بالاستغفاروالتوبة
وتجديد النكاح.([1])
’’وھبانیہ کی شرح میں ہے کہ جن اقوال کے کفری ہونے پر
اتفاق ہے اس کے قائل و متکلم کا عمل اور نکاح باطل ہوجائے گا ، اور اس کی اولاد زنا کی اولاد ہوگی ، اور جن
اقوال کے کفری ہونے میں علما کا اختلاف
ہے اس کے قائل و متکلم پر استغفار، توبہ
اور احتیاطاً تجدید نکاح کا حکم دیا جائے
گا ۔‘‘
اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ
علیہ (
١٢٥٢ ھ) تحریر فرماتے ہیں :
(قَوْلُهُ
وَالتَّوْبَةِ) أَيْ تَجْدِيدِ الْإِسْلَامِ (قَوْلُهُ وَتَجْدِيدِ النِّكَاحِ)
أَيْ احْتِيَاطًا كَمَا فِي الْفُصُولِ الْعِمَادِيَّةِ. وَزَادَ فِيهَا قِسْمًا ثَالِثًا فَقَالَ:
وَمَا كَانَ خَطَأً مِنْ الْأَلْفَاظِ وَلَا يُوجِبُ الْكُفْرَ فَقَائِلُهُ
يُقَرُّ عَلَى حَالِهِ، وَلَا يُؤْمَرُ بِتَجْدِيدِ النِّكَاحِ وَلَكِنْ يُؤْمَرُ
بِالِاسْتِغْفَارِ وَالرُّجُوعِ عَنْ ذَلِكَ، وَقَوْلُهُ احْتِيَاطًا أَيْ
يَأْمُرُهُ الْمُفْتِي بِالتَّجْدِيدِ لِيَكُونَ وَطْؤُهُ حَلَالًا بِاتِّفَاقٍ،
وَظَاهِرُهُ أَنَّهُ لَا يَحْكُمُ الْقَاضِي بِالْفُرْقَةِ بَيْنَهُمَا،
وَتَقَدَّمَ أَنَّ الْمُرَادَ بِالِاخْتِلَافِ وَلَوْ رِوَايَةً ضَعِيفَةً وَلَوْ
فِي غَيْرِ الْمَذْهَبِ.([2])
’’توبہ سے مراد تجدید اسلام ہے اور تجدید
نکاح کاحکم احتیاطاد یا جا تا ہے جیسا کہ فصول عمادیہ میں ہے۔اس میں کلام کی ایک تیسری قسم بھی بتائی گئی ہے ۔ یعنی کفری
کلام جب خطاءًسرزد ہوجائے تو وہ کفر کا
موجب نہیں ہوگا ، اس کاقائل اپنی حالت اسلام پر برقرار رہے گا،
اس کو تجدید نکاح کا حکم نہیں دیا
جا ئے گا ، ہاں ! اس سے استغفار اور رجوع کا حکم دیا جا ئے گا ۔اور اس
میں احتیاطاًسے مراد یہ ہے کہ مفتی اسے تجدید نکاح کرنے کا حکم احتیاطاًدیتا
ہے تاکہ ہمبستری
متفقہ طور پر جائز ہوجائے، اور اس
کا ظاہر یہ ہے کہ قاضی میاں بیوی کے
درمیان تفریق کا حکم نہیں دے گااورکفری
اقوال میں اختلاف سے مراد یہ ہے کہ اس قول کے کفری ہونے میں اختلاف ہو اور اختلاف
کی روایت اگرچہ ضعیف ہی ہو بلکہ دوسرے مذہب میں بھی ہو تو بھی کفر
کے حکم میں تخفیف ہوجائے گی ۔ ‘‘
علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ ایک دوسرے مقام پر یوں تحریر فرماتے
ہیں :
أَنَّ مَا يَكُونُ كُفْرًا اتِّفَاقًا يُبْطِلُ
الْعَمَلَ
وَالنِّكَاحَ،
وَمَا فِيهِ خِلَافٌ يُؤْمَرُ بِالِاسْتِغْفَارِ وَالتَّوْبَةِ وَتَجْدِيدِ
النِّكَاحِ وَظَاهِرُهُ أَنَّهُ أَمْرٌ احْتِيَاطٌ۔۔۔ ثُمَّ إنَّ مُقْتَضَى
كَلَامِهِمْ أَيْضًا أَنَّهُ لَا يَكْفُرُ بِشَتْمِ دِينِ مُسْلِمٍ: أَيْ لَا
يُحْكَمُ بِكُفْرِهِ لِإِمْكَانِ التَّأْوِيلِ. ([3])
’’ جس قول کے کفر
ہونے پر اتفاق ہے وہ عمل اور نکاح کو باطل کر دیتا ہے اور جس قول کے کفر
ہونے میں اختلاف ہو اس میں استغفار کرنے اور توبہ کرنے کا حکم ہے اور نکاح کا حکم
احتیاطی امر ہے۔۔۔پھر یہاں فقہا کے کلام کا مقتضا یہ بھی ہے کہ مسلمان کے دین کی توہین کرنے والے کے قول میں اگر تاویل کی گنجائش ہوگی تو تاویل کے امکان کی وجہ سے اس کے
کافر ہونے کا حکم نہیں دیا جائے
گا ۔‘‘
اس کی مزید شرح کرتے ہوئے صاحب ’’مجمع الأنهر
في شرح ملتقى الأبحر ‘‘ علامہ
عبد الرحمن بن محمد بن سلیمان ، المعروف بـ داماد آفندی رحمۃ
اللہ علیہ ( ١٠٧٨ ھ)تحریر فرماتے
ہیں :
فَمَا يَكُونُ كُفْرًا بِالِاتِّفَاقِ يُوجِبُ
إحْبَاطَ
الْعَمَلِ
كَمَا فِي الْمُرْتَدِّ وَتَلْزَمُ إعَادَةُ الْحَجِّ إنْ كَانَ قَدْ حَجَّ
وَيَكُونُ وَطْؤُهُ حِينَئِذٍ مَعَ امْرَأَتِهِ زِنًا وَالْوَلَدُ الْحَاصِلُ
مِنْهُ فِي هَذِهِ الْحَالَةِ وَلَدُ الزِّنَا ثُمَّ إنْ أَتَى بِكَلِمَةِ
الشَّهَادَةِ عَلَى وَجْهِ الْعَادَةِ لَمْ يَنْفَعْهُ مَا لَمْ يَرْجِعْ عَمَّا
قَالَهُ لِأَنَّهُ بِالْإِتْيَانِ بِكَلِمَةِ الشَّهَادَةِ لَا يَرْتَفِعُ
الْكُفْرُ وَمَا كَانَ فِي كَوْنِهِ كُفْرًااخْتِلَافٌ يُؤْمَرُ قَائِلُهُ
بِتَجْدِيدِ النِّكَاحِ وَبِالتَّوْبَةِ وَالرُّجُوعِ عَنْ ذَلِكَ احْتِيَاطًا
وَمَا كَانَ خَطَأً مِنْ الْأَلْفَاظِ لَا يُوجِبُ الْكُفْرَ فَقَائِلُهُ مُؤْمِنٌ
عَلَى حَالِهِ وَلَا يُؤْمَرُ بِتَجْدِيدِ النِّكَاحِ وَلَكِنْ يُؤْمَرُ
بِالِاسْتِغْفَارِ وَالرُّجُوعِ عَنْ ذَلِكَ.([4])
’’جن اقوال کے کفری ہونے پر اتفاق ہے،
اس کے قائل و متکلم کا عمل باطل ہو جائے گا جیسا کہ مرتد کا حکم ہے ،اب اگر وہ پہلے ہی حج کر چکا ہو تو اس پر حج کا
اعادہ ضروری ہے، اس کا اپنی بیوی سے جماع
کرنا زنا ہے، اور جو بچہ اس کے نتیجے میں
پیدا ہوگا وہ زنا سے پیدا ہونے والا ہوگا ، پھر اگر وہ حسب معمول کلمۂ شہادت کا
ورد کرے تو کلمۂ طیبہ کا پڑھنا اس کو کوئی فائدہ نہیں دے گا
جب تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی کفری
بات سے توبہ نہ کرلے ، کیونکہ بغیر
توبہ کے صرف کلمہ شہادت پڑھنے سے کفرمرتفع
نہیں ہوتا۔ اور جن اقوال کے کفری ہونے میں
اختلاف ہے اس کے قائل و متکلم پر یہ حکم لگایا جائے گا کہ وہ احتیاطاً نکاح کی تجدید اورتوبہ و رجوع کرے اور
اگرقائل و متکلم سے کلام میں غلطی ہو جائے
تو اس سے کفر لازم نہیں ہوگا ، قائل بدستور مومن رہے گا ۔ اور اسے نکاح کی تجدید
کا حکم نہیں دیا جائے گا ، بلکہ اسے استغفار کرنے اور اس سے رجوع کا حکم دیا جائے گا ۔‘‘
ان تفصیلات سے معلوم ہوا کہ قول کی تین قسمیں ہیں اول: ایسا
قول جس کا کفر ی ہونا متفق علیہ ہو۔دوم: ایسا قول جس کے کفری ہونے ہی میں اختلاف
ہو ۔سوم: ایسا قول جو کفری تو ہو لیکن قائل سے خطاءً اس کا صدور ہو جائے ۔
ان تینوں کے احکام الگ الگ ہیں جن کا تفصیلی اورمدلل ذکر ہوچکا ، اب ہم ذیل میں اس کفری قول کے قائل
و متکلم کی وضاحت کرتے ہیں جو قول و عمل متفق علیہ طور پر کفری ہو لیکن قائل و متکلم اور عامل اس کا اقراری
نہ ہو بلکہ اس سے انکار کرتا ہو اگر چہ اس کے خلاف دو عادل گواہوں کی گواہی
بھی پیش ہو چکی ہو اور قاضی اسلام نے ان گواہوں کی بنیاد پر فیصلہ بھی کردیا ہو تو
اس صورت میں کیا حکم ہوگا ؟ اس شخص کے انکار کا اعتبار کیا جائے گا کہ نہیں ؟ اس
سلسلے میں مستند فقہائے اسلام اورائمۂ عقائد کیا فرماتے ہیں ؟
کفری قول کے قائل و متکلم کے انکار کی صورت میں شرعی حکم
اگر کوئی کلام
یقینی اور متفق علیہ طور پر کفری ہی ہواور اس کے قائل و متکلم پر گواہی بھی پیش ہوگئی ہو لیکن قائل و متکلم اس سے انکار کر رہا ہو تو
فقہائے کرام اور متکلمین کے نزدیک اس کا ا نکار ہی رجوع وتو بہ مان لیا جائے گا ۔
اس سلسلے میں حضرت
امام محمد بن احمد شمس الائمہ سرخسی (٤٨٣ھ) رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ’’شرح السیر الکبیر ‘‘ میں فرماتے ہیں
:
فَإِذَا
شَهِدَ بِذَلِكَ مُسْلِمَانِ قَضَى الْقَاضِي بِوُقُوعِ الْفُرْقَةِ بَيْنَهُ
وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، وَقَسَّمَ مَالَهُ بَيْنَ وَرَثَتِهِ ۔۔۔ثُمَّ جَاءَ
الرَّجُلُ مُسْلِمًا فَأَنْكَرَ مَا شَهِدَ بِهِ عَلَيْهِ الشَّاهِدَانِ مِنْ
الرِّدَّةِ لَمْ يُبْطِلْ الْقَاضِي قَضَاءَهُ بِإِنْكَارِهِ ۔۔۔وَلَكِنَّهُ
يَجْعَلُ إنْكَارَهُ هَذَا إسْلَامًا مُسْتَقْبَلًا مِنْهُ.([5])
’’دو عادل گواہ کسی کے اسلام سے پھر جانے کی گواہی دیں اور
قاضی ان کی گواہی پر اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق اور اس کی جائدادورثا
میں تقسیم کرنے کا فیصلہ سنا دے ۔۔۔ اس کے بعد وہ شخص مسلمان بن کر آئے اور گواہوں
نے جس بات کی گواہی دی تھی ، اس بات سے انکار کر دے ، تو قاضی کا فیصلہ باطل نہیں ہوگا ۔۔۔البتہ اس کے انکار کے وقت
سے اس کو مسلمان مانا جائے گا ۔‘‘
امام بر ہان الدین بخاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ ( ۶۱۶ ھ) کی
کتاب ’’ المحیط
البرہانی فی الفقہ النعمانی ‘‘کے حوالے سے فتاویٰ عالمگیری میں نقل ہے
:
إذَا
شَهِدَ
رَجُلٌ
عَلَى
امْرَأَتِهِ مَعَ رَجُلٍ أَنَّهَا ارْتَدَّتْ - وَالْعِيَاذُ بِاَللَّهِ - وَهِيَ
تَجْحَدُ وَتُقِرُّ بِالْإِسْلَامِ ۔۔۔وَأَجْعَلُ جُحُودَهَا الرِّدَّةَ
وَإِقْرَارَهَا بِالْإِسْلَامِ تَوْبَةً.([6])
’’اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے خلاف کسی دوسرے مرد کے ساتھ گواہی
دے کہ اس نے ارتداد کیا ہے - خدا نہ کرے
کہ ایسا ہو - اور وہ خاتون انکار
کرے اور اسلام کا اقرار کرے۔۔۔تو اس کے
انکار ارتداد اور
اسلام کے اقرار کو توبہ مانا جائے گا ۔‘‘
حضرت علامہ امام ابن ہمام کمال الدین حنفی رحمۃ اللہ
علیہ ( م ۸۶۱ ھ) اپنی کتاب ’’ فتح القدیر ‘ ‘ میں تحریر
فرماتے ہیں :
وَإِذَا شَهِدُوا عَلَى
مُسْلِمٍ
بِالرِّدَّةِ
وَهُوَ مُنْكِرٌ لَا يُتَعَرَّضُ لَهُ لَا لِتَكْذِيبِ الشُّهُودِ الْعُدُولِ
بَلْ؛ لِأَنَّ إنْكَارَهُ تَوْبَةٌ وَرُجُوعٌ.([7])
’’کسی مسلمان کے بارے میں مرتد ہونے کی گواہیاں گزرچکیں اور وہ اس کا انکار کررہا ہو تو اس سے تعرض نہیں کیا جائے گا ، اس لیے نہیں
کہ عادل گواہوں کو جھوٹا قراردیا جارہا ہے
، بلکہ اس لیے کہ اس کا انکار ہی اس کے حق میں
تو بہ و رجوع ہے۔‘‘
حضرت علامہ ابن نجیم حنفی(۹۷۰ھ)
رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ’’ الْأَشْبَاهُ وَالنَّظَائِرُ عَلَى مَذْهَبِ أَبِيْ
حَنِيْفَةَ النُّعْمَانِ‘‘
میں اس سلسلے میں تحریر فرماتے ہیں :
إنْكَارُ
الرِّدَّةِ تَوْبَةٌ فَإِذَا شَهِدُوا عَلَى مُسْلِمٍ بِالرِّدَّةِ وَهُوَ مُنْكِرٌ لَا يَتَعَرَّضُ لَهُ لَا
لِتَكْذِيبِ الشُّهُودِ الْعُدُولِ، بَلْ؛ لِأَنَّ إنْكَارَهُ تَوْبَةٌ وَرُجُوعٌ. ([8])
’’مرتد کا
انکار ہی توبہ ہے اگر کسی مسلمان کے بارے میں مرتد ہونے کی
گواہیاں گزرچکیں اور وہ اس کا انکار کررہا
ہو تو اس سے تعرض نہیں کیا جائے گا ، اس
لیے نہیں کہ عادل گواہوں کو جھوٹا قراردیا
جارہا ہے ، بلکہ اس لیے کہ اس کا انکار ہی اس کے حق میں تو بہ و رجوع
ہے۔‘‘
اس اصول کو علامہ زين الدين بن ابراہیم ابن نجیم
حنفی مصری رحمۃ اللہ علیہ (٩٧۰
ھ)نے ’’بحر
الرائق ‘‘ میں بھی نقل کیا ہے :
وَإِذَا شَهِدُوا عَلَى مُسْلِمٍ بِالرِّدَّةِ وَهُوَ مُنْكِرٌ لَا يُتَعَرَّضُ لَهُ لَا
لِتَكْذِيبِ الشُّهُودِ الْعُدُولِ بَلْ لِأَنَّ إنْكَارَهُ تَوْبَةٌ وَرُجُوعٌ. ([9])
’’ اگر کسی مسلمان کے
بارے میں مرتد ہونے کی گواہیاں گزرچکیں
اور وہ اس کا انکار کررہا ہو تو اس
سے تعرض نہیں کیا جائے گا ، اس لیے نہیں کہ عادل گواہوں کو جھوٹا قراردیا جارہا ہے ، بلکہ اس لیے
کہ اس کا انکار ہی اس کے حق میں تو بہ و
رجوع ہے۔‘‘
صاحب ’’در
المختار‘‘ علامہ حصکفی حنفی (۱۰۷۷ھ) رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس اصول کو
بیان کیا ہے :
شهدوا على مسلم بالردة
وهو منكر
لا يتعرض له) لا لتكذيب الشهود العدول بل (لان إنكاره توبة ورجوع) ([10])
’’ اگر کسی مسلمان کے
بارے میں مرتد ہونے کی گواہیاں گزرچکیں
اور وہ اس کا انکار کررہا ہو تو اس
سے تعرض نہیں کیا جائے گا ، اس لیے نہیں کہ عادل گواہوں کو جھوٹا قراردیا جارہا ہے ، بلکہ
اس لیے کہ اس کا انکار ہی اس کے حق میں تو
بہ و رجوع ہے۔‘‘
اس اصول کو علامہ ابن
عابدین شامی(۱۲۵۲ھ) رحمۃ اللہ علیہ نے بھی قبول کیا ہے :
شَهِدُوا عَلَى مُسْلِمٍ
بِالرِّدَّةِ
وَهُوَ مُنْكِرٌ لَا يَتَعَرَّضُ لَهُ) لَا لِتَكْذِيبِ الشُّهُودِ الْعُدُولِ
بَلْ (لِأَنَّ إنْكَارَهُ تَوْبَةٌ وَرُجُوعٌ). ([11])
’’ اگر کسی
مسلمان کے بارے میں مرتد ہونے کی گواہیاں گزرچکیں
اور وہ اس کا انکار کررہا ہو تو اس
سے تعرض نہیں کیا جائے گا ، اس لیے نہیں کہ عادل گواہوں کو جھوٹا قراردیا جارہا ہے
، بلکہ اس لیے کہ اس کا انکار ہی اس کے حق میں
تو بہ و رجوع ہے۔‘‘
اس اصول کو صاحب ’’ غمز عيون البصائر في شرح
الأشباه والنظائر‘‘ نے بھی نقل کیا ہے:
إنْكَارُ
الرِّدَّةِ تَوْبَةٌ فَإِذَا شَهِدُوا عَلَى مُسْلِمٍ بِالرِّدَّةِ وَهُوَ مُنْكِرٌ لَا يَتَعَرَّضُ لَهُ لَا
لِتَكْذِيبِ الشُّهُودِ الْعُدُولِ، بَلْ؛ لِأَنَّ إنْكَارَهُ تَوْبَةٌ وَرُجُوعٌ. ([12])
’’مرتد
کا انکار ہی توبہ ہےتو اگر کسی مسلمان کے بارے میں مرتد ہونے کی
گواہیاں گزرچکیں اور وہ اس کا انکار کررہا
ہو تو اس سے تعرض نہیں کیا جائے گا ، اس
لیے نہیں کہ عادل گواہوں کو جھوٹا قراردیا
جارہا ہے ، بلکہ اس لیے کہ اس کا انکار ہی اس کے حق میں تو بہ و رجوع
ہے۔‘‘
صاحب ’’الفقہ على
المذاهب الأربعہ‘‘ علامہ عبد الرحمٰن الجزیری (۱۳۶۰ھ) تحریر کرتے ہیں :
الحنفية قالوا: تقبل الشهادة بالردة من عدلين، يشهدان على مسلم بالردة، ويسألهما القاضي عن سبب
ردته، فربما قال شيئاً ليس بكفر، وهو في نظرهما كفر، ولأن إنكاره توبة ورجوع إلى
الإسلام .([13])
’’احناف کہتے ہیں: ارتداد کی گواہی دو عادل گواہوں
سے قبول کی جاتی ہے تو جو کسی مسلمان کے خلاف ارتداد کی گواہی دے گا تو قاضی
ان گواہوں سے اس کے ارتداد کے اسباب
دریافت کرے گا کیوں کہ ممکن ہے کہ اس نے
کوئی ایسی بات کہی ہو جو ارتداد کا سبب نہ ہو لیکن اسی بات کو گواہان کفر جانتے
ہوں اور اس لیے بھی کہ اس کا انکارہی توبہ اور اسلام کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘
علامہ علی بن مصطفٰی طنطاوی اپنی کتاب ’’تعريف عام بدين الإسلام‘‘
میں تحریر کرتے ہیں :
ولما كانت العقيدة أساس الدين،
ويترتب على الاخلال بها الكفر والردة، وكان لا يحكم على مسلم بالردة ما دام في الأمر احتمال ألا
يكون كفرا. لذلك قلنا ان من أنكر عقيدة جاءت بصريح القرآن يكفر، ومن أنكر عقيدة وردت في صحيح السنة يفسق ولا يكفر.([14])
’’چونکہ عقیدہ دین کی بنیاد ہے، اس لیے اس کی خلاف ورزی کفر
اور ارتداد کی صورت میں نکلتی ہے، اور ایک مسلمان پر ارتداد کا فیصلہ اس وقت تک
نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اس کے قول و فعل کے کفریہ نہ ہونے کا احتمال و امکان بھی باقی ہوگا ۔ اسی لیے ہم نے کہا کہ جو
شخص قرآن میں واضح طور پر بیان کردہ کسی عقیدہ کا انکار کرے گا وہ کافر ہو جائے گا
اور جو کوئی صحیح سنت میں بیان کردہ کسی عقیدہ کا انکار کرے گا وہ کافر نہیں بلکہ
فاسق قرار پائے گا۔‘‘
اس سلسلے میں ’’موسوعة القواعد الفقهية ‘‘ میں تحریر ہے
:
إذا شهد مسلمان على أسير فى دار الحرب أنه ارتد وقضى
القاضى بوقوع الفرقة بينه وبين امرأته وقسم ماله بين ورثته، ثم جاء الرجل مسلماً
فأنكر ما شهد به عليه الشاهدان من الردة لم يبطل القاضي قضاءه بإنكاره ولكنه يجعل
إنكاره
هذا اسلاماً
مستقبلاً منه، فلا يرد عليه امرأته ولا ماله إلا ما كان قائماً بعينه، ولكن يجوز
أن يعقد على امرأته المبائنة
عقداً جديداً.([15])
’’اگر دو مسلمان دار الحرب میں قید کسی
قیدی کے خلاف گواہی دیا کہ وہ
مرتد ہوگیا ہے اور قاضی اس کے اور
اس کی بیوی کے درمیان علاحدگی کا حکم دے دیا اور اس کے
مال کو اس کے ورثاء میں تقسیم کر
دیا پھر وہ شخص مسلمان ہو کر آیا اور انکار کیا اس
گواہی کا جو دو گواہوں نے اس کے
ارتداد کے بارے میں گواہی دی تھی تو قاضی
کا فیصلہ
اس کے انکار کرنے کی وجہ سے باطل تو نہیں
ہوگا ، لیکن اس کا انکار اس کے مستقبل میں اس کے اسلام
کو قبول کرنے پر دلیل ہوگا ، اس
لیےاس کے موجودہ مال کے علاوہ اس کی بیوی
یا اس کی جائیدادکو اس کے حوالے نہیں کیا جائے گا ، لیکن اس کے لیے اپنی سابقہ
بیوی کے ساتھ نیا نکاح کرنا جائز
ہوگا ۔‘‘
اس باب میں تمام علما و متکلمین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ
کسی کے ارتداد یا کفر کی گواہی صرف عادل
گواہوں کی ہی قبول کی جائے گی اور
بعض نے چار گواہوں کا اعتبار کیا ہے اور بعض نے دو کی
گواہی کو ہی کافی مانا ہے احناف کے نزدیک
بھی دو عادل گواہوں کی گواہی ہی کافی
ہے ،ایسا نہیں کہ کسی نے بھی کچھ کہہ دیا
تو اس بنیاد پر شرعی احکام بیان کردیا جائے گا ،یوں ہی قاضی اور مفتی پر یہ بھی
لازم ہے کہ جب کسی مسلمان کے بارے میں اس کے پاس کوئی منفی بات پہنچے تو قاضی پہلے
تحقیق کرے اور اتمام حجت کے بعد ہی کوئی فیصلہ دے ۔
اور اگر قاضی نے دو عادل گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر کسی
مسلمان کے کفر و ارتداد کا فیصلہ کربھی دیا
لیکن مشہود علیہ( جس کے خلاف گواہی دی جا چکی ہے )نے انکار
کردیا اور اس نے یہ بیان کردیا کہ میں نے
فلاں کام نہیں کیا یا فلاں کلام کا میں قائل و متکلم نہیں ہوں تو محققین
علمائے اہل سنت کے نزدیک اس کے انکا ر کو
ہی توبہ و رجوع مان لیا جائے گا اور اس کے اسلام کو بعینہ قبول کیا جائے گا ،کیوں
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد
کا مفہوم
یہ بتاتا ہے کہ کافر اصلی بھی اگر حالت جنگ میں کلمہ و شہادت کا اظہار کرے گا تو اس کو قبول کر لیا جائے گا اور
اس سے جنگ نہیں کی جائے گی بلکہ اس کی جان و مال کی حفاظت شرعی طور پر لازم و
ضروری ہو گی،یوں ہی مرتد کے حق میں بھی
انکار ارتداد کے ساتھ کلمہ شہادت کی عظمت
و افادیت کو بحال رکھا جائے گا اور قبول کیا جائے گا ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا :
أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ
إِلَّا اللهُ فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ
وَمَالَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ.([16])
’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک
لڑوں جب تک وہ یہ نہ کہہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، پس جس نے کہا کہ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اس نے اپنے آپ کو اور اپنے مال کو مجھ سے محفوظ رکھا
سوائے حق کے، اور اس کا حساب اللہ کے پاس ہے۔‘‘
کوئی ذمی غیر مسلم مر جائےاور ایک بھی عادل مسلمان مرد یا عورت گواہی دے کہ وہ مرنے
سے پہلے مسلمان ہو گیا تھا تو مسلمانوں کو
چاہیے کہ اس کوغسل دے کر کفن پہنائیں اور اس کی
نماز جنازہ پڑھیں ،فتاویٰ ہندیہ میں ہے :
رَجُلٌ مِنْ
أَهْلِ الذِّمَّةِ مَاتَ فَشَهِدَ مُسْلِمٌ عَدْلٌ، أَوْ مُسْلِمَةٌ أَنَّهُ
أَسْلَمَ قَبْلَ مَوْتِهِ وَأَنْكَرَ أَوْلِيَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ ذَلِكَ
فَمِيرَاثُهُ لِأَوْلِيَائِهِ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ بِحَالِهِ وَيَنْبَغِي
لِلْمُسْلِمِينَ أَنْ يُغَسِّلُوهُ وَيُكَفِّنُوهُ وَيُصَلُّوا عَلَيْهِ۔۔۔
نَصْرَانِيٌّ مَاتَ وَلَهُ ابْنَانِ أَحَدُهُمَا مُسْلِمٌ وَالْآخَرُ نَصْرَانِيٌّ
فَأَقَامَ الْمُسْلِمُ نَصْرَانِيَّيْنِ أَنَّهُ مَاتَ مُسْلِمًا وَأَقَامَ النَّصْرَانِيُّ
مُسْلِمَيْنِ أَنَّهُ مَاتَ نَصْرَانِيًّا يُقْضَى بِالْإِرْثِ
لِلْمُسْلِمِ۔۔۔وَيُصَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ بِقَوْلِ ابْنِهِ الْمُسْلِمِ أَنَّهُ
مَاتَ مُسْلِمًا لَا بِشَهَادَةِ النَّصْرَانِيِّينَ، وَلَوْ قَالَ الِابْنُ
الْمُسْلِمُ :أَسْلَمَ أَبِي قَبْلَ مَوْتِهِ وَأَنَا وَارِثُهُ، وَقَالَ
النَّصْرَانِيُّ :أَبِي لَمْ يُسْلِمْ فَالْقَوْلُ لِلنَّصْرَانِيِّ فِي
الْمِيرَاثِ وَيُصَلَّى عَلَيْهِ بِقَوْلِ ابْنِهِ الْمُسْلِمِ،.([17])
’’اہل ذمہ میں سے کوئی شخص مر گیا اور ایک عادل مسلمان
مرد یا مسلمان عورت نے گواہی دی کہ اس نے اپنی موت سے پہلے
اسلام قبول کر لیا تھا اور اس کے اولیا و
وارثین انکار کریں اور کہیں کہ اس نے
اسلام قبول نہیں کیا تھا تو اس کی وراثت اہل ذمہ میں سے اس کے اولیا و وارثین کے لیے ہوگی اور مسلمانوں پر لازم
ہوگا کہ وہ اس کو غسل دیں اور کفن پہنائیں اور اس کی جنازے کی نماز ادا کریں۔
۔۔ایک عیسائی مر گیا، اس کے دو بیٹے تھے ایک مسلمان اور دوسرا عیسائی تو مسلمان
بیٹے نے دو عیسائی کو گواہ بنایا کہ وہ مسلمان ہو کر مرا اور عیسائی بیٹے نے دو مسلمان کوگواہ بنایا
کہ وہ عیسائی ہو کر مر ا،اب اس
کی وراثت کا فیصلہ مسلمان کے لیے کیا جائے گا ۔۔۔اوراس کے مسلمان
بیٹے کے بیان کو قبول کرتے ہوئے کہ وہ
مسلمان کی حیثیت سے فوت ہوا اس کی نماز
جنازہ ادا کی جائے گی ، عیسائی کی گواہی
کے مطابق نہیں۔اور اگر مسلمان بیٹے نے کہا کہ میرے والد نے موت سے پہلے اسلام قبول
کیا تھا اور میں اس کا وارث ہوں اور عیسائی نے کہا کہ میرے والد نے اسلام قبول
نہیں کیا تھا تو ایسی صورت میں عیسائی کے
لیے میراث کا فیصلہ کیا جائے گا اور
مسلمان بیٹے کے قول کے مطابق اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔‘‘
اسلام دین حق ہے اور حق کو باطل پر فوقیت حاصل ہوتی ہے ،حق کے
ثبوت کے لیے ایک گواہ بھی کافی ہے خواہ عورت ہی کی گواہی کیوں نہ ہو ، جب کہ حق کے
ارتفاع کے لیے دلیل بدیہی قطعی اور ثبوت متواترہ کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے بعد
بھی اقوال کفریہ اور افعال ارتدادیہ
کا فاعل و متکلم اپنے افعال و اقوال سے انکار کر بیٹھے تو
تقریبا تمام فقہائے اسلام کے نزدیک اس کا انکار ہی توبہ و رجوع مان لیا جائے گا
اور اس کے اسلام کو بدستور قبول کیا جائے گا ۔
لیکن افسوس کہ ہمارے دور کے اکثر فقہا نے اپنی ضد ، جرأت و جہالت اور عناد کی وجہ سے اسلام اور
اہل اسلام کی جو درگت بنا رکھی ہے اس پر جتنا ماتم کریں کم ہے ،اپنی تکفیر مزاجی کی وجہ سے مسلمانوں کو اس
قعر عمیق میں پہنچا دیا ہے جہاں سے واپس آنا بہت مشکل معلوم ہوتا ہے،اہل جرأت مصلحین
علما و دعاۃ جب مسلسل صدیوں جد
وجہد کریں گے تب ہی ممکن ہوسکتا ہے کہ یہ امت تکفیریت کے اس کاری زخم سے شفا پاسکے ۔
اللہ کے رسول صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کو کافر بنانا
اس کو قتل کرنے سے زیادہ بڑا گناہ ہے ،اس وقت جب ہم یہ تحریر کر رہے ہیں
دنیا کے ایک عظیم مقدس مقام بیت المقدس کو
لےکر مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان خون خرابہ جاری ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ اسرائیلی یہودی مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں اور دنیا
بھر کے عیسائی و یہودی جشن منارہے ہیں، امریکہ ،برطانیہ،فرانس، جرمنی،اسٹریلیا،
وغیرہ سب متفقہ طور پر فلسطینی مسلمانوں کے خلاف اسرائیل کے تمام تر جنگی جرائم کے
ارتکاب کو سند جواز فراہم کرنے میں مصروف ہیں
اور سارے مسلم ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
غزہ فلسطین میں ۲۰/لاکھ سے زیادہ کی تعداد میں جو مسلمان اس وقت ظلم و زیادتی کے شکار ہیں ،جن میں عورت ،مرد، بچے، جوان ، بیمار اور لاچار ہر
طرح کے لوگ شامل ہیں ان پر پچھلے سات آٹھ
دنوں سے مسلسل بم برسائے جارہے ہیں اور فاسفورس نامی خطرناک قسم کا سفید پاوڈر
چھڑکا جارہا ہے اور ان کو اپنے ہی سرزمین سےباہر کیا جا رہا ہے ایسے میں عین ممکن ہے کہ ہمارے دور کے تکفیری
مزاج علما یہ پتا لگا رہے ہوں کہ یہ مظلوم فلسطینی مسلمان سنی ہیں کہ نہیں؟ اور ان کے لیے دعا کرنا اور ان کو مدد پہنچانا جائز ہے کہ نہیں ؟
تاریخ شاہد ہے کہ علما کی مسئلہ تکفیر میں شدت کی وجہ سے ہی یہ ممکن ہوسکا تھا کہ مضبوط
اسلامی سلطنتوں کو جنگلی اور غیر مہذب قوم منگولوں نے تخت و تاراج کردیا تھا اور
مسلمانوں کی کھوپڑیوں سے مینار و محل تعمیر کیا تھا، لیکن آج تو اس سے بھی زیادہ
باریک اور شاطر دشمن اس امت مسلمہ پر مسلط ہے ،ماضی میں کھوپڑیوں کو باقی رکھا گیا
تھا لیکن آج تو مسلمانوں کی کھوپڑی سمیت ہڈیوں کا سرمابنا دیا جا رہا ہے، نہ رہے بانس نہ باجے بانسری ،دشمن پہلے ہزاروں
ہزار بموں کی بارش کرتا ہے اور پھر پاوڈر
چھڑ کر سرمابنا نے کا انتظام کرتا ہوا ہمارے گھروں کے ساتھ ہمارے مقدس مقامات پر
قبضہ کرتا ہوا مسلسل آگے بڑھ رہا ہے اور
پوری امت بے حس و حرکت تماشا دیکھنے میں مصروف ہے ۔
امت کو اس مقام تک لانے میں جہاں دیگر اسباب کا دخل ہے وہیں اس
میں تکفیریت کا بھی بہت بڑا کردارہے۔ امت مسلمہ اس وقت تفرقہ کا شکار ہے ، کلمہ
طیبہ کی عظمت کو پامال کر نے والے تکفیری
علما نے امت کے ایک ایک فرد کے اندر نفرت اور فرقہ بندی کا زہر گھول دیا ہے جس کے
نتیجے میں ایک فرد دوسرے فرد کا ،ایک گاؤں دوسرے گاؤں کا ،ایک ملک دوسرے ملک
کا جانی دشمن بنا ہوا ہے، ایسے میں کیسے
ممکن ہے کہ کلمہ گو ایک دوسرے کے درد کو اپنا درد سمجھیں اور ایک دوسرے کی جان و
مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی فکر کریں ۔
ہمارے دور میں ایک شخص
اپنے اسلام و سنیت کا اعلان و اقرار کررہا ہوتا ہے اور اپنے اوپر لگے تمام الزامات
کو خارج قرار دیتا ہے اس کے باوجود علما کا ایک گروپ ہے جو نہ ان کے اسلام
و سنیت کو قبول کرنے کو تیار اور نہ ان کے انکار و برأت کی وجہ سے ان کے
توبہ و رجوع کےاسلامی اصول پر عمل کے لیے آمادہ ہے۔بس عناد و
جہالت اور فرقہ بندی کا ایسا نشا چھایا
ہوا ہے کہ شرع مطہر پر جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود بھی اہل اسلام کی تکفیر کرتے ہیں اور جو
تکفیر سے سکوت کرتا ہے اس کو بھی کافر بنا کر ہی دم لیتے ہیں ، الامان والحفیظ ۔
مذکورہ تمام مستند علما و فقہا کے
فرمودات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ
ہمارے دور کے علما و مفتیان کرام کے لیے کسی صورت یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی مسلمان کے اسلام سے
ارتداد کا فیصلہ کریں جب تک کہ وہ خود یہ اعلان نہ کر دے کہ اس نے اسلام کو چھوڑ
دیا ہے، یہ ایک بڑے خطرے اور بڑے نقصان کا باب ہے، اس لیے ہمارے لیے جائز نہیں کہ
ہم کسی ایسے مسلمان کے کفر کا فیصلہ کریں
جس نے کوئی بیان جاری کیا ہو اور وہ
بیان کفر اور عدم کفر کا احتمال رکھتا ہو
،یا اس کا قائل کفری معنی کا اقرار نہ کرتا ہو، یا قائل اس قول کا ہی منکر ہو تو
ہمارے لیے کسی صورت میں قائل پر کفر کا حکم جاری کرنا اسلامی اصول کے مطابق ہرگز
درست نہیں ہوگا۔
علمائے کرام نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی بات
کسی مسلمان کی طرف سے آئی ہو اور اس بات میں ننانوے
پہلوکفر کے ہوں،صرف ایک پہلو اسلام کا ہو تو اسلام
ہی مانا جائے گا کیوں کہ اسلام دین
حق ہے اور کفر باطل، اور حق باطل پر غالب ہوتا ہے، لیکن افسوس کہ آج ہم اپنی شدت
کی وجہ سے خواہ مخواہ حق کو مغلوب کرنے میں مصروف ہیں۔
اس مفہوم کو علامہ ملا علی قاری رحمۃ
اللہ علیہ(۱۰۱۴ھ) اپنی معروف کتاب ’’ شرح الشفاء‘‘ میں یوں تحریر فرماتے ہیں:
وقد قال علماؤنا إذا وجد
تسعة وتسعون وجها تشير إلى تكفير مسلم ووجه واحد إلى ابقائه على إسلامه فينبغي
للمفتي والقاضي أن يعملا بذلك الوجه وهو مستفاد من قوله عليه السلام : ادْرَءُوا
الْحُدُودَ مَا اسْتَطَعْتُمْ عَنِ الْمُسْلِمِينَ ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ لِلْمُسْلِمِ
مَخْرَجًا فَخَلُّوا سَبِيلَهُ ، فَإِنَّ الْإِمَامَ لَأَنْ يُخْطِئَ فِي الْعَفْوِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعُقُوبَةِ،رواه الترمذي وغيره
والحاكم وصححه)([18])
’’ہمارے علمائے کرام نے فرمایا ہے کہ اگر مسلمان کو کافر قرار دینے کے
ننانوے پہلو ہوں اور اس کے اسلام پر قائم رہنے کی ایک ہی وجہ ہو تو مفتی اور قاضی
کو اس ایک وجہ پر عمل کرنا چاہیے، اور
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس
فرمان سے مستفاد ہے جس میں آپ نے فرمایا
ہے کہ مسلمانوں سے جہاں تک ہو سکے حدود(شرعی سزاؤں ) کو ٹال دو، اگر تم
مسلمان کے لیے کوئی راہ نکال سکو تو نکالو، کیونکہ امام (حاکم، مفتی و قاضی) کا معاف کرنے میں غلطی
کرنا ، سزا دینے میں غلطی کرنے سے بہتر ہے۔ترمذی ،حاکم اوردیگر محدثین نے اس
حدیث کی روایت کی ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے۔‘‘
([3])حاشيہ رد المحتار، على
الدر المختار: شرح تنوير الابصار، (4/ 230)/ابن عابدين شامی،مصطفى
البابی الحلبی بمصر، ١٣٨٦ ھ= ١٩٦٦ م)
([5])السياسة الشرعية
والقضاء، شرح السير الكبير،(2006)/ محمد بن احمد بن ابی سهل شمس
الائمۃالسرخسی۔ ١٩٧١م)
([7]) فتح القدير (6/
98)/ الامام كمال الدين المعروف بابن الهمام الحنفی (٨٦١ ھ) مصطفى البابی الحلبی
بمصر ، ١٣٨٩ ھ = ١٩٧٠ م)
([8]) الْأَشْبَاهُ وَالنَّظَائِرُ عَلَى
مَذْهَبِ أَبِيْ حَنِيْفَةَ النُّعْمَانِ(ص159)/ زين الدين ابن نجيم ،دار الكتب
العلميہ، ١٤١٩ ھ- ١٩٩٩ م)
([10])الدر المختار شرح تنوير الابصار وجامع
البحار(ص348)/ محمد بن علی حنفی حصكفی ،دار الكتب العلميہ ، ١٤٢٣ ھ - ٢٠٠٢ م)
([11]) حاشيہ رد المحتار، على الدر المختار:
شرح تنوير الابصار(4/ 246)/ ابن عابدين ،مصطفى البابی الحلبی،١٣٨٦ ھ= ١٩٦٦ م)
([12]) غمز عيون البصائر فی شرح الاشباه والنظائر(2/ 198)/ احمد بن
محمد مكی حموی حنفی ،دار الكتب العلميۃ، ١٤٠٥ھ- ١٩٨٥م)
([13])الفقهہ على المذاهب الاربعۃ(5/ 384)/
عبد الرحمن بن محمد عوض جزيری ،دار الكتب العلميۃ
، بيروت ، ١٤٢٤ ھ- ٢٠٠٣ م)
([14]) تعريف عام بدين الاسلام(ص141)/علی بن مصطفى الطنطاوی، دار
المنارة ،المملكۃ العربيۃ السعوديۃ،١٤٠٩ ھ- ١٩٨٩ م)

Comments
Post a Comment