اسلامی عقیدہ، ضروریات دین و سنیت
اسلامی عقیدہ
عقیدہ دل کے اذعان و یقین کا نام ہے۔ جس کا تعلق سراسر قلب سے ہے، اعضا و جوارح سے نہیں ہے۔ اعضا و جوارح سے جس علم کا تعلق ہے ، اسے اصطلاح میں ’’فقہ‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں مگر چونکہ دل ایک امر مخفی ہے، جس کی کیفیت کا جاننا ہر کسی کے لیے ممکن نہیں ، اسی لیے ظاہر کو باطن کی علامت کے طور پر مقرر کردیا گیا۔ لہذا جب کوئی شخص زبان سے کچھ کہتا ہے یا اپنے حرکت و عمل سے کوئی کام کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ فلاں مسلم ہے اور فلاں غیر مسلم ہے۔
کلمہ طیبہ کی عظمت
آپ اس حدیث کو یاد کریں جب ایک موقع پر اسلامی فوج نے کفار پر چڑھائی کی تو کچھ لوگوں نے کلمہ پڑھنا شروع کردیا، بعض صحابہ نے کلمہ سن کر ہاتھ روک لیے اور بعض صحابہ نے یہ سمجھ کر کہ اپنی جان بچانے کی خاطر اس وقت کلمہ پڑھ رہا ہے، یہ مانا نہیں جائے گا، ان میں سے ایک کو قتل کردیا۔ یہ خبر سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان حضرات سے پوچھا کہ جب اس نے کلمہ پڑھ لیا پھر تم نے اسے کیوں قتل کیا؟ انہوں نے بتایا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! وہ صرف اپنی جان کی امان کی خاطر کلمہ پڑھ رہا تھا، دل سے کلمہ نہیں پڑھ رہا تھا، سرکار علیہ السلام نے فرمایا:
أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لَا .([1])
’’تم نے کیوں نہیں اس کا دل چیر کر دیکھ لیاتاکہ تم جان جاتے کہ اس نے دل سے کہا ہے کہ نہیں ؟‘‘
جب ظاہراً اس نے کلمہ پڑھ لیا اور ظاہر ہی باطن کا غماز ہے تو اس کا اعتبار کرنا چاہیے تھا۔حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارگاہ الہٰی میں بار بار استغفار کے طور پر کہا: خدایا! میں اس کے عمل سے بری ہوں، خدایا! میں اس کی حرکت سے بری ہوں۔ معلوم یہ ہوا کہ عقیدہ در حقیقت دل کے اذعان ویقین کا نام ہے اور ظاہر اس کا شاہد اور دلیل ہےاور مفتی و قاضی، ظاہر پرہی اجرائے حکم کا مکلف ہے۔ ظاہر سے تجاوز کرنا اورباطن پر حکم جاری کرنا بڑی زیادتی ہے جو اللہ و رسول کو سخت ناپسند ہے ،جس پر مذکورہ حدیث واضح دلیل ہے ۔
اس حدیث کے ضمن میں علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
فِيهِ دَلِيل عَلَى تَرَتُّب الْأَحْكَام عَلَى الْأَسْبَاب الظَّاهِرَة دُون الْبَاطِنَة. ([2])
’’اس حدیث میں ظاہری اسباب پر احکام جاری کرنے کی دلیل موجود ہے نہ کہ باطنی اسباب کی بنیاد پر۔‘‘
علامہ خطابی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
فيه من الفقه أنَّ الكافر إذا تكلَّم بالشهادة وإن لم يصف الإيمان وَجَبَ الكَفُّ عنه والوقوف عن قتله سواء أكان بعد القدرة أم قبلها.([3])
’’اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب کو ئی کافر کلمہ شہادت کا زبانی اقرارکرتا ہے اگر چہ اس نے عقیدے کی تفصیل بیان نہ کی ہو، اس کی جان و مال کی حفاظت ضروری ہے اور اس پر قدرت حاصل ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں اس کے قتل سے رک جانا لازم ہے ۔‘‘
وفي قوله: ’’هلَّا شَققتَ عَنْ قَلْبِهٖ؟ ‘‘دَلِيْلٌ علٰى أن الحُكْمَ إنما يَجْرِيْ عَلٰى الظَّاهِرِ، وَأنَّ السَّرَائِرَ مَوْكُوْلَةٌ إلَى اللہ سُبْحَانَهٗ . ([4])
’’اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ کیوں نہیں تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا؟ میں واضح دلیل ہے کہ شرعی حکم ظاہر ی اعمال پر ہی جاری ہوتا ہے کیوں کہ دلوں کے احوال اللہ سبحانہ تعالیٰ ہی کے سپرد ہیں ۔ ‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: ثَلاَثَةٌ مِنْ أَصْلِ الإِيمَانِ: الْكَفُّ عَمَّنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَلاَ تُكَفِّرْهُ بِذَنْبٍ، وَلاَ تُخْرِجْهُ مِنَ الإِسْلاَمِ بِعَمَلٍ .([5])
’’حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تین چیز اصل ایمان سے ہے ،(جنگ کے دوران) لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ کہنے والے کے قتل سے رک جانا ، چھوٹے یا بڑے کسی گناہ کی وجہ سے کسی کی تکفیر نہ کرنا ،اور صرف کسی عمل کی وجہ سے کسی کو اسلام سے باہر نہ کرنا ۔‘‘
اس حدیث سے واضح ہوجاتا ہے کہ کلمہ گو سے نہ جنگ جائز ہے اور نہ کسی صورت اس کو تکلیف میں ڈالنا درست ہے،یوں ہی یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ کوئی گناہ چاہے بڑا ہو یا چھوٹا اس بنیاد پر کسی کی تکفیر جائز نہیں ہے اور نہ کسی عمل کی وجہ سے کسی کو اسلام سے باہر کیا جائے گا جب تک کہ اس سے کسی ایسے قول و فعل کے صدور کا ثبوت شرعی قطعی حاصل نہ ہوجائے جو قول و فعل بدیہی طور پر کفر ہو اور قائل و عامل سے اس سلسلے میں اتمام حجت بھی کرلیا جائے اور وہ کفر و ایمان سے آگاہ ہونے کے بعد بھی اپنے کفر قولی و فعلی کا اقراری ہو تو بلا شبہ ایسا شخص شرع کی نظر میں کافر ہوگا ورنہ نہیں۔
دین اسلام اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے جو تمام انسانوں کے لیےہے اور آخری دین ہے، اس کے بعد کوئی دوسرا دین اور کوئی دوسری شریعت آنے والی نہیں ہے، اس دین و شریعت میں جہاں تمام انبیائے کرام کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا ضروری اور لازم ہے وہیں تمام انسانوں کا مناسب حق و احترام باقی رکھا گیا ہے بالخصوص اس دین کے ماننے والوں کی عزت ، مال اور جان کی بڑی اہمیت اور حفاظت آئی ہے ، ناحق کسی کی جان کو نقصان پہنچانے کی صورت میں جان کا بدلہ جان سے دینا واجب ہے ،ایمان کی اہمیت تو جان سے بھی بڑھ کر ہے،یہی وجہ ہے کہ اسلام نے بطور خاص مسلمانوں کو ناحق تکلیف دینے ،گالی دینے ، قتل کرنے اور کافر و گمراہ کہنے کو ظلم و زیادتی قرار دیا ہے اور ان اعمال پر سخت وعیدوں اور سزاوں کا اعلان کیا ہے ۔
اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
وَمَنْ لَعَنَ مُؤْمِنًا فَهُوَ كَقَتْلِهِ، وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَتْلِهِ. ([6])
’’اور جس نے کسی مومن کو لعن طعن کیا یا کافر کہا تو گویا اس نے اس کو قتل کردیا ۔‘‘
دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:
إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا.([7])
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی شخص نے اپنے کسی بھائی کو ’’اے کافر‘‘ کہا! تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہوگیا۔ ‘‘
اسلام میں کلمہ شہادت کی بہت اہمیت اور عظمت آئی ہے ، اتنی کہ اگر کوئی دشمن حالت جنگ میں بھی کلمہ پڑھ لیتا ہے تو اس کی جان بخش ہی نہیں دی جاتی بلکہ کلمہ شہادت کی ادائیگی کے ساتھ ہی اس کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت واجب ہوجاتی ہے ۔ اور آج ہمارے مسلم معاشرے میں اللہ و رسول اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ، محبت رسول کا اقرارکرنے والے اورقبلہ رو ہو کر نماز ادا کرنے والے کی بھی جان و ایمان محفوظ نہیں ہے ۔ جب کہ اللہ کے رسول ﷺ ارشاد فرماتے ہیں :
مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا، فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذِمَّتِهِ. ([8])
’’ جس نے ہماری طرح نماز پڑھی اور ہماری طرح قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا تو وہ مسلمان ہے جس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی حفاظت ہے۔ لہذا تم اللہ کے ساتھ اس کی دی ہوئی حفاظت میں خیانت نہ کرو۔‘‘
اس حدیث میں تین چیزوں کا ذکر ہوا نماز، استقبال قبلہ ،اور مسلمانوں کے ذبیحہ کا کھانا ، یہ تین کام عام طور پر مسلمان ہی کرتے ہیں۔ اگر کوئی توحید و رسالت اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوئے محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو نبی آخر الزماں جانتا ہو اور ان مذکورہ اعمال کوانجام دیتا ہو تو اس کو مسلم ہی تسلیم کیا جائے گا ،اس کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی جائے گی۔ اس کے باطن کو جاننے کی کوشش کرنا غیراسلامی طریقہ بلکہ خدائی کا دعوی کرنے کے مترادف ہوگا۔
مسلمان کی تکفیر و تضلیل کرنا سخت حرام اور عظیم گناہ قرار دیا گیا ہے ،کیونکہ کلمہ طیبہ کے اقرار نے جس کی جان و مال اور عزت و آبرو کو محفوظ کیا تھا ، تکفیر نے اس کو غیر محفوظ بنا دیا ،ظاہر ہے کہ تکفیر کی وجہ سے کلمہ طیبہ کی عظمت کو پامال اور سماج میں فساد برپا کرنا ہے اور مسلمان کی جان و مال اور عزت کو مباح قرار دینا اور اللہ کی حرام کردہ کو حلال بنا نا ہے ، جوبہت بڑا گناہ ہے۔
اللہ کے رسول ﷺ نے اس سلسلے میں حجۃ الوداع کے موقع پر جو اہم خطبہ دیا ہے اس میں فرمایا:
أَیُّ یَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَۃً؟ قَالُوا : یَوْمُنَا ہَذَا أَوْ یَوْمُ الْحَجِّ الأَکْبَرِ، قَالَ : فَإِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ وَبَلَدِکُمْ أَلاَ لاَ یَجْنِی جَانٍ إِلاَّ عَلَی نَفْسِہِ لاَ یَجْنِی وَالِدٌ عَلَی وَلَدِہِ وَلاَ مَوْلُودٌ عَلَی وَالِدِہِ .([9])
’’کون سا دن حرمت کے لحاظ سے سب سے عظیم ہے؟ لوگوں نے کہا: آج کا دن، یا یہ کہا کہ حج اکبر کا دن۔ فرمایا: تمہارا مال، تمہاری عزتیں اورتمہارا خون حرام ہے جیسے یہ شہر اور یہ دن حرمت والا ہے۔ جان لو کہ ہر انسان اپنے گناہوں کا بوجھ خود اٹھائے گا نہ بیٹا باپ کا بوجھ اٹھائے گا اور نہ باپ بیٹے کا بوجھ اٹھائے گا۔‘‘
انسان کب مسلمان اور سنی ہوگا اور کب اسلام و سنیت سے باہر ہوجائے گا اس بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے دین اسلام کی ضروریات اور اہل سنت و جماعت کی ضروریات کا علم ہونا بے حد ضروری ہے ہم ذیل میں ان ضروریات کے متعلق گفتگو کریں گے ۔
ضروریاتِ دین
ضروریاتِ دین: ان چیزوں کو کہتے ہیں، جن کو تسلیم کرنے کے بعد ہی کوئی انسان مسلمان ہوتا ہے اور جن میں سے کسی ایک کے انکار سے بھی اسلام سے خارج ہوجاتا ہے،امام طحاوی فرماتے ہیں :
وَلا يَخْرُجُ الْعَبْدُ مِنَ الإِيْمَانِ إِلاَّ بِجُحُودِ مَا أَدْخَلَهُ فِيهِ. ([10])
’’بندہ ان ہی چیزوں کے انکار کرنے کی وجہ سے ایمان سے باہر ہوتا ہے جن چیزوں کے اقرار نے اس کو ایمان میں داخل کیا ہے۔‘‘
جب تک ضروریات دین کو نہ مانے وہ دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوگا۔ اگر اس کا علم اس کو تفصیلی ہے تو تفصیلی طور پر ماننا ضروری ہوگا اور اگر تفصیلی علم نہیں ہے تو اجمالی طور پر ماننا کافی ہوگا۔ تمام ضروریاتِ دین کے ماننے کے باوجود اگر کسی نے صرف ایک ضرورتِ دین کا انکار کردیا تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا۔
ضروریات دین،در اصل دین کے ان بنیادی اعتقادات کو کہتے ہیں جن کا ثبوت قطعی اور بدیہی طور پر ہو۔ دین کی وہ باتیں جن کا علم ہمیں قطعی اور بدیہی طور پر ہو، وہ ضروریات دین میں داخل ہیں۔ مثلاً تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہمارے سرکار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں تو آخری نبی ہونے کا یقین و ایمان رکھنا ضروریات دین میں سے ہوا۔
ایمان باللہ،ایمان بالملائکہ،ایمان بالکتب،ایمان بالرسالت،ایمان بالقدر،ایمان بالآخرت یوں ہی نماز،روزہ، حج ،زکوۃ اور کلمہ شہادت کی فرضیت اور زنا وشراب کی حرمت ضروریات دین میں سے ہے، کیونکہ یہ سب بھی بدیہی اور قطعی ہیں مثلا نماز کے بارے میں کسی بھی مسلمان سے سوال کیجیے، چاہے وہ سال بھر میں ایک وقت کی نماز نہ پڑھتا ہو کہ اسلام میں نماز کی کیا حقیقت ہے؟ تو وہ کہہ دے گا کہ فرض ہے۔
اسی طرح نماز کے لیے وضو کی حقیقت دریافت کرنے پر ہر خواندہ و ناخواندہ، شہری و دیہاتی بتادے گا کہ نماز کے لیے وضو فرض ہے، تو وضو کی فرضیت ضروریات دین سے ہے ،لیکن وضو میں ہاتھ دھونا ہے تو کہنیاں اس میں داخل ہیں یا نہیں؟ مسح کرنا ہے تو پورے سر کا، یا آدھے سر کا، یا چوتھائی کا، یا تہائی کا؟ ان تفصیلات کا شمار ضروریات دین میں نہیں ہے۔ اگر کوئی ان تفصیلات میں سے کسی ایک کا انکار کرتا ہے تو اسے ضروریات دین کا منکر قرار نہیں دیا جائے گا لیکن اگر کوئی مطلقاً وضو کی فرضیت کا انکار کردے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا۔
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت اور جو باتیں دوسرے انبیائے کرام علیھم السلام کی قرآن و حدیث میں اجمالاً یا تفصیلاً آئی ہیں، ان کو ماننا بھی ضروریات دین میں سے ہوگا بشرطے کہ وہ باتیں عام و خاص مسلمانوں کے بیچ بدیہی ہوں۔
ضروریاتِ اہلِ سنت
اس سے نیچے یقین کا ایک اور درجہ ہے جو مسلمانوں کے عوام و خواص کے بیچ یکساں طور پر قطعی کی حیثیت سے بدیہی طور پر ثابت نہیں ہے۔ یہ ضروریات اہل سنت کا درجہ ہے۔ جیسے عذاب قبر، وزن اعمال، قیامت کے دن رویت باری تعالیٰ کے ثبوت کا اعتقاد۔وغیرہ ۔
جس طرح ہر کلمہ گو کے لیے ضروریات دین کو ماننا ضروری ہے، ایسے ہی ہر سنی کے لیے ضروریات اہل سنت کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ اگر ان کا انکار کرتا ہے تو وہ سنی نہیں ہے، بدعتی اور گمراہ ہے ۔
ضروریات اہل سنت کے علاوہ اہل سنت کے جو دیگر فروعی عقائد ہیں، اگر کوئی ان کا انکار کرتا ہے تو ایسا شخص بھلے خطاکار ہوگا، کبھی گناہگار ہوگا اور کبھی نہیں ہوگا، مگر سنی ضرور رہے گا۔
اب دو طرح کے عقیدے ہمارے سامنے آگیے:اول ایسا عقیدہ جس کے انکار سے آدمی حتماً، یقینا، اجماعاً کافر ہوجاتا ہے جسے ضروریات دین کہتے ہیں۔دوم ایسا عقیدہ جس کے انکار سے آدمی گمراہ ہوجاتا ہے اس کو ضروریات اہل سنت کہا جاتا ہے۔
سنی مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے لیے بس ضروریات دین اور ضروریات اہل سنت میں اتفاق ضروری ہے، بقیہ لاکھ اختلافات ہوں ہمیں ان اختلافات کو نہیں دیکھنا چاہیے۔
جیسے سماع بالمزامیراوراذانِ ثانی اور اقامت کا مسئلہ ،اور یوں ہی تعزیہ داری ،قیام میلاد، فاتحہ نیاز ،عرس چادر گاگر،اذان قبر وغیرہ۔ اذانِ ثانی میں اتفاق ضرور ہے مگر اذانِ ثانی مسجد کے اندر ہو یا باہر یہ مختلف فیہ فرعی مسئلہ ہے۔ اس کا تعلق نہ تو ضروریات دین سے ہے اور نہ ضرور یات اہل سنت سے۔ لہذا اگر کوئی اذانِ ثانی مسجد کے اندر دینے کا قائل ہو تو اس کو خارج از سنیت قرار نہیں دیا جائے گا۔بلکہ اس پر لعن طعن بھی نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ اول تو یہ مسائل فروعی ہیں اور دوم اس میں علما کا اختلاف ہے اور مختلف فیہ مسائل میں شرعا نکیر کا کوئی جواز نہیں ، اصول ہے:
لَا يُنْكَرُ الْمُخْتَلَفُ فِيهِ وَإِنَّمَا يُنْكَرُ الْمُجْمَعُ عَلَيْهِ۔([11])
’’جن مسائل میں علما کا اختلاف ہے اس مسئلے میں نکیر نہیں کی جائےگی البتہ جن مسائل پر علما و ائمہ مجتہدین کا اجماع ہے اس کے خلاف جانے والے پر نکیر کی جائے گی۔‘‘
اسی طرح میلاد شریف کے بعد یا نبی سلام علیک پڑھنے کا مسئلہ ہے ، اگر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دشمنی میں انکار نہیں کرتا ہے تو اس انکار کی بنیاد پر اسے نہ تو اسلام سے خارج کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی سنیت سے خارج قرار دیا جاسکتا ہے، ہاں! اگر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دشمنی میں انکار کرے گا تو انکار کی وجہ سے نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دشمنی کی وجہ سے کافر ہوجائے گا۔
آج تو حال یہ ہے کہ فلاں فاتحہ میں نہیں بیٹھا تو سنی نہیں ہے، مزار پر چادر نہیں چڑھایا تو سنی نہیں ہے۔ اگر کوئی بیچارہ ٹرین چھوٹنے کے خوف یا رفع حاجت کی غرض سے بغیر صلوٰۃ و سلام پڑھے محفل سے باہر نکل آیا تو اس کو شک کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسے ہی فجر یا جمعہ کی نماز کے بعد صلوٰۃ و سلام پڑھنا ہمارے سماج میں ایک دستور ہوگیا ہے۔
اگر موقع و محل کا اعتبار کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں سلام پیش کیا جائے تو یہ سعادت کی بات ہے۔ مگر یہ رسوم ایسے لازمی طور پر ہورہےہیں کہ اگر کسی کو ٹرین پکڑنی ہو اور وقت نکلا جارہا ہو یا نماز پڑھتے پڑھتے رفع حاجت کی ضرورت محسوس ہوئی جس کی وجہ سے بیچارہ سلام میں شریک ہوئے بغیر مسجد سے نکل کر چلا گیا تو لوگ اس کی سنیت پر بھی شک کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ نہ صرف عام لوگ بلکہ کبیر و عظیم شمار ہونے والے علماء کا بھی یہی حال ہے حالانکہ ان چیزوں کا ضروریات اہل سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ہمارے دور کے اکثر علما و مشائخ کے درمیان یہ عام بات ہے کہ کسی نے، کسی سے کچھ اختلاف کیا تو فوراً یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ ہمارے عقیدے کے خلاف ہے، اہل سنت کے عقیدے کے بر خلاف ہے لیکن کس طرح کے عقیدے میں برخلاف ہے، اس پر کوئی غور نہیں کرتا۔ حد تو یہ ہے کہ دار الافتا میں بیٹھے اکثر مفتیوں کو بھی یہ تمیز نہیں ہے کہ کو ن مسئلہ کس باب سے تعلق رکھتا ہے۔ میری نظر سے ایک معروف دار الافتا کا فتویٰ گزرا ہے جس میں سماع بالمزامیر اور اقامت کے مسئلے کو بنیاد بنا کر سنیت سے خارج ہونے کا حکم جاری کیا گیا تھا ،مفتی کو نہیں معلوم کہ کون سا مسئلہ باب اعتقاد سے ہے اور کون سا مسئلہ باب فقہیات سے ہے۔اگر ان صاحبان افتا و قضا کو یہ تمیز ہوتی تو دار الافتا ء سے ایسے فتاویٰ ہرگزجاری نہیں ہوتے۔
اگر کوئی شخص واقعی ضروریات اہل سنت کے عقیدے کے برخلاف کسی عقید ے کا حامل ہے تو اس کو خارج از سنیت قرار دیا جاسکتا ہے لیکن اسے بھی اسلام سے خارج نہیں کیا جاسکتا بلکہ اگر ضروریات دین کے خلاف ہے تو بھی بلا اتمام حجت محققین و متکلمین کے مذہب پر اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ہاں اگر ضروریات دین کے خلاف جانے والاضروریات دین کے انکار کا اقراری بھی ہو یا اس کے انکار پر قطعی ثبوت موجود ہو تو فقہا و متکلمین سب کے نزدیک بلا شبہ وہ کافر قرار دیا جائے گا۔

Comments
Post a Comment