دست بوسی کرنا کیسا ہے؟
دست بوسی کرنا کیسا ہے؟ ۲۶ ؍ستمبر ۲۰۱۳ ء مطابق ۲۰ ؍ذی قعدہ ۱۴۳۴ ھ بروز جمعرات مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینابعدنماز عصر جب مسجدسے باہر تشریف لارہے تھے۔جامعہ عارفیہ کے طلبا پروانوں کی طرح آپ کی طرف لپک پڑےاوردست بوسی کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرنے لگے۔ حضور داعی اسلام نے فرمایا:بچو!لائن میں آجاؤ ،ایک دوسرے کو دھکانہ دو،دوسروں کو دھکادینا ایذا رسانی کا سبب ہے اورمومن کو ایذا دینا حرام ہے،جب کہ دست بوسی مباح۔فعل مباح کے لیے فعل حرام کا ارتکاب سخت غلط ہے۔ اوراگر کوئی چاپلوسی میں دست بوسی کرے تو دست بوسی ناجائز اوراگر دست بوسی کرانے والا اس کی وجہ سے غرور کا شکار ہوتودست بوسی کراناحرام اور اس سے بچناواجب۔ آپ یہ فرماتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے اورطلبائے جامعہ ومعتقدین صف بستہ اپنی عقیدت کے نذرانے پیش کررہے تھے۔ ﺆﺆﺆ