شرک اور توحید کی پہچان
شرک اور توحید کی پہچان
قرآن مجید میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے توحید کی حقیقت کو
واضح کیا ہے اور شرک سے سختی کے ساتھ روکا ہے۔ سورۃ الزمر کی آیت نمبر 45 انہی
آیات میں سے ایک ہے، جس میں انسان کے قلبی رجحانات اور اس کی روحانی کیفیت کا بیان
ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَإِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَحۡدَهُ
ٱشۡمَأَزَّتۡ قُلُوبُ ٱلَّذِینَ لَا یُؤۡمِنُونَ بِٱلۡـَٔاخِرَةِۖ وَإِذَا ذُكِرَ
ٱلَّذِینَ مِن دُونِهِۦۤ إِذَا هُمۡ یَسۡتَبۡشِرُونَ۔
ترجمہ: اور جب اللہ وحدہٗ
(اکیلا) کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل سُکڑ جاتے ہیں جو آخرت پر ایمان
نہیں رکھتے، اور جب ان (معبودوں) کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس کے سوا ہیں تو وہ خوشی
محسوس کرتے ہیں۔
توحید
اور دلوں کی کیفیت
اس آیت میں سب سے پہلا نکتہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب اللہ کا
ذکر تنہا کیا جاتا ہے تو وہ لوگ جن کے دل آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ناخوش ہوتے
ہیں اور ان کے دل سکڑ جاتے ہیں۔ یہ کیفیت دراصل ان لوگوں کے دل کی سختی اور اللہ
کی عظمت و جلال سے دوری کو ظاہر کرتی ہے۔ جو لوگ توحید کی حقیقت سے بے خبر ہیں، ان
کے دل اللہ کی یاد سے مطمئن ہونے کے بجائے گھبراہٹ اور اضطراب کا شکار ہو جاتے
ہیں۔
شرک
اور دلوں کی خوشی
اس کے برعکس، جب ان لوگوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو اللہ کے سوا
پوجے جاتے ہیں، تو وہ لوگ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا دل
اللہ کی وحدانیت سے برگشتہ ہے اور وہ شرک میں تسکین پاتے ہیں۔ یہ رویہ دراصل ان کی
فطری گمراہی اور حق سے دوری کو ظاہر کرتا ہے۔ اللہ کے سوا دوسروں کی بڑائی کرنا
اور ان کو خدائی کا درجہ دینا دراصل ایک قلبی و فکری اور روحانی
بیماری ہے، جو ان لوگوں کے دل و دماغ میں پیدا ہو چکی ہے۔
آخرت
پر ایمان کی کمی
اس آیت میں جن لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان کی ایک بنیادی صفت
یہ ہے کہ وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ آخرت پر ایمان دراصل انسان کے اعمال اور
افکار کو ایک مقصد اور انجام فراہم کرتا ہے۔ جب کوئی انسان آخرت کی حقیقت کو مان
لیتا ہے، تو وہ اپنے ہر عمل کے نتائج سے باخبر ہو جاتا ہے اور اس کا دل اللہ کی
یاد سے مطمئن ہوتا ہے۔ لیکن جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کا دل فانی دنیا
کی رغبتوں اور شرکیہ عقائد کی طرف مائل ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ دنیا کو ہی اپنی
آخری حقیقت سمجھتے ہیں۔
توحید
کی عظمت اور شرک کی بے وقعتی
اللہ تعالیٰ اس آیت کے ذریعے ہمیں ایک اہم حقیقت سے روشناس
کرواتا ہےکہ عقیدہ توحید عظیم نعمت ہے اور شرک نہایت بے وقعت نظریہ ہے۔
جب اللہ کا ذکر کیا جاتا
ہے تو مومن کا دل فرحت محسوس کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا
ہے کہ اللہ ہی سب کچھ ہے اور اسی کے قبضے میں ہر شے ہے۔ جبکہ مشرکین اور دہریے
اللہ کی یاد سے کتراتے ہیں اور ان کی تسکین اور خوشی باطل معبودوں کے ذکر میں ہوتی
ہے، جو دراصل ان کے عقائد کی کمزوری اوران کی بد عقیدگی اور کج فہمی کا ثبوت ہے۔
انسانی
فطرت کی پکار
اس آیت میں انسان کی فطرت کے دو متضاد پہلو بیان کیے گئے ہیں۔
ایک طرف وہ دل ہیں جو توحید کی سچائی کو قبول کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ دل جو شرک
کی گمراہی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ انسان کی فطری حالت دراصل توحید کی طرف مائل ہے،
لیکن معاشرتی اثرات، خواہشات اور دنیاوی مفادات اسے شرک کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔
ہدایت
کی تلاش
یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے دل کی کیفیت کو پرکھیں
اور دیکھیں کہ کیا ہم اللہ کی وحدانیت کا ذکر سن کر خوش ہوتے ہیں یا ہمیں اس سے
گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے؟ اس پر غور کرنے سے ہمیں اپنی روحانی حالت کا اندازہ ہو گا
اور یہ ہمیں ہدایت کے راستے کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ہمیں اپنے دلوں کو شرک سے پاک
کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اللہ کی توحید کو اپنی فکری و عملی زندگی کا محور بنانا چاہیے۔
خلاصہ کلام
سورۃ الزمر کی یہ آیت ہماری روحانی حالت اور عقائد کی گہرائی
کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ توحید کی عظمت اور شرک کی قباحت کو جان کر ہمیں اپنی زندگیوں کو اللہ کی وحدانیت
کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔ ایمان باللہ و بالرسول اور ایمان بالآخرت ہی وہ بنیادی اصول ہیں جو
انسان کو حق کے راستے پر قائم کرتے ہیں۔ اگر دل میں اللہ کی یاد سے اطمینان پیدا
ہو تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم حق پر ہیں، اور اگر اس میں گھبراہٹ اور بے چینی
ہو تو یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ کہیں ہم گمراہی میں مبتلا تو نہیں؟

Comments
Post a Comment