کسی مسلمان کو جہنمی یا جنتی کہنے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات


 

کسی مسلمان کو جہنمی یا جنتی کہنے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعلیم

 ہمارے دور کے اکثر علما و مشائخ اور خطبا و واعظین کی یہ عام روش ہوگئی ہے کہ جب وہ کسی سے محبت کرتے ہیں تو اس کو جنتی بنادیتے ہیں،اکثر جلسے کے اسٹیجوں سے سنی جنتی بھائیوں جیسے الفاظ کے ساتھ عوام سامعین و حاضرین کو پکارا جاتا ہے ، یوں ہی جب یہ حضرات کسی سے دشمنی و عداوت پر آتے ہیں تو قطعی و حتمی محروم اور دائمی جہنمی ہونے کا اعلان کر دیتے ہیں بلکہ ایسا جہنمی بتاتے ہیں کہ اگر کسی نے دھوکے سے بھی اس کے جہنمی ہونے میں شک کیا تو وہ بھی ان فقیہان حرم کے نزدیک دائمی جہنمی ہوجاتا ہے۔ایسے ماحول میں ہمیں یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس سلسلے میں اللہ و رسول کی تعلیمات کیا ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب کسی صحابی نے دوسرے شخص کے بارے میں یقینی طور پر جنتی یا جہنمی ہونے کی بات کی یا اس کی طرف اشارہ کرنے کی کوشش کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر روک لگا یا اور فرمایا کہ تم جس کا یقینی علم نہیں رکھتے اس پر یقین سے کچھ بھی کیسے کہہ سکتے ہو۔

ہم ذیل میں اس طرح کی چند احادیث نقل کرتے ہیں جن سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ مسلمان کو مسلمان ہی کہے ،ایسا نہ ہو کہ محبت میں جنتی بنادے اور نفرت و عداوت میں منافق اور کافر قرار دے دے ،یہ اسلام کے اصول کے خلاف اور معاشرے کے امن و امان کو برباد کرنے کے مترادف ہے:

‌‌‌‌‌‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، ‌‌‌‌‌‏أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، ‌‌‌‌‌‏أَنَّ أُمَّ الْعَلَاءِ ، ‌‌‌‌‌‏امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، ‌‌‌‌‌‏بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُمُ اقْتَسَمُوا الْمُهَاجِرِينَ قُرْعَةً، ‌‌‌‌‌‏قَالَتْ:‌‌‌‏ فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَأَنْزَلْنَاهُ فِي أَبْيَاتِنَا، ‌‌‌‌‌‏فَوَجِعَ وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، ‌‌‌‌‌‏فَلَمَّا تُوُفِّيَ غُسِّلَ وَكُفِّنَ فِي أَثْوَابِهِ، ‌‌‌‌‌‏دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏فَقُلْتُ:‌‌‌‏ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‌‌‌‏ وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللَّهَ أَكْرَمَهُ ؟، ‌‌‌‌‌‏فَقُلْتُ:‌‌‌‏ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‌‌‌‌‌‏فَمَنْ يُكْرِمُهُ اللَّهُ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‌‌‌‏ أَمَّا هُوَ فَوَاللَّهِ لَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ، ‌‌‌‌‌‏وَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَاذَا يُفْعَلُ بِي، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَتْ:‌‌‌‏ وَاللَّهِ لَا أُزَكِّي بَعْدَهُ أَحَدًا أَبَدًا. [1]

’’حضرت ابن شہاب سےروایت ہےکہ انہیں خارجہ بن زید بن ثابت نے خبر دی ‘ انہیں ام علاء نے جو ایک انصاری عورت تھیں اورجنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی خبر دی کہ انصار نے مہاجرین کے ساتھ سلسلہ اخوت قائم کرنے کے لیے قرعہ اندازی کی تو ہمارا قرعہ عثمان بن مظعون کے نام نکلا۔ پھر ہم نے انہیں اپنے گھر میں ٹھہرایا۔ اس کے بعد انہیں ایک بیماری ہوگئی جس میں ان کی وفات ہوگئی۔ جب ان کی وفات ہوگئی تو انہیں غسل دیا گیا اور ان کےاپنے  کپڑوں کا کفن دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے کہا ابوالسائب (عثمان ) تم پر اللہ کی رحمت ہو، تمہارے متعلق میری گواہی ہے کہ تمہیں اللہ نے عزت بخشی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے انہیں عزت بخشی ہے؟ میں نے عرض کی، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! پھر اللہ کسے عزت بخشے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جہاں تک ان کا تعلق ہے تو یقینی چیز (موت) ان پر آچکی ہے اور اللہ کی قسم میں بھی ان کے لیے بھلائی کی امید رکھتا ہوں اور اللہ کی قسم میں رسول اللہ ہونے کے باوجود حتمی طور پر نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ ام علا نے اس کے بعد کہا کہ اللہ کی قسم اس کے بعد میں کبھی کسی کو بھی قطعیت کے ساتھ جنتی نہیں کہوں گی ‘‘

عَنْ بْن سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَی رَهْطًا وَسَعْدٌ جَالِسٌ فِيهِمْ قَالَ سَعْدٌ فَتَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ مُسْلِمًا قَالَ فَسَکَتُّ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ مُسْلِمًا ؟قَالَ: فَسَکَتُّ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا عَلِمْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :أَوْ مُسْلِمًا ؟ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يُکَبَّ فِي النَّارِ عَلَی وَجْهِهِ. [2]

’’ عامر بن سعد ابن ابی وقاص اپنے والد  حضرت سعد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو مال عطا فرمایا اور حضرت سعد بھی ان  کے درمیان  بیٹھے ہوئے تھے ۔حضرت سعد کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کچھ ایسے لوگوں کو مال عطا نہیں فرمایا جو میرے نزدیک زیادہ مستحق تھے ۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو عطا نہیں فرمایا اللہ کی قسم میں تو اسے یقینا مومن سمجھتا ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن سمجھتے ہو یا مسلم ؟[3] حضرت سعد کہتے ہیں کہ میں تھوڑی دیر خاموش رہا پھر مجھے وہی خیال غالب آنے لگا جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں آدمی کو کیوں عطا نہیں فرمایا اللہ کی قسم میں اس کو مومن جانتا ہوں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامومن جانتے ہو یا  مسلم؟ حضرت سعد کہتے ہیں کہ میں پھر کچھ دیر خاموش رہا پھر مجھ پر وہی خیال غالب آ نے لگا جس کے بارے میں میں آگاہ تھا میں نے پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ،آپ نے فلاں آدمی کو مال عطا نہیں فرمایا اللہ کی قسم میں اس کو مومن ہی جانتا ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن جانتے ہو  یا مسلم؟ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :میں ایک آدمی کو دے دیتا ہوں حالانکہ دوسرا آدمی مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتاہے اور میں صرف اس ڈر سے اسے دیتا ہوں کہ کہیں وہ ( کفر کر کے) منہ کے بل جہنم میں نہ گرا دیا جائے‘‘

ایمان کا تعلق دل سے ہوتا ہے جس پر انسان مطلع نہیں ہوتا جب کہ اسلام کا تعلق اعضاو جوارح سے ہوتا ہے جو انسان کو دکھائی دیتا ہے ،اس حدیث میں جب حضرت سعد نے کسی کے ایمان کے بارے میں حلفیہ گواہی دی تو اللہ کے رسول نے فرمایا کہ ایمان یا اسلام ؟ معلوم ہوا کہ تم کسی کے اسلام کی گواہی دے سکتے ہو لیکن ایمان کی گواہی کیسے دے سکتے ہو جب کہ تم کسی کے دل کی باتوں سے واقف نہیں ۔

یہ دونوں حدیثیں محبت میں جنتی بنانے والے اور غلو کرنے والے کے لیے اعتدال کی تعلیم فراہم کر رہی ہیں ۔اب ذیل میں نفرت اور عداوت میں غلو کرنے والے اورفاسق و فاجر اور کافر بنا نے والے کے لیے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعلیم پیش کی جا رہی ہے :

عَنْ انس بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عِتْبَانَ فَقُلْتُ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْکَ ،قَالَ: أَصَابَنِي فِي بَصَرِي بَعْضُ الشَّيْئِ فَبَعَثْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي مَنْزِلِي فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّی قَالَ: فَأَتَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِهِ فَدَخَلَ وَهُوَ يُصَلِّي فِي مَنْزِلِي وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ أَسْنَدُوا عُظْمَ ذَلِکَ وَکُبْرَهُ إِلَی مَالِکِ بْنِ دُخْشُمٍ، قَالُوا وَدُّوا أَنَّهُ دَعَا عَلَيْهِ فَهَلَکَ وَوَدُّوا أَنَّهُ أَصَابَهُ شَرٌّ فَقَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ وَقَالَ: أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالُوا :إِنَّهُ يَقُولُ ذَلِکَ وَمَا هُوَ فِي قَلْبِهِ، قَالَ: لَا يَشْهَدُ أَحَدٌ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَيَدْخُلَ النَّارَ أَوْ تَطْعَمَهُ قَالَ أَنَسٌ فَأَعْجَبَنِي هَذَا الْحَدِيثُ فَقُلْتُ لِابْنِي اکْتُبْهُ فَکَتَبَه. [4]

’ حضرت عتبان فرماتے ہیں کہ میری آنکھوں میں کچھ خرابی ہوگئی تھی اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ میری یہ خواہش ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف لا کر نماز پڑھیں تاکہ میں اس جگہ کو اپنی نمازکے لیے خاص کرلوں کیونکہ میں مسجد میں حاضری سے معذور ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے ساتھیوں کے ساتھ تشریف لائے اور گھر میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگے مگر صحابہ آپس میں گفتگو میں مشغول رہے ۔دوران گفتگو مالک بن دخشم کا تذکرہ آیا لوگوں نے اس کو مغرور اورمتکبر کہا (کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر سن کر بھی حاضر نہیں ہوا، معلوم ہوا وہ منافق ہے) صحابہ نے کہا کہ ہم دل سے چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے بددعا کریں کہ وہ ہلاک ہوجائے یا کسی مصیبت میں گرفتار ہوجائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا :کیا وہ اللہ تعالیٰ کی معبودیت اور میری رسالت کی گواہی نہیں دیتا ؟ صحابہ نے عرض کیا: زبان سے تو وہ اس کا قائل ہے مگر اس کے دل میں یہ بات نہیں۔آپ نے  فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ کی توحید اور میری رسالت کی گواہی دے گا وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا ، یا یہ فرمایا کہ اس کو آگ نہ کھائے گی ۔ حضرت انس نے فرمایا کہ یہ حدیث مجھے بہت اچھی لگی۔ میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اس کو لکھ لو تو انہوں نے اس حدیث کو لکھ لیا۔‘‘

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ کسی بھی حال میں حد سے تجاوز کرنا اور اعتدال و وسطیت کو کھونا درست نہیں ہے ۔ایسا نہ ہو کہ کسی کی محبت میں آپ اس کو جنتی بنادیں اور مقام عصمت پر لا کر کھڑا کر دیں اور اس کے فرمان کو حرف آخر قرار دے دیں اور اس کی کسی رائے کے خلاف جانے والے کو مردود و محروم اور گمراہ و کافر اور جہنمی سمجھ بیٹھیں۔

اور ایسابھی نہ ہو کہ جو آپ کی ہاں میں ہاں نہ ملائے اور جو آپ کے موقف و منہج پر نہ ہو یا جو آپ کے مشائخ و علما سے محبت نہ رکھتا ہو تو آپ اس کو دین و سنیت سے خارج تسلیم کرلیں اور آپ اپنے مخالفین پر ہر طرح کے ظلم و زیادتی کو روا رکھیں اور ان کی عزت و آبرو کو عوامی سطح پر نیلام کرتے پھریں اور ہر طرح کی تہمت اور افترا پردازی اور الزام تراشی کو آپ اپنے دین و سنیت کی خدمت تصور کر بیٹھیں۔

امام طحاوی تحریر کرتے ہیں:

وَلَا نُنْزِلُ أَحَدًا مِنْهُمْ جَنَّةً وَلَا نَارًا ولا نشهد عليهم بكفر ولا بشرك وَلَا بِنِفَاقٍ مَا لَمْ يَظْهَرْ مِنْهُمْ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ وَنَذَرُ سَرَائِرَهُمْ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى.[5]

’’ہم مسلمانوں میں سے کسی کو جنت یا دوزخ میں نہیں داخل کریں گے اور نہ ہی ہم ان کے خلاف کفروشرک یا نفاق کی گواہی دیں گے جب تک کہ ان سے کوئی ایسی چیز ظاہر نہ ہو اورہم ان کے باطن کو اللہ تعالیٰ ٰ کے سپرد کرتے ہیں۔‘‘

امام طحاوی دوسرے مقام پر تحریر کرتے ہیں:

وَنَرْجُو لِلْمُحْسِنِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُمْ وَيُدْخِلَهُمُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ وَلَا نَأْمَنُ عَلَيْهِمْ وَلَا نشهد لهم بالجنة ونستغفرلمسيئهم ونخاف عليهم ولا نقنطهم.[6]

’’ہم صالحین مومنین کے حق میں امید رکھتے ہیں کہ اللہ ان کی مغفرت کرے گا اور انہیں اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرمائےگا اور ہم ان کے ایمان کے بارے میں بے خوف نہیں اور نہ ہی ہم ان کے لیے جنت کی شہادت دیتے ہیں اور ان میں سے گناہ گاروں کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں اور ان کے سلسلے میں ڈرتے ہیں اوران کو ناامید نہیں کرتے ہیں ۔‘‘

میرے بھائی! دین اسلام اور سنیت کا تقاضا تو یہی ہے کہ آپ ہر حال میں اعتدال کو اپنا امتیاز بنا رکھیں اور یہ یقین کرلیں کہ جس دن ہم کسی کی محبت یا نفرت میں اعتدال اور وسطیت سے ہٹیں گے اسی دن ہم سنیت سے بھی ہٹ جائیں گے ،چاہے ہم جیسا بھی نعرہ لگا لیں، ہم پکے سنی اسی وقت تک ہیں جب تک ہم دین و سنیت کے تقاضے پر قائم ہیں اور دوست و دشمن کے ساتھ عدل و انصاف کا رویہ رکھے ہوئے ہیں،  ورنہ نعرے سے کچھ بھی نہیں ہوتا کیوں کہ دین و سنیت اچھے اچھے نعروں کا نام نہیں بلکہ یہ تو ایک نظریہ اور صفت کا نام ہے جو اس نظریے کا حامل ہوگا اور جو اس صفت سے متصف ہوگا وہی اہل سنت و جماعت ہوگا ۔


[1]صحیح بخاری،کتاب التعبیر، ‌‌باب رؤيا النساء ( 7003)

[2] صحیح مسلم،کتاب الایمان ، ‌‌باب تألف قلب من يخاف على ايمانہ لضعفہ والنهی عن القطع بالايمان من غير دليل قاطع ( 150)

[3]مومن وہ ہے جس کا قلب اللہ و رسول پر یقین کے نور سے روشن ہو لیکن اس کیفیت کو کوئی دوسرا شخص نہیں دیکھ سکتا ۔اور مسلم وہ ہے جس کا ظاہر اتباع شرع سے روشن ہو اور یہ چیز نظر آتی ہے ۔

[4] صحیح مسلم،کتاب الایمان، ‌‌باب من لقي الله بالايمان وهو غير شاك فيہ دخل الجنۃ وحرم على النار (33)

[5] متن العقيدۃ الطحاويۃ(70)

[6] متن العقيدۃ الطحاويۃ(59 )

Comments

Popular posts from this blog

کلمہ گو کی تکفیر میں احتیاط کے سلسلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا رویہ

تقویٰ کی حقیقت اور اس کا سماجی پہلو

علم کا مقصود اور اس کے درجات