Posts

دست بوسی کرنا کیسا ہے؟

Image
  دست بوسی کرنا کیسا ہے؟   ۲۶ ؍ستمبر ۲۰۱۳ ء مطابق ۲۰ ؍ذی قعدہ ۱۴۳۴ ھ بروز جمعرات مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینابعدنماز عصر جب مسجدسے باہر تشریف لارہے تھے۔جامعہ عارفیہ کے طلبا پروانوں کی طرح آپ کی طرف لپک پڑےاوردست بوسی کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرنے لگے۔   حضور داعی اسلام نے فرمایا:بچو!لائن میں آجاؤ ،ایک دوسرے کو دھکانہ دو،دوسروں کو دھکادینا ایذا رسانی کا سبب ہے اورمومن کو ایذا دینا حرام ہے،جب کہ دست بوسی مباح۔فعل مباح کے لیے فعل حرام کا ارتکاب سخت غلط ہے۔     اوراگر کوئی چاپلوسی میں دست بوسی کرے تو دست بوسی ناجائز اوراگر دست بوسی کرانے والا اس کی وجہ سے غرور کا شکار ہوتودست بوسی کراناحرام اور اس سے بچناواجب۔   آپ یہ فرماتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے اورطلبائے جامعہ ومعتقدین صف بستہ اپنی عقیدت کے نذرانے پیش کررہے تھے۔ ﺆﺆﺆ  

فقیہ، متکلم اور صوفی کے درجات

Image
  فقیہ، متکلم اور صوفی کے درجات   اسلام کا تعلق ظاہری و بدنی اعمال سے ہے، ایمان کا تعلق قلبی تصدیق سے، احسان جس کو ہم آج کی اصطلاح میں تصوف بھی کہتے ہیں، ان دونوں یعنی اسلام و ایمان کے کمال کانام ہے۔اسلام وایمان کی خوب صورتی اور اس کا حسن احسان ہے ۔ حسن اور احسان کا مادہ بھی ایک ہے ۔ اسلامیات یعنی ظاہری اعمال وافعال دوسرے الفاظ میں شرعی قوانین سے تعلق رکھنے والے اور ان کی حفاظت میں سرگرداں رہنے والوں کو فقہاے اسلام کہتے ہیں اور قلبی افعال یعنی ایمانیات سے متعلق مسائل سے بحث کرنے والوں کو متکلمین وائمہ عقائد کہتے ہیں اور ان دونوں کی حفاظت وپیروی کرتے ہوئے بغض و حسد ،کینہ و عداوت ، غیبت و چغل خوری سے بچتے ہوئے حسن خلق کامظاہرہ کرکے اسلام وایمان میں حسن پید ا کرنے والوں کو صوفیہ کہتے ہیں۔ چوں کہ احسان نام ہے اسلام و ایمان کے غایت کمال کا۔اس لیے اگر کوئی مسلم اور مومن نہ ہو تو وہ صوفی ہوہی نہیں سکتا بلکہ مومن کا متقی ہونا احسان تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے ۔ دوسرے الفاظ میں اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ فقیہ نام ہے محافظ قوانین اسلامی کا، وہ ظاہرکا نگراںاور عاقل ناقل ہوتا ہے اور متک...

نیکوں کے پیروکار ہی ان کی آل ہیں

Image
  نیکوں کے پیروکار ہی ان کی آل ہیں شیخ طریقت سے سوال کیا گیا کہ کن لوگوں سے محبت رکھنی چاہیے اور کن لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے، فرمایا کہ صالحین وصادقین کی صحبت اختیار کرنی چاہیے کہ اللہ نے فرمایا: کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ ۔ اور انھیں سے محبت رکھنی چاہیے، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو محبت کے لائق ہیں اور انھیں کی محبت نجات تک لے جانے والی ہے۔اور ان ہی نیک بندوں کی اتباع بھی کرنی چاہیے، جو رات دن اپنے مولیٰ کی طرف لو لگائے ہوئے ہیں اور اسی کی طرف متوجہ ہیں: وَاتَّبِع سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ۔ (سورۂ لقمان، ۱۵) کیوں کہ جو جس جماعت کی پیروی کرے گا وہ اسی جماعت اور گروہ میں شمار کیا جائے گا اور جو جس کی صحبت اختیار کرے گا ویسا ہی ہوگااور کل قیامت میں اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا : مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ ۔(ابوداؤد)    لیکن ہم اپنے کاروبار میں ،دنیا کے حصول میں اور طلب جاہ و منصب میں اس قدر مصروف ہیں کہ نہ حق کی طرف جانے کا شوق ہے اورنہ حق کو جاننے کی خواہش اور نہ صادقین کے پاس اٹھنے بیٹھنے اور ان کی صحبت اختیار کرنے کا جذبہ ،لیکن دنیاداروں کے ...

معرفت بغیر علم کے محال اور علم بغیر معرفت وبال

Image
معرفت بغیر علم کے محال اور علم بغیر معرفت وبال حضور داعی ٔاسلام ادام اللہ ظلہ علینا نے ایک سفر میں فرمایا کہ علم اور عمل دونوں ضروری ہے ،علم بغیر عمل کے بے فائدہ ہے اور عمل بغیر علم کے گمراہی ہے، معرفت بغیر علم کے محال اور علم بغیر معرفت کے وبال ہے، علم یا صاحب علم کی صحبت بے حدضروری ہے، علم کے حصول کے لیے یہ ضروری نہیں کہ نو یا دس برسوں تک کا ایک لمبا عرصہ صرف ہی کیا جائے بلکہ اہل ذکر کی صحبت بھی کافی ہے ۔اللہ نے فرمایا ہے: فَاسْأَلُوا أَہْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ۔ (نحل: ۴۳)( اہل ذکر جواہل علم ہوتے ہیں ان سے سوال کرو اگر تم نہیں جانتے ہو )یہاں حکم ہوا اہل ذکر سے سوال کرنے کا، معلوم ہوا کہ ذاکرین سے سوال کیا جائے نہ کہ غافلین سے، اہل غفلت اوراہل نسیان سے دین حاصل کرنا غیر دانشمندانہ ہوگا،ورنہ اندھے کی لاٹھی اندھے کے ہاتھ۔ نہ آج تک اس کا دل ذاکر ہوا اور نہ اس کی صحبت میں رہنے والوںکا۔ذکر یہ نہیں ہے کہ تسبیح کے دانے لے کر بیٹھ جائے اور ہر نماز کے بعد ایک مخصوص کیفیت میں بلند آواز سے کچھ مخصوص کلمات ادا کیے جائیں ،بلکہ ذکر الٰہی یہ ہے کہ ہر قول و فعل کے صدور سے پہل...

KGN Education Centre (Maktab for Diniyat) Report

Image
KGN Education Centre (Maktab for Diniyat) Report Managed by: KGN Educational and Welfare Trust. --- Overview KGN Education Centre focuses on providing diniyat education, emphasizing Quranic recitation and memorization (Hifz). This report highlights the current progress of students in Quran memorization. --- Student Progress Report Hifz Students: 1. Owais (Son of Abbas) Memorized: 3.5 Para 2. Sana (Daughter of Abbas) Memorized: 3.5 Para 3. Sabba (Daughter of Abdul Wahab) Memorized: 2 Para 4. Gulbahar (Son of Arzoo Saheb) Memorized: 1.5 Para --- Students Who Have Recently Completed 1 Para: 1. Yusuf (Son of Luqman) Memorized: 1.5 Para 2. Khayaban (Son of Md Sohail) Memorized: 1.5 Para --- Students in Early Stages of Memorization: 1. Md Reyaz (Son of Abdul Wahab) Memorized: 1 Para 2. Zakiyur Rahman Memorized: 1 Para 3. Anisa (Daughter of Anisur Rahman) Memorized: Half Para --- Summary The KGN Education Centre is actively nurturing the spiritual growth of its student...

بے یقیں ہے علم بس کار فضول

Image
  بے یقیں   ہے علم بس کار فضول علم ایک ایسا چراغ ہے، جس کی روشنی میں علم والا اچھائی اور برائی میں تمیز کرتا ہے، حلال و حرام اس کے سامنے واضح ہوتا ہے ،کفر وایمان کے درمیان فرق اس کے لیے آسان ہوجا تا ہے۔یہ انسان کی فطرت ہے کہ اسے جس چیز کی خرابی کا علم ہو جاتا ہے وہ اس کی خرابی سے کسی کے بتائے بغیر خود ہی بچنے لگتا ہے اور جب کسی چیز کی خوبی کا علم ہوجا تا ہے تو کسی کی ترغیب کے بغیراس چیز کو پانے کی کوشش کرتا ہے ۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں برابر نہیں ہو سکتے ،’ ’ہَل یَستَوی الَّذینَ یَعلَمُونَ وَالذِّینَ لَا یَعلَمُون ‘‘صاحب علم کا سینہ اس گھر کی طرح ہے جس میں کوئی چراغ روشن ہواور جس گھر میں چراغ روشن ہو تاہے اس گھر کی ہر اچھی بری چیز نظر آتی ہے اور صاحب خانہ اس چراغ کی روشنی کی مدد سے ہر وہ چیز جو اس کے کام کی نہیں ہوتی یا اس کے لیے تکلیف دہ یا مضر ہوتی ہے یا اس کی طبیعت سلیمہ کے خلاف ہوتی ہے، اس کو گھر سے باہر کر دیتا ہے اور جو چیز اس کے کام کی اوراس کے حق میں مفید ہوتی ہے، اسے نہایت سلیقے سے سجا   دیتا ہے ، اور   ہر پل اس گھر کو ...

نماز مومنوں کے لیے معراج ہے

Image
  نماز مومنوں کے لیے معراج ہے   ظہر کے بعد علماء، طلبا ،سالکین و طالبین حلقہ بنائے سرکار کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے ،کہ اسی درمیان الہ آباد شہر سے محترم ندیم صاحب اور ان کے ہمراہ دو تین افراد تشریف لائے ،سرکار نے ان کو اپنے قریب بلایا اور خیریت دریافت کی ، اس کے بعد ان میں سے ایک شخص جس کی عمر تقریباً ۴۰ ؍رہی ہوگی ،نے سوال کیا کہ حضرت مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جب میں نمازکے لیے کھڑا ہوتا ہوں تب صرف دنیا کی بات یاد آتی ہے ،کاروبار،معمولات یہی ساری باتیں یاد رہتی ہیں، حد تو یہ ہے کہ جوبھول گیا ہوتا ہوں وہ سب باتیں نماز میں یاد آجاتی ہیں ۔سرکار نے مسکراتے ہوئے فرمایا :کہاجاتاہے   اَلصَّلَاۃُ مِعْرَاجُ اْلمُؤمِنِیْنْ نماز مومنوں کے لیے آلہ عروج ہے، ترقی درجات کا ذریعہ ہے ، اسی طرح یہ بھی حدیث ہے: ـ اَلْصَّلٰوۃُ نُوْرُ اْلمُؤْمِن  کہ نماز مؤمن کا نور ہے ، یا اَلْصَّلٰوۃُ نُوْرٌ  نماز نور ہے ۔تو ظاہر ہے کہ نمازی جب نماز کی حالت میں ہوگا تو اس کے دل ودماغ میں جو کچھ بھی ہوگا نما ز کے نور سے وہ سب روشن ہو جائے گا ۔ ۲۴ ؍گھنٹے میں نمازی نے جو کچھ کیا ہوگا...