Posts

اسلامی عقیدہ، ضروریات دین و سنیت

Image
  اسلامی عقیدہ عقیدہ دل کے اذعان و یقین کا نام ہے۔ جس کا تعلق سراسر قلب سے ہے، اعضا و جوارح سے نہیں ہے۔ اعضا و جوارح سے جس علم کا تعلق ہے ، اسے اصطلاح میں ’’فقہ‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں مگر چونکہ دل ایک امر مخفی ہے، جس کی کیفیت کا جاننا ہر کسی کے لیے ممکن نہیں   ، اسی لیے ظاہر کو باطن کی علامت کے طور پر مقرر کردیا گیا۔ لہذا جب کوئی شخص زبان سے کچھ کہتا ہے یا اپنے حرکت و عمل سے کوئی کام کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ فلاں مسلم ہے اور فلاں غیر مسلم ہے۔ کلمہ طیبہ کی عظمت   آپ اس حدیث کو یاد کریں جب ایک موقع پر اسلامی فوج نے کفار پر چڑھائی کی تو کچھ لوگوں نے کلمہ پڑھنا شروع کردیا، بعض صحابہ نے کلمہ سن کر ہاتھ روک لیے اور بعض صحابہ نے یہ سمجھ کر کہ اپنی جان بچانے کی خاطر اس وقت کلمہ پڑھ رہا ہے، یہ مانا نہیں جائے گا، ان میں سے ایک کو قتل کردیا۔ یہ خبر سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان حضرات سے پوچھا کہ جب اس نے کلمہ پڑھ لیا پھر تم نے اسے کیوں قتل کیا؟ انہوں نے بتایا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! وہ صرف اپنی جان کی...

کسی مسلمان کو جہنمی یا جنتی کہنے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات

Image
  کسی مسلمان کو جہنمی یا جنتی کہنے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   کی تعلیم   ہمارے دور کے اکثر علما و مشائخ اور خطبا و واعظین کی یہ عام روش ہوگئی ہے کہ جب وہ کسی سے محبت کرتے ہیں تو اس کو جنتی بنادیتے ہیں،اکثر جلسے کے اسٹیجوں سے سنی جنتی بھائیوں جیسے الفاظ کے ساتھ عوام سامعین و حاضرین کو پکارا جاتا ہے ، یوں ہی جب یہ حضرات کسی سے دشمنی و عداوت پر آتے ہیں تو قطعی و حتمی محروم اور دائمی جہنمی ہونے کا اعلان کر دیتے ہیں بلکہ ایسا جہنمی بتاتے ہیں کہ اگر کسی نے دھوکے سے بھی اس کے جہنمی ہونے میں شک کیا تو وہ بھی ان فقیہان حرم کے نزدیک دائمی جہنمی ہوجاتا ہے۔ایسے ماحول میں ہمیں یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس سلسلے میں اللہ و رسول کی تعلیمات کیا ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب کسی صحابی نے دوسرے شخص کے بارے میں یقینی طور پر جنتی یا جہنمی ہونے کی بات کی یا اس کی طرف اشارہ کرنے کی کوشش کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر روک لگا یا اور فرمایا کہ تم جس کا یقینی علم نہیں رکھتے اس پر یقین سے کچھ بھی کیسے کہہ سکتے ہو۔ ہم ذیل میں اس طرح کی چند احادیث ...

شرک اور توحید کی پہچان

Image
  شرک اور توحید کی پہچان   قرآن مجید میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے توحید کی حقیقت کو واضح کیا ہے اور شرک سے سختی کے ساتھ روکا ہے۔ سورۃ الزمر کی آیت نمبر 45 انہی آیات میں سے ایک ہے، جس میں انسان کے قلبی رجحانات اور اس کی روحانی کیفیت کا بیان ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَإِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَحۡدَهُ ٱشۡمَأَزَّتۡ قُلُوبُ ٱلَّذِینَ لَا یُؤۡمِنُونَ بِٱلۡـَٔاخِرَةِۖ وَإِذَا ذُكِرَ ٱلَّذِینَ مِن دُونِهِۦۤ إِذَا هُمۡ یَسۡتَبۡشِرُونَ۔ ترجمہ : اور جب اللہ وحدہٗ (اکیلا) کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل سُکڑ جاتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اور جب ان (معبودوں) کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس کے سوا ہیں تو وہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔   توحید اور دلوں کی کیفیت اس آیت میں سب سے پہلا نکتہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب اللہ کا ذکر تنہا کیا جاتا ہے تو وہ لوگ جن کے دل آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ناخوش ہوتے ہیں اور ان کے دل سکڑ جاتے ہیں۔ یہ کیفیت دراصل ان لوگوں کے دل کی سختی اور اللہ کی عظمت و جلال سے دوری کو ظاہر کرتی ہے۔ جو لوگ توحید کی حقیقت سے بے خبر ہیں، ان کے ...